حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ " فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ " .
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters with the words:He should aim at what is correct and complete
سفیان نے منصور سے مذکورہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا : ’’وہ صحیح کی جستجو کرے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ، سَمِعَ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَقُولُ هَلْ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ .
A'isha reported:When it was dawn, the Messenger of Allah (ﷺ) observed two rak'ahs, and I would say: Does he recite only the opening chapter of the Qur'an in it?
شعبہ نے محمد بن عبدالرحمان انصاری سے روایت کی ۔ انھوں نے عمرہ بنت عبدالرحمان سے سنا ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا جب فجر طلوع ہوجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں ادا کرتے ۔ ( دل میں ) کہتی کیا آ پ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں فاتحہ پڑھتے ہیں؟
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ قَالَ " لاَ يَزْنِي الزَّانِي " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ .
Muhammad b. Rafi', Abdur-Razzaq, Sufyan, A'mash narrated this hadith like one narrated by Shu'ba, on the authority of Abu Huraira tracing, it (right to the Holy Prophet)
شعبہ نے سلیمان سے ، انہوں نے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تا ہے تو مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب وہ پی رہا ہو تو مومن ہو ۔ اور ( ان کو ) بعد میں توبہ کا موقع دیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ، يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ، سَمُرَةَ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِفَرَسٍ مُعْرَوْرًى فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جَنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ .
It is reported on the authority of Jabir ibn Samura that an unsaddled horse was brought to the Prophet (ﷺ) and he rode on it when he returned after having offered the funeral prayer of Ibn Dahdah and we walked on foot around him
مالک بن مغول سے نے سماک بن حرب سے اور انھوں نے جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( بغیرزین کے ) ننگی پشت والا ایک گھوڑا لایاگیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن دحداح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جنازے سے لوٹے تو اس پر سوار ہوگئے جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد ( پیدل ) چل رہے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَاءَ، بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَىْءٌ إِلاَّ مَا أَدْخَلَ عَلَىَّ الزُّبَيْرُ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَىَّ فَقَالَ " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ وَلاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
Asma', daughter of Abu Bakr, reported that abe came to the Messenger of Allah (may peace he upon him) and said:Apostle of Allah, I have nothing with me, but only, that which is given to me by Zubair (for household expenses). Is there any sin for me if I spend out of that which is given to me (by Zabair)? Upon this he (the Holy Prophet) said: Spend according to your means; and do not hoard, for Allah will withhold from you
عباد بن عبد اللہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہو ئیں اور عرض کی ، اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !جو کچھ زبیر مجھے دے اس کے سوا میرے پا س کو ئی چیز نہیں ہو تی تو کیا مجھ پر کو ئی گنا ہ تو نہیں کہ جو وہ مجھے دے اس میں سے تھوڑا سا صدقہ کر دوں ؟آپ نے فر ما یا : اپنی طا قت کے مطا بق تھوڑا بھی خرچ کرو اور برتن میں سنبھا ل کر نہ رکھو ورنہ اللہ تعا لیٰ بھی تم سے سنبھا ل کر رکھے گا ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ، عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ لاَ تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ وَلاَ عَلَى مَنْ أَفْطَرَ قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ .
Ibn Abbas (Allah be pleased with him) reported:Do not condemn one who observes fast, or one who does not observe (in a journey). for the Messenger of Allah (ﷺ) observed fast in a journey or he did not observe it (too)
ابو کریب ، وکیع ، سفیان ، عبدالکریم ، طاؤس ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم برا بھلا نہیں کہتے تھے کہ جو روزہ رکھے اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں جو آدمی سفر میں روزہ نہ رکھے تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی اور روزہ افطار بھی کیاہے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ ضُبَاعَةَ، أَرَادَتِ الْحَجَّ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَشْتَرِطَ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Ibn `Abbas (Allah be pleased with him) reported that Duba`a intended to perform Hajj, and the Messenger of Allah (ﷺ) commanded her (to enter into the state of Ihram) with condition. She did it in compliance with the command of Allah's Apostle (ﷺ)
عمرو بن ہرم نے سعید بن جبیر اور عکرمہ سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ضباعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حج کرنا چا ہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ شرط لگا لیں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایسا ہی کیا ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ " .
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (may be upon him) having said this:Accept the feast, when you are invited
حماد نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تمہیں بلایا جائے تو دعوت میں آؤ
وَحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ .
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) having forbidden the renting of land
حماد بن زید نے ہمیں مطروراق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ، سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ، أَبِي عِمْرَانَ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلاَدَةً بِاثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ وَخَرَزٌ فَفَصَّلْتُهَا فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنِ اثْنَىْ عَشَرَ دِينَارًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ تُبَاعُ حَتَّى تُفَصَّلَ " .
Fadila b. 'Ubaid (Allah be pleased with him) reported:I bought on the day (of the Victory of Khaibar) a necklace for twelve dinars (gold coins). It was made of gold studded with gems. I separated (gold from gems) in it, and found (gold) of more (worth) than twelve dinars. I made a mention of it to Allah's Apostle (ﷺ), whereupon he said: It should not be sold unless it is separated
لیث نے ہمیں ابوشجاع سعید بن یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے خالد بن ابی عمران سے ، انہوں نے حنش صنعانی سے اور انہوں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا ، اس میں سونا اور نگینے تھے ۔ میں نے انہیں الگ الگ کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ مل گئے ، میں نے اس بات کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : " اسے الگ الگ کرنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالاً لَقَاتَلْنَا وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ قَالَ " بَلَى " . قَالَ أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ قَالَ " بَلَى " . قَالَ فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا " . قَالَ فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ قَالَ بَلَى . قَالَ أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ قَالَ بَلَى . قَالَ فَعَلاَمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا . قَالَ فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْفَتْحِ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَفَتْحٌ هُوَ قَالَ " نَعَمْ " . فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ .
It has been narrated on the authority of Abu Wa'il who said:Sahal b. Hunaif stood up on the Day of Siffin and said: O ye people, blame yourselves (for want of discretion) ; we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Day of Hudaibiya. If we had thought it fit to fight, we could fight. This was in the truce between the Messenger of Allah (ﷺ) and the polytheists. Umar b. Khattab came, approached the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, aren't we fighting for truth and they for falsehood? He replied: By all means. He asked: Are not those killed from our side in Paradise and those killed. from their side in the Fire? He replied: Yes. He said: Then why should we put a blot upon our religion and return, while Allah has not decided the issue between them and ourselves? He said: Son of Khattab, I am the Messenger of Allah. Allah will never ruin me. (The narrator said): Umar went away, but he could not contain himself with rage. So he approached Abu Bakr and said: 'Abu Bakr, aren't we fighting for truth and they for falsehood? He replied: Yes. He asked: Aren't those killed from our side in Paradise and those killed from their side in the Fire? He replied: Why not? He (then) said: Why should we then disgrace our religion and return while God has not yet decided the issue between them and ourselves? Abu Bakr said: Son of Khattab, verily, he is the Messenger of Allah, and Allah will never ruin him. (The narrator continued): At this (a Sura of) the Qur'an (giving glad tidings of the victory) was revealed to the Messenger of Allah (ﷺ). He sent for Umar and made him read it. He asked: Is (this truce) a victory? He (the Messenger of Allah) replied: Yes. At this Umar was pleased, and returned
حبیب بن ابی ثابت نے ابووائل ( شقیق ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے روز کھڑے ہوئے اور ( لوگوں کو مخاطب کر کے ) کہا : لوگو! ( امیر المومنین پر الزام لگانے کے بجائے ) خود کو الزام دو ( صلح کو مسترد کر کے اللہ اور اس کے بتائے ہوئے راستے سے تم ہٹ رہے ہو ) ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور اگر ہم جنگ ( ہی کو ناگزیر ) دیکھتے تو جنگ کر گزرتے ۔ یہ اس صلح کا واقعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی ۔ ( اب تو مسلمانوں کے دو گروہوں کا معاملہ ہے ۔ ) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں! " عرض کی : کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہ جائیں گے؟ فرمایا : " کیوں نہیں! " عرض کی : تو ہم اپنے دین میں نیچے لگ کر ( صلح ) کیوں کریں ( نیچے لگ کر کیوں صلح کریں؟ ) اور اس طرح کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں ، ( اس کے حکم سے صلح کر رہا ہوں ) اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ " کہا : عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں چل پڑے اور صبر نہ کر سکے ۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ کہا : کیوں نہیں! کہا : کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں! ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو ہم اپنے دین میں نیچے لگ کر ( جیسی صلح وہ چاہتے ہیں انہیں ) کیوں دیں؟ اور اس طرح کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو انہوں نے کہا : ابن خطاب! وہ اللہ کے رسول ہیں ، اللہ انہیں ہرگز کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح ( کی خوشخبری ) کے ساتھ قرآن اترا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں ( جو نازل ہوا تھا ) وہ پڑھوایا ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " تو ( اس پر ) عمر رضی اللہ رنہ کا دل خوش ہو گیا اور وہ لوٹ آئے
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ
This hadith has been narrated on the authority of Yunus with the same chain of transmitters
یونس نے اسی سند سے ، یعنی حکم بن عبداللہ سے روایت کی
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ بِإِيلِيَاءَ .
This hadith is narrated on the authority of Abu Huraira through another chain of transmitters, but he did not mention Aelia (Capitolina. i. e. Bait al-Maqdis)
معقل نے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دو پیالے ) لائے گئے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں ( معقل ) نے " ایلیاء " کا ذکر نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ - أَوْ مَنِ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ - فَلاَ يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلاَ يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلاَ يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ وَلاَ يَحْتَبِي بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلاَ يَلْتَحِفِ الصَّمَّاءَ " .
Jabir reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the thong of the shoe of any one of you is cut off. he should not walk with one sandal until he has got the thong repaired, and he should not walk with one shoe and he should not eat with his left hand and should not wrap his cloth round his knees or wrap himself completely leaving no room for the arms
ابو خیثمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( یاانھوں نے کہا : ) ۔ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ۔ ۔ ۔ " جب تم میں سے کسی کا تسمہ ٹوٹ جائے ۔ یا ( فرمایا ) جس شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے ۔ تو وہ ایک ( ہی ) جوتے میں نہ چلے ۔ یہاں تک کہ اپنا تسمہ ٹھیک کرلے ، ایک موزے میں بھی نہ چلے ، اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ، نہ ( اکڑوں بیٹھ کر ) اکلوتے کپڑے کوکمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے ، نہ ہاتھ پاؤں بند کردینے والا لباس پہنے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي، عَائِشَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَرَضِهِ فَأَشَارَ أَنْ لاَ تَلُدُّونِي . فَقُلْنَا كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ . فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ " لاَ يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلاَّ لُدَّ غَيْرُ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ " .
A'isha reported:we (intended to pour) medicine in the mouth of Allah's Messenger (ﷺ) in his illness, but he pointed out (with the gesture of his hand) that it should not be poured into the mouth against his will. We said: (It was perhaps due to the natural) aversion of the patient against medicine. When he recovered, he said: Medicine should be poured into the mouth of every one of you except Ibn 'Abbas, for he was not present amongst you
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےمرض میں ہم نے آپ کی مرضی کے بغیر منہ کے کونے سے آپ کے دہن مبارک میں دوائی ڈالی ، آپ نے اشارے سے روکا بھی کہ مجھے زبردستی دوائی نہ پلاؤ ، ہم نے ( آپس میں ) کہا : یہ مریض کی طبعی طور پر دوائی کی ناپسندیدگی ( کی وجہ سے ) ہے ۔ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی نہ بچے ، سب کو زبردستی ( ہی ) دوائی پلائی جائے ، سوائے عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کیونکہ وہ تمھارے ساتھ موجود نہیں تھے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ لَهُ نَطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا " . قَالَتْ عَرَقُكَ أَدُوفُ بِهِ طِيبِي .
Umm Sulaim reported that Allah's Apostle (ﷺ) visited her house and (took rest) and she spread a piece of cloth for him and he had had a siesta on it. And he sweated profusely and she collected his sweat and put it in a perfume and in bottles. Allah's Apostle (ﷺ) said:Umm Sulaim, what is this? She said: It is your sweat, which I put in my perfume. Allah's Apostle (ﷺ) sweated in cold weather when revelation descended upon him
ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي لأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً وَإِذَا كُنْتِ عَلَىَّ غَضْبَى " . قَالَتْ فَقُلْتُ وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَالَ " أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لاَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى قُلْتِ لاَ وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ " . قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَهْجُرُ إِلاَّ اسْمَكَ .
A'isha reported:Allah's Messenger (ﷺ) said to me: I can well discern when you are pleased with me and when you are annoyed with me. I said: How do you discern it? Thereupon be said: When you are pleased with me you say;" No, by the Lord of Muhammad," and when you are annoyed with me, you say:" No, by the Lord of Ibrahim." I said: Allah's Messenger, by Allah, I in fact leave your name (when I am annoyed with you)
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں جان لیتا ہوں جب تو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو خوش ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ نہیں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم ، اور جب ناراض ہوتی ہے تو کہتی ہے کہ نہیں قسم ہے ابراہیم ( علیہ السلام ) کے رب کی ۔ میں نے عرض کیا کہ بیشک اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے سوا اور کسی بات کو ترک ن ہیں کرتی ( محبت ، اطاعت ، توجہ ہر لمحہ آپ ہی کی طرف رہتی ہے)
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ فَلْيُرِقْهُ .
This hadith has been transmitted by another chain of transmitters in which there is no mention of" throwing away
اسماعیل بن زکریا نے اعمش کےحوالے سے ، باقی ماندہ مذکورہ سند کے ساتھ ، یہی روایت بیان کی لیکن ’’اسے بہادے ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّ فِيهِ " زَكَاةً وَأَجْرًا " .
Jabir reported Allah's Apostle (ﷺ) a hadith like it but with a slight variation of wording
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مانند روایت کی مگر اس میں " پاکیزگی اور اجر " کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيَّ، حَدَّثَهُمْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ وَيَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ " .
Ibn Abbas reported that Allah's Messenger (ﷺ) used to supplicate (with these words) and he (uttered these words) at the time of trouble; the rest of the hadith is the same except with this difference that insted of saying:" The Lord of heaven and the earth," he said:" The Lord of the heaven and that of the earth
ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے روایت کی ، ابوعالیہ ریاحی نے انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت ان الفاظ سے دعا فرماتے تھے ، پھر وہی کلمات ذکر کیے جو معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے اور انہوں نے قتادہ سے روایت کیے ، مگر انہوں نے ( " رب السماوات و رب الارض " کے بجائے ) " رب السماوات والارض " کہا ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، - يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ - عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَائِدٍ " مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ " . قَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ . قَالَ " صَدَقْتَ " .
This hadith has transmitted on the authority of Abu Sa'id that Allah's Messenger (ﷺ) asked Ibn Sa'id about the earth of Paradise. Thereupon he said:Abu'l-Qasim, It is like a fine white musk, whereupon he (the Holy Prophet) said: 'You have told the the truth
ابومسلمہ نے ابو نضر ہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا : " جنت کی مٹی کیسی ہے؟ " اس نے کہا : اے ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !باریک سفید ، کستوری ( جیسی ) ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو نے سچ کہا ۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَقَامَ وَطَرَحَ السِّكِّينَ وَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ .
Ja'far b. 'Amr b. Umayya al-Damari reported on the authority of his father who said:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) take slices from goat's shoulder and then eat them. He was called for prayer and he got'up, leaving aside the knife, and offered prayer but did not perform ablution
ابن شہاب زہری کے دوسر شاگرد عمرو بن حارث نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ عمرو بن امیہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو بکری کے ایک شانے سے ( گوشت ) کاٹتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ نے اس میں سے کھایا ، پھر آپ کو نماز کی طرف بلایا گیا تو آپ کھڑے ہوئے اور چھری پھینک دی ، آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَالْحُلْوَانِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبَّادٍ قَالَ الْمُغِيرَةُ فَأَرَدْتُ تَأْخِيرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُ " .
This hadith is narrated by Hamza b. Mughira by another chain of trans- mitters (but with the addition of these words):I made up my mind to hold Abd al-Rahman b. 'Auf back, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: Leave him
اسماعیل بن محمد بن سعد نے حمزہ بن مغیرہ سے روایت کی جو عباد کی روایت کی طرح ہے ۔ ( اس میں یہ بھی ہے کہ ) مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے عبد الرحمن بن عوف کو پیچھے کرنا چاہا تو نبیﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( آگے ) رہنے دو ۔ ‘ ‘