وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ . قَالَ أَنَسٌ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءُ . قَالَ أَنَسٌ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوْلِ الْقَصْعَةِ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
Yahya related to me from Malik that Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha heard Anas ibn Malik say that a certain tailor invited the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, to eat some food which he had prepared. Anas said, "I went with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, to eat the food. He served barley bread and a soup with pumpkin in it. I saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, going after the pumpkin around the dish, so I have always liked pumpkin since that day
انس بن مالک کہتے تھے کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ کھانا پکا کر دعوت کی میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا وہ درزی جو کی روٹی اور کدو کا سالن سامنے لایا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں سے کدو ڈھونڈھ کر کھاتے تھے اس روز سے میں بھی کدؤں کو پسند کرنے لگا ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الْعَبْدِ يُطَلِّقُ الأَمَةَ طَلاَقًا لَمْ يَبُتَّهَا فِيهِ لَهُ عَلَيْهَا فِيهِ الرَّجْعَةُ ثُمَّ يَمُوتُ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلاَقِهِ إِنَّهَا تَعْتَدُّ عِدَّةَ الأَمَةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا شَهْرَيْنِ وَخَمْسَ لَيَالٍ وَإِنَّهَا إِنْ عَتَقَتْ وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ ثُمَّ لَمْ تَخْتَرْ فِرَاقَهُ بَعْدَ الْعِتْقِ حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي عِدَّتِهَا مِنْ طَلاَقِهِ اعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْحُرَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَذَلِكَ أَنَّهَا إِنَّمَا وَقَعَتْ عَلَيْهَا عِدَّةُ الْوَفَاةِ بَعْدَ مَا عَتَقَتْ فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ الْحُرَّةِ . قَالَ مَالِكٌ وَهَذَا الأَمْرُ عِنْدَنَا .
Yahya related to me the like of that from Malik from Ibn Shihab. Malik said, about a slave who divorced a slave-girl but did not make it absolute, "He can return to her. If he then dies while she is still in the idda from her divorce, she does the idda of a slave- girl whose husband dies, and it is two months and five days. If she has been set free and he can return to her, and she does not choose to separate after she has been set free, and he dies while she is in the idda from the divorce, she does the idda of a free woman whose husband has died, four months and ten days. That is because the idda of widowhood befell her while she was free, so her idda is the idda of a free woman." Malik said, "That is what is done among us
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ لونڈی کا خاوند جب مر جائے تو اس کی عدت دو مہینے پانچ دن ہے ۔ ابن شہاب نے بھی ایسا ہی کہا ہے ۔ کہا مالک نے جو غلام لونڈی کو طلاق رجعی دے پھر مرجائے اور اس کی عورت عدت میں ہو تو اب دو مہینے پانچ دن تک عدت کرے۔ اگر وہ لونڈی آزاد ہوجائے اور اپنے خاوند سے جدا نہ ہونا چاہے یہاں تک کہ خاوند اس کا عدت میں مرجائے تو اب وہ لونڈی مثل آزاد عورت کے چار مہینے دس دن تک عدت کرے کیونکہ عدت وفات کے بعد آزادی کے اس پر لازم ہوئی تو مثل آزاد عورت کے کرنا چاہیے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ كَانَتْ ضَوَالُّ الإِبِلِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِبِلاً مُؤَبَّلَةً تَنَاتَجُ لاَ يَمَسُّهَا أَحَدٌ حَتَّى إِذَا كَانَ زَمَانُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَمَرَ بِتَعْرِيفِهَا ثُمَّ تُبَاعُ فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا أُعْطِيَ ثَمَنَهَا .
Malik related to me that he heard Ibn Shihab say, "The stray camels in the time of Umar ibn al-Khattab were numerous and left alone. No one touched them until the time of Uthman ibn Affan. He ordered that they be publicised and then sold, and if the owner came afterwards, he was given their price
ابن شہاب کہتے تھے کہ حضرت عمر کے زمانے میں جو اونٹ گمے ہوئے ملتے تھے وہ چھوڑ دئے جاتے تھے بچے جنا کرتے تھے کوئی انہیں نہ لیتا تھا۔ جب حضرت عثمان کا زمانہ ہوا تو انہوں نے حکم کیا کہ بتائے جائیں پھر بیچ کر ان کی قیمت بیت المال میں رکھی جائے۔ جب مالک آئے تو اس کو دیدی جائے۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ الأَنْصَارِيَّ، كَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطِهِ فَطَارَ دُبْسِيٌّ فَطَفِقَ يَتَرَدَّدُ يَلْتَمِسُ مَخْرَجًا فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ فَجَعَلَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَى صَلاَتِهِ فَإِذَا هُوَ لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ . فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ لَهُ الَّذِي أَصَابَهُ فِي حَائِطِهِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ صَدَقَةٌ لِلَّهِ فَضَعْهُ حَيْثُ شِئْتَ .
Malik related to me from Abdullah ibn Abi Bakr that Abu Talha al- Ansari was praying in his garden when a wild pigeon flew in and began to fly to and fro trying to find a way out. The sight was pleasing to him and he let his eyes follow the bird for a time and then he went back to his prayer but could not remember how much he had prayed. He said, "A trial has befallen me in this property of mine." So he came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and mentioned the trial that had happened to him in his garden and said, "Messenger of Allah, it is a sadaqa for Allah, so dispose of it wherever you wish
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ابوطلحہ انصاری نماز پڑھ رہے تھے باغ میں تو ایک چڑیا اڑی اور ڈھونڈے لگی راہ نکلنے کی کیونکہ باغ اس قدر گنجان تھا اور پیڑ آپس میں ملے ہوئے تھے کہ چڑیا کو جگہ نکلنے کی نہ ملتی تھی پس پسند آیا ان کو یہ امر اور خوش ہوئے اپنے باغ کا یہ حال دیکھ کر تو ایک گھڑی تک اس طرف دیکھتے رہے پھر خیال آیا نماز کا سو بھول گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں تب کہا مجھے آزمایا اللہ جل جلالہ نے اس مال سے تو آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور بیان کیا جو کچھ باغ میں قصہ ہوا تھا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ باغ صدقہ ہے واسطے اللہ کے اور صرف کریں اس کو جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ الْيَدَ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلاَةِ . قَالَ أَبُو حَازِمٍ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ يَنْمِي ذَلِكَ .
Yahya related to me from Malik from Abu Hazim ibn Dinar that Sahl ibn Sad said, "People used to be ordered to place their right hands on their left forearms in the prayer." Abu Hazim added, "I know for sure that Sahl traces that back to the Prophet, may Allah bless him and grant him peace
سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم کیا جاتا تھا نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنے کا کہا ابوحازم نے کہا میں سمجھتا ہوں سہل اس حدیث کو مرفوع کہتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تُنَاتَجُ الإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
Yahya related to me from Malik from Abu'z Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Every child is born on the fitra and it is his parents who make him a jew or a christian. Just as a camel is born whole - do you perceive any defect?" They said, "Messenger of Allah, what happens to people who die when they are (very) young?" He said, "Allah knows best what they used to do
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بچہ پیدا ہوتا ہے دین اسلام پر پھر ماں باپ اس کے اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں جیسے اونٹ پیدا ہوتا ہے صحیح سلامت جانور سے بھلا اس میں کوئی کنکٹا بھی ہوتا ہے صحابہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو بچے چھوٹے پن میں مر جائیں ان کا کیا حال ہوگا فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں بڑے ہو کر ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ، إِذَا خَافَتْ عَلَى وَلَدِهَا وَاشْتَدَّ عَلَيْهَا الصِّيَامُ قَالَ تُفْطِرُ وَتُطْعِمُ مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا مُدًّا مِنْ حِنْطَةٍ بِمُدِّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ مَالِكٌ وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَرَوْنَ عَلَيْهَا الْقَضَاءَ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ} وَيَرَوْنَ ذَلِكَ مَرَضًا مِنَ الأَمْرَاضِ مَعَ الْخَوْفِ عَلَى وَلَدِهَا .
Yahya related to me from Malik that he had heard that Abdullah ibn Umar was asked about what a pregnant woman should do if the fast became difficult for her and she feared for her child, and he said, "She should break the fast and feed a poor man one mudd of wheat in place of every day, using the mudd of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace." Malik said, "The people of knowledge consider that she has to make up for each day of the fast that she misses as Allah, the Exalted and Glorified, says, 'And whoever of you is sick or on a journey should fast an equal number of other days, ' and they consider her pregnancy and her concern for her child as a sickness
امام مالک کو پہنچا انس بن مالک بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ روزہ نہ رکھ سکتے تھے تو فدیہ دیتے تھے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ حاملہ عورت اگر خوف کرے اپنے حمل کا اور روزہ نہ رکھ سکے تو کہا انہوں نے روزہ نہ رکھے اور ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو ایک مد گیہوں دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مد سے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ الَّتِي تُهِلُّ بِالْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ إِنَّهَا تُهِلُّ بِحَجِّهَا أَوْ عُمْرَتِهَا إِذَا أَرَادَتْ وَلَكِنْ لاَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهِيَ تَشْهَدُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا مَعَ النَّاسِ غَيْرَ أَنَّهَا لاَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَلاَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلاَ تَقْرَبُ الْمَسْجِدَ حَتَّى تَطْهُرَ .
Yahya related to me from Malik, from Nafi, that Abdullah ibn Umar used to say, "A menstruating woman who wants to go into ihram to do either hajj or umra can do so if she so wishes, but she cannot do tawaf of the House, nor the say between Safa and Marwa. She can participate in all the rituals along with everybody else, except that she cannot do tawaf of the House, nor the say between Safa and Marwa, nor can she come near the mosque until she is pure
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو عورت احرام باندھے ہو حج یا عمرہ کا پھر اس کو حیض آنا شروع ہوجائے تو وہ لبیک کہا کرے جب اس کا جی چاہے اور طواف نہ کرے اور سعی نہ کرے صفا مروہ کے درمیان باقی سب ارکان ادا کرے لوگوں کے ساتھ فقط طواف اور سعی نہ کرے اور مسجد میں نہ جائے جب تک کہ پاک نہ ہو۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ، لَهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْىُ مَاذَا عَلَيْهِ قَالَ عَلِيٌّ فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَسْتَحِي أَنْ أَسْأَلَهُ . قَالَ الْمِقْدَادُ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ بِالْمَاءِ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ " .
Yahya related to me from Malik from Abu'n Nadr, the mawla of Abdullah ibn Ubaydullah, from Sulayman ibn Yasar from alMiqdad ibn al- Aswad that Ali ibn Abi Talib told him to ask the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, what a man should do, who, when close to his wife, had a flow of prostatic fluid. Ali explained that the daughter of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was living with him then and he was too shy to ask for himself. Al-Miqdad said, "I asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about it, and he said, 'When you find that, wash your genitals with water and do wudu as for prayer
مقداد بن الاسود کو حکم کیا حضرت علی نے کہ پوچھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی مرد نزدیکی کرے اپنی عورت سے اور نکل آئے مذی تو کیا لازم ہوتا ہے اس شخص پر؟ کہا علی نے کہ آنحضرت کی صاحبزادی میرے نکاح میں ہیں اس سبب سے مجھے پوچھنے میں شرم آتی ہے تو پوچھا مقداد نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو دھو ڈالو ذکر کو پانی سے اور وضو کرے جیسے وضو ہوتا ہے نماز کے لئے ۔