حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ يَمُوتُ لأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَمُعَاذٍ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ وَأُمِّ سُلَيْمٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي ذَرٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي ثَعْلَبَةَ الأَشْجَعِيِّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ . قَالَ وَأَبُو ثَعْلَبَةَ الأَشْجَعِيُّ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَدِيثٌ وَاحِدٌ هُوَ هَذَا الْحَدِيثُ وَلَيْسَ هُوَ الْخُشَنِيَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah said: "Any Muslim who has lost three of his children will not be touched by the Fire, except for what will fulfill the oath
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی مگر قسم پوری کرنے کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، معاذ، کعب بن مالک، عتبہ بن عبد، ام سلیم، جابر، انس، ابوذر، ابن مسعود، ابوثعلبہ اشجعی، ابن عباس، عقبہ بن عامر، ابو سعید خدری اور قرہ بن ایاس مزنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوثعلبہ اشجعی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک ہی حدیث ہے، اور وہ یہی حدیث ہے، اور یہ خشنی نہیں ہیں ( ابوثعلبہ خشنی دوسرے ہیں ) ۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَيُتَّخَذُ الْخَمْرُ خَلاًّ قَالَ " لاَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Anas bin Malik: "I asked the Messenger of Allah (ﷺ) 'Can wine be used for vinegar?' He said: 'No'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا . قَالَ " إِنِّي لاَ أَقُولُ إِلاَّ حَقًّا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صحيح
Abu Hurairah narrated:"They said: 'O Messenger of Allah! You joke with us?' He said: 'Indeed I do not say except what is true.'" (Hasan)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں ( خوش طبعی اور مزاح میں بھی ) حق کے سوا کچھ نہیں کہتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَعِدَ الْمِنْبَرَ فَضَحِكَ فَقَالَ " إِنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ حَدَّثَنِي بِحَدِيثٍ فَفَرِحْتُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ حَدَّثَنِي أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ فِلَسْطِينَ رَكِبُوا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ فَجَالَتْ بِهِمْ حَتَّى قَذَفَتْهُمْ فِي جَزِيرَةٍ مِنْ جَزَائِرِ الْبَحْرِ فَإِذَا هُمْ بِدَابَّةٍ لَبَّاسَةٍ نَاشِرَةٍ شَعْرَهَا فَقَالُوا مَا أَنْتِ قَالَتْ أَنَا الْجَسَّاسَةُ . قَالُوا فَأَخْبِرِينَا . قَالَتْ لاَ أُخْبِرُكُمْ وَلاَ أَسْتَخْبِرُكُمْ وَلَكِنِ ائْتُوا أَقْصَى الْقَرْيَةِ فَإِنَّ ثَمَّ مَنْ يُخْبِرُكُمْ وَيَسْتَخْبِرُكُمْ . فَأَتَيْنَا أَقْصَى الْقَرْيَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُوثَقٌ بِسِلْسِلَةٍ فَقَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ . قُلْنَا مَلأَى تَدْفُقُ . قَالَ أَخْبِرُونِي عَنِ الْبُحَيْرَةِ قُلْنَا مَلأَى تَدْفُقُ . قَالَ أَخْبِرُونِي عَنْ نَخْلِ بَيْسَانَ الَّذِي بَيْنَ الأُرْدُنِّ وَفِلَسْطِينَ هَلْ أَطْعَمَ قُلْنَا نَعَمْ . قَالَ أَخْبِرُونِي عَنِ النَّبِيِّ هَلْ بُعِثَ قُلْنَا نَعَمْ . قَالَ أَخْبِرُونِي كَيْفَ النَّاسُ إِلَيْهِ قُلْنَا سِرَاعٌ . قَالَ فَنَزَّ نَزْوَةً حَتَّى كَادَ . قُلْنَا فَمَا أَنْتَ قَالَ إِنَّهُ الدَّجَّالُ وَإِنَّهُ يَدْخُلُ الأَمْصَارَ كُلَّهَا إِلاَّ طَيْبَةَ . وَطَيْبَةُ الْمَدِينَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ .
Fatimah bint Qais narrated that Allah's Prophet(s.a.w) ascended the Minbar, he laughed, and said:"Verily, Tamim Ad-Dari narrated a story to me, and it made me happy, so I wanted to narrate it to you[what he narrated to me]. Some people among the inhabitants of Palestine traveled by boat in the sea, taking them here and there, until it cast them on an island among the islands at sea. There they found a beast, clothed with its hair flowing out. They said: 'What are you?' It said: 'I am Al-Jassasah.' They said: 'Give us some news.' It said: 'I shall not give you any news, nor do I want any of your news. But go to the furthest village, for there is someone who will give you news and seek your news.' So we went to the furthest village, and there was a man fettered with chains. He said: 'Inform me about the spring of Zughar.' We said: ' It is full and flowing.' He said: 'Inform me about Al-Buhairah.' We said,'It is full and flowing.' He said: 'Inform me about the date groves of Baysan which is between Jordan and Palestine, do they produce food?' We said: 'Yes.' He said: 'Inform me about the Prophet, has he been sent?' We said: 'Yes.' He said: 'Inform me how the people came to him.' We said: 'Quickly.' He leaped up to try and escape.' We said: 'What are you?' He said: 'I am the Dajjal.'" (The Prophet(s.a.w) said) "He will enter all of the lands except At-Taibah, and At-Taibah is Al-Madinah
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے، ہنسے پھر فرمایا: ”تمیم داری نے مجھ سے ایک بات بیان کی ہے جس سے میں بےحد خوش ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم سے بھی بیان کروں، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوئے، وہ کشتی ( طوفان میں پڑنے کی وجہ سے ) کسی اور طرف چلی گئی حتیٰ کہ انہیں سمندر کے کسی جزیرہ میں ڈال دیا، اچانک ان لوگوں نے بہت کپڑے پہنے ایک رینگنے والی چیز کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ان لوگوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ ( جاسوسی کرنے والی ) ہوں، ان لوگوں نے کہا: ہمیں ( اپنے بارے میں ) بتاؤ، اس نے کہا: نہ میں تم لوگوں کو کچھ بتاؤں گی اور نہ ہی تم لوگوں سے کچھ پوچھوں گی، البتہ تم لوگ بستی کے آخر میں جاؤ وہاں ایک آدمی ہے، جو تم کو بتائے گا اور تم سے پوچھے گا، چنانچہ ہم لوگ بستی کے آخر میں آئے تو وہاں ایک آدمی زنجیر میں بندھا ہوا تھا اس نے کہا: مجھے زغر ( ملک شام کی ایک بستی کا نام ہے ) کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے، اس نے کہا: مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ جو اردن اور فلسطین کے درمیان ہے، کیا اس میں پھل آیا؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: مجھے نبی ( آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں بتاؤ کیا وہ مبعوث ہوئے؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: بتاؤ لوگ ان کی طرف کیسے جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: تیزی سے، اس نے زور سے چھلانگ لگائی حتیٰ کہ آزاد ہونے کے قریب ہو گیا، ہم نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ وہ دجال ہے اور طیبہ کے علاوہ تمام شہروں میں داخل ہو گا، طیبہ سے مراد مدینہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث شعبہ کے واسطہ سے قتادہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے شعبی کے واسطہ سے فاطمہ بنت قیس سے روایت کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلاَءً قَالَ " الأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلاَؤُهُ وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ فَمَا يَبْرَحُ الْبَلاَءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأُخْتِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً قَالَ الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ
Mus'ab bin Sa'd narrated from his father that a man said:"O Messenger of Allah(s.a.w)! Which of the people is tried most severely?" He said: "The Prophets, then those nearest to them, then those nearest to them. A man is tried according to his religion; if he is firm in his religion, then his trials are more severe, and if he is frail in his religion, then he is tried according to the strength of his religion. The servant shall continue to be tried until he is left walking upon the earth without any sins
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں ابوہریرہ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہ رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں پھر جو ان کے بعد میں ہوں“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ سَمِعَنِي أَبِي، وَأَنَا فِي الصَّلاَةِ، أَقُولُ: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فَقَالَ لِي أَىْ بُنَىَّ مُحْدَثٌ إِيَّاكَ وَالْحَدَثَ . قَالَ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَبْغَضَ إِلَيْهِ الْحَدَثُ فِي الإِسْلاَمِ يَعْنِي مِنْهُ . قَالَ وَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَ عُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقُولُهَا فَلاَ تَقُلْهَا إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَقُلِ: (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَغَيْرُهُمْ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ لاَ يَرَوْنَ أَنْ يَجْهَرَ بِـ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) قَالُوا وَيَقُولُهَا فِي نَفْسِهِ .
Ibn Abdullah bin Mughaffal narrated:"While I was praying, I said: Bismillahir-Rahmanir-Rahim "In the Name of Allah, the Merciful, the Beneficent." My father heard me and said: "O my son this is a newly invented matter, beware of the newly-invented.'" He (Ibn Abdullah) said: "I have not seen any one of the Companions of Allah's Messenger who hated a newly invented matter in Islam more than him. And he said: 'Ihave performed Salat with the Prophet, and with Abu Bakr, and Umar, and with Uthman. I did not hear any one of them saying it. So do not say it. When you are performing Salat say: Al-Hamdu lilahi Rabbil-Alamin "All praise is due to Allah the Lord of all that exists
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کے بیٹے کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے نماز میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» کہتے سنا تو انہوں نے مجھ سے کہا: بیٹے! یہ بدعت ہے، اور بدعت سے بچو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ اسلام میں بدعت کا مخالف ہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ہے لیکن میں نے ان میں سے کسی کو اسے ( اونچی آواز سے ) کہتے نہیں سنا، تو تم بھی اسے نہ کہو ۱؎، جب تم نماز پڑھو تو قرأت «الحمد لله رب العالمين» سے شروع کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- صحابہ جن میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، یہ لوگ «بسم اللہ الرحمن الرحیم» زور سے کہنے کو درست نہیں سمجھتے ( بلکہ ) ان کا کہنا ہے کہ آدمی اسے اپنے دل میں کہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَرْبِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنَّ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لاَ أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَاكُمْ لَكُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي رِوَايَتِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الزُّبَيْرِ .
Az-Zubair bin Al-'Awwam narrated that the Prophet (s.a.w) said:"The disease of the nations before you is creeping towards you: Envy and hatred, it is the Haliqah. I do not speak of what cuts the hair, but what severs the religion. By the One in Whose Hand is my soul! You will not enter Paradise until you believe, and you will not believe until you love each other. Shall I tell you about what will strengthen that for you? Spread the Salam among each other
زبیر بن عوام رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اندر اگلی امتوں کا ایک مرض گھس آیا ہے اور یہ حسد اور بغض کی بیماری ہے، یہ مونڈنے والی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین مونڈنے والی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں نہیں داخل ہو گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور مومن نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، اور کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتا دوں جس سے تمہارے درمیان محبت قائم ہو: تم سلام کو آپس میں پھیلاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یحییٰ بن ابی کثیر سے اس حدیث کے روایت کرنے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے یہ حدیث: «عن يحيى بن أبي كثير عن يعيش بن الوليد عن مولى الزبير عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ان لوگوں نے اس میں زبیر کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيِّ وَشَيْبَانُ هُوَ صَاحِبُ كِتَابٍ وَهُوَ صَحِيحُ الْحَدِيثِ وَيُكْنَى أَبَا مُعَاوِيَةَ . حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ الْعَطَّارُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ إِنِّي لأُحَدِّثُ الْحَدِيثَ فَمَا أَدَعُ مِنْهُ حَرْفًا .
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one whose counsel is sought is entrusted
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- متعدد لوگوں نے شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی سے روایت کی ہے، اور شیبان، صاحب کتاب اور صحیح الحدیث ہیں، اور ان کی کنیت ابومعاویہ ہے، ۳- ہم سے عبدالجبار بن علاء عطار نے بیان کیا، انہوں نے روایت کی سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمیر نے کہا: جب میں حدیث بیان کرتا ہوں تو اس حدیث کا ایک ایک لفظ ( یعنی پوری حدیث ) بیان کر دیتا ہوں۔
Narrated by Ammar bin Abi 'Ammar
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ( الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا ) وَعِنْدَهُ يَهُودِيٌّ فَقَالَ لَوْ أُنْزِلَتْ هَذِهِ عَلَيْنَا لاَتَّخَذْنَا يَوْمَهَا عِيدًا . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَيَوْمِ عَرَفَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ صَحِيحٌ .
Narrated 'Ammar bin Abi 'Ammar:"Ibn Abbas recited: This day, I have perfected your religion for you, completed My favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion (5:3). And a Jew was with him who said: 'If this Ayah was revealed to us then we would have taken that day as a day of celebration.' So Ibn 'Abbas said: 'Indeed it was revealed on two 'Eids: On Friday, and on the Day of 'Arafah
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے آیت «اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا» پڑھی، ان کے پاس ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: اگر یہ آیت ہم ( یہودیوں ) پر نازل ہوئی ہوتی تو جس دن یہ آیت نازل ہوئی ہے اس دن کو ہم عید ( تہوار ) کا دن بنا لیتے یہ سن کر ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: یہ آیت عید ہی کے دن نازل ہوئی ہے۔ اس دن جمعہ اور عرفہ کا دن تھا۔ ( اور یہ دونوں دن مسلمانوں کی عید کے دن ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عباس کی روایت سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْمُؤَمِّلُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Jabir narrated that :The Prophet (ﷺ) said: “Whoever says: ‘Glory is to Allah, the Magnificent, and with His Praise (Subḥān Allāhil-Aẓīm, wa biḥamdih)’ a date-palm tree is planted for him in Paradise.”
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص: «سبحان الله العظيم وبحمده» کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Abdur-Rahman bin Khabbab
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ، مَوْلًى لآلِ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَىَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَىَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِلَّهِ عَلَىَّ ثَلاَثُمِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلاَسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ . فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ " مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ السَّكَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ .
Narrated 'Abdur-Rahman bin Khabbab:"I witnessed the Prophet (ﷺ) while he was exhorting support for the 'army of distress.' 'Uthman bin 'Affan stood and said: 'O Messenger of Allah! I will take the responsibility of one-hundred camels, including their saddles and water-skins, in the path of Allah.' Then he [(ﷺ) again] urged support for the army. So 'Uthman [bin 'Affan] stood and said: 'O Messenger of Allah! I will take the responsibility of two-hundred camels, including their saddles and water-skins, in the path of Allah.' Then he [(ﷺ) again] urged support for the army. So 'Uthman bin 'Affan stood and said: '[O Messenger of Allah] I will take the responsibility of three-hundred camels, including their saddles and water-skins, in the path of Allah.' So I saw the Messenger of Allah (ﷺ) descend from the Minbar while he was saying: 'It does not matter what 'Uthman does after this, it does not matter what 'Uthman does after this
عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ ( غزوہ تبوک ) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ ”اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَرَوْا بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ .
Ibn Abbas narrated:"The Prophet was cupped somewhere between Makkah and Al-Madinah and he was fasting and in Ihram
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت میں پچھنا لگوایا جس میں آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، آپ احرام باندھے ہوئے تھے اور روزے کی حالت میں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ صائم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي الْجِمَارَ عَلَى نَاقَةٍ لَيْسَ ضَرْبٌ وَلاَ طَرْدٌ وَلاَ إِلَيْكَ إِلَيْكَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَهُوَ حَدِيثُ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ .
Qudamah bin Abdullah said:"I saw the Prophet stoning the Jimar upon his she-camel; there was no hitting, nor crowding, nor: 'Look out! Look out
قدامہ بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایک اونٹنی پر جمرات کی رمی کر رہے تھے، نہ لوگوں کو دھکیلنے اور ہانکنے کی آواز تھی اور نہ ہٹو ہٹو کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قدامہ بن عبداللہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اسی طریق سے جانی جاتی ہے، یہ ایمن بن نابل کی حدیث ہے۔ اور ایمن اہل حدیث ( محدثین ) کے نزدیک ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں عبداللہ بن حنظلہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفْرًا أَنْ لاَ نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ إِلاَّ مِنْ جَنَابَةٍ وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ وَحَمَّادٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ وَلاَ يَصِحُّ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَسْمَعْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ مِنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ حَدِيثَ الْمَسْحِ . وَقَالَ زَائِدَةُ عَنْ مَنْصُورٍ كُنَّا فِي حُجْرَةِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ وَمَعَنَا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ فَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا يَمْسَحُ الْمُقِيمُ يَوْمًا وَلَيْلَةً وَالْمُسَافِرُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ لَمْ يُوَقِّتُوا فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَالتَّوْقِيتُ أَصَحُّ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ عَاصِمٍ .
Safwan bin Assal narrated:'When we were traveling, Allah's Messenger would order us not to remove our Khuff for three days and nights, except for Janabah, but not for defecating, urinating, and sleep
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مسافر ہوتے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے موزے تین دن اور تین رات تک، پیشاب، پاخانہ یا نیند کی وجہ سے نہ اتاریں، الا یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن اسماعیل ( بخاری ) کہتے ہیں کہ اس باب میں صفوان بن عسال مرادی کی حدیث سب سے عمدہ ہے، ۳- اکثر صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے اکثر اہل علم مثلاً: سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات موزوں پر مسح کرے، اور مسافر تین دن اور تین رات، بعض علماء سے مروی ہے کہ موزوں پر مسح کے لیے وقت کی تحدید نہیں کہ ( جب تک دل چاہے کر سکتا ہے ) یہ مالک بن انس رحمہ اللہ کا قول ہے، لیکن تحدید والا قول زیادہ صحیح ہے۔