وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الأُخْتَيْنِ، مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عُثْمَانُ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ فَأَمَّا أَنَا فَلاَ أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ ذَلِكَ . قَالَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ رَجُلاً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لَوْ كَانَ لِي مِنَ الأَمْرِ شَىْءٌ ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ لَجَعَلْتُهُ نَكَالاً . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أُرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ .
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Qabisa ibn Dhu'ayb that a man asked Uthman ibn Affan whether one could have intercourse with two sisters who one owned. Uthman said, "One ayat makes them halal, and one ayat makes them haram. As for me, I wouldn't like to do it." The man left him and met one of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and asked him about it, and he said, "Had I any authority and I found someone who had done it, I would punish him as an example." Ibn Shihab added, "I think that it was Ali ibn Abi Talib
قبیصہ بن ذویب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عثمان بن عفان سے پوچھا کہ دو بہنوں کو ملک یمین سے رکھنا درست ہے یا نہیں حضرت عثماں نے فرمایا کہ ایک آیت کی رو سے درست ہے اور دوسری آیت کی رو سے درست نہیں ہے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا پھر وہ شخص چلا گیا اور ایک اور صحابی سے ملا ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا اگر میں حاکم ہوتا اور کسی کو ایسا کرتے دیکھتا تو سخت سزا دیتا ابن شہاب نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ صحابی حضرت علی تھے ۔ زبیر بن عوام سے بھی ایسی ہی روایت ہے ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے پاس ایک لونڈی ہو اور وہ اس سے جماع کرے پھر اس کی بہن سے جماع کرنا چاہے تو یہ درست نہیں ہے جب تک پہلی بہن کی فرج اپنے اوپر حرام نہ کرے مثلا اس کا نکاح کر دے یا اپنے غلام سے بیاہ کر دے۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَرَأَ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ . قَالَ مَالِكٌ يَعْنِي بِذَلِكَ أَنْ يُطَلِّقَ فِي كُلِّ طُهْرٍ مَرَّةً .
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Dinar said, "I heard Abdullah ibn Umar recite from the Qur'an, 'Prophet! When you divorce women, divorce them at the beginning of their idda.'" Malik said, "He meant by that, to make one pronouncement of divorce at the beginning of each period of purity
عبداللہ بن دینار نے کہا میں نے عبداللہ بن عمر کو سنا یوں پڑھتے تھے اے نبی جب تم طلاق دو اپنی عورتوں کو تو ان کی عدت کے استقبال میں طلاق دو ۔ کہا مالک نے مطلب اس کا یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ وَالصَّاعُ بِالصَّاعِ وَلاَ يُبَاعُ كَالِئٌ بِنَاجِزٍ .
Yahya related to me from Malik that he had heard that al-Oasim ibn Muhammad said, ''Umar ibn al-Khattab said, 'A dinar for a dinar, and a dirham for adirham, and a sa for a sa. Something to be collected later is not to be sold for something at hand
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرًا فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ فَقُلْتُ لَمْ أَجِدْ فِي الإِبِلِ إِلاَّ جَمَلاً خِيَارًا رَبَاعِيًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that Abu Rafi, the mawla of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, borrowed a young camel and then the camels of sadaqa came to him." Abu Rafi said, "He ordered me to repay the man his young camel. I said, 'I can only find a good camel in its seventh year in the camels.' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'Give it to him. The best of people are those who discharge their debts in the best manner
ابو رافع سے روایت ہے کہ جو مولیٰ (غلام آزاد کئے ہوئے) تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض لیا ایک چھوٹا اونٹ جب صدقے کے وقت کے وقت اونٹ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم کیا ویسا ہی اونٹ ادا کرنے کو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقے کے اونٹوں میں سب اونٹ اچھے بڑے بڑے ہیں چھ چھ برس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں سے دے دے اچھے وہ لوگ ہیں جو قرض اچھے طور پر ادا کریں۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمْنَعُ أَحَدُكُمْ جَارَهُ خَشَبَةً يَغْرِزُهَا فى جِدَارِهِ " . ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
Malik related to me from Ibn Shihab from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "No one should prevent his neighbour from fixing a wooden peg in his wall." Then Abu Hurayra said, "Why do I see you turning away from it? By Allah! I shall keep on at you about it
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کرتے تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کو لکڑی گاڑنے سے اپنی دیوار میں پھر ابوہریرہ کہتے تھے کیا وجہ ہے کہ تم اس حدیث کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے قسم اللہ کی میں اس کو خوب مشہور کروں گا۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ لاَ يُؤْتَى أَبَدًا بِطَعَامٍ وَلاَ شَرَابٍ حَتَّى الدَّوَاءُ فَيَطْعَمَهُ أَوْ يَشْرَبَهُ إِلاَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا وَأَطْعَمَنَا وَسَقَانَاوَنَعَّمَنَا اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُمَّ أَلْفَتْنَا نِعْمَتُكَ بِكُلِّ شَرٍّ فَأَصْبَحْنَا مِنْهَا وَأَمْسَيْنَا بِكُلِّ خَيْرٍ نَسْأَلُكَ تَمَامَهَا وَشُكْرَهَا لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ إِلَهَ الصَّالِحِينَ وَرَبَّ الْعَالَمِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ . قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِكٌ هَلْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ غَيْرِ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا أَوْ مَعَ غُلاَمِهَا فَقَالَ مَالِكٌ لَيْسَ بِذَلِكَ بَأْسٌ إِذَا كَانَ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ مَا يُعْرَفُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَأْكُلَ مَعَهُ مِنَ الرِّجَالِ . قَالَ وَقَدْ تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مَعَ زَوْجِهَا وَمَعَ غَيْرِهِ مِمَّنْ يُؤَاكِلُهُ أَوْ مَعَ أَخِيهَا عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ وَيُكْرَهُ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَخْلُوَ مَعَ الرَّجُلِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا حُرْمَةٌ .
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father never brought food or drink, nor even a remedy which he ate or drank but that he said, "Praise be to Allah who has guided us and fed us and given us to drink and blessed us. Allah is greater. O Allah! We have found Your blessing with every evil, give us every good in the morning and evening. We ask You for its completion and its gratitude. There is no good except Your good. There is no god other than You, the God of the salihun and the Lord of the Worlds. Praise be to Allah. There is no god but Allah. What Allah wills. There is no power except in Allah. O Allah! Bless us in what You have provided us with and protect us from the punishment of the Fire!" Al-hamdu lillahi-lladhi hadana wa at amana wa saqana wa naamana. Allahu akbar. Allahumma'l fatna nimatik bi-kulli sharr. Fa asbahna minha wa amsayna bi-kulli khayr. Nasaluka tamamaha wa shukraha. La khayr illa khayruk. Wa la ilaha ghayruk. Ilaha'-saliheen wa rabba'l-alameen. Al-hamdu lillah. Wa la ilaha illa'llah. Ma sha'Allah. Wa la quwwata illa billah. Allahumma barik lana fima razaqtana. Waqina adhaba'n-nar
عروہ بن زبیر کے سامنے جب کوئی کھانے پینے کی چیز آتی یہاں تک کہ دوا بھی تو اس کو کھاتے پیتے اور کہتے سب خوبیاں اسی پروردگار کو لائق ہیں جس نے ہم کو ہدایت کی اور کھلایا اور پلایا اور نعمتیں عطا فرمائیں وہ اللہ بڑا ہے اے پروردگار تیری نعمت اس وقت آئی جب ہم سراسر برائی میں مصروف تھے ہم نے صبح کی اور شام کی اس نعمت کی وجہ سے اچھی طرح ، ہم چاہتے ہیں تو پورا کرے اس نعمت کو اور ہمیں شکر کی توفیق دے سوائے تیری بہتری کے کہیں بہتری نہیں ہے کوئی معبود برحق نہیں سوائے تیرے اے پروردگار نیکوں کے اور پالنے والے سارے جہاں کے سب خوبیاں اللہ کو زیبا ہیں کوئی سچا معبود نہیں سوائے اس کے جو چاہتا ہے اللہ وہی ہوتا ہے کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے یا اللہ برکت دے ہماری روزی میں اور بچا ہم کو دوزخ کے عذاب سے ۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ، عِنْدَهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلاً فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ . فَإِنَّهُ لَنْ يَضُرَّهُ شَىْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ " .
Malik related to me from a reliable source of his from Yaqub ibn Abdullah al-Ashajj from Bushr ibn Said from Sad ibn Abi Waqqas from Khawla bint Hakim that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever dismounts to rest in a place should say, 'I seek refuge with the complete words of Allah from the evil of what he created,' (audhu bi kalimati-llahi at-tammati min sharri ma khalaqa), and nothing will harm him until he remounts
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُعَلِّمُ النَّاسَ التَّشَهُّدَ يَقُولُ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ .
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Urwa ibn az- Zubayr from Abd ar-Rahman ibn Abd al-Qari that he heard Umar ibn al- Khattab say, while he was teaching people the tashahhud from the mimbar, "Say, Greetings belong to Allah. Pure actions belong to Allah. Good words and prayers belong to Allah. Peace on you, Prophet, and the mercy of Allah and His blessings. Peace be upon us and on the slaves of Allah who are salihun. I testify that there is no god except Allah. And I testify that Muhammad is His slave and His messenger." 'At-tahiyatu lillah, az-zakiyatu lillah, at-tayibatu wa's-salawatu lillah. As-salamu alayka ayyuha'nnabiyyu wa rahmatu'llahi wa barakatuhu. As-salamu alayna wa ala ibadi'llahi s-salihin. Ash-hadu an la ilaha illa 'llah wa ash-hadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluh
عبدالرحمن بن عبدالقاری نے سنا عمر بن خطاب سے اور وہ منبر پر تھے سکھاتے تھے لوگوں کو تشہد کہتے تھے کہو التحیات للہ الزا کیات لللہ الطیبات الصلوت لللہ الخ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لَمْ يَجِدْ ثَوْبَيْنِ فَلْيُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِهِ فَإِنْ كَانَ الثَّوْبُ قَصِيرًا فَلْيَتَّزِرْ بِهِ " .
Yahya related to me from Malik that he had heard from Jabir ibn Abdullah that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Let anyone who cannot find two garments pray in one garment and wrap himself in it, and if the garment is short, let him wrap it around his waist." Malik said, "In my view it is preferable for someone who prays in a single shirt to put a garment or a turban over his shoulders
ربیعہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ محمد بن عمرو بن حزم نماز پڑھتے تھے صرف کرتہ پہن کر ۔ جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نہ پائے تو نماز پڑھے ایک کپڑا لپیٹ کر اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اس کی تہ بند کر لے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور سر بندھن میں
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَدَّتَهُ، مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قُومُوا فَلأُصَلِّيَ لَكُمْ " . قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ .
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Anas ibn Malik that his grandmother, Mulayka, invited the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, for food and he ate some of it. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Get up and I will lead you in prayer." Anas said, "I stood up and took a woven mat belonging to us that had become black through long use and sprinkled it with water, and the Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, stood on it. The orphan and I formed a row behind him, and the old woman stood behind us. He prayed two rakas with us and then left
انس بن مالک سے روایت ہے کہ ان کی نانی ملیکہ نے دعوت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پس کھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا پھر فرمایا کہ کھڑے ہو تاکہ میں نماز پڑھوں تمہارے واسطے کہا انس نے پس کھڑا ہوا میں ایک بوریا لے کر جو سیاہ ہو گیا تھا بوجہ پرانا ہونے کے تو بھگویا میں نے اس کو پانی سے اور کھڑے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اور صف باندھی میں نے اور یتیم نے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور بڑھیاں نے پیچھے ہمارے تو پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پھر چلے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ - وَهِيَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الأَنْصَارِ - فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَسْجِدِكُمْ هَذَا فَقُلْتُ لَهُ نَعَمْ وَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلاَثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ . فَقُلْتُ دَعَا بِأَنْ لاَ يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ وَلاَ يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ فَأُعْطِيَهُمَا وَدَعَا بِأَنْ لاَ يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمُنِعَهَا . قَالَ صَدَقْتَ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَلَنْ يَزَالَ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Abdullah ibn Jabir ibn Atik said that Abdullah ibn Umar had come to them in Bani Muawiya, one of the villages of the Ansar, and said, "Do you know where the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed in this mosque of yours? "I told him, "Yes," and I pointed out a place near where he was. He said, "Do you know the three things for which he made dua here?" I said "Yes." He said, "Tell me them then." I said, "He asked that He would not make an enemy from among the non- believers triumph over the believers and that He would not destroy the believers by bad harvests, and he was given both these things. And he asked that He would not make the believers fight among themselves, and that was refused." Ibn Umar said, "You have told the truth," and he added, "Turmoil will not cease until the day of rising
عبداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ہمارے پاس آئے بنی معاویہ میں اور وہ ایک گاؤں ہے انصار کے گاؤں میں سے تو پوچھا مجھ سے تم کو معلوم ہے کس جگہ پر نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میں نے کہا ہاں عبداللہ بن عمر نے کہا بتاؤ مجھ کو میں نے کہا دعا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کی، کہ مسلمانوں پر کوئی دشمن ان کی غیر قوم کا یعنی کافروں میں سے مسلط نہ کرنا اور ان کو قحط سے ہلاک نہ کرنا تو یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں تیسری دعا یہ ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں خون اور جنگ نہ ہو تو یہ دعا قبول نہ ہوئی عبداللہ بن عمر نے کہا سچ کہا تو نے پھر کہا کہ اب قیامت تک فساد آپس میں چلتا جائے گا
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، يَقُولُ كُنَّا نَشْهَدُ الْجَنَائِزَ فَمَا يَجْلِسُ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى يُؤْذَنُوا .
Yahya related to me from Malik from Abu Bakr ibn Uthman ibn Sahl ibn Hunayf that he had heard Abu Umama ibn Sahl ibn Hunayf say, "We used to attend funeral processions, and the last of the people would not sit until they had been given permission
ابو امامہ کہتے تھے ہم جنازوں میں جاتے تھے تو اخیر کا شخص بھی بدوں اذن کے نہ بیٹھتا تھا۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ أَهْلَ الشَّامِ، قَالُوا لأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ خُذْ مِنْ خَيْلِنَا وَرَقِيقِنَا صَدَقَةً . فَأَبَى ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَبَى عُمَرُ ثُمَّ كَلَّمُوهُ أَيْضًا فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ إِنْ أَحَبُّوا فَخُذْهَا مِنْهُمْ وَارْدُدْهَا عَلَيْهِمْ وَارْزُقْ رَقِيقَهُمْ . قَالَ مَالِكٌ مَعْنَى قَوْلِهِ رَحِمَهُ اللَّهُ وَارْدُدْهَا عَلَيْهِمْ يَقُولُ عَلَى فُقَرَائِهِمْ .
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Sulayman ibn Yasar that the people of Syria said to Abu Ubayda ibn al-Jarrah, "Take zakat from our horses and slaves," and he refused. Then he wrote to Umar ibn al-Khattab and he (also) refused. Again they talked to him and again he wrote to Umar, and Umar wrote back to him saying, "If they want, take it from them and (then) give it back to them and give their slaves provision." Malik said, "What he means, may Allah have mercy upon him, by the words 'and give it back to them' is, 'to their poor
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ شام کے لوگوں نے ابوعبیدہ بن جراح سے کہا کہ ہمارے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوة لیا کرو انہوں نے انکار کیا اور حضرت عمر بن خطاب کو لکھ بھیجا حضرت عمر نے بھی انکار کیا پھر لوگوں نے دوبارہ ابوعبیدہ سے کہا انہوں نے حضرت عمر کو لکھا حضرت عمر نے جواب میں لکھا کہ اگر وہ لوگ ان چیزوں کی زکوة دینا چاہیں تو اسے ان سے لے کر انہی کے فقیروں کو دے دے اور ان کے غلاموں اور لونڈیوں کی خوراک میں صرف کر ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْمَلُوا وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ الصَّلاَةُ وَلاَ يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلاَّ مُؤْمِنٌ " .
Yahya related to me from Malik that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Try to go straight, although you will not be able to do so. Act, and the best of your actions is the prayer. And only a mumin is constant in his wudu
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پی جائے کتا تمہارے کسی برتن میں تو دھوئے اس کو سات بار۔ مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھی راہ پر رہو اور نہ شمار کر سکو گے اس کے ثواب کا یا نہ طاقت رکھو گے تم استقامت کی اور سب کاموں میں تمہارے بہتر نماز ہے اور نہیں محافظت کرے گا وضو پر مگر مومن ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةَ وَتُرِكَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ .
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that A'isha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "The day of Ashura was a day the Quraysh used to fast in the jahiliyya, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used also to fast it during the jahiliyya. Then when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came to Madina he fasted it and ordered that it be fasted. Then Ramadan was made obligatory, and that became the fard instead of Ashura, but whoever wanted to, fasted it, and whoever did not want to, did not fast it
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا عاشورہ کے دن لوگ روزہ رکھتے تھے جاہلیت میں اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے زمانہ جاہلیت میں پھر جب آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تو روزہ رکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن اور لوگوں کو بھی حکم کیا اس دن روزہ رکھنے کا پھر جب فرض ہوا رمضان تو رمضان ہی کے روزے فرض رہ گئے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا سو جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلاَّدِ بْنِ السَّائِبِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَوْ مَنْ مَعِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ أَوْ بِالإِهْلاَلِ " . يُرِيدُ أَحَدَهُمَا .
Yahya related to me from Malik from 'Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm from Abd al-Malik ibn Abi Bakr ibn al-Harith ibn Hisham from Khallad ibn as-Sa'ib al-Ansari from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Jibril came to me and told me to tell my companions, or whoever was with me, to raise their voices when doing talbiya
سائب بن خلاد انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آئے میرے پاس جبرائیل اور کہا کہ حکم کروں میں اپنے اصحاب کو بلند آواز سے لبیک پکارنے کا ۔ کہا مالک نے میں نے سنا اہل علم سے کہتے تھے یہ حکم عورتوں کو نہیں ہے بلکہ عورتیں آہستہ سے لبیک کہیں اس طرح کہ آپ ہی سنیں ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ كَرَمُ الْمُؤْمِنِ تَقْوَاهُ وَدِينُهُ حَسَبُهُ وَمُرُوءَتُهُ خُلُقُهُ وَالْجُرْأَةُ وَالْجُبْنُ غَرَائِزُ يَضَعُهَا اللَّهُ حَيْثُ شَاءَ فَالْجَبَانُ يَفِرُّ عَنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَالْجَرِيءُ يُقَاتِلُ عَمَّا لاَ يَؤُوبُ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ وَالْقَتْلُ حَتْفٌ مِنَ الْحُتُوفِ وَالشَّهِيدُ مَنِ احْتَسَبَ نَفْسَهُ عَلَى اللَّهِ .
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Umar ibn al-Khattab said, "The nobility of the mumin is his taqwa. His deen is his noble descent. His manliness is his good character. Boldness and cowardice are but instincts which Allah places wherever He wills. The coward shrinks from defending even his father and mother, and the bold one fights for the sake of the combat not for the spoils. Being slain is but one way of meeting death, and the martyr is the one who gives himself, expectant of reward from Allah
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے؛ عزت مومن کے تقوی میں ہے اور دین اس کی شرافت ہے اور مروت اس کا خلق ہے اور بہادری اور نامردی دونوں خلقی صفتیں ہیں جس شخص میں اللہ چاہتا ہے ان صفتوں کو رکھتا ہے تو نامرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور بہادر اس شخص سے لڑتا ہے جس کو جانتا ہے کہ گھر تک نہ جانے دے گا اور قتل ایک موت ہے موتوں میں سے اور شہید وہ ہے جو اپنی جان خوشی سے اللہ کے سپرد کر دے ۔