بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Sahih Muslim
5
22 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نُودِيَ بِالأَذَانِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ الأَذَانَ فَإِذَا قُضِيَ الأَذَانُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ يَخْطُرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا ‏.‏ لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: When there is a call to prayer the devil runs back breaking the wind so that he may not hear the call, and when the call is complete he comes back. And when the takbir is pronounced he again runs back, and when takbir is over he comes back and distracts a man saying: Remember such and such, remember such and such, referring to something the man did not have in his mind. with the result that he does not know how much he has prayed; so when any one of you is not sure how much he has prayed. he should perform two prostrations while sitting (qa'da)
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے ، کہا : ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث سنائی کہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے گوزمار رہا ہوتا ہے تاکہ اذان ( کی آواز ) نہ سنے ۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو ( واپس ) آتا ہے ، پھر جب نماز کے لیےتکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آجاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خیال آرائی شروع کروائے ، وہ کہتا ہے : فلاں بات یاد کرو ، فلاں چیز یاد کرو ۔ وہ چیزیں ( اسے یاد کراتا ہے ) جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتی کہ وہ شخص یوں ہو جاتا ہے کہ اسے یا د نہیں رہتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ، چنانچہ جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ ( تشہد میں ) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ أَوْصَانِي حَبِيبِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاَثٍ لَنْ أَدَعَهُنَّ مَا عِشْتُ بِصِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَصَلاَةِ الضُّحَى وَبِأَنْ لاَ أَنَامَ حَتَّى أُوتِرَ ‏.‏
Abu Murra, the freed slave of Umm Hani, narrated on the authority of Abu Darda':My Friend (ﷺ) instructed me in three (acts), and I would never abandon them as long as I live. (And these three things are): Three fasts during every month, the forenoon prayer, and this that I should not sleep till I have observed the Witr prayer
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میرےحبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی تلقین فرمائی ہے ، جب تک میں زندہ رہوں گا ان کو کبھی ترک نہیں کروں گا ، ہر ماہ تین دنوں کے روزے ، چاشت کی نماز اور یہ کہ جب تک وتر نہ پڑھ لوں نہ سوؤں ۔
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ، - وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ - حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، سَمِعَهُ وَهُوَ، يُحَدِّثُ أَبَا صَالِحٍ عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
Umayya b. Bistam narrates the same hadith of the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) on the authority of Tamim ad-Dari
ہمیں روح بن قاسم نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں سہیل نے عطاء سے اس وقت سن کر روایت کی جب وہ ابو صالح کو حدیث بیان کر رہے تھے ، ( کہا : ) تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، ( کہا : ) رسو ل اللہ ﷺ سے روایت ہے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِيِّ، - قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، - قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي وَاقِدُ، بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الأَنْصَارِيُّ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَسْعُودَ بْنَ الْحَكَمِ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَقُولُ فِي شَأْنِ الْجَنَائِزِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ ثُمَّ قَعَدَ ‏.‏ وَإِنَّمَا حَدَّثَ بِذَلِكَ لأَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ رَأَى وَاقِدَ بْنَ عَمْرٍو قَامَ حَتَّى وُضِعَتِ الْجَنَازَةُ ‏.‏
Mas'ud b. al-Hakam al-Ansari informed Nafi' that he had heard Hadrat 'Ali (may Allah be pleased with him), son of Abu Talib, say about the biers:Verily, the Prophet (ﷺ) used to stand first but later on kept sitting; but it is also narrated that Nafi' ibn Jubair saw Waqid b. 'Amr standing for a bier till it was placed down
(عبد الوھاب ) نےکہا میں نےیحیٰ بن سعید سے سنا ‘ کہا : مجھے واقد بن عمروبن سعدبن معاذ انصاری نے خبر دی کہ نافع بن جبیر نے ان کو خبر دی کہ ان کو مسعود بن حکم انصاری نے بتایا کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے سنا ‘ وہ جنازوں کے بارے میں کہتے تھے : ( پہلے ) رسول اللہﷺ کھڑے ہوتے تھے ( بعد میں ) بیٹھے رہتے ۔ اور انہوں ( نافع ) نے یہ روایت اس لیے بیان کی کہ نافع بن جبیر نے واقد بن عمرو کو دیکھا وہ جنازے کے رکھ دیے جانے تک کھڑے رہے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ، بْنِ غِيَاثٍ - قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ، مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ كُنْتُ مَمْلُوكًا فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَأَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَىْءٍ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ وَالأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ ‏"‏ ‏.‏
Umair, the freed slave of Abi'l-Lahm reported:I was the slave (of Abi'l-Lahm). I asked the Messenger of Allah (ﷺ) if I could give some charity out of my master's wealth. He said: Yes, and the reward is half and half between you two
محمد بن زید نے آبی اللحم ( غفاری ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں غلام تھا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا میں اپنے آقاؤں کے مال میں سے کچھ صدقہ کرسکتا ہوں؟آپ نے فرمایا : " ہاں ، اوراجر تم دونوں کےدرمیان آدھاآدھا ( برابر برابر ) ہوگا ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏.‏
Humaid b. 'Abd al-Rahman reported that Abu Huraira had narrated to him that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded the person (who) broke the fast in Ramadan to free a slave or observe fasts for two (consecutive) months or feed sixty poor persons
محمد بن رافع ، عبدالرزاق ، ابن جریج ، ابن شہاب ، حمید بن عبدالرحمان ، حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا جس آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ لیا تھا اسے چاہیے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے یا دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے ۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - أَنَّ رَجُلاً، أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلاَ وَجْهَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ‏"‏ ‏.‏
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that there was a person in the state of Ihram whose camel broke his neck and he died. Thereupon the Mes- senger of Allah (ﷺ) said:Bathe him with water mixed (with the leaves of) lote tree and shroud him In his two (pieces of) cloth and cover neither his head nor his face, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya
سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرا م کی حا لت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے ( احرا م کے ) دو کپڑوں میں کفنا دو اس کاسر اور چہرہ نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکار تا ہوا اٹھا یا جا ئے گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالاَ جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِزَيْدٍ ‏"‏ فَاذْكُرْهَا عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَاهَا وَهْىَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَنَكَصْتُ عَلَى عَقِبِي فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُكِ ‏.‏ قَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّي ‏.‏ فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ فَقَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ قَالَ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا أَوْ أَخْبَرَنِي - قَالَ - فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ ‏.‏ زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ ‏{‏ لاَ تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلاَّ أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏ وَاللَّهُ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ‏}‏
Anas (Allah be pleased with him) reported:When the 'Iddah of Zainab was over, Allah's Messenger (ﷺ) said to Zaid to make a mention to her about him. Zaid went on until he came to her and she was fermenting her flour. He (Zaid) said: As I saw her I felt in my heart an idea of her greatness so much so that I could not see towards her (simply for the fact) that Allah's Messenger (ﷺ) had made a mention of her. So I turned my back towards her. and I turned upon my heels, and said: Zainab, Allah's Messenger (ﷺ) has sent (me) with a message to you. She said: I do not do anything until I solicit the will of my Lord. So she stood at her place of worship and the (verse of) the Qur'an (pertaining to her marriage) were revealed, and Allah's Messenger (ﷺ) came to her without permission. He (the narrator) said: I saw that Allah's Messenger (ﷺ) served us bread and meat until it was broad day light and the people went away, but some persons who were busy in con- versation stayed on in the house after the meal. Allah's Messenger (ﷺ) also went out and I also followed him, and he began to visit the apartments of his wives greeting them (with the words): As-Salamu 'alaikum, and they would say: Allah's Messenger, how did you find your family (hadrat Zainab)? He (the narrator) stated: I do not know whether I had informed him that the people had gone out or he (the Holy Prophet) informed me (about that). He moved on until he entered the apartment, and I also went and wanted to enter (the apartment) along with him, but he threw a curtain between me and him, as (the verfes pertaining to seclusion) had been revealed, and people were instructed in what they had been instructed. Ibn Rafii had made this addition in his narration:" O you who believe, enter not the houses of the Prophet unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished..." to the words"... Allah forbears not from the truth
ابوربیع زہرانی ، ابو کامل فُضَیل بن حسین اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حماد نے ، وہ ( جو ) زید کے بیٹے ہیں ، ثابت نے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ ابو کامل کی روایت میں ہے : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی بیوی کا ۔ ۔ ابوکامل نے کہا : اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کی کسی چیز ( خوشی ) پر ۔ اس جیسا ولیمہ کیا ہو جیسا حضرت زینب رضی اللہ عنہا ( کے ساتھ نکاح ) پر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس موقع پر ) بکری ذبح کی
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ‏.‏
A hadith like this has been narrated on the authority of al Zuhri
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلاَّ مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Dates are to be paid for by dates, wheat by wheat, barley by barley, salt by salt, like for like, payment being made on the spot. He who made an addition or demanded an addition, in fact, dealt in usury except in case where their classes differ
فضیل کے بیٹے ( محمد ) نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کھجور کے عوض کھجور ، گندم کے عوض گندم ، جو کے عوض جو اور نمک کے عوض نمک ( کی بیع ) مثل بمثل ( ایک جیسی ) دست بدست ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا ( لین دین ) کیا ، الا یہ کہ ان کی اجناس الگ الگ ہوں ۔
وَحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الأُخْرَى ‏"‏ احْصُدُوهُمْ حَصْدًا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالُوا قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ فَمَا اسْمِي إِذًا كَلاَّ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏
The tradition has been narrated by a different chain of transmitters with the following additions:(i) Then be (the Messenger of Allah) said with his hands one upon the other: Kill them (who stand in your way).... (ii) They (the Ansar) replied: We said so, Messenger of Allah! He said: What is my name? I am but Allah's bondman and His Messenger
بہز نے کہا : سلیمان بن مغیرہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انہوں نے حدیث میں ( یہ ) اضافہ کیا : آپ نے دونوں ہاتھوں سے ، ایک کو دوسرے کے ساتھ پھیرتے ہوئے اشارہ کیا : ان کو اسی طرح کاٹ ڈالو جس طرح فصل کاٹی جاتی ہے انہوں نے حدیث میں ( یہ بھی ) کہا : ان لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول! ہم نے یہ کہ تھا ۔ آپ نے فرمایا : " تو پھر میرا نام کیا ہو گا؟ ہرگز نہیں ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمَوْتِ إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لاَ نَفِرَّ ‏.‏
It has been narrated (through a different chain of transmitters) on the authority of Jabir who said:While swearing fealty to the Prophet (ﷺ) we did not take the oath to death but that we would not run away (from the battlefield)
سفیان نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مر جانے پر بیعت نہیں کی ، ہم نے آپ سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہ ہوں گے
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، - يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيَّ - حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ، - يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيَّ - قَالَ لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ النَّبِيذِ، فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً فَقَالَتْ سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتِ الْحَبَشِيَّةُ كُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ مِنَ اللَّيْلِ وَأُوكِيهِ وَأُعَلِّقُهُ فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ ‏.‏
Thumama (i. e. Ibn Hazn al-Qushairi) reported:I met 'A'isha and asked her about Nabidh (that was served to the Holy Prophet). 'A'isha called an Abyssinian maid (servant) and said: Ask her (about it) for it was he, who prepared the Nabidh for the Messenger of Allah (ﷺ). The Abyssinian (maid-servant) said: I prepared Nabidh for him in a waterskin in the night and tied its mouth and then suspended it; and when it was morning he (the Holy Prophet) drank from it
ہمیں ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملنے گیا تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک حبشی کنیز کو آواز دی اور فرما یا : اس سے پوچھو یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بنا یا کرتی تھی ۔ اس حبشی لڑکی نے کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو ایک مشک میں ( پھل ) ڈال دیتی تھی اور اس مشک کا منہ باندھ کر اس کو لٹکا دیتی تھی جب صبح ہو تی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے نوش فرما تے تھے ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي كُرَيْبٍ - حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي - يَعْنِي النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم - أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا - لَمْ يَدْرِ عَاصِمٌ فِي أَىِّ الثِّنْتَيْنِ - وَنَهَانِي عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ جُلُوسٍ عَلَى الْمَيَاثِرِ ‏.‏ قَالَ فَأَمَّا الْقَسِّيُّ فَثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالشَّامِ فِيهَا شِبْهُ كَذَا وَأَمَّا الْمَيَاثِرُ فَشَىْءٌ كَانَتْ تَجْعَلُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ كَالْقَطَائِفِ الأُرْجُوَانِ ‏.‏
Ali reported:He the Prophet (ﷺ), forbade me that I should wear my ring in this (forefinger) or in that near it. 'Asim (one of the narrators in the chain of transmitters) said: He did not remember which of the two (fingers) he pointed out; and he forbade to wear Qassi material (silk garments), and to sit on the silk saddle cloth, and he said: As regards Qassi, it is a variegated garment which was brought from Egypt and Syria which had figures upon it, and as regards Mayathir, it is something which women prepared for their husbands as red cloths for their saddles
ابن ادریس نے کہا : میں نے عاصم بن کلیب سے سنا ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : آپ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس انگلی یا اس کے پاس والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ عاصم کو یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کون سی دو انگلیوں میں ( پہننے سے منع کیا تھا ) ۔ ۔ ۔ اور آپ نےمجھے قس کے ریشمی کپڑے پہننے اور ریشمی گدوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ انھوں نے ( حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا قَسَی ( ریشمی ) دھاریوں والا کپڑا مصر اور شام سے آتا تھا ، اس میں کچھ شبیہیں ( تصویروں جیسے نقش ونگار ) ہوتی ہیں ۔ اور میاثر اس کہتے ہیں جو عورتیں اپنے خاوندوں کی خاطر زین پر رکھنے کے لیے بناتی تھیں ، جس طرح ارغوانی رنگ کے گدے ہوں ۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏
Ibn Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The fever from the vehement raging of the (heat of Hell), so cool it with the help of water
یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے روایت کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " بخار جہنم کی لپٹوں سے ہے ، اس کو پانی سے ٹھنڈا کرو ۔
وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shibab through another chain of transmitters
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَجَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the a tliority of Ibn Abi Aufa through other chains of transmitters
ابو معاویہ ، وکیع ، معتمر بن سلیمان ، جریر اور سفیان سب نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انھوں نے ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کی ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلاَئِيِّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ، عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتْ عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ فَسَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ ‏.‏ قَالَ وَكَانَ سُفْيَانُ إِذَا ذَكَرَ عَمْرًا أَثْنَى عَلَيْهِ ‏.‏
Shuraih b. Hani said:I came to 'A'isha to ask her about wiping over the socks. She said: You better ask ('Ali) son of Abu Talib for he used to travel with Allah's Messenger (ﷺ). We asked him and he said: The Messenger of Allah (ﷺ) stipulated (the upper limit) of three days and three nights for a traveller and one day and one night for the resident
عبد الرزاق نے کہا : ہمیں سفیان ثوری نے عمرو بن قیس ملائی سے حدیث سنای ، انہوں نےحکم بن عتیبہ سے ، انہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے ، انہوں نے شریح بن ہانی سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے کی غرض سے حاضر ہوا تو انہوں نے کہا : ابن ابی طالب کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے ۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ( کا وقت ) مقرر فرمایا ۔ ( عبدالر زاق نے ) کہا : سفیان ( ثوری ) جب بھی عمرو ( بن قیس ملائی ) کا تذکرہ کرتے تو ان کی تعریف کرتے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، ح وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ ‏ "‏ لاَ ايْمُ اللَّهِ لاَ تُصَاحِبُنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ كَمَا قَالَ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters but with a variation of words (and that is):" By Allah, let that accompany us not which has been damned, or he said like it
معتمر بن سلیمان اور یحییٰ بن سعید نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، معتمر کی حدیث میں مزید یہ ہے ( کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " نہیں ، اللہ کی قسم! ایسی اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے جس پر اللہ کی لعنت ہو ۔ " یا آپ نے جن الفاظ میں فرمایا ۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ - أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالسَّدَادَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ ‏.‏
This hadith has been narrated on the authority of 'Asim b. Kulaib with the same chain of transmitters that Allah's Messenger (ﷺ) said to me:Say:" O Allah, I beg of Thee righteousness and adhering to the straight path
ابن نمیر نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عاصم بن کلیب نے اسی سند کے ساتھ خبر دی ( کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " ( اے علی! یہ ) کہو : اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت اور راستی کا سوال کرتا ہوں ۔ " پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، وَمَطَرٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ مَطَرٍ ‏"‏ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ مِنْ بَيْنِهِمْ ‏"‏ بَيْنَ أَشْعُبِهَا الأَرْبَعِ ‏"‏ ‏.‏
Abu Huraira reported:The Apostle of Allah (ﷺ) said: When a man has sexual intercourse, bathing becomes obligatory (both for the male and the female). In the hadith of Matar the words are: Even if there is no orgasm. Zuhair has narrated it with a minor alteration of words
زہیر بن حرب ، ابو غسان مسمعی ، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہم سے معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے قتادہ اور مطر نے حسن سے ، انہوں نے ابو رافع سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا : ’’ جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر اس سے مجامعت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ مطر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’اگرچہ انزال نہ ہو ۔ ‘ ‘ اور امام مسلم کے اساتذہ میں سے ( صرف ) زہیر نے شعبہا کی جگہ أشعبها کہا ۔ ( دونوں ایک ہی لفظ شعبہ ( شاخ ) کی جمع ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ ‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىْ كَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ ‏.‏ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاَةِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏
A'isha reported:The Messenger of Allah (ﷺ) ordered Abu Bakr that he should lead people in prayer during his illness, and he led them in prayer. `Urwa said: The Messenger of Allah (ﷺ) felt relief and went (to the mosque) and Abu Bakr was leading the people in prayer. When Abu Bakr saw him he began to withdraw, but the Messenger of Allah (ﷺ) signaled him to remain where he was. The Messenger of Allah (ﷺ) sat opposite to Abu Bakr by his side. Abu Bakr said prayer following the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ), and the people said prayer following the prayer of Abu Bakr
ایک اور سند کے ساتھ ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا : رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے ۔ عروہ نے کہا : پھر رسول اللہﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا ، تو آپ باہر تشریف لائے ، اس وقت ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کی امت کر رہے تھے ۔ جب ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ جیسے ہو ویسے ہی رہو ۔ رسول اللہﷺ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے تو ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ رسول اللہﷺ کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے اور لوگ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے ۔