حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ أَقْبَلَ هُوَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِنَ الْجُرُفِ حَتَّى إِذَا كَانَا بِالْمِرْبَدِ نَزَلَ عَبْدُ اللَّهِ فَتَيَمَّمَ صَعِيدًا طَيِّبًا فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ صَلَّى .
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar and he were approaching Juruf. When they got to Mirbad, Abdullah got down and did tayammum with some good earth. He wiped his face, and his arms to the elbows, and then prayed
نافع کہتے ہیں کہ میں اور عبداللہ بن عمر جرف سے آئے تو جب پہنچے مربد کو اترے عبداللہ اور متوجہ ہوئے پاک زمین کی طرف تو مسح کیا اپنے منہ کا اور ہاتھوں کا کہنیوں تک پھر نماز پڑھی ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَىِ النَّاسِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ فَلَمْ يُدْرَ مَا سَارَّهُ بِهِ حَتَّى جَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُوَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ جَهَرَ " أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " . فَقَالَ الرَّجُلُ بَلَى وَلاَ شَهَادَةَ لَهُ . فَقَالَ " أَلَيْسَ يُصَلِّي " . قَالَ بَلَى وَلاَ صَلاَةَ لَهُ . فَقَالَ صلى الله عليه وسلم " أُولَئِكَ الَّذِينَ نَهَانِي اللَّهُ عَنْهُمْ " .
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Ata ibn Yazid al-Laythi that Ubaydullah ibn Adi ibnal-Khiyar said, "Once when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was sitting with some people, a man came to him and spoke secretly to him. Nobody knew what he had said until the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, disclosed that he had asked for permission to kill one of the hypocrites. When he disclosed this, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Doesn't he testify that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah?' The man replied, 'Of course, but he hasn't really done so.' He said, 'Doesn't he do the prayer?' and the man replied, 'Of course, but he doesn't really do the prayer.' He said, may Allah bless him and grant him peace, 'Those are the ones whom Allah has forbidden me (to kill)
عبیداللہ بن عدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے لوگوں میں، اتنے میں ایک شخص آیا اور کان میں کچھ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے لگا ہم کو خبر نہیں ہوئی کیا کہتا ہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پکار کر بول اٹھے تب معلوم ہوا وہ شخص حضرت سے ایک منافق کے قتل کی اجازت چاہتا تھا تو جب پکار اٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فرمایا کیا وہ شخص گواہی نہیں دیتا اس امر کی کہ کوئی معبود حق نہیں ہے سوا اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے شک اس کے رسول ہیں اس شخص نے کہا ہاں مگر اس کی گواہی کا کچھ اعتبار نہیں تب فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا وہ نماز نہیں پڑھتا بولا ہاں پڑھتا ہے لیکن اس کی نماز کا کچھ اعتبار نہیں ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے قتل سے منع کیا ہے مجھ کو اللہ نے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، نَظَرَ فِي الْمِرْآةِ لِشَكْوٍ كَانَ بِعَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ .
Yahya related to me from Malik from Ayyub ibn Musa that Abdullah ibn Umar once looked in the mirror for something that was irritating him while he was in ihram
ایوب بن موسیٰ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے آئینہ میں دیکھا بسبب کسی مرض کے جو ان کی آنکھ میں تھا اور وہ احرام باندھے ہوئے تھے ۔