وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلاً، نَشَدَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الأَحْمَرِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ وَجَدْتَ . إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " .
Sulaiman b. Buraida narrated it on the authority of his father that a man cried out in the mosque saying:Who had called out for the red camel? Upon this the Messenger of Allah (ﷺ) said: May it not be restored to you! The mosques are built for what they are meant
سفیان ثوری نے ہمیں خبر دی ، انھوں نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا اور کہا : جو سرخ اونٹ ( کی نشاندہی ) کے لیے آواز دے گا ۔ تو نبی ﷺ فرمانے لگے : ’’تجھے ( تیرا اونٹ ) نہ ملے ، مسجدیں صرف انھی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انھیں بنایا گیا ۔ ‘ ‘ ( یعنی عبادت اور اللہ کے ذکر کے لیے ۔)
وَحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي بَيْتِهَا عَامَ الْفَتْحِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ .
Abu Murra narrated on the authority of Umm Hani that the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of the Conquest of Mecca observed in her house eight rak'ahs of prayer in one cloth, its opposite corners having been tied from the opposite sides
جعفر بن محمد ؒ کے والد محمد باقرؒ نے عقیل کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ سے اور انھوں نے حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک کپڑے میں جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف جانب ڈالے گئے تھے ، آٹھ رکعتیں پڑھیں ۔
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ وَالإِيمَانُ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ " .
It is reported on the authority of Jabir b. Abdullah that the Messenger of Allah (may peace and, blessings be upon him) observed:The callousness of heart and sternness is in the East and faith is among the people of the Hijaz
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ دلوں کی سختی اور جفا ( اکھڑپن ) مشرق میں ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے ۔
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ . فَقَالَ " إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا " .
It is narrated on the authority of Jabir ibn 'Abdullah:There passed a bier and the Prophet (ﷺ) stood up for it and we also stood up along with him. We said: Messenger of Allah, that was the bier of a Jewess. Upon this he remarked: Verily, death is a matter of consternation, so whenever you come across a bier stand up
عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے کھڑے ہوگئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے پھر ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ تو ایک یہودی عو رت ( کا جنازہ ) ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " موت خوف اور گھبراہٹ ( کا باعث ) ہے ، پس جب تم جنازے کو دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو عَامِرٍ الأَشْعَرِيُّ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، - قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، - حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى�� عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الْخَازِنَ الْمُسْلِمَ الأَمِينَ الَّذِي يُنْفِذُ - وَرُبَّمَا قَالَ يُعْطِي - مَا أُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيهِ كَامِلاً مُوَفَّرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ - أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ " .
Abu Musa reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:The honest Muslim trustee who spends (sometimes he said" who gives" ) what he is commanded to do and he gives that in full with his heart overflowing with cheerfulness and he gives it to one to whom he is ordered, he is one of the givers of charity
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک ایک مسلمان امانت دار خازن ( خزانچی ) جو دیئے گئے حکم پر عمل کرتا ہے ۔ ( یا فرمایا : ادا کرتا ہے ) اسے خوش دلی کے ساتھ پورے کا پورا ( بلکہ ) وافر ، اس شخص کو ادا کردیتا ہے جس کے بارے میں اسے حکم دیا گیا ہے تو وہ ( خازن بھی ) ۔ ۔ ۔ دو صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ - رضى الله عنها - عَنِ الرَّجُلِ يُصْبِحُ جُنُبًا أَيَصُومُ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ .
Sulaiman b. Yasar reported that he asked Umm Salama whether a person (who gets up) in the morning in a state of junub should observe fast. She said:The Messenger of Allah (ﷺ) (at times) got up in the morning in a state of junub, not because of sexual dreams (but on account of intercourse at night), and then observed fast
احمد بن عثمان نوفلی ، ابو عاصم ، ابن جریج ، محمد بن یوسف ، حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ جنبی حالت میں صبح کرتاہے تو کیا وہ آدمی روزہ رکھ سکتا ہے؟حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح کرتے پھر آپ روزہ رکھتے ۔
وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ فَقَالَ الْمِسْوَرُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ لاَ أُمَارِيكَ أَبَدًا .
This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters that Abu Ayyub rubbed his whole head with his hands and then moved them forward and backward. Miswar said to Ibn 'Abbas:I would never dispute with you (in future)
ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا مجھے زید بن اسلم نے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا کہ ابواء ایوب نے اپنے دو نوں ہاتھوں کو اپنے پورے سر پر پھیر اانھیں آگے اور پیچھے لے گئے اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میں آپ سے کبھی بحث نہیں کیا کروں گا ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ، الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، وَشُعَيْبِ، بْنِ حَبْحَابٍ عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ، كُلُّهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا . وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا
This hadith has been narrated through another chain of transmitters on the authority of Anas that Allah's Apostle (ﷺ) emancipated Safiyya, and her emancipation was treated as her wedding gift, and in the hadith transmitted by Mu'adh on the authority of his father (the words are):" He (the Holy Prophet) married Safiyya and bestowed her emancipation as her wedding gift
حماد ، یعنی ابن زید نے ثابت اور عبدالعزیز بن صہیب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ۔ حماد نے ثابت اور شعیب بن حَبحَاب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ۔ اسی طرح ابوعوانہ نے قتادہ اور عبدالعزیز سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ۔ ابوعوانہ ( ہی ) نے ابوعثمان سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ۔ معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے ، انہوں نے شعیب بن حبحاب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور اسی طرح یونس بن عبید نے شعیب بن حبحاب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور ان سب نے ( کہا : انہوں نے ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کو آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا ۔ معاذ کی اپنے والد ( ہشام ) سے روایت کردہ حدیث میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا اور ان کی آزادی ، ان کو مہر میں دی
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
Ibn Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:If anyone buys palm-trees after they have been fecundated the fruit belongs to the seller unless the buyer makes a proviso
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کھجور کا ایسا درخت فروخت کیا جس پر نر کھجور کا بورڈ ڈالا گیا ہو تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہے الا یہ کہ خریدار ( بیع کے دوران میں ) شرط طے کر لے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ كُنْتُ بِالشَّامِ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ فَجَاءَ أَبُو الأَشْعَثِ قَالَ قَالُوا أَبُو الأَشْعَثِ أَبُو الأَشْعَثِ . فَجَلَسَ فَقُلْتُ لَهُ حَدِّثْ أَخَانَا حَدِيثَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ . قَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا غَزَاةً وَعَلَى النَّاسِ مُعَاوِيَةُ فَغَنِمْنَا غَنَائِمَ كَثِيرَةً فَكَانَ فِيمَا غَنِمْنَا آنِيَةٌ مِنْ فِضَّةٍ فَأَمَرَ مُعَاوِيَةُ رَجُلاً أَنْ يَبِيعَهَا فِي أَعْطِيَاتِ النَّاسِ فَتَسَارَعَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ فَبَلَغَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَامَ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلاَّ سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ فَمَنْ زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى . فَرَدَّ النَّاسُ مَا أَخَذُوا فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلاَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ قَدْ كُنَّا نَشْهَدُهُ وَنَصْحَبُهُ فَلَمْ نَسْمَعْهَا مِنْهُ . فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَأَعَادَ الْقِصَّةَ ثُمَّ قَالَ لَنُحَدِّثَنَّ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنْ كَرِهَ مُعَاوِيَةُ - أَوْ قَالَ وَإِنْ رَغِمَ - مَا أُبَالِي أَنْ لاَ أَصْحَبَهُ فِي جُنْدِهِ لَيْلَةً سَوْدَاءَ . قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ.
Abi Qilabah reported:I was in Syria (having) a circle (of friends). in which was Muslim b. Yasir. There came Abu'l-Ash'ath. He (the narrator) said that they (the friends) called him: Abu'l-Ash'ath, Abu'l-Ash'ath, and he sat down. I said to him: Narrate to our brother the hadith of Ubada b. Samit. He said: Yes. We went out on an expedition, Mu'awiya being the leader of the people, and we gained a lot of spoils of war. And there was one silver utensil in what we took as spoils. Mu'awiya ordered a person to sell it for payment to the people (soldiers). The people made haste in getting that. The news of (this state of affairs) reached 'Ubada b. Samit, and he stood up and said: I heard Allah's Messenger (ﷺ) forbidding the sale of gold by gold, and silver by silver, and wheat by wheat, and barley by barley, and dates by dates, and salt by salt, except like for like and equal for equal. So he who made an addition or who accepted an addition (committed the sin of taking) interest. So the people returned what they had got. This reached Mu'awiya. and he stood up to deliver an address. He said: What is the matter with people that they narrate from the Messenger (ﷺ) such tradition which we did not hear though we saw him (the Holy Prophet) and lived in his company? Thereupon, Ubida b. Samit stood up and repeated that narration, and then said: We will definitely narrate what we heard from Allah's Messenger (ﷺ) though it may be unpleasant to Mu'awiya (or he said: Even if it is against his will). I do not mind if I do not remain in his troop in the dark night. Hammad said this or something like this
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی اور انہوں نے ابوقلابہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں شام میں ایک مجلس میں تھا جس میں مسلم بن یسار بھی تھے ، اتنے میں ابواشعث آئے تو لوگوں نے کہا : ابواشعث ، ( آگئے ) میں نے کہا : ( اچھا ) ابو اشعث! وہ بیٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا : ہمارے بھائی! ہمیں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کیجیے ۔ انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے ایک غزوہ لڑا اور لوگوں کے امیر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ انہیں لوگوں کو ملنے والے عطیات ( کے بدلے ) میں فروخت کر دے ۔ ( جب عطیات ملیں گے تو قیمت اس وقت دراہم کی صورت میں لے لی جائے گی ) لوگوں نے ان ( کو خریدنے ) میں جلدی کی ۔ یہ بات حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ کھڑے ہوئے اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ سونے کے عوض سونے کی ، چاندی کے عوض چاندی کی ، گندم کے عوض گندم کی ، جو کے عوض جو کی ، کھجور کے عوض کھجور کی اور نمک کے عوض نمک کی بیع سے منع فرما رہے تھے ، الا یہ کہ برابر برابر ، نقد بنقد ہو ۔ جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو اس نے سود کا لین دین کیا ۔ ( یہ سن کر ) لوگوں نے جو لیا تھا واپس کر دیا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : سنو! لوگوں کا حال کیا ہے! وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے ہیں ، ہم بھی آپ کے پاس حاضر ہوتے اور آپ کے ساتھ رہتے تھے لیکن ہم نے آپ سے وہ ( احادیث ) نہیں سنیں ۔ اس پر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا ) سارا واقعہ دہرایا اور کہا : ہم وہ احادیث ضرور بیان کریں گے جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں ، خواہ معاویہ رضی اللہ عنہ ناپسند کریں ۔ ۔ یا کہا : خواہ ان کی ناک خاک آلود ہو ۔ ۔ مجھے پروا نہیں کہ میں ان کے لشکر میں ان کے ساتھ ایک سیاہ رات بھی نہ رہوں ۔ حماد نے کہا : یہ ( کہا : ) یا اس کے ہم معنی ۔
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَهَؤُلاَءِ أَتَمُّ حَدِيثًا .
This hadith has been narrated on the authority of Bara' with another chain of transmitters, but this hadith is short as compared with other ahadith which are more detailed
سفیان سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے ابواسحاق نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ایک آدمی نے ان سے پوچھا : ابوعمارہ! ۔ ۔ اور ( آگے ) حدیث بیان کی ، ان کی حدیث ان سب ( ابوخیثمہ ، زکریا اور شعبہ ) کی حدیث سے ( تفصیلات میں ) کم ہے اور ان سب کی حدیث زیادہ مکمل ہے
وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلاَّ قَوْلَهُ " وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ " . لَمْ يَذْكُرْهُ .
Another version omits a portion at the end of the tradition-a portion which begins with man radiya wa taba and ends with the last word of the tradition
ابن مبارک نے ہشام سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے ضبہ بن محصن سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پھر اسی کے مانند بیان کیا ، سوائے ان الفاظ کے : " جس نے پسند کیا اور پیچھے لگا " یہ الفاظ بیان نہیں کیے
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، أَبِي عُمَرَ الْبَهْرَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنْتَبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الأُخْرَى وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ شَىْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَصُبَّ .
Ibn 'Abbas reported that Nabidh was prepared for Allah's Messenger (ﷺ) in the beginning of the night and he would drink it in the morning and the following night and the following day and the night after that up to the afternoon. If anything was left out of that he gave it to his servant, or gave orders for it to be poured out
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے یحییٰ بن عبید ابو عمر بہرا نی سے روایت بیان کی کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے ابتدا ئی حصے میں ( کھجوریں ) پانی میں ڈال دی جا تی تھیں جب آپ صبح کرتے تو اسے ( پیتے ) اور جو رات آتی ( اس میں ) پیتے اور صبح کو اور اگلی رات کو اس کے بعد کا دن عصر تک اگر کچھ بچ جا تا تو خادم کو پلا دیتے ( تا کہ ختم ہو جا ئے ) یا ( اگر کو ئی پینے والا نہ ہو تا یا بچ جا تی تو ) اس کو گرا دینے کا حکم دیتے ۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
A hadith like this has been reported on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters
ابو عاصم نے ابو جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، كِلاَهُمَا عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرَا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا .
A'mash reported this with the same chain of transmitters and he made no mention of the fact that he cut one of his veins
جریر اور سفیان دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ بیان کیا اور " تو ان کی رگ کاٹی " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، - يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ - حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلاَّ غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا .
Anas b. Malik reported that when Allah's Messenger (ﷺ) had completed his dawn prayer, the servants of Medina came to him with utensils containing water, and no utensil was brought in which he did not dip his hand; and sometime they came in the cold dawn (and he did not feel reluctant in acceding to their request even in the cold weather) and dipped his hand in them
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے خادم ( غلام ) اپنے برتن لے آتے جن میں پانی ہوتا ، جو بھی برتن آپ کے سامنے لایاجاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک اس میں ڈبو تے ، بسا اوقات سخت ٹھنڈی صبح میں برتن لائے جاتے تو آپ ( پھر بھی ) ان میں اپنا ہاتھ ڈبودیتے ۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ، أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَىَّ ��َدِيثًا لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ .
Abdullah b. Ja'far reported that one day Allah's Messenger (ﷺ) mounted me behind him and narrated to me something in secret which I would narrate to none amongst people
حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام حسن بن سعد نے حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ، پھر مجھے راز داری سے ایک بات بتائی جو میں لوگوں میں سے کسی بھی شخص کو نہیں سناؤں گا ۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، - يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ - حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَخَلَّفْتُ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ قَالَ " أَمَعَكَ مَاءٌ " . فَأَتَيْتُهُ بِمَطْهَرَةٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ فَضَاقَ كُمُّ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ وَأَلْقَى الْجُبَّةَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَعَلَى الْعِمَامَةِ وَعَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ رَكِبَ وَرَكِبْتُ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوا فِي الصَّلاَةِ يُصَلِّي بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ فَصَلَّى بِهِمْ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقُمْتُ فَرَكَعْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي سَبَقَتْنَا .
Urwa b. al Mughira b. Shu'ba reported it on the authority of his father that he said:The Messenger of Allah (ﷺ) lagged behind (in a journey) and I also lagged behind along with him. After having relieved himself he said: Have you any water with you? I brought to him a jar of water; he washed his palms, and face, and when he tried to get his forearms out (he could not) for the sleeve of the gown was tight. He, therefore, brought them out from under the gown and, throwing it over his shoulders, he washed his forearm. He then wiped his forelock and his turban and his socks. He then mounted and I also mounted (the ride) and came to the people. They had begun the prayer with 'Abd ar-Rabmin b. 'Anf leading them and had completed a rak'a. When he perceived the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) he began to retire. He (the Holy Prophet) signed to him to continue and offered prayer along with them. Then when he had pronounced the salutation, the Apostle (ﷺ) got up and I also got up with him, and we offered the rak'a which had been finished before we came
حمید الطویل نے کہا : ہمیں بکر بن عبد اللہ مزنی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسول اللہ ﷺ ( قافلے سے ) پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا ، جب آپ نے قضائے حاجت کر لی تو فرمایا : ’’کیاتمہارے ساتھ پانی ہے ؟ ‘ ‘ میں آپ کے پاس وضو کرنے کا برتن لایا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا ، پھر دونوں بازو کھولنے لگے تو جبے کی آستین تنگ پڑ گئی ، آپ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا اور جبہ کندھوں پر ڈال لیا ، اپنے دونوں بازودھوئے اور اپنے سر کے اگلے حصے ، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا ، پھر آپ سوار ہوئے اور میں ( بھی ) سوار ہوا ، ہم لوگوں کے پاس پہنچے تووہ نماز کے لیے کھڑے تھے ، عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۔ جب انہیں نبی اکرمﷺ ( کی تشریف آوری ) کا احساس ہوا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا ( کہ نماز پوری کرو ) تو انہوں نے نماز پڑھا دی ، جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہو گئے ، میں بھی کھڑا ہو گیا اور ہم نے وہ رکعت پڑھی جوہم سے پہلے ہو چکی تھی ۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِقْدَامِ، - وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ - عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الرِّفْقَ لاَ يَكُونُ فِي شَىْءٍ إِلاَّ زَانَهُ وَلاَ يُنْزَعُ مِنْ شَىْءٍ إِلاَّ شَانَهُ " .
A'isha, the wife of Allah's Apostle (ﷺ), reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Kindness is not to be found in anything but that it adds to its beauty and it is not withdrawn from anything but it makes it defective
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے مقدام بن شریح بن بانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمْسَى قَالَ " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ " . قَالَ الْحَسَنُ فَحَدَّثَنِي الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا " لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ " .
Abdullah b. Mas'ud reported that when it was evening Allah's Messenger (ﷺ) used to supplicate:" We entered upon evening and the whole Kingdom of Allah also entered upon evening and praise is due to Allah. There is no god but Allah, the One Who has no partner with Him." Hasan said that Zubaid reported to him that he memorised it from Ibrahim in these very words." His is the Sovereignty and Praise is due to Him, and He is Potent over everything. O Allah, I beg of Thee the good of this night and I seek refuge in Thee from the evil of this night and the evil which follows it. O Allah, I seek refuge in Thee from sloth, from the evil of vanity. O Allah, I seek refuge in Thee from torment in the Hell-Fire and from torment in the grave
عبدالواحد بن زیاد نے حسن بن عبداللہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابراہیم بن سعد نخعی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے : "" ہم نے شام کی اور سارا ملک ( شام کے وقت بھی ) اللہ کا ہوا ، سب شکر اور تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ( مالک ، معبود ) ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ "" حسن ( بن عبیداللہ ) نے کہا : مجھے زید نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اس ( دعا ) میں ( یہ حصہ ) ابراہیم ( نخعی ) سے ( سن کر ) حفظ کہا : "" اسی کی بادشاہی اور اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی مانگتا ہوں اور تجھ سے اس رات کی اور اس کے بعد ( کے ہر لمحے ) کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں ، اے اللہ! میں کسل مندی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے ۔
وَحَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، عَارِمٌ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ، مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلاَثَةِ أَيَّامٍ يَقُولُ " لاَ يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلاَّ وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
Jabir b. 'Abdullah al-Ansari reported:I heard Allah's Messenger (ﷺ) say three days before his death: None of you should die but hoping only good from Allah, the Exalted and Glorious
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کسی پر بھی موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ عزوجل کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَقَالَ " لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ " . قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أَقْحَطْتَ فَلاَ غُسْلَ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ " . وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ " إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ " .
Abu Sa'id al-Khudri reported:The Messenger of Allah (ﷺ) happened to pass by (the house) of a man amongst the Ansar, and he sent for him. He came out and water was trickling down from his head. Upon this he (the Holy Prophet) said: Perhaps we put you to haste. He said: Yes. Messenger of Allah. He (the Holy Prophet) said: When you made haste or semen is not emitted, bathing is not obligatory for you, but ablution is binding. Ibn Bashshir has narrated it with a minor alteration
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنی اور ابن بشار نےمحمد بن جعفر غندر سے ، انہوں نے شعبہ سے ، انہوں نے حکم کے حوالے سے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری آدمی کے ( مکان کے ) پاس سے گزرے تو سے بلوایا ، وہ اس حال میں نکلا کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’ شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈالا ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تم انزال نہ کر سکو تو تم پر غسل لازم نہیں ہے ، البتہ وضو ضروری ہے ۔ ‘ ‘ ابن بشار نے کہا : جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تجھے ( انزال سے ) روک دیا جائے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلاَهُ فِي الأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ قَالَ قُلْتُ لاَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ هُوَ عَلِيٌّ .
A'isha, the wife of the Apostle (ﷺ), said:When the Messenger of Allah (ﷺ) fell ill and his illness became serious, he asked permission from his wives to stay in my house during his illness. They gave him permission to do so. He stepped out (of'A'isha's apartment for prayer) supported by two persons. (He was so much weak) that his feet dragged on the ground and he was being supported by 'Abbas b. 'Abd al-Muttalib and another person. 'Ubaidullah said: I informed 'Abdullah (b. 'Abbas) about that which 'A'isha had said. 'Abdullah b. 'Abbas said: Do you know the man whose name 'A'isha did not mention? He said: No. Ibn 'Abbas said: It was 'Ali
عقیل بن خالد نے کہا : ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو ، انہوں نے اجازت دے دی ، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان ( ان کا سہارا لے کر ) نکلے ، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے ( اور آپ ) عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے ۔ ( حدیث کے راوی ) عبید اللہ نے کہا : عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا ، میں نے اس کا تذکرہ عبد اللہ ( بن عباس ) رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا : کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا : میں نے کہا : نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ۔