وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ يَسْأَلُهَا هَلْ يُبَاشِرُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَتْ لِتَشُدَّ إِزَارَهَا عَلَى أَسْفَلِهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا إِنْ شَاءَ .
Yahya related to me from Malik from Nafi that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Umar sent a question to A'isha asking her, "May a man fondle his wife when she is menstruating?" She replied, "Let her wrap her waist-wrapper around her lower part and then he may fondle her if he wishes
نافع سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے بھیجا کسی آدمی کو حضرت عائشہ کے پاس اور کہا پوچھو آیا کہ مرد مباشرت کرے اپنی عورت سے حالت حیض میں تو کہا حضرت عائشہ نے چاہیے کہ باندھ لے تہ بند نیچے کے جسم پر پھر اگر چاہے مباشرت کرے اس سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ سالم بن عبداللہ بن عمر اور سلیمان بن یسار پوچھے گئے حائضہ عورت سے جب پاک ہو جائے تو جماع کرے خاوند اس کا قبل غسل کے کہا ان دونوں نے نہیں جب تک غسل نہ کرے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ لإِنْسَانٍ إِنَّكَ فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ قَلِيلٌ قُرَّاؤُهُ تُحْفَظُ فِيهِ حُدُودُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُرُوفُهُ قَلِيلٌ مَنْ يَسْأَلُ كَثِيرٌ مَنْ يُعْطِي يُطِيلُونَ فِيهِ الصَّلاَةَ وَيَقْصُرُونَ الْخُطْبَةَ يُبَدُّونَ أَعْمَالَهُمْ قَبْلَ أَهْوَائِهِمْ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ قُرَّاؤُهُ يُحْفَظُ فِيهِ حُرُوفُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُدُودُهُ كَثِيرٌ مَنْ يَسْأَلُ قَلِيلٌ مَنْ يُعْطِي يُطِيلُونَ فِيهِ الْخُطْبَةَ وَيَقْصُرُونَ الصَّلاَةَ يُبَدُّونَ فِيهِ أَهْوَاءَهُمْ قَبْلَ أَعْمَالِهِمْ .
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Abdullah ibn Masud said to a certain man, "You are in a time when men of understanding (fuqaha) are many and Qur'an reciters are few, when the limits of behaviour defined in the Qur'an are guarded and its letters are lost, when few people ask and many give, when they make the prayer long and the khutba short, and put their actions before their desires. A time will come upon men when their fuqaha are few but their Qur'an reciters are many, when the letters of the Qur'an are guarded carefully but its limits are lost, when many ask but few give, when they make the khutba long but the prayer short, and put their desires before their actions
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا ایک شخص سے تم ایسے زمانے میں ہو کہ عالم اس میں بہت ہیں صرف لفظ پڑھنے والے کم ہیں عمل زیادہ کیا جاتا ہے قرآن کے حکموں پر اور لفظوں کا ایساخیال نہیں کیا جاتا پوچھنے والے کم ہیں جواب دینے والے بہت ہیں یا بھیک مانگنے والے کم ہیں اور دینے والے بہت ہیں لمبا کرتے ہیں نماز کو اور چھوٹا کرتے ہیں خطبہ کو نیک عمل پہلے کرتے ہیں اور نفس کی خواہش کو مقدم نہیں کرتے اور قریب ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کم ہوں گے عالم اس وقت میں الفاظ پڑھنے والے بہت ہوں گے یاد کئے جائیں گے الفاظ قرآن کے اور اس کے حکموں پر عمل نہ کیا جائے گا پوچھنے والے اور مانگنے والے بہت ہوں گے اور جواب دینے والے اور دینے والے بہت کم ہوں گے لمبا کریں گے خطبہ کو اور چھوٹا کریں گے نماز کو اپنی خواہش نفس پر چلیں گے اور عمل نیک نہ کریں گے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتِمَرًا فِي الْفِتْنَةِ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ . ثُمَّ نَفَذَ حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا وَرَأَى ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَى .
Yahya related to me from Malik from Nafi that when Abdullah ibn Umar set out for Makka during the troubles (between al-Hajjaj ibn Yusuf and Zubair ibn al-Awwam) he said, "If I am blocked from going to the House we shall do what we did when we were with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace," and he went into ihram for umra, because that was what the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did in the year of al-Hudaybiya. But afterwards, he reconsidered his position and said, "It is the same either way." After that he turned to his companions and said, "It is the same either way. I call you to witness that I have decided in favour of hajj and umra together." He then got through to the House (without being stopped) and did one set of tawaf, which he considered to be enough for himself, and sacrificed an animal. Malik said, "This is what we go by if someone is hindered by an enemy, as the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and his companions were. If some one is hindered by anything other than an enemy, he is only freed from ihram by tawaf of the House
عبداللہ بن عمر جب نکلے مکہ کی طرف عمرہ کی نیت سے جس سال فساد درپیش تھا یعنی حجاج بن یوسف لڑنے کو آیا تھا عبداللہ بن زبیر سے جو حاکم تھے مکہ کے تو کہا اگر میں روکا جاؤ بیت اللہ جانے سے تو کروں گا جیسا کیا تھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، جب روکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار نے تو عبداللہ بن عمر نے احرام باندھا تھا عمرہ کا اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال میں احرام باندھا تھا عمرہ کا پھر عبداللہ بن عمر نے سوچا تو یہ کہا کہ عمرہ اور حج دونوں کا حکم احصار کی حالت میں یکساں ہے پھر متوجہ ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف اور کہا کہ حج اور عمرہ کا حال یکساں ہے میں نے تم کو گواہ کیا کہ میں نے اپنے اوپر حج بھی واجب کر لیا عمرہ کے ساتھ پھر چلے گئے عبداللہ یہاں تک کہ آئے بیت اللہ میں اور ایک طواف کیا اور اس کو کافی سمجھا اور نحر کیا ہدی کو ۔