حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا صَلَّى قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَجَدْتَ إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " .
Sulaiman b. Buraida reported on the authority of his father that when the Messenger of Allah (ﷺ) had said prayer a man stood up and said:Who called for a red camel? (Upon this) the Messenger of Allah (ﷺ) said: May it not be restored to you! The mosques are built for what they are meant
ابو سنان نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی کہ ( ایک بار ) جب نبی ﷺ نے نمازپڑھائی تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا : جو سرخ اونٹ ( کی نشاندہی ) کے لیے آواز دے گل ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’تم ( اپنا اونٹ ) نہ پاؤ ، مساجد صرف انھی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انھیں بنایا گیا ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ، - وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ - حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلاَمَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْىٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى " .
Abu Dharr reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:In the morning charity is due from every bone in the body of every one of you. Every utterance of Allah's glorification is an act of charity. Every utterance of praise of Him is an act of charity, every utterance of profession of His Oneness is an act of charity, every utterance of profession of His Greatness is an act of charity, enjoining good is an act of charity, forbidding what is distreputable is an act of charity, and two rak'ahs which one prays in the forenoon will suffice
حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " صبح کو تم میں سے ہر ایک شخص کے ہر جوڑ پر ایک صدقہ ہوتا ہے ۔ پس ہر ایک تسبیح ( ایک دفعہ " سبحا ن الله " کہنا ) صدقہ ہے ۔ ہر ایک تمحید ( الحمد لله کہنا ) ) صدقہ ہے ، ہر ایک تہلیل ( لااله الا الله کہنا ) صدقہ ہے ہرہر ایک تکبیر ( الله اكبرکہنا ) بھی صدقہ ہے ۔ ( کسی کو ) نیکی کی تلقین کرنا صدقہ ہے اور ( کسی کو ) برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے ۔ اور ان تمام امور کی جگہ دو رکعتیں جو انسان چاشت کے وقت پڑھتا ہے کفایت کرتی ہیں ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا . أَوَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى شَىْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ " .
Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (may peace and blessing be upon him) observed: You shall not enter Paradise so long as you do not affirm belief (in all those things which are the articles of faith) and you will not believe as long as you do not love one another. Should I not direct you to a thing which, if you do, will foster love amongst you: (i. e.) give currency to (the practice of paying salutation to one another by saying) as-salamu alaikum
ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ ، اور تم مو من نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو ۔ ‘ ‘
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِجَنَازَةٍ مَرَّتْ بِهِ حَتَّى تَوَارَتْ .
Ibn Juraij told me that Abu Zubair heard Jabir say that the Prophet (ﷺ) kept standing for a bier until it disappeared
محمد بن رافع نےکہا : ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضر ت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے لئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کھڑے ہوگئے ، یہاں تک کہ وہ ( نگاہوں سے ) اوجھل ہوگیا ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، - قَالَ يَحْيَى - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لاَ يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا " .
A'isha reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When a woman gives in charity some of the food in her house, without causing any damage, there is reward for her for whatever she has given, and a reward for her husband for what he earned. The same applies to the trustee. In no respect does the one diminish the reward of the other
جریر نے منصور سے ، انھوں نے شقیق سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب عورت اجاڑے بغیر اپنے گھر کے کھانے سے خرچ کرتی ہے تو اسے خرچ کرنے کی وجہ سے اجر ملے گا اور اس کے خاوند کو اس کے کمانے کی وجہ سے اپنا اجر ملے گا اور خزانچی کے لئے بھی اسی طرح ( اجر ) ہے ۔ یہ ایک دوسرے کے اجر میں کوئی کمی نہیں کرتے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، - عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ، الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، - رضى الله عنه - قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " وَمَا أَهْلَكَكَ " . قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ . قَالَ " هَلْ تَجِدُ مَا تُعْتِقُ رَقَبَةً " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَهَلْ تَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ لاَ - قَالَ - ثُمَّ جَلَسَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ . فَقَالَ " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . قَالَ أَفْقَرَ مِنَّا فَمَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا . فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ " اذْهَبْ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " .
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported that a person came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said:Messenger of Allah, I am undone. He (the Holy Prophet) said: What has brought about your ruin? He said: I have had intercourse with my wife during the month of Ramadan. Upon this he (the Holy prophet) said: Can you find a slave to set him free? He said: NO He (the Prophet again) said: Can you observe fast for two consecutive months? He said: No. He (the Holy Prophet) said: Can you provide food to sixty poor people?, He said: No. He then sat down and (in the meanwhile) there was brought to the Messenger of Allah (ﷺ) a basket which contained dates. He (the Holy Prophet) said: Give these (dates) in charity. He (the man) said: Am I to give to one who is poorer than I? There is no family poorer than mine between the two lava plains of Medina. The Apostle of Allah (ﷺ) laughed so that his molar teeth became visible and said: Go and give it to your family to eat
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو بکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب ، ابن نمیر ، ابن عینیہ ، سفیان بن عینیہ ، حمید بن عبداالرحمٰن ، حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا تو کیسے ہلا ک ہوگیا؟اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی ہے آپ نے فرمایا کیا تو ایک غلام آزاد کرسکتا ہے؟اس نے عرض کیا نہیں ، آپ نے فرمایا کیا تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھ سکتاہے؟اس نے عرض کیا نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیاتو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟اس نے عرض کیا کہ نہیں ، راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا لایا گیاجس میں کھجوریں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو محتاجوں میں صدقہ کردو اس نے عرض کیا کیا ہم سے بھی زیادہ محتاج ہے؟مدینہ کے دونوں اطراف کے درمیان والے گھروں میں کوئی ایسا گھر نہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا جا اور اسے اپنے گھر والوں کو کھلا ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - رضى الله عنهما - عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ فَقَالَ " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا " .
Ibn Abbas (Allah be pleased with them) reported that a person fell down from his camel (in a state of Ihram) and his neck was broken and he died. Thereupon Allah's Apostle. (ﷺ) said:Bathe him with water mixed with the leaves of the lote tree and shroud him in his two (pieces of) cloth (Ihbram), and do not cover his head for Allah will raise him on the Day of Resurrection Pronouncing Talbiya
سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینا ر ) سے ( انھوں نے ) سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا ۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فو ت ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں ( احرا م کی دو نوں چادروں ) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھا ئے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا نَخْلٍ اشْتُرِيَ أُصُولُهَا وَقَدْ أُبِّرَتْ فَإِنَّ ثَمَرَهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الَّذِي اشْتَرَاهَا" .
Nafi reported on the authority of Ibn Umar (Allah be pleased with them) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:Whichever tree is bought with its roots, and if it is fecundatedits fruit would belong to one who has grafted it except when the provision is laid down by the buyer
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کھجور کا جو درخت خریدا گیا اور اس کی تابیر کی گئی تھی تو اس کا پھل اسی کے لیے ہے جس نے تابیر کی ، مگر یہ کہ وہ آدمی جس نے اسے خریدا ( سودے میں اس کی ) شرط طے کر لے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
The above hadith is likewise narrated through another chain of transmission on the authority of Abi Qilabah
عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح روایت بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِي رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَى عَنِّي فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَىَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالأُخْرَى فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِي فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ رَأَى ابْنُ الأَكْوَعِ فَزَعًا " . فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " . فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلاَّ مَلأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ .
This tradition has been narrated on the authority of Salama who said:We fought by the side of the Messenger of Allah (ﷺ) at Hunain. When we encountered the enemy, I advanced and ascended a hillock. A man from the enemy side turned towards me and I shot him with an arrow. He (ducked and) hid himself from me. I could not understand what he did, but (all of a sudden) I saw that a group of people appeared from the other hillock. They and the Companions of the Prophet (ﷺ) met in combat, but the Companions of the Prophet turned back and I too turned back defeated. I had two mantles, one of which I was wrapping round the waist (covering the lower part of my body) and the other I was putting around my shoulders. My waist-wrapper got loose and I held the two mantles together. (In this downcast condition) I passed by the Messenger of Allah (ﷺ) who was riding on his white mule. He said: The son of Akwa' finds himself to be utterly perplexed. Wher. the Companions gathered round him from all sides. the Messenger of Allah (ﷺ) got down from his mule. picked up a handful of dust from the ground, threw it into their (enemy) faces and said: May these faces be deformed 1 There was no one among the enemy whose eyes were not filled with the dust from this handful. So they turned back fleeing. and Allah the Exalted and Glorious defeated them, and the Messenger of Allah (ﷺ) distributed their booty among the Muslims
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حنین کی جنگ لڑی ، جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو میں آگے بڑھا پھر میں ایک گھاٹی پر چڑھ جاتا ہوں ، میرے سامنے دشمن کا آدمی آیا تو میں اس پر تیر پھینکتا ہوں ، وہ مجھ سے چھپ گیا ، اس کے بعد مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کیا ۔ میں نے ( اُن ) لوگوں کا جائزہ لیا تو دیکھا وہ ایک دوسری گھاٹی کی طرف ظاہر ہوئے ، ان کا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا ٹکراؤ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی پیچھے ہٹ گئے اور میں بھی شکست خودرہ لوٹتا ہوں ۔ مجھ ( میرے جسم ) پر دو چادریں تھیں ، ان میں سے ایک کا میں نے تہبند باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھ رکھا تھا تو میرا تہبند کھل گیا ، میں نے ان دونوں کو اکٹھا کیا اور شکست خوردگی کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، آپ اپنے سفید خچر پر تھے ۔ ( مجھے دیکھ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اکوع کا بیٹا گھبرا کو لوٹ آیا ہے ۔ " جب وہ ہر طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ آور ہوئے تو آپ خچر سے نیچے اترے ، زمین سے مٹی کی ایک مٹھی لی ، پھر اسے سامنے کی طرف سے ان کے شہروں پر پھینکا اور فرمایا : " چہرے بگڑ گئے ۔ " اللہ نے ان میں سے کسی انسان کو پیدا نہیں کیا تھا مگر اس ایک مٹھی سے اس کی آنکھیں بھر دیں ، سو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے ، اللہ نے اسی ( ایک مٹھی خاک ) سے انہیں شکست دی اور ( بعد ازاں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اموالِ غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کیے
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ رُزَيْقِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " خِيَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُحِبُّونَهُمْ وَيُحِبُّونَكُمْ وَيُصَلُّونَ عَلَيْكُمْ وَتُصَلُّونَ عَلَيْهِمْ وَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نُنَابِذُهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ " لاَ مَا أَقَامُوا فِيكُمُ الصَّلاَةَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْ وُلاَتِكُمْ شَيْئًا تَكْرَهُونَهُ فَاكْرَهُوا عَمَلَهُ وَلاَ تَنْزِعُوا يَدًا مِنْ طَاعَةٍ " .
It has been narrated on the authority of 'Auf b. Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:The best of your rulers are those whom you love and who love you, who invoke God's blessings upon you and you invoke His blessings upon them. And the worst of your rulers are those whom you hate and who hate you and whom you curse and who curse you. It was asked (by those present): Shouldn't we overthrow them with the help of the sword? He said: No, as long as they establish prayer among you. If you then find anything detestable in them. You should hate their administration, but do not withdraw yourselves from their obedience
یزید بن یزید بن جابر نے رُزیق بن حیان سے ، انہوں نے مسلم بن قرظہ سے ، انہوں نے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے بہترین امام ( خلیفہ ) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں ، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں ، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں ۔ " عرض کی گئی : اللہ کے رسول! کیا ہم ان کو تلوار کے زور سے پھینک ( ہٹا ) نہ دیں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں اور جب تم اپنے حکمرانوں میں کوئی ایسی چیز دیکھو جسے تم ناپسند کرتے ہو تو اس کے عمل کو ناپسند کرو اور اس کی اطاعت سے دستکش نہ ہو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى الْبَهْرَانِيِّ، قَالَ ذَكَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَاءٍ - قَالَ شُعْبَةُ مِنْ لَيْلَةِ الاِثْنَيْنِ - فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالثَّلاَثَاءِ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَىْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ صَبَّهُ .
Ibn 'Abbas reported that Nabidh was prepared for Allah's Messenger (ﷺ) in the waterskin, Shu'ba said:It was the night of Monday. He drank it on Monday and on Tuesday up to the afternoon, and If anything was left out of it he gave it to his servant or poured it out
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یحییٰ بہرا نی سے حدیث بیان کی ، کہا : لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے نبیذ کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیر کی رات کو مشکیزے میں ( پانی کے ساتھ کھجور ڈال کر ) نبیذ بنا لی جا تی تھی تو آپ اسے پیر کو اور منگل کو عصر تک پیتے اگر اس میں سے کچھ بچ جاتا تو خادم کو پلا دیتے یا گرادیتے ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ خَاتِمُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ وَرِقٍ وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا .
Anas b. Malik reported that the ring of Allah's Messenger (ﷺ) was made of silver and it had an Abyssinian stone in it
عبداللہ بن وہب مصری نے کہا : مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کانگینہ حبش کاتھا ۔
وَحَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ - عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رُمِيَ أُبَىٌّ يَوْمَ الأَحْزَابِ عَلَى أَكْحَلِهِ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Jabir b. 'Abdillah reported that on the day of Ahzab Ubayy received the wound of an arrow in his medial arm vein. Allah's Messenger (ﷺ) cauterised it
سلیمان نے کہا : میں نے ابو سفیان کو سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : غزوہ احزاب میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بازو کی بڑی رگ میں تیر لگا ۔ کہا : تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں داغ لگوایا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْحَلاَّقُ يَحْلِقُهُ وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلاَّ فِي يَدِ رَجُلٍ .
Anas reported:I saw when the Messenger of Allah (ﷺ) got his hair cut by the barber, his Companions came round him and they eagerly wanted that no hair should fall but in the hand of a person
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، بال مونڈنے والا آپ کےسرکےبال اتاررہاتھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ کے اردگرد تھے ، وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کاکوئی بھی بال ان میں سے کسی ایک کے ہاتھوں کےعلاوہ کہیں اورگرے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَابْنُ، نُمَيْرٍ وَوَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَاللَّفْظُ، حَدِيثُ أَبِي أُسَامَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَلِيًّا، بِالْكُوفَةِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ " . قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ وَأَشَارَ وَكِيعٌ إِلَى السَّمَاءِ وَالأَرْضِ .
Abdullah b. Ja`far reported that he heard `Ali say in Kufa that Allah's Messenger (ﷺ) said:The best of the women of her time was Mary, daughter of `Imran, and the best of the women of her time was Khadija, daughter of Khuwailid. Abu Kuraib said that Waki` pointed towards the sky and the earth
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ابو اسامہ ، ابن نمیر ، وکیع اور ابو معاویہ سے حدیث بیان کی ۔ اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں عبدہ بن سلیمان نے خبر دی ۔ ان سب نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ۔ الفاظ حدیث ابو اسامہ کے ہیں ۔ ہشام نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، میں نے کوفہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" ( اپنے دور کی ) تمام عورتوں میں سے بہترین مریم بنت عمران علیہ السلام ہیں اور ( اس دور کی ) تمام عورتوں میں سے بہترین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں ۔ "" ابو کریب نے کہا : وکیع نے آسمان وزمین کی طرف اشارہ کرکے بتایا ( کہ ان دونوں کے درمیان بہترین خواتین یہ ہیں ۔)
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالاَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمُقَدَّمِ رَأْسِهِ وَعَلَى عِمَامَتِهِ .
Ibn Mughira narrated it from his father:The Apostle of Allah (ﷺ) wiped over his socks and over his forehead and over his turban
امیہ بن بسطام اور محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے بکر بن عبد اللہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے واسطے سے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺنے موزوں ، اپنے سر کے سامنے کے حصے اور اپنے عمامے پر مسح فرمایا ۔
حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ رَكِبَتْ عَائِشَةُ بَعِيرًا فَكَانَتْ فِيهِ صُعُوبَةٌ فَجَعَلَتْ تُرَدِّدُهُ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ " . ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
This hadith has been reported by Miqdam b. Shuraih b. Hani with the same chain of transmitters but with this addition:" 'A'isha mounted upon a wild camel and she began to make that go round and round. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: You should show kindness, and then he made a mention of this hadith
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے مقدام بن شریح بن بانی کو اسی سند سے ( حدیث بیان کرتے ہوئے ) سنا اور انہوں نے حدیث میں مزید بیان کیا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوئیں جس میں ابھی سرکشی تھی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے گھمانے لگیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عائشہ! " نرمی سے کام لو ۔ " اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ " . قَالَ أُرَاهُ قَالَ فِيهِنَّ " لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ " . وَإِذَا أَصْبَحَ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا " أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ " .
Abdullah reported that when it was evening Allah's Messenger (ﷺ) used to supplicate:" We have entered upon evening and so, too, the whole Kingdom of Allah has entered upon evening. Praise is due to Allah. There is no god but Allah, the One having no partner with Him." He (the narrator) said: I think that he also uttered (in this supplication these words):" His is tne Sovercignty and to Him is praise due and He is Potent over everything. My Lord, I beg of Thee good that lies in this night and good that follows it and I seek refuge in Thee from the evil that lies in this night and from the evil of that which follows it. My Lord, I seek refuge in Thee from sloth, from the evil of vanity. My Lord, I seek refuge in Thee from torment of the Hell-Fire and from torment of the grave." And when it was morning he said like this:" We entered upon morning and the whole Kingdom of Allah enter ed upon morning
جریر نے حسن بن عبیداللہ سے ، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو ( دعا کرتے ہوئے ) فرماتے : " ہم اور سارا ملک شام کے وقت بھی اللہ کا ہوا ، سب حمد اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ " ( حسن بن عبیداللہ نے ) کہا : میں دیکھتا ہوں کہ انہوں ( ابراہیم نخعی ) نے ان کلمات میں یہ بھی کہا : " ساری بادشاہت اسی کی ہے ، ( ہر نعمت پر ) ساری تعریف بھی اسی کو سزاوار ہے ، وہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے میرے پروردگار! جو کچھ اس رات میں ہے اور جو اس کے بعد ہے ، میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طلبگار ہوں اور جو کچھ اس رات میں ہے اور جو اس کے بعد ہے اس کی برائی سے میں تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ اے میرے پروردگار! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کسل مندی سے اور بڑھاپے کی خرابی سے ۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے ۔ " اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کرتے تو ( بالکل اسی طرح ) فرماتے : ہم اور ساری بادشاہت اور اختیار صبح کو ( بھی ) اللہ کے ہوئے ۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ " .
Jabir reported:I heard Allah's Apostle (ﷺ) as saying. Every servant would be raised (in the same very state) in which he dies
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " ہر شخص کو ( ایمان اور امید کی ) اسی کیفیت میں اٹھایا جائے گا جس پر اس کو موت آئی تھی ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يُكْسِلُ فَقَالَ " يَغْسِلُ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي " .
Ubayy Ibn Ka'b reported:I arked the Messenger of Allah (ﷺ) about a man who has sexual intercourse with his wife, but leaves her before orgasm. Upon this he (the Holy Prophet) said: He should wash the secretion of his wife, and then perform ablution and ofier prayer
حماد اور ابو معاویہ نےہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے ابو ایوب سے ، انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے ، پھر اسے انزال نہیں ہوتا ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ بیوی سے اسے جو کچھ لگ جائے اس کو دھو ڈالے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَقَدْ رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ذَلِكَ وَمَا حَمَلَنِي عَلَى كَثْرَةِ مُرَاجَعَتِهِ إِلاَّ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ فِي قَلْبِي أَنْ يُحِبَّ النَّاسُ بَعْدَهُ رَجُلاً قَامَ مَقَامَهُ أَبَدًا وَإِلاَّ أَنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّهُ لَنْ يَقُومَ مَقَامَهُ أَحَدٌ إِلاَّ تَشَاءَمَ النَّاسُ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ يَعْدِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَبِي بَكْرٍ .
A'isha, the wife of the Messenger of Allah (ﷺ), said:I tried to dissuade the Messenger of Allah (ﷺ) from it (i. e. from appointing Abu Bakr as the Imam.) and my insistence upon it was not due to the fact that I entertained any apprehension in my mind that the people would not love the man who would occupy his (Prophet's) place (i. e. who would be appointed as his caliph) and I feared that the people would be superstitious about one who would occupy his place. I, therefore, desired that the Messenger of Allah (ﷺ) should leave Abu Bakr aside in this matter
۔ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے ( حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو امام بنانے کے ) اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار بات کی ۔ میں نے اتنی بار آپ سے صرف اس لیے رجوع کیا کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھتی نہ تھی کہ لوگ آپ کے بعد کبھی اس شخص سے محبت کریں گے جو آپ کا قائم مقام ہو گا اور اس کے برعکس میرا خیال یہ تھا کہ آپ کی جگہ پر جو شخص بھی کھڑا ہو گا لوگ اسے برا ( برے شگون کا حامل ) سمجھیں گے ، اس لیے میں چاہتی تھی کہ رسول اللہﷺ امامت ( کی ذمہ داری ) ابو بکر سے ہٹا دیں ۔