بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
23 hadith
وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَزْدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِي الشَّفْعِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَجْلِسَ فِي صَلاَتِهِ فَمَضَى فِي صَلاَتِهِ فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ الصَّلاَةِ سَجَدَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ ‏.‏
Abdullah b. Malik ibn Buhaina al-Asadi reported:The Messenger of Allah (ﷺ) stood up (at the end of two rak'ahs) when he had to sit and proceeded on with the prayer. But when he was at the end of the prayer, he performed a prostration before the salutation and then pronounced the salutation
(ابن شہاب کے بجائے ) یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن اعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحسینہ ازدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ دو رکعتوں کےبعد جہاں نماز میں آپ کا بیٹھنے کا ارادہ تھا ، ( وہاں ) کھڑے ہو گئے ، آپ نے اپنی نماز جاری رکھی ۔ پھر جب نماز کے آخرمیں پہنچے تو سلا م سے پہلے سجدے کیے ، اس کے بعد سلام پھیرا ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters
(محمد بن جعفر کی بجائے ) نضر نے ہمیں خبر دی ، کہا : شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی سابقہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی ہے ۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولاَنِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يُحَدِّثُهُمْ هَؤُلاَءِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ثُمَّ يَقُولُ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُلْحِقُ مَعَهُنَّ ‏"‏ وَلاَ يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported that the Messenger of Allah observed:The fornicator who fornicates is not a believer so long as he commits it and no thief who steals is a believer as long as he commits theft, and no drunkard who drinks wine is a believer as long as he drinks it. 'Abdul-Malik b. Abi Bakr' narrated this on the authority of Abu Bakr b. Abdur-Rahman b. Harith and then said: Abu Huraira made this addition: No plunderer who plunders a valuable thing that attracts the attention of people is a believer so long as he commits this act
یونس بن ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کرر ہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب شراب پی رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے بیان کیا کہ عبد الملک بن ابی بکر بن عبد الرحمٰن نے مجھےخبر دی کہ ( اس کے والد ) ابوبکر ان کے سامنے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے یہ سب باتیں روایت کرتے ، پھرکہتے : اور ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ان میں یہ بات بھی شامل کرتے تھے کہ ’’کسی بڑی قدر و قیمت والی چیز کو ، جس کی وجہ سے لوگ لوٹنے والے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہوں ، وہ نہیں لوٹتا کہ جب لوٹ رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَنَازَةٍ فَحَفِظْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلاً خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ أَوْ مِنْ عَذَابِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا ذَلِكَ الْمَيِّتَ ‏.‏ قَالَ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ أَيْضًا ‏.‏
Jubair b. Nufair says:I heard it from 'Auf b. Malik that the Prophet (ﷺ) said prayer on the dead body, and I remembered his prayer:" O Allah! forgive him, have mercy upon him, give him peace and absolve him. Receive him with honour and make his grave spacious; wash him with water, snow and hail. Cleanse him from faults as Thou wouldst cleanse a white garment from impurity. Requite him with an abode more excellent than his abode, with a family better than his family, and with a mate better than his mate. Admit him to the Garden, and protect him from the torment of the grave and the torment of the Fire." ('Auf bin Malik) said: I earnestly desired that I were this dead body
ابن وہب نے کہا : مجھے معاویہ بن صالح نے حبیب بن عبید سے خبر دی ، انھوں نے اس حدیث کو جبیر بن نفیر سے سنا ، وہ کہتے تھے : میں نے حضر ت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں اسے یاد کرلیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : "" اے اللہ!اسے بخش دے اس پر رحم فرما اور اسے عافیت دے ، اسے معاف فرما اور اس کی باعزت ضیافت فرما اور اس کے داخل ہونے کی جگہ ( قبر ) کو وسیع فرما اور اس ( کےگناہوں ) کو پانی ، برف اور اولوں سے دھو دے ، اسے گناہوں سے اس طرح صاف کردے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا اور اسے اس گھر کے بدلے میں بہتر گھر ، اس کے گھر والوں کے بدلے میں بہتر گھر والے اور اس کی بیوی کے بدلے میں بہتر بیوی عطا فرما اور اس کو جنت میں داخل فرما اور قبر کے عذاب سے اور آگ کے عذاب سے اپنی پناہ عطا فرما ۔ "" کہا : یہاں تک ہوا کہ میرے دل میں آرزو پیدا ہوئی کہ یہ میت میں ہوتا! ( معاویہ نے ) کہا : مجھے عبدالرحمان بن جبیر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حبیب بن عبیدکی ) اسی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ، الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلاَهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Zuhri through another chain of transmitters
صالح اور معمر دونوں نے زہری سے یونس کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیا ن کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ احْتَرَقْتُ ‏.‏ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا شَأْنُهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لِي شَىْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اجْلِسْ ‏"‏ ‏.‏ فَجَلَسَ فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَيْرَنَا فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَىْءٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَكُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏
Abbad b. Abdullah b. Zubair reported that he had heard 'A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), as saying:A person came to the Messenger of Allah (ﷺ) in the mosque during (the month of) Ramadan and said: Messenger of Allah, I am burnt, I am burnt, whereupon the Messenger of Allah (ﷺ) asked him as to what the matter was. Upon this he said: I had intercourse with my wife (in a state of fasting) Thereupon he (the Holy Prophet) said: Give charity. Upon this he said: Apostle of Allah, I swear by God, there is nothing with me (to give in charity) as I do not possess anything. He (the Holy Prophet) said: Sit down. So he sat down and he was in this very state when there came a person urging a donkey with a load of eatables upon it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Where is that burnt one who was just here? Thereupon the person stood up. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give this (eatables brought by the man) in charity. Upon this the person said: Messenger of Allah, can there be anyone else (more deserving than I)? By Allah. we are hungry, we have nothing with us. Upon this he (the Holy Prophet) said: Then eat (these eatables)
ابو طاہر ، ابن وہب ، عمرو بن لیث ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبادبن عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں ۔ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رمضان میں مسجد میں آیا اور اس سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں تو جل گیا میں تو جل گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا؟تو اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کرلی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کرتو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم!اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو کچھ بھی نہیں اور میں اس پر قدرت بھی نہیں ر کھتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جا تو وہ بیٹھ گیا اسی دوران ایک آدمی اپناگدھا ہانکتے ہوئے لایا جس پر کھانا رکھا ہواتھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جلنے والا آدمی کہاں ہے؟وہ آدمی کھڑا ہواتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس کو صدقہ کر تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارے علاوہ بھی ( کوئی صدقہ کا مستحق ہے ) اللہ کی قسم ہم بھوکے ہیں ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ہی اسے کھالو ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - وَقَصَتْ رَجُلاً رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يَكْشِفُوا وَجْهَهُ - حَسِبْتُهُ قَالَ - وَرَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُهِلُّ ‏.‏
Sa`id b. Jubair reported on the authority of Ibn `Abbas (Allah be pleased with them) that the camel of a person broke his neck as he was in the company of Allah's Messenger (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) commanded them (Companions) to wash him with water mixed (with the leaves of) the lote (tree) and to keep his face exposed; (he, the narrator) said:And his head (too), for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya
ابو زبیر نے کہا میں نے سعید بن جبیر کو کہتے ہو ئے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ایک شخص کی اس کی سواری نے گرا کر گردن توڑ دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں اس کا چہرہ ۔ ۔ ۔ اور میرا خیال ہے کہا ۔ ۔ ۔ اور سر برہنہ رکھیں ۔ بلا شبہ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھا یا جا ئے گا کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکا ر رہا ہو گا ۔
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ، بِالْحِجَابِ لَقَدْ كَانَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ‏.‏ قَالَ أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ - قَالَ - وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَشَى فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ.‏
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:I was the best informed among the people pertaining to Hijab (veil and seclusion). Ubayy b. Ka'b used to ask me about it. Anas (Allah be pleased with him) thus narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) got up in the morning as a bridegroom of Zainab bint jahsh (Allah be pleased witt her) as he had married her at Medina. He invited people to the wedding feast after the day had well risen. There sat Allah's Messenger (ﷺ) and there kept sitting along with him some persons after the people had stood up (for departure) ; then Allah's Messenger (ﷺ) stood up and walked on and I also walked along with him until he reached the door of the apartment of 'A'isha (Allah be pleased with her). He then thought that they (those who had been sitting there after meal) had gone away. So he returned and I also returned with him, but they were still sitting at their places. So he returned for the second time and I also returned until he reached the apartment of 'A'isha. He again returned and I also returned and they had (by that time) stood up, and he hung a curtain between me and him (at the door of the apartment of Hadrat Zainab, where he had to stay), and Allah revealed the verse pertaining to veil
جعفر بن سلیمان نے ہمیں ابوعثمان جعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ۔ میری والدہ ام سُلَیم رضی اللہ عنہا نے حَیس تیار کیا ، اسے ایک پیالہ نما بڑے برتن میں ڈالا ، اور کہا : انس! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ اور عرض کرو : یہ میری والدہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے ، اور وہ آپ کو سلام عرض کرتی ہیں اور کہتی ہیں : اللہ کے رسول! یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑی سی چیز ہے ۔ کہا : میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : میری والدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں : اللہ کے رسول! یہ آپ کے لیے ہماری طرف سے تھوڑی سی چیز ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" اسے رکھ دو "" ( آپ نے اسے بھی ولیمے کے کھانے کے ساتھ شامل کر لیا ) پھر فرمایا : "" جاؤ ، فلاں ، فلاں اور فلاں اور جو لوگ تمہیں ملیں انہیں بلا لاؤ ۔ "" آپ نے چند آدمیوں کے نام لیے ۔ کہا : میں ان لوگوں کو جن کے آپ نے نام لیے اور وہ جو مجھے ملے ، ان کو لے آیا ۔ کہا : میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : وہ ( سب ) تعداد میں کتنے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : تین سو کے لگ بھگ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" انس! برتن لے اؤ "" کہا : لوگ اندر داخل ہوئے حتیٰ کہ صفہ ( چبوترہ ) اور حجرہ بھر گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" دس دس افراد حلقہ بنا لیں ، اور ہر انسان اپنے سامنے سے کھائے ۔ "" ان سب نے کھایا حتیٰ کہ سیر ہو گئے ، ایک گروہ نکلا تو دوسرا داخل ہوا ( اس طرح ہوتا رہا ) حتیٰ کہ ان سب نے کھانا کھا لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا : "" انس! اٹھا لو "" تو میں نے ( برتن ) اٹھا لیے ، مجھے معلوم نہیں کہ جب میں نے ( کھانا ) رکھا تھا اس وقت زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اُس وقت ۔ کہا : ان میں سے کچھ ٹولیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ہی بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں ، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، اور آپ کی اہلیہ دیوار کی طرف رخ کیے بیٹھی تھیں ، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( گھر سے ) نکلے ، ( یکے بعد دیگرے ) اپنی ازواج کو سلام کیا ، پھر واپس ہوئے ۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ واپس ہو گئے ہیں ، تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ آپ پر گراں گزر رہے ہیں ۔ کہا : تو وہ جلدی سے دروازے کی طرف لپکے اور سب کے سب نکل گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( آگے ) تشریف لائے ، حتیٰ کہ آپ نے پردہ لٹکایا اور اندر داخل ہو گئے اور میں حجرہ ( نما صفے ) میں بیٹھا ہوا تھا ، آپ تھوڑی ہی دیر ٹھہرے حتی کہ ( دوبارہ ) باہر میرے پاس آئے ، اور ( آپ پر ) یہ آیت نازل کی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے انہیں ( آیتِ کریمہ کے جملہ کلمات کو ) تلاوت فرمایا : "" اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے ، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں ، بلکہ جب تمہیں دعوت دی جائے تب تم اندر جاؤ ، پھر جب کھانا کھا چلو تو منشتر ہو جاؤ ، اور ( وہیں ) باتوں میں دل لگاتے ہوئے نہیں ( بیٹھے رہو ۔ ) بلاشبہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتی ہے "" آیت کے آخر تک ۔ جعد نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ان آیات کے ساتھ ( جو ایک ہی طویل آیت میں سمو دی گئیں ) میرا تعلق سب سے زیادہ قریب کا ہے ، اور ( ان کے نزول ہوتے ہی ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج رضی اللہ عنھن کو پردہ کرا دیا گیا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ، جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُطْعِمَ وَلاَ تُبَاعُ إِلاَّ بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ إِلاَّ الْعَرَايَا ‏.‏ قَالَ عَطَاءٌ فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ قَالَ أَمَّا الْمُخَابَرَةُ فَالأَرْضُ الْبَيْضَاءُ يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَيُنْفِقُ فِيهَا ثُمَّ يَأْخُذُ مِنَ الثَّمَرِ ‏.‏ وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ بَيْعُ الرُّطَبِ فِي النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً ‏.‏ وَالْمُحَاقَلَةُ فِي الزَّرْعِ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ كَيْلاً ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade Mukhabara and Muhaqala, and Muzabana, and the sale of the fruit until it is fit for eating, and its sale but with dirham and dinar. Exception is made in case of 'araya. Ata' said:Jabir explained (these terms) for us. As for Mukhabara it is this that a wasteland is given by a person to another and he makes an investment in it and then gets a share in the produce. According to him (Jabir), Muzabana is the sell of fresh dates on the tree for dry dates with a measure, and Muhaqala in agriculture implies that one should sell the standing crop for grains with a measure
مخلد بن یزید جزری نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ ، مزابنہ اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کی فروخت کرنے سے منع فرمایا اور ( حکم دیا کہ پھلوں اور اجناس کی ) صرف درہم و دینار ہی سے بیع کی جائے ، سوائے عرایا کے ۔ عطاء نے کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا : مخابرہ سے مراد وہ چٹیل زمین ہے جو ایک آدمی دوسرے کے حوالے کرے تو وہ اس میں خرچ کرے ، پھر وہ ( زمین دینے والا ) اس کی پیداوار میں سے حصہ لے ۔ اور ان کا خیال ہے کہ مزابنہ سے مراد کھجور پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی خشک کھجور ( کی معینہ مقدار ) کے عوض بیع ہے اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی کھڑی فصل کو ماپے ہوئے غلے کے عوض بیچ دے
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي تَمِيمٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Musa b. Abu Tamim with the same chain of transmitters
امام مالک بن انس نے کہا : مجھے موسیٰ بن ابی تمیم نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ‏ "‏ لاَ يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Muti' who heard from his father and said:I heard the Prophet (ﷺ) say on the day of the Conquest of Mecca: No Quraishite will be killed hound hand and foot from this day until the Day of judgment
علی بن مسہر اور وکیع نے زکریا سے ، انہوں نے شعبی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن مطیع نے اپنے باپ ( مطیع بن اسود رضی اللہ عنہ ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : جس دن مکہ فتح ہوا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : " آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر قتل نہ کیا جائے
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَصْحَابِ، الشَّجَرَةِ فَقَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Salim b. Abu al-Ja'd who said:I asked Jabir b. 'Abdullah about the number of the Companions (of the Prophet who took the oath of fealty under) the tree. He said: If we were a hundred thousand, it (i. e. the water in the well at Hudaibiya) would have sufficed us, but actually we were one thousand and five hundred
عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اصحاب شجرہ ( بیعت رضوان کرنے والوں کی تعداد ) کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے کہا : اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ ( پانی ) ہمیں کافی ہوتا لیکن ہم ( تقریبا ) ایک ہزار پانچ سو لوگ تھے
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ - حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ فَسَقَتْهُ تَخُصُّهُ بِذَلِكَ ‏.‏
Sahl b. Sa'd reported (this hadith through another chain of transmitters) and he said (these words):" In a big bowl of stone, and when Allah's Messenger (ﷺ) had taken the food, she drenched the dates and served (this) especially to him
محمد ابو غسان نے کہا : مجھے ابو حازم نے حجرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث روایت کی اور کہا : ( اس نے ) پتھر کے ایک بڑے پیا لے میں ( نبیذ بنائی ) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا نے سے فارغ ہو ئے تو اس ( ابو اسید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دلہن ) نے اس ( پھل کو جوپانی کے ساتھ برتن میں ڈالا ہوا تھا ) پا نی میں گھلایا اور آپ کو پلا یا آپ کو خصوصی طور پر ( پلایا)
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا ‏ "‏ اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لاَ يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ ‏"‏ ‏.‏
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) saying during an expedition in which we also participated: Make a general practice of wearing sandals, for a man is riding as it were when he wears sandals
ابو زبیرنے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ایک غزوے کے دوران میں ، جو ہم نے لڑا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کثرت سے ( اکثر اوقات ) جوتے پہنا کرو ، کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہن کر رکھتا ہے سوار ہوتا ہے ۔ ( اس کے پاؤں اسی طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح سوار کے اور وہ سوار ہی کی طرح تیزی سے چل سکتا ہے)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported Allah's messenger (ﷺ) as saying:Fever is from the vehement raging of the Hell-fire, so cool it with water
ابن نمیر نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters but with a slight variation of wording
عبدہ ، وکیع ، اور ابو معاویہ ، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان میں سے کوئی راوی دوسرے سے کچھ زائد ( الفاظ ) بیان کر تا ہے ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ إِلَى قِصَّةِ الشَّاةِ وَلَمْ يَذْكُرِ الزِّيَادَةَ بَعْدَهَا ‏.‏
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Usama up to the slaughtering of a sheep, but he. did not make mention of the subsequent words
ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ بکری ( ذبح کرنے ) کے قصے تک ابو اسامہ کی حدیث کی طرح حدیث بیا ن کی ۔ اس کے بعد کے زائد الفاظ بیان نہیں کیے ۔
وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلاَ يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاَثًا فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira said:When anyone amongst you wakes up from sleep, he must not put his hand in the utensil till he has washed it three times, for he does not know where his hand was during the night
عبد اللہ بن شقیق نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو اس وقت تک اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے تین دفعہ دھو نہ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں ( کہاں ) رہا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، كِلاَهُمَا عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters
معمر نے زید بن اسلم سے اسی سند سے حفص بن میسرہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ ‏ "‏ أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but. with a slight variation of wording
وکیع ، معاذ اور ابن ابی عدی سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور معاذ کی حدیث میں ہے : " جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستر میں چلے جاؤ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ دُخٌّ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعْهُ فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported:We were walking with Allah's Messenger (ﷺ) that Ibn Sayyad happened to pass by him. Allah's Messenger (ﷺ) said to him: I have concealed for you (something to test you, so tell me that). He said: It is Dukh. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said to him: Be off. You cannot get farther than your rank, whereupon 'Umar said: Allah's Messenger, permit me to strike his neck. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Leave him; if he is that one (Dajjal) whom you apprehend, you will not be able to kill him
ابو معاویہ نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ابن صیاد کے پاس سے گزرے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " میں تمہارے لیے ( دل میں ) ایک بات چھپائی ہے ۔ " وہ دُخَ ہے ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " دور دفع ہوجا!تو اپنی حیثیت سے کبھی نہیں بڑھ سکےگا ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے چھوڑ دو ، اگر یہ وہی ہے جس کا تمھیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کرسکوگے ۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏"‏
Zaid b Thabit reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say this: Ablution is obligatory (for one who takes anything) touched by fire
حضرت زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ایسی چیز ( کے کھانے ) س وضو ( لازم ہو جاتا ) ہے جسے آگ نے چھوا ہو ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا فَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ وَضَحَ لَنَا - قَالَ - فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ ‏.‏
Anas reported:The Apostle of Allah (ﷺ) did not come to us for three days. When the prayer was about to start. Abu Bakr stepped forward (to lead the prayer), and the Messenger of Allah (ﷺ) lifted the curtain. When the face of the Messenger of Allah (ﷺ) became visible to us, we (found) that no sight was more endearing to us than the face of the Messenger of Allah (ﷺ) as it appeared to us. The Apostle of Allah (ﷺ) with the gesture of his hand directed Abu Bakr to step forward (and lead the prayer). The Apostle of Allah (ﷺ) then drew the curtain, and we could not see him till he died
۔ عبد العزیز نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ نبیﷺ ( بیماری کے ایام میں ) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے ، ( انہی دنوں میں سے ) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ آگے بڑھنے لگے تو نبیﷺ ( کمرے کے ) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا ، جب ہمارے سامنے نبیﷺ کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے ، نبیﷺ کے چہرہ مبارک کے نظارے سے ، جو ہمارے سامنے تھا ، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو ۔ وہ کہتے ہیں : پھر آپﷺ نے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا ، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے ۔