وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ الْمُجَبَّرُ قَدْ أَفَاضَ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ جَهِلَ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَرْجِعَ فَيَحْلِقَ أَوْ يُقَصِّرَ ثُمَّ يَرْجِعَ إِلَى الْبَيْتِ فَيُفِيضَ .
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar once met a relative of his called al-Mujabbar who had done the tawaf al-ifada but, out of ignorance, had not shaved his head or cut his hair. Abdullah told him to go back and shave his head or cut his hair, and then go back and do the tawaf al-ifada
عبداللہ بن عمر اپنے عزیزوں میں سے ایک شخص سے ملے جس کا نام مجبر تھا انہوں نے طواف الافاضہ کر لیا تھا لیکن نہ حلق کیا نہ قصر نادانی سے، تو ان کو عبداللہ بن عمر نے لوٹ جانے کا اور حلق یا قصر کرکے اور طواف زیادہ دوبارہ کرنے کا حکم کیا ۔ امام مالک کو پہنچا کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب ارادہ کرتے احرام کا تو قینچی منگاتے اور مونچھ اور داڑھی کے بال لیتے سواری اور لیبک کہنے سے پہلے احرام باندھ کر ۔