بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Muwatta Imam Malik
28
16 hadith
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، أَنَّهُ وَهَبَ لِصَاحِبٍ لَهُ جَارِيَةً ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَهَبَهَا لاِبْنِي فَيَفْعَلَ بِهَا كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لَمَرْوَانُ كَانَ أَوْرَعَ مِنْكَ وَهَبَ لاِبْنِهِ جَارِيَةً ثُمَّ قَالَ لاَ تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ سَاقَهَا مُنْكَشِفَةً ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ibrahim ibn Abi Abla from Abd al-Malik ibn Marwan that he gave a slave-girl to a friend of his, and later asked him about her. He said, "I intended to give her to my son to do such-and-such with her." Abd al-Malik said, "Marwan was more scrupulous than you. He gave a slave-girl to his son, and then he said, 'Do not go near her, for I have seen her leg uncovered
عبدالملک بن مروان نے اپنے دوست کو ایک لونڈی ہبہ کی پھر اس سے اس لونڈی کا حال پوچھا اس نے کہا میرا ارادہ ہے کہ میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے عبدالملک نے کہا کہ مروان تجھ سے زیادہ پرہیز گار تھا اس نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہہ دیا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے اس کی پنڈلیاں کھلی ہوئی دیکھی تھیں ۔ کہا مالک نے یہودی لونڈی اور نصرانی لونڈی سے نکاح کرنا درست نہیں اور اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں جو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست کیا ہے اس سے آزاد عورتیں مراد ہیں اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو شخص تم میں سے مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے اللہ نے مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرنا حلال کیا ہے نہ کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے البتہ یہودی یا نصرانی لونڈی سے اس کے مالک کو جماع کرنا درست ہے مگر مشرکہ لونڈی سے درست نہیں ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَامِلِ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ آخِرَ الأَجَلَيْنِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ ‏.‏ فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَخَطَبَهَا رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا شَابٌّ وَالآخَرُ كَهْلٌ فَحَطَّتْ إِلَى الشَّابِّ فَقَالَ الشَّيْخُ لَمْ تَحِلِّي بَعْدُ ‏.‏ وَكَانَ أَهْلُهَا غَيَبًا وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Abdu Rabbih ibn Said ibn Qays that Abu Salama ibn Abd ar-Rahman said that Abdullah ibn Abbas and Abu Hurayra were asked when a pregnant woman whose husband had died could remarry. Ibn Abbas said, "At the end of two periods." Abu Hurayra said, "When she gives birth, she is free to marry." Abu Salama ibn Abd ar-Rahman visited Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and asked her about it Umm Salama said, ''Subaya al-Aslamiya gave birth half a month after the death of her husband, and two men asked to marry her. One was young and the other was old. She preferred the young man and so the older man said, 'You are not free to marry yet.' Her family were away and he hoped that when her family came, they would give her to him. She went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he said, 'You are free to marry, so marry whomever you wish
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوال ہوا کہ حاملہ عورت کا خاوند اگر مر جائے تو وہ کس حساب سے عدت کرے ابن عباس نے کہا کہ دونوں عدتوں میں سے جو عدت دور ہو اس کو اختیار کرے اور ابوہریرہ نے کہا کہ وضع حمل تک انتطار کرے پھر ابوسلمہ کے پاس گئیں اور ان سے جا کر پوچھا انہوں نے کہا کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے خاوند کے مرنے کے بعد پندرہ دن میں جنی پھر دو شخصوں نے اس کو پیام بھیجا ایک نوجوان تھا دوسر ادھیڑ وہ نوجوان کی طرف مائل ہوئی ادھیڑ نے کہا تیری عدت ہی ابھی نہیں گزری اس خیال سے کہ اس کے عزیز وہاں نہ تھے جب وہ آئیں گے تو شاید اس عورت کو میری طرف مائل کر دیں پھر سبیعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور یہ حال بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری عدت گرز گئی تو جس سے چاہے نکاح کر لے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلاَ يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Someone who buys food, must not resell it until he takes delivery of it all
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، كَانَ يَقُولُ مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلاَ يَشْتَرِطْ أَفْضَلَ مِنْهُ وَإِنْ كَانَتْ قَبْضَةً مِنْ عَلَفٍ فَهُوَ رِبًا ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنِ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا مِنَ الْحَيَوَانِ بِصِفَةٍ وَتَحْلِيَةٍ مَعْلُومَةٍ فَإِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ وَعَلَيْهِ أَنْ يَرُدَّ مِثْلَهُ إِلاَّ مَا كَانَ مِنَ الْوَلاَئِدِ فَإِنَّهُ يُخَافُ فِي ذَلِكَ الذَّرِيعَةُ إِلَى إِحْلاَلِ مَا لاَ يَحِلُّ فَلاَ يَصْلُحُ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَسْتَسْلِفَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ فَيُصِيبُهَا مَا بَدَا لَهُ ثُمَّ يَرُدُّهَا إِلَى صَاحِبِهَا بِعَيْنِهَا فَذَلِكَ لاَ يَصْلُحُ وَلاَ يَحِلُّ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَلاَ يُرَخِّصُونَ فِيهِ لأَحَدٍ ‏.‏
Malik related to me that he had heard that Abdullah ibn Masud used to say, "If someone makes a loan, they should not stipulate better than it. Even if it is a handful of grass, it is usury." Malik said, "The generally agreed on way of doing things among us is that there is no harm in borrowing any animals with a set description and itemisation, and one must return the like of them. This is not done in the case of female slaves. It is feared about that that it will lead to making halal what is not halal, so it is not good. The explanation of what is disapproved of in that, is that a man borrow a slave-girl and have intercourse with her as seems proper to him. Then he returns her to her owner. That is not good and it is not halal. The people of knowledge still forbid it and do not give an indulgence to any one in it
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص کسی کو قرض دے تو سوائے قرض ادا کرنے کے اور کوئی شرط نہ کرائے ۔ عبداللہ بن مسعود کہتے تھے جو شخص کسی کو قرض دے اس سے زیادہ نہ ٹھہرائے اگر ایک مٹھی گھاس کی ہو ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کوئی جانور جس کا حلیہ اور صفت معلوم ہو کسی کو قرض دے تو کچھ قباحت نہیں اب مقروض ویسا ہی جانور ادا کرے۔ مگر لونڈی کو قرض لینا درست نہیں کیونکہ یہ ذریعہ ہے حرام کے حلال کرنے کا لوگ ایک درسرے کی لونڈی قرض لے آئیں گے پھر جب تک جی چاہے گا اس سے جماع کریں گے بعد اس کے مالک کو پھیر دیں گے یہ تو حلال نہیں ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اور کسی کو اس کی اجازت نہ دی۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَقِيقًا، لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَ عُمَرُ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لأُغَرِّمَنَّكَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْكَ ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ فَقَالَ الْمُزَنِيُّ قَدْ كُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِهِ ثَمَانَمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَلَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا فِي تَضْعِيفِ الْقِيمَةِ وَلَكِنْ مَضَى أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَغْرَمُ الرَّجُلُ قِيمَةَ الْبَعِيرِ أَوِ الدَّابَّةِ يَوْمَ يَأْخُذُهَا ‏.‏
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that some slaves of Hatib stole a she-camel belonging to a man from the Muzayna tribe and they slaughtered it. The case was brought before Umar ibn al-Khattab, and Umar ordered Kathir ibn as-Salt to cut off their hands. Then Umar said to Habib, "I think you must be starving them," and he added, "By Allah! I will make you pay such a fine that it will be heavy for you." He enquired of the man from the Muzayna tribe, "What was the price of your camel?" The Muzayni said, "By Allah, I refused to sell her for 400 dirhams.'' Umar said, ''Give him 800 dirhams." Yahya said that he heard Malik say, "Doubling the price is not the behaviour of our community. What people have settled on among us is that the man is obliged to pay the value of the camel or animal on the day he took it
یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ غلاموں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر کاٹ ڈالا جب یہ مقدمہ حضرت عمر کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر بن صلت سے کہا ان غلاموں کا ہاتھ کاٹ ڈال پھر حاطب سے کہا میں سمجھتا ہوں کہ تو ان غلاموں کو بھوکا رکھتا ہوگا پھر حضرت عمر نے کہا حاطب سے قسم اللہ کی میں تجھ سے ایسا تاوان دلاؤں گا جو تجھ پر بہت گران گزرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ والے سے پوچھا تیرا اونٹ کتنے کا ہوگا اس نے کہا میں نے چار سو درہم کو اسے اس نے نہیں بیچا حضرت عمر نے کہا تو آٹھ سو درہم اس کے دے کہا مالک نے ہمارے نزدیک قیمت دوچند لینے میں اس روایت پر عمل نہ ہوگا لیکن در آمد لوگوں کی یہ رہی کہ اس جانور کی جو قمیت چرانے کے دن ہوگی وہ دینی ہوگی۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ - قَالَ - فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَسُولاً قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ وَالنَّاسُ فِي مَقِيلِهِمْ ‏ "‏ لاَ تَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلاَدَةٌ إِلاَّ قُطِعَتْ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr from Abbad ibn Tamim that Abu Bashir al-Ansari told him that he was with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on one of his journeys. He related, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent a messenger." (Abdullah ibn Abi Bakr said, (I think that he said it was while the people were in their resting place.) He said, "Do not let a single-string necklace, or any necklace, remain unbroken on the neck of a camel." Yahya said, "I heard Malik say, 'I think that was because of the evil eye
عباد بن تمیم سے روایت ہے کہ ابوبشیر انصاری نے خبر دی ان کو کہ وہ ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی سفر میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ سے کہلا بھیجا اور لوگ سو رہے تھے کہ نہ باقی رہے کسی اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا یا کوئی گنڈا مگر یہ کہ کاٹ ڈالا جائے ۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ وَجْهِهِ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ ‏"‏ ‏.‏
Malik related to me from Sumayy, the mawla of Abu Bakr from Abu Salih from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Travelling is a portion of the torment. It denies you your sleep, food, and drink. When you have accomplished your purpose, you should hurry back to your family
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سفر بھی ایک قسم کا عذاب ہے ۔ روک دیتا ہے آدمی کو کھانے اور پینے اور سونے سے تو جب تم میں سے کوئی اپنے کام کیلئے سفر کرے اور وہ کام پورا ہوجائے تو جلدی اپنے گھر لوٹ آئے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مَلِيحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَخْفِضُهُ قَبْلَ الإِمَامِ فَإِنَّمَا نَاصِيَتُهُ بِيَدِ شَيْطَانٍ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Amr ibn AIqama from Malik ibn Abdullah as-Sadi that Abu Hurayra said, "The one who raises his head and lowers it before the imam - his forelock is in the hand of a shaytan." Malik said, concerning someone who forgot and raised his head before the imam in ruku or sujud, "The sunna of that is to return to bowing or prostrating and not to wait for the imam to come up. What he has done is a mistake, because the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'The imam is appointed to be followed as a leader, so do not oppose him.' Abu Hurayra said, 'The one who raises his head and lowers it before the imam - his forelock is in the hand of a shaytan
ابوہریرہ نے کہا کہ جو شخص سر اٹھاتا ہے یا جھکاتا ہے امام کے پیشتر تو اس کا ماتھا شیطان کے ہاتھ میں ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُرَّ، بَيْنَ أَيْدِي النِّسَاءِ وَهُنَّ يُصَلِّينَ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that he had heard that Abdullah ibn Umar used to disapprove of passing in front of women while they were praying
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to make dua saying, "O Allah, I askYou for good actions and for leaving what is disapproved of and for love of the poor. And if You wish to try people, then bring me to You without being tried." Allahumma inniy asa'luka fala'l-khayrati, wa tarqa'l-munqarati, wa hubba'l-masakin, wa idha aradta fi'n-nasi fitnatan fa'qbithni ilayka ghayra maftun
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ یہ آیت (وَلَا تَجْ هَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا) 17۔ الاسراء : 110) دعا میں اتری ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگتے تھے یا اللہ میں مانگتا ہوں تجھ سے نیک کام کرنا اور برے کاموں کو چھوڑنا اور محبت غریبوں کی اور جب تو کسی مصیبت کو لوگوں میں اتارنا چاہے تو مجھے اپنے پاس بلا لے اس مصیبت سے بچا کر ۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اس کو مثل اس کے ثواب ملے گا جو اس کی پیروی کرے کچھ کم نہ ہوگا اس کے ثواب سے اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے اس پر اتنا گناہ ہوگا جتنا پیروی کرنے والے پر ہوگا کچھ کم نہ ہوگا پیروی کرنے والے کے گناہ سے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے یا اللہ مجھ کو متقیوں کا پیشوا بنانا ۔ امام مالک کو پہنچا ہے ابودرداء سے جب اٹھتے تھے رات کو کہتے تھے سو گئیں آنکھیں اور غائب ہو گئے تارے اور تو اے پروردگار زندہ ہے بیدار ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصَابُ فِي وَلَدِهِ وَحَامَّتِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَتْ لَهُ خَطِيئَةٌ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that he had heard from Abu'l-Hubab Said ibn Yasar from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The mumin continues to be struck by misfortune in his children and close friends until he meets Allah with no wrong actions
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ضَرَبَ الْجِزْيَةَ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا مَعَ ذَلِكَ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِينَ وَضِيَافَةُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Nafi from Aslam, the mawla of Umar ibn al-Khattab, that Umar ibn al-Khattab imposed a jizya tax of four dinars on those living where gold was the currency, and forty dirhams on those living where silver was the currency. In addition, they had to provide for the muslims and receive them as guests for three days
اسلم جو مولیٰ ہیں عمر بن خطاب کے سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے مقرر کیا جزیہ کو سونے والوں پر ہر سال میں چار دینار اور چاندی والوں پر ہر سال میں چالیس درہم اور ساتھ اس کے یہ بھی تھا کہ بھوکے مسلمانوں کو کھانا کھلائیں اور جو کوئی مسلمان ان کے یہاں آکر اترے تو اس کی تین روز کی ضیافت کریں ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْوِصَالِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ فَقَالَ ‏ "‏ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade fasting for two days or more without breaking the fast in between. They said, "But Messenger of Allah, you practise wisal." He replied, "I am not the same as you. I am fed and given to drink
عبداللہ بن عمر سے ورایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تہہ کے روزے رکھنے سے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے ہیں فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں کھلایا جاتا ہوں پلایا جاتا ہوں ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ - قَالَ الْمُغِيرَةُ - فَذَهَبْتُ مَعَهُ بِمَاءٍ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ الْمَاءَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّىْ جُبَّتِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ ضِيقِ كُمَّىِ الْجُبَّةِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِمْ فَفَزِعَ النَّاسُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَحْسَنْتُمْ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abbad ibn Ziyad, a descendant of al-Mughira ibn Shuba from his father from al Mughira ibn Shuba that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went to relieve himself during the expedition of Tabuk. Mughira said, "I went with him, taking water. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came back and I poured out the water for him. He washed his hands and then went to push his hands out of the sleeves of his garment, but could not do so because of their narrowness. So he brought them out from underneath his garment. Then he washed his arms, wiped his head and wiped over his leather socks. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, returned and Abdar Rahman ibn Awf was leading the people in prayer, and he had already finished one raka with them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed the remaining raka with them to everyone's concern. When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, finished he said, 'You have acted correctly
مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گئے حاجت ضروری کو جنگ تبوک میں تو میں نے پانی ساتھ لے کر گیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو کر آئے میں نے پانی ڈالا تو دھویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ اپنا پھر نکالنے لگے ہاتھ اپنے جبہ کی آستینوں سے مگر وہ اس قدر تنگ تھیں کہ ہاتھ نہ نکل سکے آخر نکالا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو جبہ کے نیچے سے اور ہاتھ دھوئے اور مسح کیا سر پر اور موزوں پر پھر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو عبدالرحمن بن عوف امامت کر رہے تھے اور ایک رکعت ہو چکی تھی پس پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکعت جو باقی تھی عبدالرحمن بن عوف کے پیچھے اور لوگ گھبرائے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا کہ اچھا کیا تم نے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَرَجَ إِلَى الْحَجِّ فَمِنْ أَصْحَابِهِ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَمِنْهُمْ مَنْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحْلِلْ وَأَمَّا مَنْ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلُّوا ‏.‏ وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ مَعَهَا فَذَلِكَ لَهُ مَا لَمْ يَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَدْ صَنَعَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ حِينَ قَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلاَّ وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَقَدْ أَهَلَّ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْىٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لاَ يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik, from Muhammad ibn Abd ar-Rahman, from Sulayman ibn Yasar, that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, set out for hajj in the year of the farewell hajj, some of his companions went into ihram to do hajj on its own, some of them combined hajj and umra, and some went into ihram to do umra on its own. Those who had gone into ihram to do hajj, or hajj and umra together, did not come out of ihram, whils tthose who had gone into ihram to doumra (on its own) came out of ihram
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے حجةالوادع کے سال حج کرنے کے لئے تو ان کے بعض اصحاب نے احرام باندھا حج کا اور بعض نے حج اور عمرہ دونوں کا اور بعض نے صرف عمرہ کا سو جس شخص نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا اس نے احرام نہ کھولا اور جس نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا اس نے عمرہ کر کے احرام کھول ڈالا۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ يَأْتِينِي بِخَبَرِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَطُوفُ بَيْنَ الْقَتْلَى فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ بَعَثَنِي إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لآتِيَهُ بِخَبَرِكَ ‏.‏ قَالَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلاَمَ وَأَخْبِرْهُ أَنِّي قَدْ طُعِنْتُ اثْنَتَىْ عَشْرَةَ طَعْنَةً وَأَنِّي قَدْ أُنْفِذَتْ مَقَاتِلِي وَأَخْبِرْ قَوْمَكَ أَنَّهُ لاَ عُذْرَ لَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ إِنْ قُتِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَوَاحِدٌ مِنْهُمْ حَىٌّ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "On the Day of Uhud, The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Who will bring me news of Sad ibn al-Rabi al-Ansari?' a man said, 'Me, Messenger of Allah!' So the man went around among the slain, and Sad ibn al-Rabi said to him, 'What are you doing?' The man said to him, 'The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, sent me to bring him news of you.' He said, 'Go to him, and give him my greetings, and tell him that I have been stabbed twelve times, and am mortally wounded. Tell your people that they will have no excuse with Allah if the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, is slain while one of them is still alive
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ جنگ احد کے روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون خبر لا کر دیتا ہے مجھ کو سعد بن ربیع انصاری کی ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دوں گا وہ جا کر لاشوں میں ڈھونڈھنے لگا سعد نے کہا کہ کیا کام ہے؟ اس شخص نے کہا مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری خبر لینے کو بھیجا ہے کہا کہ تم جاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور میرا سلام عرض کرو اور کہو کہ مجھے بارہ زخم برچھوں کے لگے ہیں اور میرے زخم کاری ہیں اپنی قوم سے کہ اللہ جل جلالہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر قبول نہ ہوگا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے اور تم میں سے ایک بھی زندہ رہا ۔