بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ أَوِ اشْتَرَى الْجَارِيَةَ فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ وَإِذَا اشْتَرَى الْبَعِيرَ فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you marry a woman or buy a slave-girl, take her by the forelock and ask for baraka. When you buy a camel, take the top of its hump, and seek refuge with Allah from Shaytan
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے نکاح کرے یا لونڈی خریدے تو اس کی پیشانی پکڑ کر برکت کی دعا کرے اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان پر ہاتھ رکھے اور شیطان مردود سے پناہ مانگے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْىِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ فَقُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ ‏.‏ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ وَهِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman from Muhammad ibn Yahya ibn Habban that Ibn Muhayriz said, "I went into the mosque and saw Abu Said al-Khudri and so I sat by him and asked him about coitus interruptus. Abu Said al-Khudri said, 'We went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on the expedition to the Banu al-Mustaliq. We took some Arabs prisoner, and we desired the women as celibacy was hard for us. We wanted the ransom, so we wanted to practise coitus interruptus. We said, 'Shall we practise coitus interruptus while the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, is among us before we ask him?' We asked him about that and he said, 'You don't have to not do it. There is no self which is to come into existence up to the Day of Rising but that it will come into existence
ابن محیریز سے روای تھے کہ میں مسجد میں گیا وہاں ابوسعید خدری کو بیٹھے دیکھا میں نے پوچھا عزل درست ہوئے انہوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بن مصطلق میں گئے وہاں عورتیں کافروں کی قید ہوئی ہم لوگوں کو شہوت ہوئی اور مجردی دشوار گزری اور یہ بھی کہ ہم چاہتے تھے کہ ان عورتوں کو بیچ کر روپیہ حاصل کریں اس لے ہم نے چاہا کہ عزل کریں پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے کیونکر عزل کریں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عزل رکنے میں کچھ قباحت نہیں کیونکہ جس جان کو پیدا کرنا اللہ کو منظور ہے وہ خوار مخواہ پیدا ہوگی قیامت تک ۔
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ فَقِيلَ لَهَا أَوْصِي ‏.‏ فَقَالَتْ فِيمَ أُوصِي إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ ‏.‏ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ سَعْدٌ
Malik related to me from Said ibn Amr Shurahbil ibn Said ibn Sad ibn Ubada from his father that his father said, ''Sad ibn Ubada went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, in one of his raids and his mother was dying in Madina. Someone said to her, 'Leave a testament.' She said, 'In what shall I leave a testament? The property is Sad's property.' Then she died before Sad returned. When Sad ibn Ubada returned, that was mentioned to him. Sad said, 'Messenger of Allah! Will it help her if I give sadaqa for her?' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Yes' Sad said, 'Such-and-such a garden is sadaqa for her,' naming the garden
شرجیل بن سعید بن سعد بن عبادہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کر نکلے ان کی ماں مدینہ میں مرنے لگیں لوگوں نے ان سے کہا وصیت کروں انہوں نے کہا کیا وصیت کروں مال تو سعد کا ہے پھر مر گئیں سعد کے آنے سے پہلے۔ جب سعد آئے لوگوں نے بیان کیا سعد نے رسول سے پوچھا کہ اگر میں اپنی ماں کی طرف سے لللہ دوں تو اس کو فائدہ ہوگا۔ رسول اللہ نے فرمایا ہاں پھر سعد نے کہا فلاں فلاں باغ صدقہ ہے میرے ماں کی طرف سے۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطٍ لَهُ بِالْقُفِّ - وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ الْمَدِينَةِ - فِي زَمَانِ الثَّمَرِ وَالنَّخْلُ قَدْ ذُلِّلَتْ فَهِيَ مُطَوَّقَةٌ بِثَمَرِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَأَعْجَبَهُ مَا رَأَى مِنْ ثَمَرِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى صَلاَتِهِ فَإِذَا هُوَ لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ ‏.‏ فَجَاءَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ - فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ وَقَالَ هُوَ صَدَقَةٌ فَاجْعَلْهُ فِي سُبُلِ الْخَيْرِ ‏.‏ فَبَاعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِخَمْسِينَ أَلْفًا فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْمَالُ الْخَمْسِينَ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr that a man from the Ansar was praying in a garden of his in Quff, one of the valleys of Madina, during the date season and the palms' branches were weighed down with fruit on all sides. He looked at them and what he saw of their fruits amazed him. Then he went back to his prayer and he did not know how much he had prayed. He said, "A trial has befallen me in this property of mine." So he went toUthman ibn Affan, who was the khalifa at the time, and mentioned it to him and said, "It is sadaqa, so give it away in the paths of good." Uthman ibn Affan sold it for fifty thousand and so that property became known as the Fifty
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار میں سے نماز پڑھ رہا تھا اپنے باغ میں اور وہ باغ قف میں تھا جو نام ہے ایک وادی کا جو مدینہ کی وادیوں میں سے ہے ایسے موسم میں کہ کھجور پک کر لٹک رہی تھی گویا پھلوں کے طوق شاکوں کے گلوں میں پڑے تھے تو اس نے نماز میں اس طرف دیکھا اور نہایت پسند کیا پھلوں کو پھر جب خیال کیا نماز کا تو بھول گیا کتنی رکعتیں پڑھیں تو کہا کہ مجھے اس مال میں آزمائش ہوئی اللہ جل جلالہ کی پس آیا حضرت عثمان کے پاس اور وہ ان دنوں خلیفہ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بیان کیا ان سے یہ قصہ پھر کہا کہ وہ صدقہ ہے تو صرف کرو اس کو نیک راہوں میں پس بیچا اس کو حضرت عثمان نے پچاس ہزار کا اور اس مال کا نام ہو گیا پچاس ہزارہ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ لاَ يَقْنُتُ فِي شَىْءٍ مِنَ الصَّلاَةِ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar did not say qunut in any of the prayers
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر قنوت نہیں پڑھتے تھے کسی نماز میں
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Abu'z Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The Hour will not come until a man passes by the grave of another and says, 'If only I were in his place
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت نہیں ہوگی یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے شخص کی قبر کے سامنے سے نکل کر کہے گا کاش کہ میں اس کی جگہ قبر میں ہوتا ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ قَضَاءُ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقْضِهِ - وَهُوَ قَوِيٌّ عَلَى صِيَامِهِ - حَتَّى جَاءَ رَمَضَانُ آخَرُ فَإِنَّهُ يُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ وَعَلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ الْقَضَاءُ ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، مِثْلُ ذَلِكَ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim that his father used to say, "If someone has to make up for days not fasted in Ramadan and does not do them before the next Ramadan comes although he is strong enough to do so, he should feed a poor man with a mudd of wheat for every day that he has missed, and he has to fast the days he owes as well." Yahya related to me from Malik that he had heard the same thing from Said ibn Jubayr
قاسم بن محمد سے روایت ہے وہ کہتے تھے جس شخص پر رمضان کی قضا لازم ہو پھر وہ قضا نہ کرے یہاں تک کہ دوسرا رمضان آجائے اور وہ قادر رہا ہو روزے پر تو ہر روزے کے بدلے میں ایک ایک مسکین کو ایک ایک مد گیہوں کا دے اور قضا بھی رکھے ۔ امام مالک کو سعید بن جبیر سے بھی ایسا ہی پہنچا
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اعْتَمَرَ ثَلاَثًا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعَامَ الْقَضِيَّةِ وَعَامَ الْجِعِرَّانَةِ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did umra three times:in the year of Hudaybiya, in the year of al-Qadiyya, and in the year of al-Jiirrana
امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے ادا کئے ایک حدیبیہ کے سال اور ایک عمرہ قضا کے سال اور ایک عمرہ جعرانہ کے سال ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ إِنِّي لأَجِدُهُ يَنْحَدِرُ مِنِّي مِثْلَ الْخُرَيْزَةِ فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ يَعْنِي الْمَذْىَ ‏.‏
Yahya related to me from Zayd ibn Aslam from his father that Umar ibn al-Khattab said, "I find it dropping from me like small beads. When you find that, wash your penis and do wudu as for prayer
اسلم عدوی سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے کہا مذی اس طرح گرتی ہے مجھ سے جیسے بلور کا دانہ تو جب ایسا اتفاق ہو تم میں کسی کو تو دھو ڈالے اپنے ذکر کو اور وضو کرے جیسے وضو کرتا ہے نماز کے لئے ۔