حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ جَدِّي أَبَا أُمِّي، سِمَاكَ بْنَ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ " . فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ " وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ " . قَالَتْ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ " فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ بَارِقٍ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الأَئِمَّةِ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَسِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ هُوَ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ .
Abdurabbih bin Bariq Al-Hanafi said:"I heard my grandfather, the father of my mother, Simak bin Al-Walid Al-Hanadi narrating, that he heard Ibn Abbas narrated, that he heard the Messenger of Allah saying: "Whoever has two predecessors (in death) among my Ummah, then Allah will admit them into Paradise."So Aishah said to him: "What about one from your Ummar who has one precessor?" He (pbuh) said: "And whoever has one predecessor O Muwaffaqqah!" So she said: "What about one who does not have a predecessor from your Ummah?" He said: "I am the predecessor for my Ummah: you will never suffer (in grief) for (the loss of) anyone similar to me
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری امت میں سے جس کے دو پیش رو ہوں، اللہ اسے ان کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا“ اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا: آپ کی امت میں سے جس کے ایک ہی پیش رو ہو تو؟ آپ نے فرمایا: ”جس کے ایک ہی پیش رو ہو اسے بھی، اے توفیق یافتہ خاتون!“ ( پھر ) انہوں نے پوچھا: آپ کی امت میں جس کا کوئی پیش رو ہی نہ ہو اس کا کیا ہو گا؟ تو آپ نے فرمایا: ”میں اپنی امت کا پیش رو ہوں کسی کی جدائی سے انہیں ایسی تکلیف نہیں ہو گی جیسی میری جدائی سے انہیں ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے عبدربہ بن بارق ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے کئی ائمہ نے روایت کی ہے۔
Narrated by Samurah bin Jundab
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلاَ يَحْمِلْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا أَحَدٌ فَلْيُصَوِّتْ ثَلاَثًا فَإِنْ أَجَابَهُ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلاَ يَحْمِلْ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ وَقَالُوا إِنَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ سَمُرَةَ .
Narrated Samurah bin Jundab: That the Prophet (ﷺ) said: "When one of you comes upon livestock, if its owner is with it then seek his permission. If he permits him then let him milk it and drink. If there is no one with it then call out three times, if someone answers then seek his permission. If no one answers then let him milk it and drink without carrying (any of it away)." [He said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar and Abu Sa'eed. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Samurah is a Hasan Gharib Sahih Hadith. This is acted upon according to some of the people of knowledge, and it is the view of Ahmad and Ishaq. [Abu 'Eisa said:] 'Ali bin Al-Madini said: "It is correct that Al-Hasan heard this from Samurah." Some of the people of Hadith criticized the narrations of Al-Hasan from Samurah, they said that he only narrated from a writing of Samurah
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی ریوڑ کے پاس ( دودھ پینے ) آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ پی لے۔ اگر ان میں کوئی نہ ہو تو تین بار آواز لگائے، اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے لے، اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دودھ پی لے لیکن ساتھ نہ لے جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۴- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ سمرہ سے حسن کا سماع ثابت ہے، ۵- بعض محدثین نے حسن کی روایت میں جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے کلام کیا ہے، وہ لوگ کہتے ہیں کہ حسن سمرہ کے صحیفہ سے حدیث روایت کرتے تھے ۲؎۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " يَا ذَا الأُذُنَيْنِ " . قَالَ مَحْمُودٌ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ يَعْنِي مَازَحَهُ . وَهَذَا الْحَدِيثُ حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah said:"O possessor of two ears!" Mahmud said: "Abu Usamah said: 'He only meant it as a joke
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے دو کان والے!“ محمود بن غیلان کہتے ہیں: ابواسامہ نے کہا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مزاح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا " . قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَصَرْتُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ " تَكُفُّهُ عَنِ الظُّلْمِ فَذَاكَ نَصْرُكَ إِيَّاهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
It was narrated from Anas bin Malik, that the Prophet(s.a.w) said:"Help your brother whether he is an oppressor or oppressed." It was said: "O Messenger of Allah! I help him when he is oppressed. But how can I help him when he oppresses?" He said: "Prevent him from oppression, that is your help for him
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم“، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَىْ عَبْدِي فِي الدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ جَزَاءٌ عِنْدِي إِلاَّ الْجَنَّةَ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَأَبُو ظِلاَلٍ اسْمُهُ هِلاَلٌ .
Anas bin Malik narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed Allah [Most High] said: 'When I take My slave's sight in the world, then there shall be no reward for him with Me except Paradise
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کی پیاری آنکھیں چھین لیتا ہوں تو میرے پاس اس کا بدلہ صرف جنت ہی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور زید بن ارقم رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) . قَالَ الشَّافِعِيُّ إِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) مَعْنَاهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَبْدَءُونَ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ قَبْلَ السُّورَةِ وَلَيْسَ مَعْنَاهُ أَنَّهُمْ كَانُوا لاَ يَقْرَءُونَ ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) . وَكَانَ الشَّافِعِيُّ يَرَى أَنْ يُبْدَأَ بِـ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) وَأَنْ يُجْهَرَ بِهَا إِذَا جُهِرَ بِالْقِرَاءَةِ .
Anas narrated:"Allah's Messenger, Abu Bakr, Umar and Uthman opened the Salat with (Al-Hamdu-lillahi rabbil-alamin)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے“ کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ سورت سے پہلے سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں پڑھتے تھے، شافعی کی رائے ہے کہ قرأت «بسم الله الرحمن الرحيم» سے شروع کی جائے اور اسے بلند آواز سے پڑھا جائے جب قرأت جہر سے کی جائے ۱؎۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا وَمَنْ لَمْ تَكُونَا فِيهِ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلاَ صَابِرًا مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ بِهِ عَلَيْهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلاَ صَابِرًا " . أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَلَمْ يَذْكُرْ سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ .
Amr bin Shu'aib narrated from his grandfather 'Abdullah bin 'Amr, that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"There are two traits, whoever has them in him, Allah writes him down as grateful and patient. And whoever does not have them, Allah does not write him down as grateful, nor patient. Whoever looks to one above him for his religion, and follows him in it, and whoever looks to one who is below him in worldly matters, and praises Allah for the blessings He has favored the one who is above him with, then Allah writes him down as grateful and patient. And whoever looks to one who is below him for his religion, and looks to one who is above him for worldly matters, and grieves over what missed him of it, Allah does not write him down as grateful nor as patient." (Another chain reaching to) 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather from the Prophet (s.a.w) with similar narration
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص کے اندر وہ موجود ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر و شاکر لکھے گا اور جس کے اندر وہ موجود نہ ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ صابر اور شاکر نہیں لکھے گا، پہلی خصلت یہ ہے کہ جس شخص نے دین کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ دین پر عمل کرنے والے کو دیکھا اور اس کی پیروی کی اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے کم حیثیت والے کو دیکھا پھر اس فضل و احسان کا شکر ادا کیا جو اللہ نے اس پر کیا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر لکھے گا۔ اور دوسری خصلت یہ ہے کہ جس نے دین کے اعتبار سے اپنے سے کم اور دنیا کے اعتبار سے اپنے سے زیادہ پر نظر کی پھر جس سے وہ محروم رہ گیا ہے اس پر اس نے افسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے صابر اور شاکر نہیں لکھے گا“ ۱؎۔
Narrated by Salim and Hamzah, the sons of 'Abdullah bin 'Umar
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الشُّؤْمُ فِي ثَلاَثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ وَالدَّابَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ لاَ يَذْكُرُونَ فِيهِ عَنْ حَمْزَةَ إِنَّمَا يَقُولُونَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا وَهَكَذَا رَوَى لَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمْزَةَ، وَرِوَايَةُ، سَعِيدٍ أَصَحُّ لأَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ وَالْحُمَيْدِيَّ رَوَيَا عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَذَكَرَا، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ لَمْ يَرْوِ لَنَا الزُّهْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ إِلاَّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَقَالَ عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابْنَىْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِمَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ . - وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالْمَسْكَنِ " . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ شُؤْمَ وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ عَمِّهِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا .
Narrated Salim and Hamzah, the sons of 'Abdullah bin 'Umar:from their father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "An omen is in three: A woman, a dwelling, and a (riding) beast
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست تین چیزوں میں ہے ( ۱ ) عورت میں ( ۲ ) گھر میں ( ۳ ) اور جانور ( گھوڑے ) میں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- زہری کے بعض اصحاب ( تلامذہ ) اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے «عن حمزة» کا ذکر نہیں کرتے بلکہ «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کہتے ہیں۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحْرَسُ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : ( وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ) فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأْسَهُ مِنَ الْقُبَّةِ فَقَالَ لَهُمْ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ انْصَرِفُوا فَقَدْ عَصَمَنِي اللَّهُ " . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحْرَسُ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ .
Narrated 'Aishah:"The Prophet (ﷺ) was being guarded until this Ayah was revealed: 'Allah will protect you from mankind.' So the Messenger of Allah (ﷺ) stuck his head out from the room and said: 'O you people! Go away, for Allah shall protect me.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت و نگرانی کی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ جب آیت «والله يعصمك من الناس» ”اور آپ کو اللہ تعالیٰ لوگوں سے بچائے گا“ ( المائدہ: ۶۷ ) ، نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر خیمہ سے باہر نکالا اور پہرہ داروں سے کہا: تم ( اپنے گھروں کو ) لوٹ جاؤ کیونکہ میری حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمَنِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There are two statements that are light on the tongue, heavy on the Scale, and beloved to Ar-Raḥmān: “Glory is to Allah and the praise; Glory is to Allah, the Magnificent. (Subḥān Allāhi wa biḥamdih, Subḥān Allāhil-Aẓīm)”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں ( آسانی سے ادا ہو جاتے ہیں ) مگر میزان میں بھاری ہیں ( تول میں وزنی ہیں ) رحمن کو پیارے ہیں ( وہ یہ ہیں ) «سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ فَبَايَعَ النَّاسَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ " . فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لأَنْفُسِهِمْ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Narrated Anas bin Malik:that when the Messenger of Allah (ﷺ) ordered the pledge of Ridwan, 'Uthman bin 'Affan was the messenger of the Messenger of Allah (ﷺ) to the people of Makkah. He said: "So the people gave the pledge." He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed 'Uthman is busy with the affair of Allah and the affair of His Messenger' then he (ﷺ) put one of his hands on the other. The hand of the Messenger of Allah (ﷺ) on behalf of 'Uthman, was better than their own hands for themselves
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیعت رضوان ۱؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ جسے آپ نے عثمان کے لیے استعمال کیا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، وَأُمُّ سَلَمَةَ زَوْجَا النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فَيَصُومُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنَ التَّابِعِينَ إِذَا أَصْبَحَ جُنُبًا يَقْضِي ذَلِكَ الْيَوْمَ . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
Abu Bakr Bin Abdur-Rahman bin Al-Harith bin Hashim said:"Aishah and Umm Salamah, the wives of the Prophet informed me that the Prophet would find that it was Fajr while he was Junub from (relations with) his wives, then he would perform Ghusl and fast
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر پا لیتی اور اپنی بیویوں سے صحبت کی وجہ سے حالت جنابت میں ہوتے پھر آپ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں ـ: ۱- عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جب کوئی حالت جنابت میں صبح کرے تو وہ اس دن کی قضاء کرے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ . فَحَضَرَ الأَضْحَى فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً وَفِي الْجَزُورِ عَشَرَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ .
Ibn Abbas narrated:"We were with the Prophet on a journey (on the Day of) Adha, so seven of us shared in a cow, and ten for a camel
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ عید الاضحی کا دن آ گیا، چنانچہ گائے میں ہم سات سات لوگ اور اونٹ میں دس دس لوگ شریک ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حسین بن واقد کی حدیث ( روایت ) ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ وَلاَ نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ " عَلَى ظَاهِرِهِمَا " . غَيْرَهُ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشِيرُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ .
AI-Mughirah bin Shu'bah narrated:"I saw the Prophet wiping over the Khuff: on the tops of them
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے ”اوپری حصہ“ پر مسح کا ذکر کرتا ہو ۲؎ اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں۔