بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنِ ابْنَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ نِسَاءً، كُنَّ يَدْعُونَ بِالْمَصَابِيحِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَنْظُرْنَ إِلَى الطُّهْرِ فَكَانَتْ تَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِنَّ وَتَقُولُ مَا كَانَ النِّسَاءُ يَصْنَعْنَ هَذَا ‏.‏ وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنِ الْحَائِضِ تَطْهُرُ فَلاَ تَجِدُ مَاءً هَلْ تَتَيَمَّمُ قَالَ نَعَمْ لِتَتَيَمَّمْ فَإِنَّ مِثْلَهَا مِثْلُ الْجُنُبِ إِذَا لَمْ يَجِدْ مَاءً تَيَمَّمَ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from his paternal aunt from the daughter of Zayd ibn Thabit that she had heard that women used to ask for lamps in the middle of the night to check their purity. She would criticise them for this saying, "Women never used to do this," i.e. in the time of the companions. Malik was asked whether a woman whose period had finished could do tayammum to purify herself if she could not find waterand he said, "Yes, because she is like some one in a state of major ritual impurity, who, if he cannot find water, does tayammum
ام کلثوم سے جو بیٹی ہیں زید بن ثابت کی روایت ہے کہ ان کو خبر پہنچی اس بات کی کہ عورتیں منگاتی ہیں چراغ بیچا بیچ رات کو اور دیکھتی ہیں کہ حیض سے پاک ہوئیں ام کلثوم عیب جانتی تھیں اس بات کو اور کہتی تھیں کہ صحابہ کی عورتیں ایسا نہیں کرتیں تھیں ۔ امام مالک کو پہنچا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہا کہ انہوں نے عورت حاملہ اگر دیکھے خون کو تو چھوڑ دے نماز کو ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَجُلاَنِ أَخَوَانِ فَهَلَكَ أَحَدُهُمَا قَبْلَ صَاحِبِهِ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَذُكِرَتْ فَضِيلَةُ الأَوَّلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَلَمْ يَكُنِ الآخَرُ مُسْلِمًا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَانَ لاَ بَأْسَ بِهِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ وَمَا يُدْرِيكُمْ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلاَتُهُ إِنَّمَا مَثَلُ الصَّلاَةِ كَمَثَلِ نَهْرٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَقْتَحِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا تَرَوْنَ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ فَإِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ مَا بَلَغَتْ بِهِ صَلاَتُهُ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that he had heard from Amir ibn Sad ibn Abi Waqqas that his father said, "There were two brothers, one of whom died forty nights before the other. The merit of the first was being mentioned in the presence of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he said, 'Wasn't the other one a muslim?' They said, 'Of course, Messenger of Allah, and there was no harm in him.' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'What will make you realise what his prayer has brought him. The prayer is like a deep river of sweet water running by your door into which you plunge five times a day. How much of your dirtiness do you think that will leave? You do not realise what his prayer has brought him
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کام بہت پسند تھا جو ہمیشہ آدمی اس کو کرتا رہے ۔ سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ دو بھائی تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان میں سے ایک دوسرے سے چالیس دن پہلے مر گیا تو لوگوں نے تعریف کی اس کی جو پہلے مرا تھا تب فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دوسرا بھائی مسلمان نہ تھا بولے ہاں مسلمان تھا وہ بھی کچھ برا نہ تھا تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کیا جانو دوسرے کی نماز نے اس کو کس درجہ پر پہنچایا نماز کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک نہر میٹھے پانی کی بہت گہری کسی نے دروازے پر بہتی ہو اور وہ اس میں پانچ وقت غوطہ لگایا کرے کیا اس کے بدن پر کچھ میل رہے گی پھر تم کیا جانو کہ نماز نے دوسرے بھائی کے مرتبہ کس درجہ کر پہنچایا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عطاء بن یسار جب دیکھتے کسی شخص کو جو سودا بیچتا ہے مسجد میں پھر بلاتے اس کو پھر پوچھتے اس سے کیا ہے تیرے پاس اور تو کیا چاہتا ہے اگر وہ بولتا کہ میں بیچنا چاہتا ہوں تو کہتے جاؤ دنیا کے بازار میں یہ تو آخرت کا بازار ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر نے ایک جگہ بنا دی مسجد کے کونے میں اس کا نام بطیحا تھا اور کہہ دیا تھا کہ جو کوئی بک بک کرنا چاہے یا اشعار پڑھنا چاہے یا پکارنا چاہے تو اس جگہ کو چلا جائے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ أَبِي تَمِيمَةَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ كَانَ قَدِيمًا أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ كُسِرَتْ فَخِذِي فَأَرْسَلْتُ إِلَى مَكَّةَ وَبِهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَالنَّاسُ فَلَمْ يُرَخِّصْ لِي أَحَدٌ أَنْ أَحِلَّ فَأَقَمْتُ عَلَى ذَلِكَ الْمَاءِ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ حَتَّى أَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ayyub ibn Abi Tamima as- Sakhtayani that a very old man from Basra once said to him, "I set out for Makka but on the way there I broke my thigh, so I sent a message on to Makka Abdullah ibn Abbas and Abdullah ibn Umar and the people were there, but no-one allowed me to leave ihram, and I stayed there for seven months until I left ihram by doing an umra
ایوب بن ابی تمیمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک شخص سے جو بصرہ کا رہنے والا پرانا آدمی تھا اس نے کہا کہ میں چلا مکہ کو راستہ میں میرا کولہا ٹوٹ گیا تو میں نے مکہ میں کسی کو بھیجا وہاں عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر اور لوگ بھی تھے ان میں سے کسی نے مجھ کو اجازت نہ دی احرام کھول ڈالنے کی یہاں تک کہ میں وہیں پڑا رہا سات مہینے تک جب اچھا ہوا تو عمرہ کر کے احرام کھولا۔