بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
23 hadith
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الأَسْدِيِّ، حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ فِي صَلاَةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَلَمَّا أَتَمَّ صَلاَتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ ‏.‏
Abdullah b. Buhaina al-Asadi, the ally of Abual-Muttalib, reported:The Messenger of Allah (ﷺ) stood up in the noon prayer (though) he hadith sit (after the two rak'ahs). When he completed the prayer he performed two prostrations and said," Allah is the Most Great" in each prostration, while he was sitting before pronouncing salutation, and the people performed prostration along with him. That was a compensation for he had forgotten to observe jalsa (after two rak'ahs)
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نےاعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ اسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، جو بنو بعدالمطلب کے حلیف تھے ، روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز میں ، جب آپ کو ( دوسری رکعت کےبعد ) بیٹھنا تھا ، کھڑے ہوگئے ، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتےہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے ، اور لوگوں نے بھی ( تشہد کے لیے ) بیٹھے کی جگہ ، جو آپ بھول گئے تھے ، آپ کے ساتھ د و سجدے کیے ۔
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ لاَ يُصَلِّي إِلاَّ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ‏.‏
Hafsa reported that when it was dawn, the Messenger of Allah (ﷺ) did not observe (any other prayers) but two short rak'ahs
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے زید بن محمد سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : میں نے نافع سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے تھے اور وہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت بیان کررہے تھے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب فجر طلوع ہوجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو مختصر رکعتوں کے سوا کوئی نماز نہ پڑھتے تھے ۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ بَايَعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فَلَقَّنَنِي ‏ "‏ فِيمَا اسْتَطَعْتَ ‏"‏ ‏.‏ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ‏.‏ قَالَ يَعْقُوبُ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ‏.‏
It is narrated on the authority of Jarir that he observed:I owed allegiance to the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) on hearing ( is commands) and obeying (them) and the Prophet) instructed me (to act) as lay in my power, and sincerity and goodwill for every Muslim
سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا : ہشیم نےہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی اکرمﷺ سے ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے ساتھ یہ کہلوایا : ’’ جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر ۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا : ہمیں سیار نے حدیث سنائی ۔ ( یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی ، لفظ وہی تھے ۔ ) سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا : ہشیم نےہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی اکرمﷺ سے ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے ساتھ یہ کہلوایا : ’’ جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر ۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا : ہمیں سیار نے حدیث سنائی ۔ ( یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی ، لفظ وہی تھے ۔)
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Shu'ba with the same chain of transmitters
یحییٰ قطان نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي الطَّاهِرِ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ ‏.‏ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلاَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلاَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone contributes a pair of anything for the sake of Allah, he would be invited to enter Paradise (with these words): O servant of Allah, it is good (for you). Those who engage in prayer will he invited to enter by the gate of prayer; those who take part in Jihad will be invited to enter by the gate of Jihad; those who give charity will be invited to enter by the gate of charity; and those who observe fast will be invited to enter by the gate ar-Rayyan. Abu Bakr Siddiq said: Messenger of Allah, is it necessary that a person be invited through one of these gates? Will anyone be invited to enter by all those gates? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Yes, and I hope you will be one of them
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اللہ کی راہ میں دو دو چیزیں خرچ کیں اسے جنت میں آواز دی جائے گی کے اے اللہ کے بندے!یہ ( دروازہ ) بہت اچھا ہے ۔ ( کیونکہ وہ دوسرے میں سے جانے کا حقدار بھی ہوگا ) جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہوگا ، اسے نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا ، جو جہاد کرنے والوں میں سے ہوگا ، اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا ، جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا ، اسے صدقے والے دروازے سے پکارا جائے گا ، اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا ، اسے باب ریان ( سیرابی کے دروازے ) سے پکارا جائے گا ۔ " ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کسی انسان کو ان تمام دروازوں سے پکارے جان کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن کیا کوئی ایسا بھی ( خوش نصیب ) ہوگا جسے ان تمام دروازوں سے بلا یا جائے گا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ، اور مجھے امید ہے تم انھی میں سے ہوگے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ أَتَى رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَيْسَ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ ‏ "‏ تَصَدَّقْ تَصَدَّقْ ‏"‏ ‏.‏ وَلاَ قَوْلُهُ نَهَارًا ‏.‏
Abbad b. Abdullah b. Zubair narrated that he heard 'A'isha (Allah be pleased with her) saying:A person came to the Messenger of Allah (ﷺ), and he then narrated the hadith. But (neither these words are found):" Give charity, give charity" (nor) his words:" during the day time
محمد بن مثنیٰ ، عبدالوہاب ثقفی ، یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن قاسم ، محمد بن جعفر بن زبیر ، عبداللہ بن زبیر ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور پھر حدیث ذکر فرمائی اور اس میں صدقہ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی دن کا ذکر ہے ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ وَلاَ يُمَسَّ طِيبًا خَارِجٌ رَأْسُهُ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ خَارِجٌ رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ‏.‏
Sa'id b. Jubair heard Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) as saying:A person came to Allah's Apostle (ﷺ) while he was in the state of lhram. He fell down from his camel and broke his neck. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) commanded to bathe him with water (mixed with the leaves of) the lote (tree), and shroud him in two (pieces of) cloth and not to apply perfume (to him), keeping his head out (of the shroud). Shu'ba said: He then narrated to me after this (the words)" keeping his head out," his face out, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya
شعبہ نے کہا : میں نے ابو بشر سے سنا وہ سعید بن جبیر سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا جبکہ وہ احرا م کی حا لت میں تھا ( اسی دورا ن میں ) وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اسی وقت اسے مار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیر ی کے پتوں سے غسل دیا جا ئے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جا ئے خوشبو نہ لگا ئی جا ئے اور اس کا سر ( کفن سے ) با ہر نکلا ہوا ہو ۔ شعبہ نے کہا مجھے بعد میں انھوں نے یہی حدیث ( اس طرح ) بیان کیا کہ اس کا سر اور چہرہ باہر ہو ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے دن ( احرا م میں ) چپکے بالوں کے ساتھ اٹھا یا جا ئےگا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَبِيبٍ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ - قَالَ - فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ ‏.‏ زَادَ عَاصِمٌ وَابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا قَالَ فَقَعَدَ ثَلاَثَةٌ وَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا - قَالَ - فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا - قَالَ - فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ - قَالَ - وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا‏}‏ ‏.‏
Anas b. Malik (Allah be pleased with him) reported:When Allah's Apostle (ﷺ) married Zainab bint jahsh, he invited people (to the wedding feast) and they ate food. They then sat there and entered into conversation. He (the Holy Prophet) made a stir as if he was preparing to stand up, but (the persons busy in talking) did not stand up. When he (the Holy Prophet) saw it, he stood up and when he did so, some other persons stood up. 'Asim and Abd al-A'la in their narrations made this addition: Three (persons) sat there, and Allah's Apostle (ﷺ) came there to enter (the apartment) but he found the people sitting there. Then they stood up and went away. He said: Then I came and informed Allah's Apostle (ﷺ) that they had gone away. He (the Holy Prophet) then came there until he entered (the apartment). I also went and was about to enter, when he hung a curtain between me and him (and it was on this occasion that) Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse:" O you who believe, enter not the houses of the Prophet unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished to the (words)" Surely this is serious in the sight of Allah" (xxxiii)
ابن شہاب نے کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پردے ( کے احکام ) کو سب لوگوں سے زیادہ جاننے والا میں ہوں ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا کرتے تھے ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے دلہا کی حیثیت سے صبح کی ، آپ نے ( اسی رات ) مدینہ میں ان سے شادی کی تھی ، دن چڑھنے کے بعد آپ نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کچھ افراد لوگوں کے چلے جانے کے بعد بھی آپ کے ساتھ بیٹھے رہے ، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ۔ آپ چلے تو میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا حتیٰ کہ آپ ( سب حجروں سے ہوتے ہوئے ) حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچے ۔ پھر آپ نے سوچا کہ وہ لوگ جا چکے ہوں گے ، آپ واپس ہوئے ، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ، تو تب بھی وہ اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ لوٹ گئے اور میں بھی دوبارہ لوٹ گیا ، حتیٰ کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے تک پہنچے تو پھر سے واپس آئے ، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا ، تو دیکھا کہ وہ لوگ اٹھ ( کر جا ) چکے تھے ، اس کے بعد آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا ، اور ( اس وقت ) پردے کی آیت نازل کی گئی
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَأَبِي، الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
Jabir b. 'Abdullah (Allah be pleased with them) reported that Allah's Messenger (ﷺ) forbade the types of sales as described before
ابوعاصم نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے عطاء اور ابوزبیر سے خبر دی ، ان دونوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ مُوسَى، بْنِ أَبِي تَمِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Let dinar be exchanged for dinar, with no addition on either side and dirham be exchanged for dirham with no addition on either side
سلیمان بن ہلال نے ہمیں موسیٰ بن ابی تمیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دینار سے دینار کی بیع میں ان کے درمیان اضافہ ( جائز ) نہیں اور درہم سے درہم کے تبادلے میں ان کے درمیان اضافہ ( جائز ) نہیں ۔
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ زَهُوقًا ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الآيَةَ الأُخْرَى وَقَالَ بَدَلَ نُصُبًا صَنَمًا ‏.‏
This tradition has been narrated by Ibn Abu Najah through a different chain of transmitters up to the word:Zahaqa, (This version) does not contain the second verse and substitutes Sanam for Nusub (both the words mean" idol" or" image" that is worshipped)
ثوری نے ابن ابی نجیح سے اسی سند کے ساتھ زهوقا ( پہلی آیت کے آخر ) تک روایت کی ، دوسری آیت بیان نہیں کی اور ۔ ۔ نصبا کے بجائے ‘ صنما کہا : ( دونوں کے معنی بت کے ہیں)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَحْمَدُ، بْنُ عَبْدَةَ - وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالَ سَعِيدٌ وَإِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ جَابِرٌ لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said:We were one thousand and four hundred on the Day of Hudaibiya when the Prophet (ﷺ) said to us: Today you are the best people on the earth. And Jabir said: If I had the eyesight, I could show you the place of the tree
عمرو نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے دن ہم ایک ہزار چار سو تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : "" آج تم روئے زمین کے بہترین افراد ہو حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں دیکھ سکتا تو میں تم کو اس درخت کی جگہ دکھاتا
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلاً، يَقُولُ أَتَى أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فَلَمَّا أَكَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ ‏.‏
Sahl reported that Abu Usaid al-Sa'idi came to Allah's Messenger (ﷺ) ; the rest of the hadith is the same, but he did not mention this:when he had eaten (the food) she gave him this to drink
یعقوب بن عبد الرحمٰن نے ابو حازم سے روایت کی ، کہا : میں نےحضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں نے یہ نہیں کہا ۔ جب آپ نے کھا نا تناول فرما لیا اس نے وہ ( مشروب ) کو پلا یا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ قَالَ عَلِيٌّ نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتَخَتَّمَ فِي إِصْبَعِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ ‏.‏ قَالَ فَأَوْمَأَ إِلَى الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا ‏.‏
Ali reported:Allah's Messenger (ﷺ) forbade me that I should wear a ring in this and that finger of mine, and he pointed to the middle finger and the next one
ابو احوص نے عاصم بن کلیب سے ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاتھا کہ میں ان دونوں میں سے کسی انگلی میں انگوٹھی پہنوں ، پھر انھوں نے درمیانی اور ( انگوٹھے کی طرف سے ) اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Fever is from the vehement Paging of the Hell-fire, so cool it with water
محمد بن زید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے ، اس کو پانی سے بجھاؤ ۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ وَلاَ امْرَأَةً وَلاَ خَادِمًا إِلاَّ أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَىْءٌ قَطُّ فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ إِلاَّ أَنْ يُنْتَهَكَ شَىْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللَّهِ فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (ﷺ) never beat anyone with his hand, neither a woman nor a servant, but only, in the case when he had been fighting in the cause of Allah and he never took revenge for anything unless the things made inviolable by Allah were made violable; he then took revenge for Allah, the Exalted and Glorious
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ، نہ کسی عورت کو ، نہ کسی غلام کو ، مگر یہ کہ آپ اللہ کے راستے میں جہاد کررہے ہوں ۔ اور جب بھی آپ کو نقصان پہنچایا گیا تو کبھی ( ایسا نہیں ہوا کہ ) آپ نے اس سے انتقام لیا ہومگر یہ کہ کوئی اللہ کی محرمات میں سے کسی کو خلاف ورزی کرتاتو آپ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لے لیتے ۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ عَلَى خَدِيجَةَ وَإِنِّي لَمْ أُدْرِكْهَا ‏.‏ قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ذَبَحَ الشَّاةَ فَيَقُولُ ‏"‏ أَرْسِلُوا بِهَا إِلَى أَصْدِقَاءِ خَدِيجَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ فَأَغْضَبْتُهُ يَوْمًا فَقُلْتُ خَدِيجَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي قَدْ رُزِقْتُ حُبَّهَا ‏"‏ ‏.‏
A'isha reported:Never did I feel jealous of the wives of Allah's Apostle (ﷺ) but in case of Khadija, although I did no, (have the privilege to) see her. She further added that whenever Allah's Messenger (ﷺ) slaughtered a sheep, he said: Send it to the companions of Khadija I annoyed him one day and said: (It is) Khadija only who always prevails upon your mind. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Her love had been nurtured in my heart by Allah Himself
حفص بن غیاث نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے مجھے کسی پر رشک نہیں آتاتھا ، سوائے حضرت خدیجۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ، حالانکہ میں نے ان کا زمانہ نہیں دیکھا تھا ۔ کہا : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے : "" اس کو خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف بھیجو ۔ "" کہا : میں نے ایک دن آپ کو غصہ دلادیا ۔ میں نے کہا : خدیجہ؟ ( آپ انھی کا نام لیتے رہتے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے ان کی محبت عطا کی گئی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى الصَّلَوَاتِ يَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ عَمْدًا صَنَعْتُهُ يَا عُمَرُ ‏"‏ ‏.‏
Sulaiman b. Buraida narrated it from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) offered prayers with one ablution on the day of the Conquest (of Mecca) and wiped over the socks. 'Umar said to him:You have today done something that you have not been accustomed to before. He (the Holy Prophet) said: 0 'Umar, I have done that on purpose
سلیمان بن بریدہ ( اسلمی ) نے اپنے والد سے روایت کی نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن کئی نمازیں ایک وضو سے پڑھیں اوراپنے موزوں پر مسح فرمایا ۔ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ سے پوچھا : آپ نے آج ایسا کام کیا جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ۔ آپ نے جواب دیا : ’’عمر!میں نے عمداً ایسا کیا ہے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ، بْنَ مَرْوَانَ بَعَثَ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ بِأَنْجَادٍ مِنْ عِنْدِهِ فَلَمَّا أَنْ كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ قَامَ عَبْدُ الْمَلِكِ مِنَ اللَّيْلِ فَدَعَا خَادِمَهُ فَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ فَلَعَنَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَتْ لَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ لَعَنْتَ خَادِمَكَ حِينَ دَعَوْتَهُ ‏.‏ فَقَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلاَ شُهَدَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏
Zaid b. Aslam reported that 'Abd al-Malik b. Marwan sent some domestic goods for decoration to Umm Darda' on his own behalf, and when it was night 'Abd al-Malik got up and called for the servant. It seemed as if he (the servant) was late (in responding to his call), so he ('Abd al-Malik) invoked curse upon him, and when it was morning Umm Darda' said to him:I heard you cursing your servant during the night when you called him, and she said: I heard Abu Darda' as saying that Allah's Messenger (ﷺ) said: The invoker of curse would neither be intercessor nor witness on the Day of Resurrection
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے روایت کی کہ عبدالملک بن مروان نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو اپنی طرف سے گھر کا کچھ عمدہ سامان بھیجا ، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات کو عبدالملک اٹھا ، اس نے اپنے خادم کو آواز دی ، غالبا اس نے دیر لگا دی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی ، جب اس ( عبدالملک ) نے صبح کی تو حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے رات کو سنا کہ جس وقت تم نے اپنے خادم کو بلایا تھا تو تم نے اس پر لعنت کی تھی ، پھر وہ کہنے لگیں : میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شفاعت کرنے والے ہوں گے ، نہ گواہ بنیں گے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أَنَّ فَاطِمَةَ، اشْتَكَتْ مَا تَلْقَى مِنَ الرَّحَى فِي يَدِهَا وَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سَبْىٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيءِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَى مَكَانِكُمَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَى صَدْرِي ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَلاَ أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَنْ تُكَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ وَتُسَبِّحَاهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَتَحْمَدَاهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ‏"‏ ‏.‏
It is reported on the authority of Ali that Fatima had corns in her hand because of working at the hand-mill. There had fallen to the lot of Allah's Apostle (ﷺ) some prisoners of war. She (Fatima) came to the Prophet (ﷺ) but she did not find him (in the house). She met A'isha and informed her (about her hardship). When Allah's Apostle (ﷺ) came, she (A'isha) informed him about the visit of Fatima. Allah's Messenger (ﷺ) came to them (Fatima and her family). They had gone to their beds. 'Ali further (reported):We tried to stand up (as a mark of respect) but Allah's Messenger (ﷺ) said: Keep to your beds, and he sat amongst us and I felt the coldness of his feet upon my chest. He then said: May I not direct you to something better than what you have asked for? When you go to your bed, you should recite Takbir (Allah-o-Akbar) thirty-four times and Tasbih (Subhan Allah) thirty-three times and Tahmid (al-Hamdu li-Allah) thirty-three times, and that is better than the servant for you
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن ابی لیلی سے سنا ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے سے جو زحمت برداشت کرنی پڑی اس کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں تکلیف ہوئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ۔ آپ کی طرف گئیں ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( گھر میں ) نہ پایا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملیں اور انہیں ( اپنی تکلیف کے بارے میں ) بتایا ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو ان ( حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کے اپنے پاس آنے کے بارے میں بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہان تشریف لائے ۔ ۔ اس وقت ہم اپنے اپنے بستروں میں جا چکے تھے ، ہم کھڑے ہونے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دونوں اپنی اپنی جگہ پر رہو ۔ " آپ ہم دونوں کے درمیان ( والی جگہ پر ) بیٹھ گئے حتی کہ میں نے آپ کے قدم مبارک کی ٹھڈک اپنے سینے پر محسوس کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم دونوں نے مجھ سے مانگا ہے میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ سکھلاؤں؟ جب تم دونوں اپنے اپنے بستروں میں جاؤ تو چونتیس بار اللہ اکبر کہو ، تینتیس بار سبحان اللہ کہو اور تینتیس بار الحمدللہ کہو ، یہ ( عمل ) تم دونوں کے لیے ایک خادم ( مل جانے ) سے بہتر ہے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ، عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمُ ابْنُ صَيَّادٍ فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ ‏.‏ بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ‏"‏ ‏.‏
Abdullah reported:We were along with Allah's Messenger (ﷺ) that we happened to pass by children amongst whom there was Ibn Sayyad. The children made their way but Ibn Sayyad kept sitting there (and it seemed) as if Allah's Messenger (ﷺ) did not like it (his sitting with the children) and said to him: May your nose he besmeared with dust, don't you bear testimony to the fact that I am the Messenger of Allah? Thereupon he said: No, but you should bear testimony that I am the messenger of Allah. Thereupon 'Umar b. Khattab said: Allah's Messenger, permit me that I should kill him. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: If he is that person who is in your mind (Dajjal ), you will not be able to kill him
جریر نےاعمش سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم چند لڑکوں کے پاس سے گزرے ، ان میں ابن صیاد بھی تھا ، سب بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا ، تو ایسا لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تیرے ہاتھ خاک آلودہوں!کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ " حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کو قتل کردوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ وہی ہے جو تمہارا گمان ہے تو تم اس کو قتل نہیں کرسکوگے ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنَّ رَجُلاً سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُكْسِلُ هَلْ عَلَيْهِمَا الْغُسْلُ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنِّي لأَفْعَلُ ذَلِكَ أَنَا وَهَذِهِ ثُمَّ نَغْتَسِلُ ‏"‏ ‏.‏
A'isha the wife of the Messenger of Allah (ﷺ) reported. A person asked the Messenger of Allah (ﷺ) about one who has sexual intercourse with his wife and parts away (without orgasm) whether bathing is obligatory for him. 'A'isha was sitting by him. The Messenger of Allah (ﷺ) said:I and she (the Mother of the Faithful) do it and then take a bath
ام کلثوم نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ سے ایسے مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے ، پھر انزال نہیں ہوتا ، کیا ان ( دونوں ) پر غسل ہے؟ اور ( اندر ) حضرت عائشہؓ بھی بیٹھی ہوئی تھیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’میں اور یہ ( ہم دونوں میاں بیوی ) یہ کرتے ہیں ، پھر ہم ( دونوں ) نہاتے ہیں ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ ‏.‏ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا ‏.‏
This hadith is narrated on the authority of Anas b. Malik by another chain of transmitters
معمر نے زہری کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے خبر دی کہ جب سوموار کا دن آیا .... اوپر والے دونوں راویوں کے مطابق ۔