وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، - عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ إِبْرَاهِيمُ زَادَ أَوْ نَقَصَ - فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ قَالَ " وَمَا ذَاكَ " . قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا - قَالَ - فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ " إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " .
Alqama narrated It on the authority of 'Abdullah (b. Mas'ud) who said:The Messenger of Allah (ﷺ) said the prayer; (the narrator added): He made some act of omission or commission when he pronounced salutation; it was said to him: Messenger of Allah, is there something new about the prayer? He (the Holy Prophet) said: What is it? They said: You said prayer in such and such away. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) turned his feet and faced the Qibla and performed two prostrations and then pronounced salutations, and then turned his face towards us and said: If there is anything new about prayer (new command from the Lord) I informed you of that. But I am a human being and I forget as you for. get, so when I forget, remind me, and when any one of you is in doubt about his prayer. he should aim at what Is correct. and complete his prayer in that respect and then make two prostrations
جریر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے اور انھوں نے علقمہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ابراہیم نے کہا : آپ نے اس میں زیادتی یا کمی کر دی ۔ پھر جب آپ نے سلام پھرا تو آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نئی چیز ( تبدیلی ) آگئی ہے ؟ آپ نے پوچھا : ’’وہ کیا ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ ( راوی نے کہا : ) آپ نے اپنے پاؤں موڑے ، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا : ’’اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمھیں بتا دیتا ، لیکن میں ایک انسان ہوں ، جس طرح تم بھولتے ہومیں بھی بھول جاتا ہوں ، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ صحیح کی جستجو کرے اور ا س کے مطابق ( نماز کی ) تکمیل کرے ، پھر ( سہو کے ) دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْهِرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ .
This hadith has been narrated by the same chain of transmitters and in the hadith narrated by Usama the words are:" When it was dawn
علی بن مسہر ، ابو اسامہ ، عبداللہ بن نمیر ، اور وکیع سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ، البتہ ابو اسامہ کی روایت میں ( جب اذان سننے کی بجائے ) " جب فجر طلوع ہوتی " کے الفاظ ہیں ۔
وَحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Imam Muslim has reported this hadith by Hasan b. 'Ali al-Halwani and other traditions
صفوان بن سلیم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے اور حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہون نے نبی ﷺ سے یہ روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ، ذَكْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَصَلَّى عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلصَّلاَةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا .
Samura b. Jundub said:I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ) and he prayed for a woman who had died in the state of delivery. He stood in front of her waist
عبدالوارث بن سعیدنے حسین بن ذکوان سے خبردی ، انھوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی جو حالت نفاس میں وفات پاگئیں تھیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے اس کے ( سامنے ) درمیان میں کھڑے ہوئے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ - عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، - رضى الله عنها - قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنْفِقِي - أَوِ انْضَحِي أَوِ انْفَحِي - وَلاَ تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
Asma', daughter of Abu Bakr (Allah be pleased with him), reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Spend, and do not calculate, or otherwise Allah would also calculate in your case
حفص بن غیا ث نے ہشام سے انھوں نے فا طمہ بنت منذر سے اور انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " ( مال کو ) خرچ ۔ ۔ ۔ یا ہر طرف پھیلاؤ یا ( پانی کی طرح ) بہاؤ ۔ ۔ ۔ اور گنو نہیں ورنہ اللہ بھی تمھیں گن گن کر دے گا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الأَمْرَيْنِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالآخِرِ فَالآخِرِ . قَالَ الزُّهْرِيُّ فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ لِثَلاَثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ .
It has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters that breaking of fast (in a journey) is the final of the two commands (whether one may fast or one may break it), and it is the last command of the Messenger of Allah (ﷺ) which is to be accepted as final. Zuhri said:The Messenger of Allah (ﷺ) marched on Mecca on the morning of 14th of Ramadan (lit. when thirteen nights had passed)
۔ محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، معمر ، حضرت زہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو ہی اپنایاجاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " .
A'isha (Allah be pleased with her) reported that Allah's Apostle (ﷺ) went (to the house of) Duba'a bint al-Zubair b. Abd al-Muttalib. She said:Messenger of Allah, I intend to perform Hajj, but I am ill. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Enter Into the state of Ihram on condition that you would abandon it when Allah would detain you
زہری نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حج کرنا چا ہتی ہوں جبکہ میں بیما ر ( بھی ) ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم حج کے لیے نکل پڑو اور یہ شر ط کر لو کہ ( اے اللہ ! ) میں اسی جگہ احرا م کھول دوں گی جہا ں تو مجھے رو ک دے گا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا " .
Ibn Umar (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger (ﷺ) said:When any one of you is invited to a feast, he should attend it
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ اس میں ضرور آئے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، - وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ، عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَالْمُخَابَرَةِ - قَالَ أَحَدُهُمَا بَيْعُ السِّنِينَ هِيَ الْمُعَاوَمَةُ - وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا .
Jabir b. Abdullah (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) forbidding Muhaqala and Muzabana and Mu'awama and Mukhabara. (One of the narrators) 'said:Sale years ahead is Mu'awama, and making exceptional but he made an exemption of araya
حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ایوب نے ابوزبیر اور سعید بن میناء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ، مزابنہ ، معاومہ ، مخابرہ ۔ ۔ ان دونوں ( ابوزبیر اور سعید ) میں سے ایک نے کہا : کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے ۔ اور استثاء والی بیر سے منع فرمایا اور عرایا ( کو خشک پھل کے عوض بیچنے ) کی اجازت دی
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا . قَالَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَدًا بِيَدٍ فَقَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ .
Abd al-Rabman b. Abia Bakra reported on the authority of his father that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the sale of gold for gold, and silver for silver except equal for equal, and commanded us to buy silver for gold as we desired and buy gold for silver as we desired. A person asked him (about the nature of payment), whereupon he said:It is to be made on the spot. This is what I heard (from Allah's Messenger (may peace be upon him)
عباد بن عوام نے کہا : یحییٰ بن ابی اسحاق نے ہمیں خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے عوض چاندی اور سونے کے عوض سونے کی بیع سے منع فرمایا ، الا یہ کہ برابر برابر ہو اور آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سونے کے عوض چاندی جیسے چاہیں خریدیں اور چاندی کے عوض سونا جیسے چاہیں خریدیں ۔ کہا : اس پر ایک آدمی نے ان سے سوال کیا اور کہا : دست بدست؟ تو انہوں نے کہا : میں نے اسی طرح سنا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ لَمَّا صَالَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهْلَ الْحُدَيْبِيَةِ كَتَبَ عَلِيٌّ كِتَابًا بَيْنَهُمْ قَالَ فَكَتَبَ " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " ثُمَّ ذَكَرَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مُعَاذٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ " هَذَا مَا كَاتَبَ عَلَيْهِ " .
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq, who heard Bars' b. Azib say:When the Messenger of Allah (ﷺ) made peace with the people of Hudaibiya, 'Ali drew up the agreement between them, and so he wrote: Muhammad, the Messenger of Allah. (This is followed by the same wording as we have in the previous tradition except the omission of the words: This is what he has settled)
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ ( میں آ کر صلح کی گفتگو کرنے ) والوں سے صلح کی تو ان کے مابین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تحریر لکھی ، کہا : انہوں نے " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " لکھا ، پھر معاذ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، مگر انہوں نے : " یہ ہے جس پر تحریر صلح کی " ( کا جملہ ) بیان نہیں کیا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ - حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى، قَالَ كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلاَثَمِائَةٍ وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمُنَ الْمُهَاجِرِينَ .
It has been narrated on the authority of 'Abdullah b. Abu Aufa who said:The Companions of the Tree (i e. those who swore fealty under the tree) were one thousand and three hundred, and the people of Aslam tribe were one-eighth of the Muhajirs
عبیداللہ کے والد معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اصحاب شجرہ تیرہ سو تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے ۔ ( انہوں نے یہ تعداد اندازے سے بتائی)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَحَلَبْتُ لَهُ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ .
Abu Bakr Siddiq reported:As we went along with Allah's Messenger (ﷺ) from Mecca to Medina, we passed by a shepherd and Allah's Messenger (ﷺ) was feeling thirsty. He (Abu Bakr Siddiq) said: I milked for him a small quantity of milk (from his goat) and brought it to him (the Holy Prophet), and he drank it and I was very happy
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو اسحاق ( ہمدانی ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی ، انھوں ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ دودھ دوہا ، پھر میں آپ کے پاس وہ دودھ لایا ، آپ نے اسے نوش فرمایا ، یہاں تک کہ میں راضی ہوگیا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقَالَ أَلاَ إِنَّكُمْ تَحَدَّثُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِتَهْتَدُوا وَأَضِلَّ أَلاَ وَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَمْشِ فِي الأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا " .
Abu Razin reported:Abu Huraira came to us and he struck his forehead with his hand and said: Behold I you talk amongst yourself that I attribute wrongly to Allah's Messenger (ﷺ) (certain things) in order to guide you to the right path. In such a case, I would myself go astray. Listen. I bear testimony to the fact that I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying: When the thong of any one of you is broken, he should not walk in the second one until he has got it repaired
ابن ادریس نے اعمش سے ، انھوں نے ابو رزین سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس آئے ، انھوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر فرمایا : سنو! کیا تم اس طرح کی باتیں کرتے ہوکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف باتیں منسوب کرتا ہوں ۔ تاکہ تم ہدایت پاجاؤ اور میں خود گمراہ ہوجاؤں ، سن لو!میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اس کو ٹھیک کرنے سے پہلے دوسرے ( جوتے ) میں نہ چلے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ صَبَّتِ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا . وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ " أَنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . قَالَ أَبُو أَحْمَدَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ .
Hisham reported this hadith with the same chain of transmitters. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Numair (the words are):" She poured water on her sides and in the opening of the shirt at the uppermost part of the chest." There is no mention of these words:" It is from the vehemence of the heat of the Hell." This hadith has been narrated on the authority of Abu Usama with the same chain of transmitters
ابن نمیر اور ابو اسامہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن نمیر کی حدیث میں ہے : وہ اس کے اور اسکی قمیص کے گریبان کے درمیان پانی ڈالتیں ۔ ابواسامہ کی حدیث میں انھوں نے "" یہ جہنم کی لپٹوں میں سے ہے "" کا ذکر نہیں کیا ۔ ابوا حمد نے کہا : ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن شر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو اسامہ نے اسی سند کےساتھ حدیث بیا ن کی ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ وَلاَ مَسِسْتُ دِيبَاجَةً وَلاَ حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلاَ شَمَمْتُ مِسْكَةً وَلاَ عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Anas reported that Allah's Messenger (ﷺ) had a very fair complexion and (the drops) of his perspiration shone like pearls, and when he walked he walked inclining forward, and I never touched brocade and silk (and found it) as soft as the softness of the palm of Allah's Messenger (ﷺ) and I never smelt musk or ambergris and found its fragrance as sweet as the fragrance of Allah's Messenger (ﷺ)
حماد نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید ، چمکتا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک موتی کی طرح تھا اور جب چلتے تو اور میں نے دیباج اور حریر بھی اتنا نرم نہیں پایا جتنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نرم تھی اور میں نے مشک اور عنبر میں بھی وہ خوشبو نہ پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں تھی ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَرَفَ اسْتِئْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاحَ لِذَلِكَ فَقَالَ " اللَّهُمَّ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ " . فَغِرْتُ فَقُلْتُ وَمَا تَذْكُرُ مِنْ عَجُوزٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ فَأَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا .
A'isha reported that Hala b. Khuwailid (sister of Khadija) sought permission from Allah's Messenger (ﷺ) to see him and he was reminded of Khadija's (manner of) asking leave to enter and (was overwhelmed) with emotions thereby and said:O Allah, it is Hala, daughter of Khuwailid, and I felt jealous and said: Why do you remember one of those old women of the Quraish with gums red and who is long dead-while Allah has given you a better one in her stead?
علی بن مسہر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : کہ خدیحہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اجازت مانگنا یاد آ گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا کہ یا اللہ! ہالہ بنت خویلد ۔ مجھے رشک آیا تو میں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا قریش کی بوڑھیوں میں سے سرخ مسوڑھوں والی ایک بڑھیا کو یاد کرتے ہیں ( یعنی انتہا کی بڑھیا جس کے ایک دانت بھی نہ رہا ہو نری سرخی ہی سرخی ہو ، دانت کی سفیدی بالکل نہ ہو ) جو مدت گزری فوت ہو چکی اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بہتر عورت دی ( جوان باکرہ جیسے میں ہوں ) ۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: When anyone amongst you wakes up from sleep, he should wash his hands three times before putting it in the utensil, for he does not know where his hand was during the night
جابر ( بن عبد اللہ ) رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے ان ( جابر رضی اللہ عنہ ) کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو ( وضو کاپانی نکالنے کے لیے ) اپنے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے تین بار اپنے ہاتھ پر پانی ڈالے ( اور ہاتھ دھوئے ) کیونکہ وہ نہیں جانتا اس کے ہاتھ نے کس ( حالت ) میں رات گزاری ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاَنِ فَكَلَّمَاهُ بِشَىْءٍ لاَ أَدْرِي مَا هُوَ فَأَغْضَبَاهُ فَلَعَنَهُمَا وَسَبَّهُمَا فَلَمَّا خَرَجَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَصَابَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا مَا أَصَابَهُ هَذَانِ قَالَ " وَمَا ذَاكِ " . قَالَتْ قُلْتُ لَعَنْتَهُمَا وَسَبَبْتَهُمَا قَالَ " أَوَمَا عَلِمْتِ مَا شَارَطْتُ عَلَيْهِ رَبِّي قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَىُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا " .
A'isha reported that two persons visited Allah's Messenger (ﷺ) and both of them talked about a thing, of which I am not aware, but that annoyed him and he invoked curse upon both of them and hurled malediction, and when they went out I said:Allah's Messenger, the good would reach everyone but it would not reach these two. He said: Why so? I said: Because you have invoked curse and hurled malediction upon both of them. He said: Don't you know that I have made condition with my Lord saying thus: O Allah, I am a human being and that for a Muslim upon whom I invoke curse or hurl malediction make it a source of purity and reward
جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوضحیٰ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے ، مجھے معلوم نہیں کس معاملے میں انہوں نے آپ سے گفتگو کی اور آپ کو ناراض کر دیا ، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا ، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی : کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو ( وہ ) ان دونوں کو نہیں ملی ۔ آپ نے فرمایا : " وہ کیسے؟ " کہا : میں نے عرض کی : آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے : اے اللہ! میں صرف بشر ہوں ، لہذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اس ( لعنت اور برا بھلا کہنے ) کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے ۔
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي، هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا " .
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as say- ing. When you listen to the crowing of the cock, ask Allah for His favour as it sees Angels and when you listen to the braying of the donkey, seek refuge in Allah from the Satan for it sees Satan
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو ، کیونکہ ( اس وقت ) اس نے ایک فرشتے کو دیکھا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے ۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ لِي أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّهُ لاَ يُولَدُ لَهُ " . قَالَ قُلْتُ بَلَى . قَالَ فَقَدْ وُلِدَ لِي . أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلاَ مَكَّةَ " . قُلْتُ بَلَى . قَالَ فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ - قَالَ - ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ . قَالَ فَلَبَسَنِي .
Abu Sa'id reported:I accompanied Ibn Sayyad to Mecca and he said to me: What I have gathered from people is that they think that I am Dajjal. Have you not heard Allah's Messenger (may peace upon him) as saying: He will have no children, I said: Yes, of course. Thereupon he said: But I have children. Have you not heard Allah's Messenger (ﷺ) as saying: He would not enter Mecca and Medina? I said: Yes, of course. Thereupon he said I have been once in Medina and now I intend to go to Mecca. And he said to me at the end of his talk: By Allah, I know his place of birth his abode where he is just now. He (Abu Sa'id) said: This caused confusion in my mind (in regard to his identity)
داود نے ابو نضرہ سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مکہ کی طرف جاتے ہوئے ( راستے میں ) میرا اور ابن صیاد کاساتھ ہوگیا ۔ اس نے مجھ سے کہا : میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سناتھا : " اس کے بچے نہیں ہوں گے " ؟کہا : میں نے کہا : کیوں نہیں ! ( سناتھا ۔ ) اس نے کہا : میرے بچے ہوئے ہیں ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا : " وہ ( دجال ) مدینہ میں داخل ہوگا اور نہ مکہ میں " ؟میں نے کہا : کیوں نہیں!اس نے کہا : میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا ۔ اور اب مکہ کی طرف جارہا ہوں ۔ انھوں نے کہا : پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا : دیکھیں !اللہ کی قسم!میں اس ( دجال ) کی جائے پیدائش ، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں ۔ ( اس طرح ) اس نے ( اپنی حیثیت کے بارے میں ) مجھے الجھا دیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
Ibn 'Abbas reported:The Messenger of Allah (ﷺ) took (meat of) goat's shoulder and offered prayer and did not perform ablution
عطاء بن یسار نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے بکری کا شانہ تناول فرمایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ - كِلاَهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ . وَفِي حَدِيثِهِمَا فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ .
This hadith is transmitted by Sahl b. Sa'd in the same way as narrated by Malik, with the exception of these words:" Abu Bakr lifted his hands and praised Allah and retraced his (steps) till he stood in a row
عبد العزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبد الرحمن القادری دونوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے امام مالک کی روایت کی طرح روایت بیان کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں یہ ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور الٹے پاؤں واپس ہوئے حتیٰ کہ صف میں آ کھڑے ہوئے ۔