بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Muwatta Imam Malik
28
17 hadith
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ، أَنَّهُ قَالَ وَهَبَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لاِبْنِهِ جَارِيَةً قَالَ لاَ تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُهَا فَلَمْ أَنْشَطْ إِلَيْهَا ‏.‏
Yahya related to me from Malik that Abd arRahman ibn al-Mujabbir said that Salim ibn Abdullah gave his son a slave-girl and said, "Do not go near her, for I wanted her, and did not act towards her
عبدالرحمن بن مجبر نے کہا کہ سالم بن عبداللہ نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا کہ اس سے جماع نہ کرنا کیونکہ میں نے ارادہ کیا تھا اس سے جماع کا میں رک گیا ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلاَ عَنْ طَلاَقِ السَّكْرَانِ، فَقَالاَ إِذَا طَلَّقَ السَّكْرَانُ جَازَ طَلاَقُهُ وَإِنْ قَتَلَ قُتِلَ بِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
Yahya related to me from Malik that he had heard that Said ibn al-Musayyab and Sulayman ibn Yasar were asked about a man who divorced when he was drunk. They said, "When a drunk man divorces, his divorce is allowed. If he kills, he is killed for it." Malik said, "That is what is done among us
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ، أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ قَالَ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ حَتَّى يَأْتِيَنِي خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ ‏.‏ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسْمَعُ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لاَ تُفَارِقْهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ - ثُمَّ قَالَ - قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Malik ibn Aus ibn al-Hadathan an-Nasri that one time he asked to exchange 100 dinars. He said, "Talha ibn Ubaydullah called me over and we made a mutual agreement that he would make an exchange for me. He took the gold and turned it about in his hand, and then said, 'I can't do it until my treasurer brings the money to me from al-Ghaba.' Umar ibn al- Khattab was listening and Umar said, 'By Allah! Do not leave him until you have taken it from him!' Then he said, 'The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Gold for silver is usury except hand to hand. Wheat for wheat is usury except hand to hand. Dates for dates is usury except hand to hand. Barley for barley is usury except hand to hand." "' Malik said, "When a man buys dirhams with dinars and then finds a bad dirham among them and wants to return it, the exchange of the dinars breaks down, and he returns the silver and takes back his dinars. The explanation of what is disapproved of in that is that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Gold for silver is usury except hand to hand.' and Umar ibn al-Khattab said, 'If someone asks you to wait to be paid until he has gone back to his house, do not leave him.' When he returns a dirham to him from the exchange after he has left him, it is like a debt or something deferred. For that reason, it is disapproved of, and the exchange collapses. Umar ibn al-Khattab wanted that all gold, silver and food should not be sold for goods to be paid later. He did not want there to be any delay or deferment in any such sale, whether it involved one commodity or different sorts of commodities
مالک بن اوس نے کہا مجھے حاجت ہوئی سو دینار کے درہم لینے کی تو مجھے بلایا طلحہ بن عبیداللہ نے پھر ہم دونوں راضی ہوئے صرف کے اوپر اور انہوں نے دینار مجھ سے لے لئے اور ہاتھ سے لٹ پلٹ کرنے لگے اور کہا صبر کرو یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ آ جائے حضرت عمر نے یہ سن کر کہا نہیں قسم اللہ کی مت چھوڑنا طلحہ کو بغیر روپے لئے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کا بیچنا چاندی کے بدلے میں ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور گہیوں بدلے گیہوں کے بیچنا ربا ہے مگر نقدا نقد اور کھجور بدلے کھجور کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور جو بدلے جو کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد اور نمک بدلے نمک کے بیچنا رہا ہے مگر نقدا نقد ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے روپے اشرفیوں کے بدلے میں لئے پھر اس میں ایک روپیہ کھوٹا نکلا اب اس کو پھیرنا چاہے تو سب اشرفیاں اپنی پھیر لے اور سب روپے اس کے واپس دے دے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا بدلے میں چاندی کے ربا ہے مگر جب نقدا نقد ہو اور حضرت عمر نے فرمایا اگر تجھ سے اپنے گھر جانے کی مہلت مانگے تو مہلت نہ دے اگر ایک روپیہ اس کو پھیر دے گا اور اس سے جدا ہو جائے گا تو مثل دین کے یا میعاد کے ہو جائے گا اسی واسطے یہ مکروہ ہے خود اس بیع کو توڑ ڈالنا چاہیے کہ ایک طرف نقد ہو دوسرے طرف وعدہ خواہ ایک جنس یا کئی جنس ہوں ۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَسْلَفْتُ رَجُلاً سَلَفًا وَاشْتَرَطْتُ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتُهُ ‏.‏ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَذَلِكَ الرِّبَا ‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ السَّلَفُ عَلَى ثَلاَثَةِ وُجُوهٍ سَلَفٌ تُسْلِفُهُ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَلَكَ وَجْهُ اللَّهِ وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ صَاحِبِكَ فَلَكَ وَجْهُ صَاحِبِكَ وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ لِتَأْخُذَ خَبِيثًا بِطَيِّبٍ فَذَلِكَ الرِّبَا ‏.‏ قَالَ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَرَى أَنْ تَشُقَّ الصَّحِيفَةَ فَإِنْ أَعْطَاكَ مِثْلَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ قَبِلْتَهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ دُونَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ فَأَخَذْتَهُ أُجِرْتَ وَإِنْ أَعْطَاكَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتَهُ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَذَلِكَ شُكْرٌ شَكَرَهُ لَكَ وَلَكَ أَجْرُ مَا أَنْظَرْتَهُ ‏.‏
And Malik related to me that he had heard that a man came to Abdullah ibn Umar and said, "Abu Abd ar-Rahman, I gave a man a loan and stipulated that he give me better than what I lent him." Abdullah ibn Umar said, "That is usury." Abdullah said, "Loans are of three types:A free loan which you lend by which you desire the pleasure of Allah, and so you have the pleasure of Allah. A free loan which you lend by which you desire the pleasure of your companion, so you have the pleasure of your companion, and a free loan which you lend by which you take what is impure by what is pure, and that is usury." He said, "What do you order me to do, Abu Abd ar-Rahman?" He said, "I think that you should tear up the agreement. If he gives you the like of what you lent him, accept it. If he gives you less than what you lent him, take it and you will be rewarded. If he gives you better than what you lent him, of his own good will, that is his gratitude to you and you have the wage of the period you gave him the loan
حضرت عمر بن خطابن سے کسی نے کہا جو شخص کسی کو اناج قرض دئیے اس شرط پر کہ فلانے شہر میں ادا کرنا انہوں نے اس کو مکروہ جانا اور کہا بار برداری کی اجرت کہاں جائے گی ۔ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شخص کو قرض دیا اور عمدہ اس سے ٹھہرایا عبداللہ بن عرمں نے کہا یہ ربا ہے اس نے کہا پھر کیا حکم کرتے ہو عبداللہ بن عمر نے کہا قرض تین طور پر ہے ایک اللہ کے واسطے اس میں تو اللہ کی رضا مندی ہے ایک اپنے دوست کی خوشی کے لئے اس میں دوست کی رضا مندی ہے ایک قرض اس واسطے ہے کہ حلال مال دے کر حرام مال لے یہ سود ہے پھر وہ شخص بولا اب مجھ کو کیا حکم کرتے ہو ابوعبدالرحمن انہوں نے کہا میرے نزدیک مناسب یہ ہے کہ تو دستاویز کو پھاڑ ڈال اگر وہ شخص جس کو تو نے قرض دیا ہے جیسا مال تو نے دیا ہے ویسا ہی دے تو لے لے اگر اس سے برا دے اور تو لے لے تو تجھے اجر ہوگا اگر وہ اپنی خوشی سے اس سے اچھا دے تو اس نے تیرا شکریہ ادا کیا اور تو نے جو اتنے دنوں تک اس کو مہلت دی اس کا ثواب تجھے ملا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، أَنَّهُ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ قُسِمَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الْجَاهِلِيَّةِ وَأَيُّمَا دَارٍ أَوْ أَرْضٍ أَدْرَكَهَا الإِسْلاَمُ وَلَمْ تُقْسَمْ فَهِيَ عَلَى قَسْمِ الإِسْلاَمِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ فِيمَنْ هَلَكَ وَتَرَكَ أَمْوَالاً بِالْعَالِيَةِ وَالسَّافِلَةِ إِنَّ الْبَعْلَ لاَ يُقْسَمُ مَعَ النَّضْحِ إِلاَّ أَنْ يَرْضَى أَهْلُهُ بِذَلِكَ وَإِنَّ الْبَعْلَ يُقْسَمُ مَعَ الْعَيْنِ إِذَا كَانَ يُشْبِهُهَا وَأَنَّ الأَمْوَالَ إِذَا كَانَتْ بِأَرْضٍ وَاحِدَةٍ الَّذِي بَيْنَهُمَا مُتَقَارِبٌ أَنَّهُ يُقَامُ كُلُّ مَالٍ مِنْهَا ثُمَّ يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ وَالْمَسَاكِنُ وَالدُّورُ بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that Thawr ibn Zayd ad-Dili said, "I heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'A house or land that has been divided in the Jahiliyya, it is according to the division of the Jahiliyya. A house or land which has not been divided before the coming of Islam is divided according to Islam
ثور بن زید ویلی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو زمین یا مکان جاہلیت کے زمانے میں تقسیم ہو چکا ہے وہ اسی طور پر رہیگا البتہ جو مکان یا زمین اسلام کے زمانے تک تقسیم نہیں ہوئی تو وہ اسلام کے قاعدوں کے موافق تقسیم ہوگی ۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور بارانی اور چاہی زمینیں چھوڑ جائے تو بارانی کو چاہی کے ساتھ ملا کر تقسیم نہ کریں گے بلکہ جدا جداتقسیم کریں گے۔ (کیونکہ بارانی کا لگان دسواں حصہ اور چاہی کا بیسواں حصہ پیداوار کا) مگر جب سب شریک ملا کر تقسیم کرنے پر راضی ہوجائیں تو ملا کر تقسیم کردیں گے البتہ بارانی اور زیر تالاب یا کاریز کو ملا کر تقسیم کردیں گے ۔ (کیونکہ ان کا دھارا ایک ہے یعنی دونوں قسموں کی زمینوں کا لگان پیداوار کا دسواں حصہ ہے اسی طرح اگر کسی قسم کے مال ہوں ایک ہی جگہ اور ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو ہر ایک مال کی قیمت لگا کر ایک ساتھ تقسیم کردیں گے مکانوں اور گھروں کا بھی یہی حکم ہے۔)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَبَذَهُ وَقَالَ ‏ "‏ لاَ أَلْبَسُهُ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Dinar from 'Abdullah ibn 'Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to wear a gold ring. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood up and threw it away and said, "I will never wear it." He said, "So the people threw away their rings
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انگوٹھی سونے کی پہنا کرتے تھے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اسے پھینک دیا اور فرمایا اب کبھی اس کو نہ پہنوں گا لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخَرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلاَّ مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏
Malik related to me from Said ibn Abi Said al-Maqburi from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "It is not halal for a woman who believes in Allah and the Last Day to travel the distance of a day and night without a man who is her mahram
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اس کو درست نہیں سفر کرنا ایک دن رات کا مگر اپنے محرم کے ساتھ
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم كَانَتْ تَقُولُ إِذَا تَشَهَّدَتِ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said al-Ansari that al-Qasim ibn Muhammad ibn Muhammad told him that A'isha, the wife of the prophet, may Allah bless him and grant him peace, used to say in the tashahhud, "Greetings, good words, prayers, pure actions belong to Allah. I testify that there is no god except Allah, alone without partner, and I testify that Muhammad is the slave of Allah and His Messenger. Peace be upon you, Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and on the slaves of Allah who are salihun . Peace be upon you . " "At-tahiyatu, at-tayibatu, as- salawatu, az-zakiyatu lillah. Ash-hadu an la ilaha illa'llah, wahdahu la sharika llah wa ash-hadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. As- salamu alayka ayyuha-n-nabiyyu wa rahmatu-llahi wa barakatuhu. As- salamu alayna wa ala ibadi-llahi's-salihin. As-salamu alaykum
حضرت بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ کہتیں تشہد میں التحیات الطیبات الصلوت الزکیات۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَسْوَدِ الْخَوْلاَنِيِّ، وَكَانَ، فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ مَيْمُونَةَ كَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from a reliable source from Bukayr ibn Abdullah ibn al-Ashajj from Busr ibn Said that when Ubaydullah ibn al-Aswad al-Khawlani was in the room of Maimuna, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, she used to pray in a shift and head-covering, without a waist-wrapper
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو النَّضْرِ لاَ أَدْرِي أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Abu'n Nadr, the mawla of Umar ibn Ubaydullah from Busr ibn Said that Zayd ibn Khalid al-Juhani sent him to Abu Juhaym to ask him what he had heard from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, about passing in front of someone praying. Abu Juhaym said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'If the one who passes in front of a man praying knew what he was bringing upon himself it would be better for him to stop for forty than to pass in front of him.' " Abu'n-Nadr said, "I do not know whether he said forty days or months or years
ابو جہیم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر جانے گزر جانے والا سامنے سے نمازی کے کتنا عذاب ہے اس پر تو چالیس (دن، یا مہنے، یابرس) کھڑا رہے تو بہتر معلوم ہو اس کو گزر جانے سے شک ہے اس روایت میں ابوالنصر کو ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، كَانَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُرْفَعُ بِدُعَاءِ وَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ وَقَالَ بِيَدَيْهِ نَحْوَ السَّمَاءِ فَرَفَعَهُمَا ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab used to say, "A man is raised by the dua of his son after his death." He spoke with his hands turned upwards, and then lifted them up
سعید بن مسیب کہتے تھے بے شک آدمی کا درجہ بلند ہو جاتا ہے اس کے لڑکے کے دعا کرنے سے بعد اس کے مر جانے کے اور اشارہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں سے آسمانوں کی طرف پھر اٹھایا ان کو ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al- Musayyab from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "No muslim who has three children die will be touched by the Fire except to fulfil Allah's oath
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے تین بچے مر جائیں پھر وہ جہنم میں جائے یہ ممکن نہیں مگر قسم پورا کرنے کو ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ فَارِسَ وَأَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَخَذَهَا مِنَ الْبَرْبَرِ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that Ibn Shihab said, "I have heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, took jizya from the magians of Bahrain, that Umar ibn al- Khattab took it from the magians of Persia and that Uthman ibn Affan took it from the Berbers
ابن شہاب سے روایت ہے کہ پہنچا مجھ کو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ لیا بحرین کے مجوس سے اور عمر بن خطاب نے جزیہ لیا فارس کے مجوس سے اور عثمان بن عفان نے جزیہ لیا بربر سے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏.‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Yahya ibn Habban from alAraj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade fasting on two days, the day of Fitr and the day of Adha
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن روزے رکھنے سے ایک یوم الفطر دوسرے یوم الاضحی میں ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَنْزِعُ الْعِمَامَةَ وَيَمْسَحُ رَأْسَهُ بِالْمَاءِ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that Abu Urwa ibn az-Zubayr used to take off his turban and wipe his head with water
عروہ بن زبیر عمامہ سر سے اتار کر سر پر مسح کرتے تھے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حَجْرِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفْرَدَ الْحَجَّ ‏.‏
Yahya related to me from Malik, from Abu'l-Aswad Muhammad ibn 'Abd ar-Rahman, from Urwa ibn az-Zubayr, from A'isha, umm al-muminin, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did hajj on its own
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي فِي رَأْسِهِ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik had said that when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went to Quba, he visited Umm Haram bint Milhan and she fed him. Umm Haram was the wife of Ubada ibn as-Samit. One day the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had called on her and she had fed him, and sat down to delouse his hair. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had dozed and woke up smiling. Umm Haram said, "What is making you smile, Messenger of Allah?" He said, "Some of my community were presented to me, raiding in the way of Allah. They were riding in the middle of the sea, kings on thrones, or like kings on thrones." (Ishaq wasn't sure). She said, "O Messenger of Allah! Ask Allah to put me among them!" So he had made a dua for her, and put his head down and slept. Then he had woken up smiling, and she said to him, "Messenger of Allah, why are you smiling?" He said, "Some of my community were presented to me, raiding in the way of Allah. They were kings on thrones or like kings on thrones," as he had said in the first one. She said, "O Messenger of Allah! Ask Allah to put me among them!" He said, "You are among the first." Ishaq added, "She travelled on the sea in the time of Muawiya, and when she landed, she was thrown from her mount and killed
انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد قبا کو جاتے تو ام حرام بنت ملحان کے گھر میں آپ تشریف لے جاتے وہ آپ کو کھانا کھلاتیں اور وہ اس زمانے میں عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں ایک روز آپ ان کے گھر میں گئے انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور بیٹھ کر آپ کے سر کے بال دیکھنے لگیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ہنستے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ میرے امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے سوار ہو رہے تھے بڑے دریا میں جیسے بادشاہ تخت پر سوار ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے کہ اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر رکھ کے سو گئے پھر جاگے ہنستے ہوئے ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں ہنستے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ میری امت کے پیش کئے گئے میرے اوپر جو اللہ کی راہ میں جہاد کو جاتے تھے جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں ام حرام نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیجئے اللہ جل جلالہ مجھ کو بھی ان میں سے کرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پہلے لوگوں میں سے ہو چکی ام حرام معاویہ کے ساتھ دریا میں سوار ہوئیں جب دریا سے نکلیں تو جانور پر سے گر کر مر گئیں ۔