بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
23 hadith
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ بِشْرٍ، ح قَالَ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كِلاَهُمَا عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرٍ ‏"‏ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي رِوَايَةِ وَكِيعٍ ‏"‏ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters, with a slight modification of words
ابن بشر اور وکیع دونوں نے مسعر سے اور انھوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ابن بشر کی روایت مین ہے : ’’وہ غور کرے کہ اس میں سے صحت کے قریب ترکیا ہے ؟ ‘ ‘ اور وکیع کی روایت میں ہے : ’’ وہ صحیح ( صورت کو یاد رکرنے ) کی جستجو کرے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ ‏.‏
A'isha reported that the Messenger of Allah (ﷺ) used to observe two (supererogatory) rak'ahs in between the call to prayer and the Iqama of the dawn prayer
ابو سلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ - عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كُلُّ هَؤُلاَءِ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّ الْعَلاَءَ وَصَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا ‏"‏ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ ‏"‏ يَرْفَعُ إِلَيْهِ الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ فِيهَا وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏ وَزَادَ ‏"‏ وَلاَ يَغُلُّ أَحَدُكُمْ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَإِيَّاكُمْ إِيَّاكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Qutaiba b. Sa'id who reported on the authority of Abu Huraira the hadith like that narrated from Zuhri with this exception that in the hadith narrated by 'Ala ' and Safwan b. Sulaim there is no mention of:People raise there eyes towards him, and in the hadith narrated by Hammam: The believers raise their eyes towards him, and such like words, so long as he plunders (is not) a believer, and these words were added: And no exploiter who makes an exploitation is a believer as long as he exploits It; therefore avoid and shun (these evils)
قتیبہ بن سعید ‘ عبد العزیز دراوردی ‘ علاء بن عبدالرحمٰن نے ابو ھریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ، انہوں نے نبی ﷺ سے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، كُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرُوا أُمَّ كَعْبٍ ‏.‏
This hadith has been narrated by Husain with the same chain of transmitters, but no mention is made of Umm Ka'b
ابن مبارک ، یزید بن ہارون اور فضل بن موسیٰ سب نے حسین سے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ روایت بیان کی اور انھوں نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( کا نام ) ذکر نہیں کیا ۔
وَحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي، مُعَاوِيَةَ - قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ انْفَحِي - أَوِ انْضَحِي أَوْ أَنْفِقِي - وَلاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَلاَ تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ‏"‏ ‏.‏
Asma' reported Allah's Messenger (way peace be upon him) as saying (to her):Spend and do not calculate, (for) Allah would calculate in your case; and do not hoard, otherwise Allah would be withholding from you
محمد بن خازم نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے عبادبن حمزہ اور فا طمہ بنت منذر حدیث بیان کی اور انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( مال کو ) ہر طرف خرچ کرو ۔ ۔ یا ( پانی کی طرح بہاؤ یا خرچ کرو ۔ ۔ ۔ اور شمار نہ کرو ورنہ اللہ بھی تمھیں شمار کر کر کے دے گا اور سنبھا ل کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم سے سنبھا ل کر رکھے گا ۔)
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الأَحْدَثَ فَالأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ ‏.‏
A hadlth like this has been transmitted on the authority of Ibn Shibab who said that they (the Compnions of the Holy Prophet) followed the latest of his commands and looked upon it as one abrogating (the previous ones) and the most firm
حرملہ بن یحییٰ ، ابن وہب ، یونس ، ابن شہاب لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سےلیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of A'isha through another chain of transmitters
معمر نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کے مطابق حدیث روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيُجِبْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ فَإِذَا عُبَيْدُ اللَّهِ يُنَزِّلُهُ عَلَى الْعُرْسِ ‏.‏
Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:When any one of you is invited to a feast, he should accept. 'Ubaidallah took this feast to be a wedding feast
خالد بن حارث نے ہمیں عبیداللہ ( بن عمر بن حفص مدنی ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ قبول کرے ۔ "" خالد نے کہا : عبیداللہ اسے شادی ( کی دعوتِ ولیمہ ) پر محمول کرتے تھے
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَذْكُرُ بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ الْمُعَاوَمَةُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of Jabir (Allah be pleased with him) from Allah's Apostle (ﷺ). but he made no mention of transactions years (ahead) implying Mu'awama
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ اسی کے مانند ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
Abd al-Rabman b. Abu Bakra said:Allah's Messenger (ﷺ) prohibited us. The rest of the hadith is the same
یحییٰ بن ابی کثیر نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انہیں عبدالرحمان بن ابی بکرہ نے بتایا کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ لَمَّا أُحْصِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ الْبَيْتِ صَالَحَهُ أَهْلُ مَكَّةَ عَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا فَيُقِيمَ بِهَا ثَلاَثًا وَلاَ يَدْخُلَهَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ السَّيْفِ وَقِرَابِهِ ‏.‏ وَلاَ يَخْرُجَ بِأَحَدٍ مَعَهُ مِنْ أَهْلِهَا وَلاَ يَمْنَعَ أَحَدًا يَمْكُثُ بِهَا مِمَّنْ كَانَ مَعَهُ ‏.‏ قَالَ لِعَلِيٍّ ‏"‏ اكْتُبِ الشَّرْطَ بَيْنَنَا بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ تَابَعْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ‏.‏ فَأَمَرَ عَلِيًّا أَنْ يَمْحَاهَا فَقَالَ عَلِيٌّ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَمْحَاهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرِنِي مَكَانَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَأَرَاهُ مَكَانَهَا فَمَحَاهَا وَكَتَبَ ‏"‏ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَقَامَ بِهَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا أَنْ كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ قَالُوا لِعَلِيٍّ هَذَا آخِرُ يَوْمٍ مِنْ شَرْطِ صَاحِبِكَ فَأْمُرْهُ فَلْيَخْرُجْ ‏.‏ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجَ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جَنَابٍ فِي رِوَايَتِهِ مَكَانَ تَابَعْنَاكَ بَايَعْنَاكَ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Bara' who said:When the Prophet (ﷺ) was checked from going to the Ka'ba, the people of Mecca made peace with him'on the condition that he would (be allowed to) enter Mecca (next year) and stay there for three days, that he would not enter (the city) except with swords in their sheaths and arms encased in their covers, that he would not take eway with him anyone from its dwellers, nor would he prevent anyone from those with him to stay on in Mecca (if he so desired). He said to 'Ali: Write down the terms settled between us. (So 'Ali wrote): In the name of Allah, most Gracious and most Merciful. This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has settled (with the Meccans), The polytheists said to him: If we knew that thou art the Messenger of of Allah, we would follow you. But write: Muhammad b. 'Abdullah. So he told 'Ali to strike out these words. 'Ali said: No, by Allah, I will not strike them out. The Messenger of Allah (may Peace be upon him) said: Show me their place (on the parchment). So he ('Ali) showed him their place and he (the Holy Prophet) struck them out; and 'Ali wrote: Ibn 'Abdullah. (According to the terms of the treaty, next year) the Prophet (ﷺ) stayed there for three days When it was the third day, they said to 'Ali: This is the last day according to the terms of your companion. So tell him to leave. 'Ali informed the Prophet (ﷺ) accordingly. He said: Yes, and left (the city). Ibn Janab in his version of the tradition used:" we would swear allegiance to you" instead of" we would follow you
اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور احمد بن جناب مصیصی دونوں نے عیسیٰ بن یونس سے ۔ ۔ لفظ اسحاق کے ہیں ۔ ۔ روایت کی ، کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، ہمیں زکریا نے ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے پاس روک لیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ والوں نے اس بات پر صلح کی کہ ( آئندہ سال ) مکہ میں داخل ہوں اور تین دن تک اس میں رہیں اور ہتھیار رکھنے کے تھیلوں : تلوار اور اس کے نیام کے علاوہ ( کوئی ہتھیار لے کر ) اس شہر میں داخل نہ ہوں اور کسی مکہ والے کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور ان کے ساتھ آنے والوں میں سے جو وہاں رہ جائے ( مشرکوں کا ساتھ قبول کر لے ) تو اس کو منع نہ کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : "" اس شرط کو ہمارے درمیان لکھو بسم الله الرحمن الرحيم یہ ہے جس پر باہمی فیصلہ کیا اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ "" مشرک بولے : اگر ہم یہ یقین جانتے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو آپ کی پیروی کرتے ، بلکہ یوں لکھیے : "" محمد بن عبداللہ نے ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ان ( الفاظ ) کو مٹا دیں ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ( اپنے ہاتھ سے ) نہ مٹاؤں گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھا ، مجھے اس ( جملے ) کی جگہ دکھاؤ ۔ "" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دکھا دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مٹا دیا اور ابن عبداللہ لکھ دیا ( جب حسبِ معاہدہ اگلے سال آ کر عمرہ ادا فرمایا ) تو تین روز ہی مکہ معظمہ میں رہے ۔ جب تیسرا دن ہوا تو مشرکوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : یہ تمہارے صاحب کی شرط کا آخری دن ہے ، ان سے کہو : اب وہ چلے جائیں ، انہوں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھا ۔ "" اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے ) نکل آئے ۔ ابن جناب نے "" ہم آپ کی پیروی کرتے "" کے بجائے "" ہم آپ کی بیعت کرتے ۔ "" کہا
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
The same tradition has been handed down through a different chain of transmitters
ابوداود اور نضر بن شمیل نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَتْبَعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ - قَالَ - فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَاخَتْ فَرَسُهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكَ ‏.‏ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ - قَالَ - فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ‏.‏
Al-Bara' reported:When Allah's Messenger (ﷺ) went forth from Mecca to Medina, Suraqa b. Malik b. Ju'shum pursued him. Allah's Messenger (ﷺ) invoked curse upon him, and his horse sank (in the desert). He (Suraqa) said: (Allah's Messenger), invoke blessings for me and I will do no harm to you. He (the Holy Prophet) then supplicated Allah. (At that time) he (the Holy Prophet) felt thirsty, and they happened to pass by a shepherd. Abu Bakr Siddiq said: I took hold of a bowl and milked some milk into it for Allah's Messenger (ﷺ) and gave it to him. He drank it and I was pleased
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو اسحاق ہمدانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے ( مشرکوں کی طرف سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بددعا کی تو اس کا گھوڑا ( زمین میں ) دھنس گیا ( یعنی زمین نے اس کو پکڑ لیا ) ۔ وہ بولا کہ آپ میرے لئے دعا کیجئے میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی ( تو اس کو نجات ملی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے پیا ، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، وَأَبِي، صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْمَعْنَى ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira with a different chain of transmitters
علی بن مسہر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو رزین اور ابو صالح سے خبردی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کی ۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ، بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ الْحُمَّى فَوْرٌ مِنْ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Rafi' b. Khadij reported:I heard Allah's messenger (ﷺ) as saying: The fever is due to the intense heat of the Hell, so cool it with water
سعید بن مسروق نے عبایہ بن رفاعہ سے ، انھوں نے اپنے دادا سے ، انھوں نےحضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " بخار جہنم کے جوش سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈاکرو ۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ - عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عِنْدَنَا فَعَرِقَ وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ فِيهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ ‏.‏
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle (ﷺ) used to come to our house and there was perspiration upon his body. My mother brought a bottle and began to pour the sweat in that. When Allah's Apostle (ﷺ) got up he said:Umm Sulaim, what is this that you are doing? Thereupon she said: That is your sweat which we mix in our perfume and it becomes the most fragrant perfume
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے ۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، جَمِيعًا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي الرَّبِيعِ - حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ ثَلاَثَ لَيَالٍ جَاءَنِي بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ هَذِهِ امْرَأَتُكَ ‏.‏ فَأَكْشِفُ عَنْ وَجْهِكِ فَإِذَا أَنْتِ هِيَ فَأَقُولُ إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) having said:I saw you in a dream for three nights when an angel brought you to me in a silk cloth and he said: Here is your wife, and when I removed (the cloth) from your face, lo, it was yourself, so I said: If this is from Allah, let Him carry it out
حماد نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " تم مجھے تین راتوں تک خواب میں دکھائی دیتی رہی ہو ، ایک فرشتہ ریشم کے ایک ٹکڑے پر تمھیں ( تمھاری تصویر کو ) لے کر میرے پاس آیا ۔ وہ کہتا : یہ تمھاری بیوی ہے ، میں تمھارے چہرے سے کپڑا ہٹاتا تو وہ تم ہوتیں ، میں کہتا : یہ ( پیشکش ) اگر اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کردے گا ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ، - يَعْنِي الْحِزَامِيَّ - عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، - يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ، وَابْنُ، رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالاَ جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ يَقُولُ حَتَّى يَغْسِلَهَا ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ وَاحِدٌ مِنْهُمْ ثَلاَثًا ‏.‏ إِلاَّ مَا قَدَّمْنَا مِنْ رِوَايَةِ جَابِرٍ وَابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ وَأَبِي صَالِحٍ وَأَبِي رَزِينٍ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِمْ ذِكْرَ الثَّلاَثِ ‏.‏
This hadith has been transmitted through other chains of transmitters on the authority of Abu Huraira in which it is reported that the Messenger of Allah (ﷺ) made a mention of washing the hand, and did not instruct to wash it three times. But the hadith narrated from Jabir and Ibn Musayyab. Abu Salama, and Abdullah b. Shaqiq, Abu Salih, Abla Razin, there is a mention of" three times
اعرج ، محمد ، علاء کے والد عبد الرحمان بن یعقوب ، ہمام بن منبہ اور ثابت بن عیاض ( سب ) نےکہا : ہمیں ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث بیان کی ، سبھی نے اپنی ا پنی روایت میں ( ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے واسطے سے ) نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ۔ سبھی کہتے ہیں : ’’ حتی کہ اس ( ہاتھ ) کو دھولے ‘ ‘ اور ان میں سے کسی نے بھی ’’تین بار ‘ ‘ کا لفظ نہیں بولا ، سوائے ان روایات کے جو ہم نے اوپر جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ، ابن مسیب ، ابو سلمہ ، عبد اللہ بن شقیق ، ابوصالح اور ابو زرین سے بیان کی ہیں کیونکہ ان سب کی احادیث میں ’’تین بار ‘ ‘ کا ذکر ہے ۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَى فَخَلَوَا بِهِ فَسَبَّهُمَا وَلَعَنَهُمَا وَأَخْرَجَهُمَا ‏.‏
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of 'Isa (the words are):" He had a private meeting with them and hurled malediction upon them and cursed them and sent them out
ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور عیسیٰ ( بن یونس ) کی حدیث میں کہا : وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں ملے تو آپ نے انہیں برا بھلا کہا ، ان دونوں پر لعنت بھیجی اور ان کو نکال دیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ سَعِيدٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ ‏ "‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas reported that Allah's Apostle (ﷺ) used to supplicate during the time of trouble (in these words):" There is no god but Allah, the Great, the Tolerant, there is no god but Allah, the Lord of the Magnificent Throne There is no god but Allah, the Lord of the Heaven and the earth, the Lord of the Edifying Throne
معاذ بن ہشام نے کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوعالیہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرب کے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے : " اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو سب سے عظیم ہے ، سب سے زیادہ حلم والا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو عرش عظیم کا مالک ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو آسمانوں کا مالک ، زمینوں کا مالک اور عزت والے عرش کا مالک ہے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ لِيَ ابْنُ صَائِدٍ وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي وَلَكُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُ يَهُودِيٌّ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ أَسْلَمْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلاَ يُولَدُ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ وُلِدَ لِي ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ حَجَجْتُ ‏.‏ قَالَ فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ الآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ ‏.‏ قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَىَّ مَا كَرِهْتُ ‏.‏
Abu Sa'id Khudri reported:Ibn Sa'id said to me something for which I felt ashamed. He said: I can excuse others; but what has gone wrong with you, O Companions of Muhammad, that you take me as Dajjal? Has Allah's Apostle (ﷺ) not said that he would be a Jew whereas I am a Muslim and he also said that he would not have children, whereas I have children, and he also said: verily, Allah has prohibited him to enter Mecca whereas I have performed Pilgrimage, and he went on saying this that I was about to be impressed by his talk. He (however) said this also: I know where he (Dajjal) is and I know his father and mother, and it was said to him: Won't you feel pleased if you would be the same person? Thereupon he said: If this offer is made to me, I would not resent that
معتمر کے والد ( سلیمان ) ابونضرہ سے اور وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، کہا : مجھ سے ابن صائد نے ایک بات کہی تو مجھے اس کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی ۔ ( اس نے کہا : ) اس بات پر میں اور لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں ، مکر اے اصحاب محمد! آپ لوگوں کا میرے ساتھ کیامعاملہ ہے ؟ "" کیا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا : "" دجال یہودی ہوگا ۔ "" اور میں مسلمان ہوچکا ہوں ۔ کہا : "" وہ لاولد ہوگا ۔ "" جبکہ میری اولاد ہوئی ہے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : "" اللہ نے مکہ ( میں داخلہ ) اس پر حرام کردیا ہے ۔ "" اور میں حج کرچکا ہوں ۔ ( حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : وہ ( ابن صائد ) مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا جن سے امکان تھا کہ اس کی بات میرے دل میں بیٹھ جاتی ، کہا : پھر وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے میں اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں ۔ کہااس سے پوچھا گیا کہ کیا تمھیں یہ بات ا چھی لگےگی کہ تمھی وہ ( دجال ) آدمی ہو؟اس نے کہا ، اگر مجھ کو اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ عَرْقًا - أَوْ لَحْمًا - ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً ‏.‏
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) took flesh from the bone or meat, and then offered prayer and did not perform ablution, and (in fact) he did not touch water
۔ محمد بن عمرو بن عطاء اور علی بن عبد اللہ بن عباس نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے گوشت والی ہڈی یا کچھ گوشت کھایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا یا پانی کو نہیں چھوا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ‏.‏ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ ‏.‏ وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجَعَ الْقَهْقَرَى ‏.‏
Sahl b. Sa'd al-Sa'idi reported:The Apostle of Allah (ﷺ) went to Bani Amr b. 'Auf in order to bring about reconciliation amongst them. The rest of the hadith is the same but with (the addition of these words):" The Messenger of Allah (ﷺ) came and made his way through the rows till he came to the first row and Abu Bakr retraced his steps
عبید اللہ نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبیﷺ قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے .... آگے مذکورہ بالا راویوں کے مانند ( حدیث بیان کی ) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہﷺ آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف کے قریب کھڑے ہو گئے ۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے ۔