وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ الأَنْصَارِيَّ، سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الرَّجُلِ، يُصِيبُ أَهْلَهُ ثُمَّ يُكْسِلُ وَلاَ يُنْزِلُ فَقَالَ زَيْدٌ يَغْتَسِلُ . فَقَالَ لَهُ مَحْمُودٌ إِنَّ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ كَانَ لاَ يَرَى الْغُسْلَ . فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِنَّ أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ نَزَعَ عَنْ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ .
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abdullah ibn Kab, the mawla of Uthman ibn Affan that Mahmud ibn Labid al-Ansari asked Zayd ibn Thabit about a man who penetrated his wife but became listless and did not ejaculate. Zayd ibn Thabit said, "He does ghusl." Mahmud said to him, "Ubayy ibn Kab used not to think that ghusl was necessary," but Zayd ibn Thabit said, "Ubayy ibn Kab drew away from that before he died
محمود بن لبید انصاری نے پوچھا زید بن ثابت انصاری سے کہا ایک شخص جماع کرے اپنی بیوی سے پھر دخول کرے لیکن انزال نہ ہو کہا زید نے غسل کرے کہا محمود نے کہ ابی بن کعب اس صورت میں غسل کو واجب نہیں جانتے تھے کہا زید نے کہ ابی بن کعب قبل موت کے پھر گئے اس قول سے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقِفُ عَلَى قَبْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَيُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ .
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Dinar said, "I saw Abdullah ibn Umar stop by the grave of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and ask for blessings on the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and on Abu Bakr and Umar
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا عبداللہ بن عمر کو کھڑے ہوتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر درود بھیجتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ابوبکر اور عمر پر ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبَى بَعْضُهُمْ فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ " .
Yahya related to me from Malik, from Abu'n-Nadr, the mawla of 'Umar ibn 'Ubaydullah at-Taymi, from Nafi, the mawla of Abu Qatada al- Ansari, that Abu Qatada was once with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. When they got to one of the roads to Makka he fell behind with some companions of his who were muhrim, while he was not. Then he saw a wild ass, so he got on his mount and asked his companions to give him his whip but they refused. Then he asked them for his spear and they refused to give it to him. So he took hold of it and attacked the ass and killed it. Some of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ate from it, and others refused. When they had caught up with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, they asked him about it and he said, "It is food that Allah has fed you with
ابو قتادہ انصاری سے روایت ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے مکہ کے ایک راستے میں ، پیچھے رہ گیا وہ (ابوقتادہ) اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن وہ (ابوقتادہ) احرام نہیں باندھے ہوئے تھے انہوں نے ایک گورخر کو دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا انہوں نے انکار کیا پھر برچھا مانگا انہوں نے انکار کیا آخر انہوں نے خود برچھا لے کر حملہ کیا گورخر پر اور قتل کیا اس کو اور بعض صحابہ نے وہ گوشت کھایا اور بعض نے انکار کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ایک کھانا تھا جو کھلایا تم کو اللہ جل جلالہ نے ۔