بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
23 hadith
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ مَنْصُورٌ ‏ "‏ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith is reported by Mansur with the same chain of transmitters, but with these words:" He should aim at correct (prayer) and it is advisable
وہیب بن خالد نے کہا : ہمیں منصور نے اسی سند کےس اتھ حدیث بیان کی ۔ منصور نے کہا : ’’وہ غور کرے کہ اس میں صحت کے قریب تر کیا ہے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَةَ، تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُ حَتَّى إِنِّي أَقُولُ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ‏.‏
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) observed two rak'ahs of the dawn prayer and he shortened them (to the extent) that I (out of surprise) said:Did he recite in them Surah Fatiha (only)?
یحییٰ بن سعید نے کہا : مجھے محمد بن عبدالرحمان نے بتایا کہ انھوں نے عمرہ کوحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی ( سنت ) دورکعتیں پڑھتے اور ان کو اتنا ہلکا پڑھتے کہ میں ( دل میں ) کہتی تھی : کیا آپ نے ان میں فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموما فاتحہ بھی بہت ٹھر ٹھر کر پڑھتے تھے ۔)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ ‏"‏ ‏.‏
It is narrated on the authority of Abu Huraira:A fornicator who fornicates is not a believer as long as he commits fornication, and no one who steals is a believer as long as he commits theft, and no one who drinks wine is a believer as long as he drinks it, and repentance may be accepted after that
معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، ان سب ( صفوان ، علاء اور معمر ) کی روایات ( 205 ۔ 207 ) امام زہری کی روایت ( 204 ) کے مانند ہیں ، البتہ علاء اور صفوان کی بیان کردہ حدیث روایت ( 205 ، 206 ) میں ’’ جس کی طرف سے لوگ نظر اٹھاتے ہیں ‘ ‘ کے ا لفاظ موجود نہیں ۔ اور ہمام کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں : ’’مومن لوگ ( اس چیز کی قدر و قیمت کی بنا پر ) اس کی طرف سے اپنی نظریں اٹھاتے ہیں اور وہ ( لوٹتے وقت ) مومن نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ اور معمر نے یہ اضافہ بھی کیا ہے : اور تم میں سے کوئی خیانت نہیں کرتا کہ جب خیانت کررہا ہو تو وہ مومن ہو ، لہٰذا تم ( ان تمام کاموں سے ) بچو ، تم بچو
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غُلاَمًا فَكُنْتُ أَحْفَظُ عَنْهُ فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ إِلاَّ أَنَّ هَا هُنَا رِجَالاً هُمْ أَسَنُّ مِنِّي وَقَدْ صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّلاَةِ وَسَطَهَا ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلاَةِ وَسَطَهَا ‏.‏
Samura b. Jundub said:I was a young boy during the time of the Prophet (ﷺ) and I retained in my mind (what I learnt from him), and nothing restrained me from speaking except the fact that there were persons far more advanced in age than I. Verily, I said prayer behind the Messenger of Allah (ﷺ) over a woman who had died in the state of delivery, and the Messenger of Allah (ﷺ) stood up to say prayer in front of the middle part of her body. And in the tradition narrated on the authority of Ibn Muthanna the words are:" (The Holy Prophet) stood in the middle part of her body for offering prayer for her
محمد بن مثنیٰ اور عقبہ بن مکرم عمی نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حسین ( بن ذکوان ) سے حدیث بیان کی اور انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نوعمر لڑکا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( احادیث سن کر ) یاد کیا کر تا تھا اور مجھے بات کرنے سے اس کے سوا کوئی چیز نہ روکتی کہ یہاں بہت لوگ ہیں جو عمر میں مجھ سےبڑے ہیں ، میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت کی نماز جنازہ ادا کی جوحالت نفاس میں وفات پاگئیں تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے ۔ ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے ( حسین نے ) کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث سنائی اور کہا : آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کےلئے اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Asma' through another chain of transmitters
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں ہشا م نے عبا د بن حمزہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا ۔ ۔ ۔ ان ( مذکورہ با لا راویوں ) کی حدیث کے ما نند ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ‏.‏
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) journeyed during the month of Ramadan in a state of fasting till he reached 'Usfan. He then ordered a cup containing drinking water and he drank that openly so that the people might see it, and broke the fast (and did not resume it) till he reached Mecca. Ibn 'Abbas (Allah be pleased with him) said:Allah's Messenger (ﷺ) fasted and broke the fast, so he who wished fasted and he who wished to break it broke it
۔ اسحاق بن ابراہیم ، جریر ، منصور ، مجاہد ، طاؤس ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں کوئی پینے کی چیز تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دن کے وقت میں پیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوگئےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران روزہ رکھابھی اور نہیں بھی رکھا تو جوچاہے سفر میں روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَأَبُو عَاصِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ، بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، وَعِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، - رضى الله عنها - أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ ‏ "‏ أَهِلِّي بِالْحَجِّ وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَدْرَكَتْ ‏.‏
Ibn Abbas reported that Duba'a bint al-Zubair b. 'Abd al-Muttalib (Allah be pleased with her) came to Allah's Messenger (ﷺ) and said:I am an ailing woman but I intend to perform Hajj; what you command me (to do)? He (the Holy Prophet) said: Enter into the state of Ihram (uttering these words) of condition: I would be free from it when Thou wouldst detain me. 'He (the narrator) said: But she was able to complete (the Hajj without breaking down)
ابو زبیر نے طاوس کو اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عکرمہ کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے سنا کہ ضباعہ بنت زبیر بن اعبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ۔ اور کہا میں ( بیماری کی وجہ سے ) خود کو مشکل سے اٹھا پاتی ہوں اور حج بھی کرنا چا ہتی ہوں ۔ آپ نے فر ما یا " حج کا احرا م باندھ لو اور شرط لگا کو کہ ( اے اللہ ! ) جہاں تو مجھے روک دے گا وہی میرے احرام کھول دینے کا مقام ہو گا ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہ ضباعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) حج کر لیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar (Allah be pleased withthem) reported Allah's Apostle (ﷺ) having said this:When any one of you is invited to a wedding feast, he should accept that
محمد بن عبداللہ بن نمیر کے والد نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ، أَبِي مَعْرُوفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ وَعَنْ بَيْعِهَا السِّنِينَ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ ‏.‏
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade leasing of land, and selling ahead for years and selling of fruits before they become ripe
رباح بن ابی معروف نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عطاء سے سنا ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ( اس کی اپنی پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے ، اس ( کے پھل ) کو کئی سالوں کے لیے بیچنے اور پکنے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عُلَىَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِخَيْبَرَ بِقِلاَدَةٍ فِيهَا خَرَزٌ وَذَهَبٌ وَهِيَ مِنَ الْمَغَانِمِ تُبَاعُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالذَّهَبِ الَّذِي فِي الْقِلاَدَةِ فَنُزِعَ وَحْدَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ ‏"‏ ‏.‏
Fadala b. Ubaid al-Ansari reported:A necklace having gold and gems in it was brought to Allah's Messenger (ﷺ) in Khaibar and it was one of the spoils of war and was put to sale. Allah's Messenger (ﷺ) said: The gold used in it should be separated, and then Allah's Messenger (ﷺ) further said: (Sell) gold for gold with equal weight
علی بن رباح لخمی نے کہا : میں نے حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جبکہ آپ خیبر میں تھے ، ایک ہار لایا گیا ، اس میں نگینے تھے اور سونا تھا اور وہ ان غنائم میں سے تھا جو فروخت کی جا رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کے بارے میں حکم دیا جو ہار میں تھا ، تو اکیلے اسی کو الگ کر دیا گیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے ( جو لین دین کر رہے تھے ) فرمایا : " سونے کے عوض سونا برابر برابر وزن کا ( خریدو اور بیچو ۔)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ قُرَيْشًا، صَالَحُوا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ ‏"‏ اكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سُهَيْلٌ أَمَّا بِاسْمِ اللَّهِ فَمَا نَدْرِي مَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَلَكِنِ اكْتُبْ مَا نَعْرِفُ بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ فَقَالَ ‏"‏ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَوْ عَلِمْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لاَتَّبَعْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبِ اسْمَكَ وَاسْمَ أَبِيكَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اكْتُبْ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكُمْ وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنَّا رَدَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَكْتُبُ هَذَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ إِنَّهُ مَنْ ذَهَبَ مِنَّا إِلَيْهِمْ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ جَاءَنَا مِنْهُمْ سَيَجْعَلُ اللَّهُ لَهُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Anas that the Quraish made peace with the Prophet (ﷺ). Among them was Suhail b. Amr. The Prophet (ﷺ) said to 'Ali:Write" In the name of Allah, most Gracious and most Merciful." Suhail said: As for" Bismillah," we do not know what is meant by" Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim" (In the name of Allah most Gracious and most Merciful). But write what we understand, i. e. Bi ismika allahumma (in thy name. O Allah). Then, the Prophet (ﷺ) said: Write:" From Muhammad, the Messenger of Allah." They said: If we knew that thou welt the Messenger of Allah, we would follow you. Therefore, write your name and the name of your father. So the Prophet (ﷺ) said: Write" From Muhammad b. 'Abdullah." They laid the condition on the Prophet (ﷺ) that anyone who joined them from the Muslims, the Meccans would not return him, and anyone who joined you (the Muslims) from them, you would send him back to them. The Companions said: Messenger of Allah, should we write this? He said: Yes. One who goes away from us to join them-may Allah keep him away! and one who comes to join us from them (and is sent back) Allah will provide him relief and a way of escape
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کی ، ان میں سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : " لکھو : بسم الله الرحمن الرحيم سہیل کہنے لگے : جہاں تک بسم اللہ کا تعلق ہے تو ہم بسم الله الرحمن الرحيم کو نہیں جانتے ، لیکن وہ لکھو جسے ہم جانتے ہیں : باسمك اللهم پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لکھو : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ " وہ لوگ کہنے لگے : اگر ہم یقین جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کی پیروی کرتے ، لیکن اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لکھو : محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ " ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شرط لگائی کہ آپ لوگوں میں سے ( ہمارے پاس ) آ جائے گا ہم اسے آپ لوگوں کو واپس نہ کریں گے اور ہم میں سے جو آپ کے پاس آیا آپ اسے ہم کو واپس کر دیں گے ۔ ( صحابہ نے ) پوچھا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ لکھ دیں؟ فرمایا : " ہاں ، ہم میں سے جو شخص ان کے پاس چلا گیا تو اسے اللہ نے ہم سے دور کر دیا اور ان میں سے جو ہمارے پاس آئے گا اللہ اس کے لیے کشادگی اور نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، بْنِ الأَعْرَجِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ الشَّجَرَةِ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُبَايِعُ النَّاسَ وَأَنَا رَافِعٌ غُصْنًا مِنْ أَغْصَانِهَا عَنْ رَأْسِهِ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً قَالَ لَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Ma'qil b. Yasar who aaid:I remember being present on the Day of the Tree, and the Prophet (ﷺ) was taking the oath of the people and I was holding a twig of the tree over his head. We were fourteen hundred (in number). We did not take oath to the death, but to the effect that we would not run away from the battlefield
خالد ( حذاء ) نے حکم بن عبداللہ بن اعرج سے ، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے بیعت رضوان کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لے رہے تھے اور میں نے اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ کو آپ کے سر انور سے اوپر اٹھا رکھا تھا ، ہم اس وقت چودہ سو تھے ۔ انہوں نے کہا : ہم نے ( اس موقع پر ) آپ سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے یہ بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ‏.‏
Abu Huraira reported that Allah's Messenger (ﷺ) was presented two cups at Bait al-Maqdis on the night of Heavenly Journey, one containing wine and the other containing milk. He looked at both of them, and be took the one containing milk, whereupon Gabriel (peace be upon him) said:Praise is due to Allah Who guided you to the true nature; had you taken the one containing wine, Your Umma would have gone astray
یونس نے زہری سے روایت کی ، کہا : ابن مسیب نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے ۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی ( یعنی اسلام کی اور استقامت کی ) ۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، - فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلَ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ ‏.‏
Jabir reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade that a man should eat with the left hand or walk with one sandal or wrap himself completely leaving no opening for the arms (to draw out) or support himself when sitting with a single garment wrapped round his knees which may expose his private parts
مالک بن انس نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے ، یا ایک جوتا پہن کرچلے اور ایسا کپڑا پہنے جس میں باہر نکالنے والے اعضاء ( سر ، ہاتھ ، پاؤں ) کےلیے سوراخ نہ ہوں اور ایک ہی کپڑا اس طرح کمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے کہ اس کی شرمگاہ ظاہر ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو بَكْرٍ ‏"‏ عَنْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ قَالَ أَخْبَرَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ‏.‏
Rafi' b. Khadij reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: The fever is due to the intense heat of Hell, so cool it down in your (bodies) with water. Aba Bakr has made no mention of the word" from you" ('ankum), but he said that Rafi' b. Khadij had informed him of it
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنیٰ ، محمد بن حاتم اور ابو بکر بن نافع نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے عبایہ بن رفاعہ سے رویت کی ، کہا : مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " بخار جہنم کے جوش سے ہے ، اسے خود سے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو ۔ " ( ابو بکر ) کی روایت میں " خود سے " کے الفاظ نہیں ہیں ۔ نیز ابو بکر نے کہا کہ عبایہ بن رفاعہ نے ( حدثنی کے بجائے ) اخبرني رافع بن خديج کہا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ - عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ - قَالَ - فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَامَ فِي بَيْتِكِ عَلَى فِرَاشِكِ - قَالَ - فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا فَفَزِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ ‏"‏ أَصَبْتِ ‏"‏ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) came to the house of Umm Sulaim and slept in her bed while she was away from her house. On the other day too he slept in her bed. She came and it was said to her:It is Allah's Apostle (ﷺ) who is having siesta in your house, lying in your bed. She came and found him sweating and his sweat falling on the leather cloth spread on her bed. She opened her scent-bag and began to fill the bottles with it. Allah's Apostle (ﷺ) was startled and woke up and said: Umm Sulaim, what are you doing? She said: Allah's Messenger, we seek blessings for our children through it. Thereupon he said: You have done something right
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر میں جاتے اور ان کے بچھونے پر سو رہتے ، اور وہ گھر میں نہیں ہوتیں تھیں ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچھونے پر سو رہے ۔ لوگوں نے انہیں بلا کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بچھونے پر سو رہے ہیں ، یہ سن کر وہ آئیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ چمڑے کے بچھونے پر جمع ہو گیا ہے ۔ ام سلیم نے اپنا ڈبہ کھولا اور یہ پسینہ پونچھ پونچھ کر شیشوں میں بھرنے لگیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ اے ام سلیم! کیا کرتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
ابن ادریس اور ابو اسامہ نے ہشام سے ، اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، وَأَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مِرَارٍ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported the Messenger of Allah (ﷺ) to have said:When a dog licks a utensil belonging to any one of you, (the thing contained in it) should be thrown away and then (the utensil) should be washed seven times
علی بن مسہر نے حدیث بیان کی کہ ہمیں اعمش نے ابو زرین اور ابو صالح سے خبر دی ، ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا زبان کے ساتھ پی لے اور وہ اس چیز کو بہا دے ، پھربرتن کو سات دفعہ دھولے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:O Allah, I am a human being and for any person amongst Muslims upon whom I hurl malediction or invoke curse or give him whipping make it a source of purity and mercy
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابوصالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! میں صرف ایک بشر ہوں ، اس لیے میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو کوڑے ماروں تو اسے اُس کے لیے پاکیزگی ( کا ذریعہ ) اور رحمت بنا دے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَحَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ أَتَمُّ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters
وکیع نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، لیکن معاذ بن ہشام کی حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ - قَالَ - فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ - قَالَ - وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ - قَالَ - فَفَعَلَ - قَالَ - فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٍّ فَقَالَ اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ ‏.‏ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ ‏.‏ مَا بِي إِلاَّ أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ - أَوْ قَالَ آخُذَ عَنْ يَدِهِ - فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلاً فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِيَ النَّاسُ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ كَافِرٌ ‏"‏ ‏.‏ وَأَنَا مُسْلِمٌ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هُوَ عَقِيمٌ لاَ يُولَدُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ أَوَ لَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلاَ مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الآنَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ لَهُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ ‏.‏
Abu Sa`id al-Khudri reported:We came back after having performed Pilgrimage or `Umra and lbn Sa'id was along with us. And we encamped at a place and the people dispersed and I and he were left behind. I felt terribly frightend from him as it was said about him that he was the Dajjal. He brought his goods and placed them by my luggage and I said: It is intense heat. Would you not place that under that tree? And he did that. Then there appeared before us a flock of sheep. He went and brought a cup of milk and said: Abu Sa`id, drink that. I said it is intense heat and the milk is also hot (whereas the fact was) that I did not like to drink from his hands or to take it from his hand and he said: Abu Sa`id, I think that I should take a rope and suspend it by the tree and then commit suicide because of the talks of the people, and he further said. Abu Sa`id he who is ignorant of the saying of Allah's Messenger (ﷺ) (he is to be pardoned), but O people of Ansar, is this hadith of Allah's Messenger (ﷺ) concealed from you whereas you have the best knowledge of the hadith of Allah's Messenger (ﷺ) amongst people? Did Allah's Messenger (ﷺ) not say that he (Dajjal) would be a non believer whereas I am a believer? Did Allah's Messenger (ﷺ) not say he would be barren and no child would be born to him, whereas I have left my children in Medina? Did Allah's Messenger (may peace upon him) not say: He would not get into Medina and Mecca whereas I have been coming from Medina and now I intend to go to Mecca? Abu Sa`id said: I was about to accept the excuse put forward by him. Then he said: I know the place where he would be born and where he is now. So I said to him: May your whole day be spent
جریری نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صائد بھی تھا ۔ ایک منزل میں ہم اترے ، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صائد دونوں رہ گئے ۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے ( کہ دجال ہے ) ابن صائد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا ( مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی ) میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے ۔ اس نے ایسا ہی کیا ۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں ۔ ابن صائد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی ۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا ۔ ابن صائد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں ۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے ۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے ۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ( اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے ) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں ( اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں ) کہ پھر کہنے لگا البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے ۔ کہا : میں نے اس سے کہا : باقی سارا دن تیرے لئے تباہی اور ہلاکت ہو! ( تیرا اس سے اتنا قرب کیسے ہوا؟)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفٍ يَأْكُلُ مِنْهَا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏
Ja'far b. Amr b. Umayya al-Damari reported on the authority of his father who said:I saw the Messenger of Allah (ﷺ) take slices from goat's shoulder, and then eat them, and then offer prayer without having performed ablution
ابراہیم بن سعد نے کہا : ہمیں زہری نے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمیری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ایک شانے سے ( گوشت ) کاٹ کر کھاتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ، عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَبُوكَ - قَالَ الْمُغِيرَةُ - فَتَبَرَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَهُ إِدَاوَةً قَبْلَ صَلاَةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَىَّ أَخَذْتُ أُهَرِيقُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ جُبَّتَهُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمَّا جُبَّتِهِ فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْجُبَّةِ حَتَّى أَخْرَجَ ذِرَاعَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ ‏.‏ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ - قَالَ الْمُغِيرَةُ - فَأَقْبَلْتُ مَعَهُ حَتَّى نَجِدُ النَّاسَ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ فَصَلَّى لَهُمْ فَأَدْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ الرَّكْعَةَ الآخِرَةَ فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُتِمُّ صَلاَتَهُ فَأَفْزَعَ ذَلِكَ الْمُسْلِمِينَ فَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَلاَتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَحْسَنْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ قَدْ أَصَبْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ يَغْبِطُهُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا ‏.‏
Mughira b. Shu'ba reported that he participated In the expedition of Tabuk along with the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) went out to answer the call of nature before the morning prayer. and I carried along with him a jar (full of water). When the Messenger of Allah (ﷺ) came back to me (after relieving himself). I began to pour water upon his hands out of the jar and he washed his hands three times, then washed his face three times. He then tried to tuck up the sleeves of his cloak upon his forearms but since the sleeves were tight he inserted his hands in the cloak and then brought out his forearms up to the elbow below the cloak, and then wiped over his shoes and then moved on. Mughira said:I also moved along with him till he came to the people and (he found) that they had been saying their prayer under the Imamah of 'Abd al-Rahman b. 'Auf. The Messenger of Allah (ﷺ) could get one rak ah out of two and said (this) last rak'ah along with the people. When Abd al-Rahman b. 'Auf pronounced the salutation, the Messenger of Allah (ﷺ) got up to complete the prayer. This made the Muslims terrified and most of them began to recite the glory of the Lord. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he turned towards them and then said: You did well, or said with a sense of joy: You did the right thing that you said prayer at the appointed hour
۔ عباد بن زیاد کو عروہ بن مغیرہ بن شعبہ خبر دی کہ مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انہیں بتایا کہ وہ رسول اللہﷺ کے ساتھ غز وہ تبوک میں شریک ہوئے ۔ مغیرہ نے کہا : صبح کی نماز سے پہلے رسول اللہﷺ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے اور میں نے آپ کے ہمراہ پانی کا ایک برتن اٹھا لیا ۔ جب رسو ل اللہﷺ میر ی طرف لوٹے تو میں برتن سے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنے لگا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے ، پھر اپنا چہرہ دھویا ، اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے جبہ نکالنے لگے ، جبے کی دونوں آستینیں تنگ ہوئیں تو آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے اندر کر لیے حتیٰ کہ آپ نے اپنے بازور جبے کے نیچے سے نکال لیے اور دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے ، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح ( کر کے ) وضو ( مکمل ) کیا ، پھر آپ آگے بڑھے ۔ مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں بھی آپ کے ساتھ آگے بڑھا یہاں تک کہ ہم لوگوں کو اس حال میں پایا کہ وہ عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو آگے کر چکے تھے ، انہوں نے نماز پڑھائی اور رسول اللہﷺ کو دو رکعتوں میں سے ایک ملی ۔ آپ نے آخری رکعت لوگوں کے ساتھ ادا کی ، چنانچہ جب حضرت عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے سلام پھیرا تو رسول اللہﷺ اپنی نماز کی تکمیل کے لیے کھڑے ہو گئے ، اس بات نے مسلمانوں کو گھبراہٹ میں مبتلا کر دیا اور انہوں نے کثرت سے سبحان اللہ کہنا شروع کر دیا ، جب نبیﷺ نے اپنی نماز پوری کر لی تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’ تم نے اچھا کیا ۔ ‘ ‘ یا فرمایا : ’’تم نے ٹھیک کیا ۔ ‘ ‘ آپ نے ان کی تحسین فرمائی کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھ لی تھی ۔