بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Muwatta Imam Malik
28
20 hadith
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لاَ تُنْكَحُ الأَمَةُ عَلَى الْحُرَّةِ إِلاَّ أَنْ تَشَاءَ الْحُرَّةُ فَإِنْ طَاعَتِ الْحُرَّةُ فَلَهَا الثُّلُثَانِ مِنَ الْقَسْمِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَلاَ يَنْبَغِي لِحُرٍّ أَنْ يَتَزَوَّجَ أَمَةً وَهُوَ يَجِدُ طَوْلاً لِحُرَّةٍ وَلاَ يَتَزَوَّجَ أَمَةً إِذَا لَمْ يَجِدْ طَوْلاً لِحُرَّةٍ إِلاَّ أَنْ يَخْشَى الْعَنَتَ وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ ‏{‏وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلاً أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ‏}‏ وَقَالَ ‏{‏ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ‏}‏ قَالَ مَالِكٌ وَالْعَنَتُ هُوَ الزِّنَا ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "The slave girl is not married when there is a free woman who is a wife unless the free woman wishes it. If the free woman complies, she has two-thirds of the division of time." Malik said, "A free man must not marry a slave-girl when he can afford to marry a free-woman, and he should not marry a slave-girl when he cannot afford a free woman unless he fears fornication. That is because Allah, may he be Blessed and Exalted, says in His Book, 'If you are not affluent enough to marry believing women, who are muhsanat, take slave-girls who are believing women that your right hands own.' (Sura 4 ayat 24) He says, 'That is for those of you who fear al-anat.' " Malik said, "Al-anat is fornication
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح نہ کیا جائے گا مگر جب آزاد عورت راضی ہو جائے دو دن خاوند اس کے پاس رہے گا اور ایک دن لونڈی کے پاس ۔ کہا مالک نے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہو تو لونڈی سے نکاح نہ کرے اور اگر آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو بھی لونڈی سے نکاح نہ کرے مگر اس حال میں کہ زنا کا خوف ہو کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے قدرت نہ رکھے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی تو مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لے اور یہ اس شخص کے واسطے ہے جو تم میں سے زنا کا خوف کرے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا فَإِنَّهُ يُضْرَبُ لَهُ أَجَلٌ سَنَةً فَإِنْ مَسَّهَا وَإِلاَّ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al- Musayyab said, "If someone marries a woman and cannot have intercourse with her, there is a deadline of a year set for him to have intercourse with her. If he does not, they are separated
سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے جماع نہ کر سکے اس کو ایک برس کی مہلت دی جائے اور اس عرصہ میں اگر جماع کرے گا تو بہتر نہیں تو تفریق کر دی جائے گی ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ صَائِغٌ فَقَالَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ ثُمَّ أَبِيعُ الشَّىْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلُ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي ‏.‏ فَنَهَاهُ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّةٍ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لاَ فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Humayd ibn Qays al-Makki that Mujahid said, "I was with Abdullah ibn Umar and an artisan came to him and said, 'Abu Abd ar-Rahman - I fashion gold and then sell what I have made for more than its weight. I take an amount equivalent to the work of my hand.' Abdullah forbade him to do that, so the artisan repeated the question to him, and Abdullah continued to forbid him until he came to the door of the mosque or to an animal that he intended to mount. Then Abdullah ibn Umar said, 'A dinar for a dinar, and a dirham for a dirham. There is no increase between them. This is the command of ourProphet to us and our advice to you
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک سنار آیا اور بولا اے ابوعبدالرحمن میں سونے کا زیور بناتا ہوں پھر اس کے وزن سے زیادہ دینار لے کر اس کو بیچتا ہوں اور یہ زیادتی اپنی محنت کے عوض میں لیتا ہوں عبداللہ بن عمر منع کرتے رہے یہاں تک کہ عبداللہ بن عمر مسجد کے دروازے پر آئے یا اپنے جانور پر سوار ہونے کو آئے اس وقت عبداللہ بن عمر نے کہا دینار کو بدلے میں دینار کے اور درہم کو بدلے میں درہم کے بیچ اور زیادتی نہ لے یہی وصیت ہے ۔ حضرت عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مت بیچو ایک دینار کو دو دینار کے بدلے میں نہ ایک درہم کو دو درہم کے بدلے میں ۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّهُ قَالَ كَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الأَجَلُ قَالَ أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي فَإِنْ قَضَى أَخَذَ وَإِلاَّ زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَأَخَّرَ عَنْهُ فِي الأَجَلِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَالأَمْرُ الْمَكْرُوهُ الَّذِي لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الدَّيْنُ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ الطَّالِبُ وَيُعَجِّلُهُ الْمَطْلُوبُ وَذَلِكَ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الَّذِي يُؤَخِّرُ دَيْنَهُ بَعْدَ مَحِلِّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَيَزِيدُهُ الْغَرِيمُ فِي حَقِّهِ قَالَ فَهَذَا الرِّبَا بِعَيْنِهِ لاَ شَكَّ فِيهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ عَلَى الرَّجُلِ مِائَةُ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّتْ قَالَ لَهُ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ بِعْنِي سِلْعَةً يَكُونُ ثَمَنُهَا مِائَةَ دِينَارٍ نَقْدًا بِمِائَةٍ وَخَمْسِينَ إِلَى أَجَلٍ هَذَا بَيْعٌ لاَ يَصْلُحُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لأَنَّهُ إِنَّمَا يُعْطِيهِ ثَمَنَ مَا بَاعَهُ بِعَيْنِهِ وَيُؤَخِّرُ عَنْهُ الْمِائَةَ الأُولَى إِلَى الأَجَلِ الَّذِي ذَكَرَ لَهُ آخِرَ مَرَّةٍ وَيَزْدَادُ عَلَيْهِ خَمْسِينَ دِينَارًا فِي تَأْخِيرِهِ عَنْهُ فَهَذَا مَكْرُوهٌ وَلاَ يَصْلُحُ وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ حَدِيثَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي بَيْعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا حَلَّتْ دُيُونُهُمْ قَالُوا لِلَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ إِمَّا أَنْ تَقْضِيَ وَإِمَّا أَنْ تُرْبِيَ ‏.‏ فَإِنْ قَضَى أَخَذُوا وَإِلاَّ زَادُوهُمْ فِي حُقُوقِهِمْ وَزَادُوهُمْ فِي الأَجَلِ ‏.‏
Malik related to me that Zayd ibn Aslam said, "Usury in the Jahiliyya was that a man would give a loan to a man for a set term. When the term was due, he would say, 'Will you pay it off or increase me?' If the man paid, he took it. If not, he increased him in his debt and lengthened the term for him ." Malik said, "The disapproved of way of doing things about which there is no dispute among us, is that a man should give a loan to a man for a term, and then the demander reduce it and the one from whom it is demanded pay it in advance. To us that is like someone who delays repaying his debt after it is due to his creditor and his creditor increases his debt." Malik said, "This is nothing else but usury. No doubt about it." Malik spoke about a man who loaned one hundred dinars to a man for two terms. When it was due, the person who owed the debt said to him, "Sell me some goods, whose price is one hundred dinars in cash for one hundred and fifty on credit." Malik said, "This transaction is not good, and the people of knowledge still forbid it." Malik said, "This is disapproved of because the creditor himself gives the debtor the price of what the man sells him, and he defers repayment of the hundred of the first transaction for the debtor for the term which is mentioned to him in the second transaction, and the debtor increases him with fifty dinars for his deferring him. That is disapproved of and it is not good. It also resembles the hadith of Zayd ibn Aslam about the transactions of the people of the Jahiliyya. When their debts were due, they said to the person with the debt, 'Either you pay in full or you increase it.' If they paid, they took it, and if not they increased debtors in their debts, and extended the term for them
زید بن اسلم نے کہا کیا جاہلیت میں سود اس طور پر ہوتا تھا ایک شخص کا قرض میعادی دوسرے شخص پر آتا ہو جب میعاد گزر جائے تو قرضخواہ قرضدار سے کہے یا تم قرض ادا کرو یا سود دو اگر اس نے قرض ادا کیا تو بہتر ہے نہیں تو قرضخواہ اپنا قرضہ بڑھا دیتا اور پھر میعاد کراتا ۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے دوسرے شخص پر سو دینار آتے ہوں وعدے پر جب وعدہ گزر جائے تو قرضدار قرضخواہ سے کہے تو میرے ہاتھ کوئی ایسی چیز جس کی قیمت سو دینار ہوں ڈیڑھ سو دینار کو بیع ڈال ایک میعاد پر یہ بیع درست نہیں اور ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اس لئے کہ قرضخواہ نے اپنی چیز کی قیمت سو دینار وصول کرلی اور وہ جو سو دینار قرضے کے تھے ان کی میعاد بڑھا دی۔ بعوض پچاس دینار کے جو اس کو فائدہ حاصل ہو اس شئے کے بیچنے میں ۔ یہ بیع مشابہ ہے اس کے جو زید بن اسلم نے روایت کیا کہ جاہلیت کے زمانے میں جب قرض کی مدت گزر جاتی تو قرضخواہ قرضدار سے کہتا یا تو قرض ادا کر یا سود دے اگر وہ ادا کردیتا تو لے لیتا نہیں تو اور مہلت دے کر قرضہ کو بڑھا دیتا۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَعَلَى ذَلِكَ الأَمْرُ عِنْدَنَا ‏.‏
Malik related to me from Ibn Shihab from Salim ibn Abdullah from his father that Umar ibn al-Khattab said, "Whoever revives dead land, it belongs to him." Malik said, "That is what is done in our community
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ عَقْلٌ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ إِنَّمَا عَلَيْهِمْ عَقْلُ قَتْلِ الْخَطَإِ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "The tribe is not obliged to pay blood-money for intentional murder. They pay blood-money for accidental killing
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ قتل عمد میں عاقلہ پر دیت نہیں ہے عاقلہ پر خطا کی دیت ہے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - يُطْرَحُ لَهُ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ فَيَأْكُلُهُ حَتَّى يَأْكُلَ حَشَفَهَا ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha that Anas ibn Malik said, "I saw Umar ibn al-Khattab when he was amir al-muminin being given a sa of dates, and he ate all of them, even the inferior ones
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت عمر کے سامنے ایک صاع کھجور کا ڈالا جاتا تھا وہ اس کو کھاتے تھے یہاں تک کہ خراب اور سوکھی کھجور بھی کھالیتے تھے اور اس وقت آپ امیرالمؤمنین تھے۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى الْعِرَاقِ فَقَالَ لَهُ كَعْبُ الأَحْبَارِ لاَ تَخْرُجْ إِلَيْهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَإِنَّ بِهَا تِسْعَةَ أَعْشَارِ السِّحْرِ وَبِهَا فَسَقَةُ الْجِنِّ وَبِهَا الدَّاءُ الْعُضَالُ ‏.‏
Malik related to me that he heard that Umar ibn al-Khattab wanted to go to Iraq, and Kabal-Ahbar said to him, "Do not go there, amir al- muminin. There is nine-tenths of sorcery there and it is the place of the rebellious jinn and the disease which the doctors are unable to cure
عبداللہ بن عمر نے کہا کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اشارہ کر تے تھے مشرق کی طرف اور فرماتے تھے فتنہ اسی طرف سے ہے فتنہ اسی طرف سے ہے جہاں سے شیطان کی چوٹی نکلتی ہے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت عمر بن خطاب نے عر اق کو جا نا چاہا تو کعت احبار نے کہا آپ وہاں نہ جائیے اے امیر المو میین کیونکہ اس ملک میں جادو کے دس حصوں میں سے نو حصے ہیں اور جتنے شریر اور خبیث جن میں وہاں موجود ہیں اور وہاں ایک بیماری ہے جو لا علاج ہے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصْبَاءِ فِي الصَّلاَةِ فَلَمَّا انْصَرَفْتُ نَهَانِي وَقَالَ اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ ‏.‏ فَقُلْتُ وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصْنَعُ قَالَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاَةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِأَصْبُعِهِ الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَقَالَ هَكَذَا كَانَ يَفْعَلُ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Muslim ibn Abi Maryam that AIi ibn Abd ar-Rahman al-Muawi said, "Abdullah ibn Umar saw me playing with some small pebbles in the prayer. When I finished he forbade me, saying, 'Do as the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did.' I said, 'What did the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, do?' He said, 'When he sat in the prayer, he placed his right hand on his right thigh and he closed his fist and pointed his index finger, and he placed his left hand on his left thigh. That is what he used to do
علی بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ مجھ کو عبداللہ بن عمر نے نماز میں کنکریوں سے کھیلتا ہوا دیکھا تو جب فارغ ہوا میں نماز سے منع کیا مجھ کو اور کہا کہ کیا کر جیسے کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے کہا کیسے کرتے تھے کہا جب بیٹھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں تو داہنی ہتھیلی کو داہنی ران پر رکھتے تو سب انگلیوں کو بند کر لیتے اور کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر تے اور بائیں ہتھیلی کو ران پر رکھتے اور کہا کہ اس طرح کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيُخَفِّفُ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ أَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ أَمْ لاَ
Malik related to me from Yahya ibn Said that A'isha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray the two rakas of the dawn (fajr) so quickly that I would say to myself 'Has he recited the umm al-Qur'an or not?
حضرت ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلد پڑھتے فجر کی سنتوں کو یہاں تک کہ میں کہتی تھی سورت فاتحہ بھی پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا نہیں ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلاَ يَقْرُبْ مَسَاجِدَنَا يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al- Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Anyone who eats this plant should not come near our mosques. The smell of the garlic will offend us
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص نے کھایا اس درخت میں سے (یعنی لہسن میں سے) تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلاً بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Umar ibn Abi Salama saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, praying in one garment in the house of Umm Salama. He was completely covered by it, and had put both ends over his shoulders
عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اور دونوں کنارے اس کے دونوں کندھوں پر تھے حضرت ام سلمہ کے گھر میں
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي السَّفَرِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ إِيمَاءً مِنْ غَيْرِ أَنْ يَضَعَ وَجْهَهُ عَلَى شَىْءٍ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "I saw Anas ibn Malik on a journey praying on a donkey facing away from the qibla. He did the raka and the sajda by motioning with his head, without putting his face on anything
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا حضرت انس کو نماز پڑھتے تھے سفر میں گدھے پر اور منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ تھا رکوع اور سجدہ اشارہ سے کر لیتے تھے بغیر اس امر کے کہ منہ اپنا کسی چیز پر رکھیں ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Abdullah al-Agharr and from Abu Salama from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Our Lord, the Blessed and Exalted, descends every night to the heaven of this world when the last third of the night is still to come and says, 'Who will call on Me so that I may answer him? Who will ask Me so that I may give him? Who will ask forgiveness of Me so that I may forgive him?
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اترتا ہے رب ہمارا ہر رات کو آسمان دنیا تک جب تہائی رات باقی رہتی ہے سو فرماتا ہے کون شخص ہے جو دعا کرے مجھ سے اور قبول کروں میں دعا اس کی، کون شخص ہے مانگے مجھ سے پس دوں میں اس کو، کون شخص ہے جو بخشش چاہے مجھ سے سو بخش دوں اس کو ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ رَأَيْتُ ثَلاَثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي فَقَصَصْتُ رُؤْيَاىَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ هَذَا أَحَدُ أَقْمَارِكِ وَهُوَ خَيْرُهَا ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that A'isha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I saw three moons fall into my room, and I related my vision to Abu Bakr as-Siddiq. Then, when the Messenger of Allah died, may Allah bless him and grant him peace, and was buried in my house, Abu Bakr said to me, 'This is one of your moons, and he is the best of them
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ نے کہا میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند گر پڑے سو میں نے اس خواب کو ابوبکر صدیق سے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ کے حجرہ میں دفن ہو چکے تھے ابوبکر نے کہا کہ ان تین چاندوں میں سے ایک چاند آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور یہ تینوں چاندوں میں بہتر ہیں ۔ کئی ایک معتبر لوگوں سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید کی وفات ہوئی عقیق میں (ایک جگہ ہے مدینہ کے قریب) اور ان کا جنازہ اٹھا کر مدینہ میں لایا گیا اور وہاں دفن ہوئے
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَامِلاً، لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَتَبَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلاً مَنَعَ زَكَاةَ مَالِهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ دَعْهُ وَلاَ تَأْخُذْ مِنْهُ زَكَاةً مَعَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَأَدَّى بَعْدَ ذَلِكَ زَكَاةَ مَالِهِ فَكَتَبَ عَامِلُ عُمَرَ إِلَيْهِ يَذْكُرُ لَهُ ذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنْ خُذْهَا مِنْهُ ‏.‏
Yahya related to me from Malik that he had heard that one of the administrators of Umar ibn Abd al-'Aziz wrote to him mentioning that a man had refused to pay zakat on his property. Umar wrote to the administrator and told him to leave the man alone and not to take any zakat from him when he took it from the other muslims. The man heard about this and the situation became unbearable for him, and after that he paid the zakat on his property. The administrator wrote to Umar and mentioned that to him, and Umar wrote back telling him to take the zakat from him
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب نے دودھ پیا تو بھلا معلوم ہوا پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا جو لایا تھا وہ بولا کہ میں ایک پانی پر گیا تھا اور اس کا نام بیان کیا وہاں پر جانور زکوة کے پانی پی رہے تھے لوگوں نے ان کا دودھ نچوڑ کر مجھے دیا میں نے اپنی مشک میں رکھ لیا وہ یہی دودھ تھا جو آپ نے پیا تو حضرت عمر نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈال کر قے کی ۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک عامل نے عمر بن عبدالعزیز کو لکھا کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوة نہیں دیتا عمر نے جواب میں لکھا کہ چھوڑ دے اس کو اور مسلمانوں کے ساتھ اور زکوة نہ لیا کر اس سے۔ یہ خبر اس شخص کو پہنچی اس کو برا معلوم ہوا اور اپنے مال کی زکوة ادا کر دی بعد اس کے عامل نے حضرت عمر کو اطلاع دی انہوں نے جواب میں لکھا کہ لے لے زکوة کو اس شخص سے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ - أَوِ الْمُؤْمِنُ - فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلاَهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A muslim slave (or a trusting slave) does wudu and as he washes his face every wrong action he has seen with his eyes leaves with the water (or the last drop of water). As he washes his hands every wrong action he has done with his hands leaves with the water (orthe last drop of water). And as he washes his feet every wrong action his feet have walked to leaves with the water (or the last drop of water) so that he comes away purified of wrong actions
روایت ہے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت وضو شروع کرتا ہے بندہ مسلمان یا مومن پھر دھوتا ہے منہ اپنا نکل جاتا ہے اس کے منہ سے وہ گناہ جو دیکھا تھا اس نے اپنی آنکھوں سے ساتھ پانی کے یا سات اخیر قطرہ کے پانی سے پھر جب ہاتھ دھوتا ہے نکل جاتا ہے اس کے ہاتھوں سے جو گناہ کہ پکڑا تھا اس کے ہاتھوں نے ساتھ پانی کے یا ساتھ اخیر قطرے پانی کے پھر جب دھوتا ہے وہ پاؤں اپنے نکل جاتا ہے جو گناہ کہ چلے تھے اس کے لئے پاؤں اس کے ساتھ پانی یا ساتھ آخر قطرے پانی کے یہاں تک کہ نکل آتا ہے پاک صاف گناہوں سے ۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏.‏ فَقَالَ لاَ أَجِدُ ‏.‏ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقِ تَمْرٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي ‏.‏ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ كُلْهُ ‏"‏ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Hunayd ibn Abd arRahman ibn Awf from Abu Hurayra that a man broke the fast in Ramadan and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered him to make kaffara by freeing a slave, or fasting two consecutive months, or feeding sixty poor people, and he said, "I can't do it." Someone brought a large basket of dates to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he said, "Take this and give it away as sadaqa." He said, "Messenger of Allah, there is no-ne more needy than I am." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, laughed until his eye-teeth appeared, and then he said, "Eat them
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ ڈالا رمضان میں تو حکم کیا اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بردہ آزاد کرنے کا یا دو مہینہ روزے رکھنے کا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا سو اس نے کہا مجھ سے یہ کوئی کام نہیں ہو سکتا اتنے میں ایک ٹوکرا کھجور کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیا اور کہا کہ اس کو صدقہ کر دے وہ شخص بولا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں کھل گئیں پھر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہی کھا لے اس کو ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray two rakas in the mosque at Dhu'l-Hulayfa, and then, when he had got on to his camel and it had stood up, he would begin doing talbiya
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے ذوالحلیفہ میں مسجد میں دو رکعتیں پھر جب اونٹ پر سوار ہو جاتے لبیک پکار کر کہتے ۔
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْ قَتْلِي بِيَدِ رَجُلٍ صَلَّى لَكَ سَجْدَةً وَاحِدَةً يُحَاجُّنِي بِهَا عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏.‏
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Umar ibn al-Khattab used to say, "O Allah! Do not let me be slain by the hand of a man who has prayed a single prostration to You with which he will dispute with me before You on the Day of Rising
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے تھے اے پروردگار!میرا قاتل ایسے شخص کو نہ بنانا جس نے تجھے ایک سجدہ بھی کیا ہو تاکہ اس سجدہ کی وجہ سے قیامت کے دن تیرے سامنے مجھ سے جھگڑے ۔