بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
22 hadith
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ وَلَّى وَلَهُ ضُرَاطٌ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَزَادَ ‏"‏ فَهَنَّاهُ وَمَنَّاهُ وَذَكَّرَهُ مِنْ حَاجَاتِهِ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: The devil takes to his heels breaking wind when the prayer begins. and the rest is the same but with this addition:" He (the devil) makes him think of pleasant things (or things productive of enjoyment) and of the things wished for, and reminds him of such needs which he had forgotten
عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : ’’جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے ...... ‘ ‘ آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا اور یہ اضافہ کیا : ’’اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الأَذَانِ لِصَلاَةِ الصُّبْحِ وَبَدَا الصُّبْحُ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تُقَامَ الصَّلاَةُ ‏.‏
Ibn 'Umar reported that Hafsa, the Mother of the Believers, informed him that when the Mu'adhdhin became silent after calling (people) to the dawn prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) commenced the dawn (prayer) when it dawned by observing two short rak'ahs before the commencement of the (Fard) prayer
امام مالک ؒ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتایاکہ جب موذن صبح کی اذان کہہ کر خاموش ہوجاتا اور صبح ظاہر ہوجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی اقامت سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ ‏.‏
It is narrated on the authority of Jarir that he observed I gave pledge of allegiance to the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) on the observance of prayer, payment of Zakat, and sincerity and well-wishing for every Muslim
قیس ( بن ابی حازم ) نے حضرت جریر ( بن عبد اللہ ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے ، زکاۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏
This hadith has been narrated by Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters
ابن ابی زائدہ نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیا ن کی ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ - قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ أَمَرَنِي مَوْلاَىَ أَنْ أُقَدِّدَ، لَحْمًا فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلاَىَ فَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لِمَ ضَرَبْتَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ الأَجْرُ بَيْنَكُمَا ‏"‏ ‏.‏
Umair, the freed slave of Abi'l-Lahm, said:My master commanded me to cut some meat in strips; (as I was doing it) a poor man came to me and I gave him some of it to eat. My master came to know of that, and he beat me. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and narrated it to him. He (the Holy Prophet) summoned him and said: Why did you beat him? He (Abi'l-Lahm) said: He gives away my food without being commanded to do so. Upon this he (the Holy Prophet) said: The reward would be shared by you two
یزید بن ابی عبید نے کہا : میں نے آبی اللحم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے میرے آقا نے گوشت کے ٹکڑے کرکے خشک کرنے کا حکم دیا ، میرے پاس ایک مسکین آگیا تو میں نے اس میں سے کچھ کھلا دیا ۔ میرے آقا کو اس کا پتہ چل گیا ۔ تو انھوں نے مجھے مارا ۔ اس پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی ۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا : " تم نے اسے کیوں مارا؟ " اس نے کہا : میرے حکم کے بغیر میراکھانا ( دوسروں کو ) دیتا ہے ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اجر تم دونوں کے درمیان ہوگا ۔ " ( تم دونوں کو ملے گا)
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters on the authority of Zuhri
معمرنے زہری سےاسی سندکے ساتھ ابن عینیہ کی حدیث کی طرح روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما ح . وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ، بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رضى الله عنهما أَنَّ رَجُلاً، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُحْرِمًا فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا ‏"‏ ‏.‏
Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) reported that when a person who was in the state of Ihram was in the company of the Messenger of Allah (ﷺ), his camel broke his neckand he died. Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said:Bathe him with water (mixed with the leaves) of the lute tree and shroud him in his two (pieces of) cloth and, neither perfume him nor cover his head, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya
ہمیں ابو بشر نے حدیث سنائی کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی انھوں نے حضر ت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص احرا م کی حا لت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن تو ڑدی اور وہ فوت ہو گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے دو کپڑوں ( احرا م کی دو چادروں ) میں کفن دو نہ اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھانپو بلا شبہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس کے بال چپکے ہو ئے ہوں گے ۔ ( جس طرح موت کے وقت احرام کی حا لت میں تھے)
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ سَمِعْتُ أَنَسًا، - قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ - وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ عَلَى شَىْءٍ - مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً ‏.‏
Anas (Allah be pleased with him) reported:I did not see Allah's Messenger (ﷺ) giving a wedding feast (on the marriage) of any one (of his wives) as he did in the case of (his marriage with) Zainab, for then he sacrificed a goat (on this occasion)
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا اس سے بڑھ کر یااس سے بہتر ولیمہ نہیں کیا جیسا ولیمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کیا ۔ ثابت بنانی نے پوچھا : آپ نے کس چیز سے ولیمہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : آپ نے انہیں روٹی اور گوشت کھلایا حتیٰ کہ انہوں نے ( سیر ہو کر کھانا ) چھوڑ دیا
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ أَبَاهُ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ بِمِثْلِهِ ‏.‏
Ibn Umar reported on the authority of his father as Allah's Apostle (ﷺ) saying so
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ ‏ "‏ يَدًا بِيَدٍ ‏"‏ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Fudail b. Ghazwan with the same chain of transmitters, but he made no mention of (payment being) made on the spot
محاربی نے فضیل بن گزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے " دست بدست " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ، بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَفِينَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَكَانَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَصْنَعُ طَعَامًا يَوْمًا لأَصْحَابِهِ فَكَانَتْ نَوْبَتِي فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ الْيَوْمُ نَوْبَتِي ‏.‏ فَجَاءُوا إِلَى الْمَنْزِلِ وَلَمْ يُدْرِكْ طَعَامُنَا فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ لَوْ حَدَّثْتَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يُدْرِكَ طَعَامُنَا فَقَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُمْنَى وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الْمُجَنِّبَةِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الْبَيَاذِقَةِ وَبَطْنِ الْوَادِي فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِي الأَنْصَارَ ‏"‏ ‏.‏ فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ فَقَالَ ‏"‏ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ هَلْ تَرَوْنَ أَوْبَاشَ قُرَيْشٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ انْظُرُوا إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا أَنْ تَحْصِدُوهُمْ حَصْدًا ‏"‏ ‏.‏ وَأَخْفَى بِيَدِهِ وَوَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ وَقَالَ ‏"‏ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا أَشْرَفَ يَوْمَئِذٍ لَهُمْ أَحَدٌ إِلاَّ أَنَامُوهُ - قَالَ - وَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الصَّفَا وَجَاءَتِ الأَنْصَارُ فَأَطَافُوا بِالصَّفَا فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبِيدَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ لاَ قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلاَحَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ‏.‏ وَنَزَلَ الْوَحْىُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ ‏.‏ أَلاَ فَمَا اسْمِي إِذًا - ثَلاَثَ مَرَّاتٍ - أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلاَّ ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ ‏"‏ ‏.‏
It has been narrated on the authority of Abdullah b. Rabah who said:We came to Mu'awiya b. Abu Sufyan as a deputation and Abu Huraira was among us. Each of us would prepare food for his companions turn by turn for a day. (Accordingly) when it was my turn I said: Abu Huraira, it is my turn today. So they came to my place. The food was not yet ready, so I said to Abu Huraira: I wish you could narrate to us a tradition from the Messenger of Allah (ﷺ) until the food was ready. (Complying with my request) Abu Huraira said: We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of the Conquest of Mecca. He appointed Khalid b. Walid as commander of the right flank, Zubair as commander of the left flank, and Abu 'Ubaida as commander of the foot-soldiers (who were to advance) to the interior of the valley. He (then) said: Abu Huraira, call the Ansar to me. So I called out to them and they came hurriedly. He said: O ye Assembly of the Ansaar, do you see the ruffians of the Quraish? They said: Yes. He said: See, when you meet them tomorrow, wipe them out. He hinted at this with his hand, placing his right hand on his left and said: You will meet us at as-Safa'. (Abu Huraira continued): Whoever was seen by them that day was put to death. The Messenger of Allah (ﷺ) ascended the mount of as-Safa'. The Ansar also came there and surrounded the mount. Then came Abu Sufyan and said: Messenger ot Allah, the Quraish have perished. No member of the Quraish tribe will survive this day. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who enters the house of Abu Safyin will be safe, who lays down arms will be safe, who locks his door will be safe. (some of) the Ansar said: (After all) the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. At this, Divine inspiration descended upon the Messenger of Allah (ﷺ). He said: You were saying that the man has been swayed by tenderness towards his family and love for his city. Do you know what my name is? I am Muhammad, the bondman of God and His Messenger. (He repeated this thrice.) I left my native place for the take of Allah and joined you. So I will live with you and die with you. Now the Ansar said: By God, we said (that) only out of our greed for Allah and His Messenger. He said: Allah and His Apostle testify to you and accept your apology
ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ثابت نے عبداللہ بن رباح سے خبر دی ، انہوں نے کہا : ہم بطور وفد حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اور ہم لوگوں میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ہم میں سے ہر آدمی ایک دن اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا بناتا ، ایک دن میری باری تھی ، میں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! آج میری باری ہے ، وہ سب میرے ٹھکانے پر آئے اور ابھی کھانا نہیں آیا تھا ۔ میں نے کہا : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! کاش آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنائیں یہاں تک کہ کھانا آ جائے ۔ انہوں نے کہا : ہم فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دائیں بازو ( میمنہ ) پر ( امیر ) مقرر کیا اور زبیر رضی اللہ عنہ کو بائیں بازو ( میسرہ ) پر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو پیادوں پر اور وادی کے اندر ( کے راستے ) پر تعینات کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوہریرہ! انصار کو بلاؤ ۔ " میں نے ان کو بلایا ، وہ دوڑتے ہوئے آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انصار کے لوگو! کیا تم قریش کے اوباشوں کو دیکھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! کل جب تمہارا ان سے سامنا ہو تو ان کو اس طرح کاٹ دینا جس طرح فصل کاٹی جاتی ہے " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوشیدہ رکھتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا اور داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا ۔ اور فرمایا : " اب تم سے ملاقات کا وعدہ کوہِ صفا پر ہے ۔ " حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو اس روز جس کسی نے سر اٹھایا ، انہوں نے اس کو سلا دیا ، ( یعنی مار ڈالا ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر چڑھے ، انسار آئے ، انہوں نے صفا کو گھیر لیا ، اتنے میں ابوسفیان رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! قریش کی جمعیت مٹا دی گئی ، آج سے قریش نہ رہے ۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں چلا گیا اس کو امن ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو بھی امن ہے اور جو اپنا دروازہ بند کے لے اس کو بھی امن ہے ۔ " انصار نے کہا : آپ پر اپنے عزیزوں کی محبت اور اپنے شہر کی الفت غالب آ گئی ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں نے کہا : مجھ پر کنبے والوں کی محبت اور اپنے شہر کی الفت غالب آ گئی ہے ، دیکھو! پھر ( اس صورت میں ) میرا نام کیا ہو گا؟ " آپ نے تین بار فرمایا : ۔ ۔ " میں محمد اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔ میں نے اللہ کے لیے تمہاری طرف ہجرت کی ، تو اب زندگی تمہاری زندگی ( کے ساتھ ) ہے اور موت تمہاری موت ( کے ساتھ ) ہے ۔ " انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم نے یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید چاہت ( اور آپ کی معیت سے محرومی کے خوف ) کے علاوہ کسی وجہ سے نہیں کہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو اللہ اور اس کا رسول دونوں تم کو سچا جانتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرًا، يُسْأَلُ كَمْ كَانُوا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ كُنَّا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً فَبَايَعْنَاهُ وَعُمَرُ آخِذٌ بِيَدِهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَهِيَ سَمُرَةٌ فَبَايَعْنَاهُ غَيْرَ جَدِّ ابْنِ قَيْسٍ الأَنْصَارِيِّ اخْتَبَأَ تَحْتَ بَطْنِ بَعِيرِهِ
It has been narrated on the authority of Abu Zubair who heard Jabir being questioned as to how many people were there on the Day of Hudaibiya. He replied:We were fourteen hundred. We swore fealty to him, and Umar was holding his hand while he was sitting under the tree (to administer the oath). The tree was a samura (a wild tree found in deserts). All of as took the oath of fealty at his hands except Jadd b. Qais al-Ansari who hid himself under the belly of his camel
محمد بن حاتم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حجاج نے ابن جریج سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے پوچھا گیا تھا کہ حدیبیہ کے دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا : ہم چودہ سو تھے ، ہم نے ایک درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا ہاتھ تھام رکھا تھا ، وہ ببول کا درخت تھا ، ہم سب نے آپ سے بیعت کی سوائے جد بن قیس انصاری کے ، ( اس نے آپ سے بیعت نہیں کی ) وہ اپنے اونٹ کے پیٹ کے نیچے چھپ گیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سِقَاءٍ يُوكَى أَعْلاَهُ وَلَهُ عَزْلاَءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ‏.‏
A'isha reported:We prepared Nabidh for Allah's Messenger (ﷺ) in a waterskin, the upper part of which was tied and it (the waterskin) had a hole (in its lower part). We prepared the Nabidh in the morning and he drank it in the evening and we prepared the Nabidh in the night, and he would drink it in the morning
حسن کی والدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ بنا تے اس کا اوپر کا حصہ باندھ دیا جا تا تھا اس میں نچلی طرف کا سوراخ بھی تھا ۔ ہم صبح کو ( کھجور یا کشمش ) ڈالتے تو آپ اسے رات کو نوش فرما تے اور رات کے وقت ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نو ش فرما تے ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنِ ابْنٍ لأَبِي، مُوسَى قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا، ‏.‏ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ ‏.‏
A hadith like this has been reported on the authority of 'Ali through a different chain of transmitters
سفیان نے عاصم بن کلیب سے ، انھوں نے ابو موسیٰ ( اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ایک بیٹے سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Fever is due to vehemence of the heat of Hell, so cool it with water
عبداللہ بن نمیر اور محمد بن بشر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " بخار کی شدت جہنم کی لپٹوں سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الآخَرِ إِلاَّ اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ ‏.‏
A'isha reported:Never did Allah's Messenger (ﷺ) make a choice between two things but adopting the easier one as compared to the difficult one, but his choice for the easier one was only in case it did not involve any sin, but if it involved sin he was the one who was the farthest from it amongst the people
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں انتخاب کرناہوتا ، ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت آسان ہوتا تو آپ ان میں سے آسان ترین کا انتخاب فرماتے ، الایہ کہ وہ گناہ ہو ۔ اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دورہوتے ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ ‏.‏
A'isha reported that Allah's Messenger (may peace he upon him) gave glad tidings to Khadija bint Khuwailid of a palace in Paradise
عبدہ نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جنت میں ایک گھر کی بشارت دی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
This hadith is narrated by Ubaidullah b. 'Amr and Zaid b. Abu Unaisa with the same chain of transmitters
زید بن ابی انیسہ نے حکم سے مذکورہ سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ، - وَهُوَ ابْنُ بِلاَلٍ - عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَنْبَغِي لِصِدِّيقٍ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:It does not seem proper for a Siddiq that he should be an invoker of curse
سلیمان بن بلال نے مجھے خبر دی ، کہا : علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک صدیق کے شایان شان نہیں کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِي عُمَرَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُكْرَةً حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى وَهِيَ جَالِسَةٌ فَقَالَ ‏"‏ مَا زِلْتِ عَلَى الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُكِ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ ‏"‏ ‏.‏
Juwairiya reported that Allah's Messenger (ﷺ) came out from (her apartment) in the morning as she was busy in observing her dawn prayer in her place of worship. He came back in the forenoon and she was still sitting there. He (the Holy Prophet) said to her:You have been in the same seat since I left you. She said: Yes. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: I recited four words three times after I left you and if these are to be weighed against what you have recited since morning these would outweigh them and (these words) are:" Hallowed be Allah and praise is due to Him according to the number of His creation and according to the pleasure of His Self and according to the weight of His Throne and according to the ink (used in recording) words (for His Praise)
کُریب نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھنے کے بعد صبح سویرے ان کے ہاں سے باہر تشریف لے گئے ، اس وقت وہ اپنی نماز پڑھنے والی جگہ میں تھیں ، پھر دن چڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس واپس تشریف لائے تو وہ ( اسی طرح ) بیٹھی ہوئی تھیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم اب تک اسی حالت میں بیٹھی ہوئی ہو جس پر میں تمہیں چھوڑ کر گیا تھا؟ " انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے ( ہاں سے جانے کے ) بعد میں نے چار کلمے تین بار کہے ہیں ، اگر ان کو ان کے ساتھ تولا جائے جو تم نے آج کے دن اب تک کہا ہے تو یہ ان سے وزن میں بڑھ جائیں : " سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته " پاکیزگی ہے اللہ کی اور اس کی تعریف کے ساتھ ، جتنی اس کی مخلوق کی گنتی ہے اور جتنی اس کو پسند ہے اور جتنا اس کے عرش کا وزن اور جتنی اس کے کلمات کی سیاہی ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، كِلاَهُمَا عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ‏"‏ ثُمَّ اجْتَهَدَ ‏"‏ وَلَمْ يَقُلْ ‏"‏ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ ‏"‏ ‏.‏
This hadith is narrated by Qatida with the same chain of transmitters, but with minor alterations. Here instead of the word - (jahada, (ijtahada) has been used, and the words;" Even if there is no orgasm" have been omitted
شعبہ نے قتادہ سے باقی ماندہ اسی سند سے روایت کی ۔ فرق یہ ہے کہ شعبہ کی اس روایت میں ثم جهدها کی جگہ ثم اجتهد ( پھر سعی کی ) ہےت اور و إن لم ينزل ( اگرچہ انزال نہ ہو ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، - قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - وَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الاِثْنَيْنِ - وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلاَةِ - كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ كَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ‏.‏ ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَاحِكًا - قَالَ - فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلاَةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَارِجٌ لِلصَّلاَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَكُمْ - قَالَ - ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَرْخَى السِّتْرَ - قَالَ - فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ ‏.‏
Anas b. Malik reported, Abu Bakr led them in prayer due to the illness of the Messenger of Allah (ﷺ) of which be died. It was a Monday and they stood in rows for prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) drew aside the curtain of ('A'isha's) apartment and looked at us while he was standing, and his (Prophet's) face was (as bright) as the paper of the Holy Book. The Messenger of Allah (ﷺ) felt happy and smiled. And we were confounded with joy while in prayer due to the arrival (among our midst) of the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr stepped back upon his heels to say prayer in a row perceiving that the Messenger of Allah (ﷺ) had come out for prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) with the help of his hand signed to them to complete their prayer. The Messenger of Allah (ﷺ) went back (to his apartment) and drew the curtain. He (the narrator) said:The Messenger of Allah (ﷺ) breathed his last on that very day
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی بیماری دوران ، جس میں آپ نے وفات پائی ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نماز میں صف بستہ تھے تو رسول اللہﷺ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا ، اس وقت آپ کھڑے ہوئے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے ، پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا ۔ انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہﷺ کے باہر آنے سے ہوئی تھی مبہوت ہو کر رہ گئے ۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ الٹے پاؤں لوٹے تالکہ صف میں مل جائیں ، انہوں نے سمجھا کہ نبیﷺ نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں ۔ نبیﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو ، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا ۔ اسی دن رسول اللہﷺ وفات پا گئے