حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُورِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ هَذَا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُرَخِّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَلَمَّا رَخَّصَ دَخَلَ فِي رُخْصَتِهِ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّمَا كُرِهَ زِيَارَةُ الْقُبُورِ لِلنِّسَاءِ لِقِلَّةِ صَبْرِهِنَّ وَكَثْرَةِ جَزَعِهِنَّ .
Abu Hurairah narrated:"Indeed the Messenger of Allah cursed the women who visit the graves
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور حسان بن ثابت سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قبروں کی زیارت کی اجازت دینے سے پہلے کی بات ہے۔ جب آپ نے اس کی اجازت دے دی تو اب اس اجازت میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں، ۴- بعض کہتے ہیں کہ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت ان کی قلت صبر اور کثرت جزع فزع کی وجہ سے مکروہ ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالثُّنْيَا إِلاَّ أَنْ تُعْلَمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ .
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited Al-Muhaqalah, Al-Muzabanah, Al-Mukhabarah, and making an exception (in a sale) unless it is made known." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, Gharib from this route as narration of Yunus bin 'Ubaid, from 'Ata, from Jabir
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ ۱؎ مخابرہ ۲؎ اور بیع میں کچھ چیزوں کو مستثنیٰ کرنے سے منع فرمایا ۳؎ الا یہ کہ استثناء کی ہوئی چیز معلوم ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے بروایت یونس بن عبید جسے یونس نے عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ثَلاَثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ أُرَاهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ وَرَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ عُثْمَانُ بْنُ قَيْسٍ وَيُقَالُ ابْنُ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَشْهَرُ .
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah said:"There shall be upon dunes of musk- I think he said: On the Day of Judgment- a slave who fulfills Allah's right and the right of his patron (master), a man who leads a people (in prayer)) and they are pleased with him. And a man who calls for the five prayers during every day and night
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمی مشک کے ٹیلے پر ہوں گے، قیامت کے دن، پہلا وہ غلام جو اللہ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں، اور تیسرا وہ آدمی جو رات اور دن میں نماز کے لیے پانچ بار بلاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ابوالیقظان سے روایت کرتے ہیں، ۲- ابوالیقظان کا نام عثمان بن قیس ہے، انہیں عثمان بن عمیر بھی کہا جاتا ہے اور یہی مشہور ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلاَمٌ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ . ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا يَأْتِيكَ " . قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا " . وَخَبَأَ لَهُ : (يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ ) فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " . قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُ حَقًّا فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لاَ يَكُنْهُ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ " . قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ يَعْنِي الدَّجَّالَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
It was narrated from Ibn 'Umar, that the Messenger of Allah(s.a.w) passed by Ibn Sayyad with a group of his Companions – among them `Umar bin Al-Khattab – while he was playing with two boys at the fort of Banu Maghalah, and he was a boy. He did not realize until the Messenger of Allah(s.a.w) struck him with his hand on his back, then he said:“Do you testify that I am the Messenger of Allah?” So Ibn Sayyad looked at him, and said: 'I testify that you are the Messenger to the illiterates.'” He said: “Then Ibn Sayyad said to the Prophet(s.a.w): 'Do you testify that I am the Messenger of Allah?' So the Prophet(s.a.w) said: 'I believe in Allah and His Messengers.' Then the Prophet(s.a.w) said: 'Who has come to you?' Ibn Sayyad said: 'A truthful one and a liar came to me.' So the Prophet(s.a.w) said: 'The matter has been confused for you.' Then the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'I have concealed something from you.' And he had concealed (the verse): The day when the sky will bring forth a visible smoke. Ibn Sayyad said: 'It is, “Ad-Dukh.'” So the Messenger of Allah(s.a.w) said: 'Beat it! You can never surpass your ability.' `Umar said: 'O Messenger of Allah! Permit me to chop off his head!' The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'If he is indeed him, then you will never overpower him, and if he is not, then there is no good in you killing him.'” (Sahih)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس کھیل رہا تھا، وہ ایک چھوٹا بچہ تھا اس لیے اسے آپ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہارے پاس ( غیب کی ) کون سی چیز آتی ہے؟“ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اوپر تیرا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے ( دل میں ) ایک بات چھپاتا ہوں“ اور آپ نے آیت: «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ۱؎ چھپا لی، ابن صیاد نے کہا: وہ ( چھپی ہوئی چیز ) «دخ» ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھٹکار ہو تجھ پر تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا“، عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ حقیقی دجال ہے تو تم اس پر غالب نہیں آ سکتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے“۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: «حقا» سے آپ کی مراد دجال ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ الْخَيَّاطِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Abu Hurairah narrated:"The Messenger of Allah(s.a.w) ordered us to throw dut in the mouths of those who praise others
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بے جا تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا . قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ خَطَأٌ .
Abu Hurairah narrated:"When Allah's Messenger would enter the Salat he would raise his hands while they were extended
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کا کہنا ہے کہ یہ یحییٰ بن یمان کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور یحییٰ بن یمان کی حدیث غلط ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ح قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَذَّاءُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ تُظْهِرِ الشَّمَاتَةَ لأَخِيكَ فَيَرْحَمُهُ اللَّهُ وَيَبْتَلِيكَ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَمَكْحُولٌ قَدْ سَمِعَ مِنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَأَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ وَيُقَالُ إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ هَؤُلاَءِ الثَّلاَثَةِ . وَمَكْحُولٌ شَامِيٌّ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ عَبْدًا فَأُعْتِقَ وَمَكْحُولٌ الأَزْدِيُّ بَصْرِيٌّ سَمِعَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَرْوِي عَنْهُ عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ كَثِيرًا مَا كُنْتُ أَسْمَعُ مَكْحُولاً يُسْأَلُ فَيَقُولُ نَدَانَمْ .
Wathilah bin Al-Asqa' narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Do not rejoice over the mishaps of your brother so that Allah has mercy on him and subjects you to trials
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے ساتھ شماتت اعداء نہ کرو، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے اور تمہیں آزمائش میں ڈال دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- مکحول کا سماع واثلہ بن اسقع، انس بن مالک اور ابوھند داری سے ثابت ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کا سماع ان تینوں صحابہ کے علاوہ کسی سے ثابت نہیں ہے، ۳- یہ مکحول شامی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ ہے، یہ ایک غلام تھے بعد میں انہیں آزاد کر دیا گیا تھا، ۴- اور ایک مکحول ازدی بصریٰ بھی ہیں ان کا سماع عبداللہ بن عمر سے ثابت ہے ان سے عمارہ بن زاذان روایت کرتے ہیں۔ اس سند سے مکحول شامی کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ «ندانم» ( میں نہیں جانتا ) کہتے تھے۔
Narrated by Al-Miswar bin Makhramah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَسَمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَىَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَعَلَيْهِ قِبَاءٌ مِنْهَا فَقَالَ " خَبَأْتُ لَكَ هَذَا " . قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ " رَضِيَ مَخْرَمَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ .
Narrated Al-Miswar bin Makhramah:"The Messenger of Allah (ﷺ) distributed some cloaks but he did not give anything to Makhramah. Makhramah said: 'O my son! Let us go to the Messenger of Allah (ﷺ).' So I went with him. He said: 'Enter and call him for me.'So I called the Prophet (ﷺ) for him, then the Prophet (ﷺ) came out wearing one of the cloaks. He (ﷺ) said: 'I kept this one for you.'" He said: "So he looked at him and said: 'Makhramah is pleased
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں، اور مخرمہ کو ( ان میں سے ) کچھ نہ دیا۔ مخرمہ رضی الله عنہ نے کہا: اے میرے بیٹے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر چلو، تو میں ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے کہا: تم اندر جاؤ اور آپ کو میرے پاس بلا لاؤ، چنانچہ میں آپ کو ان کے پاس بلا کر لانے کے لیے چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر تشریف لائے۔ تو آپ کے پاس ان قباؤں میں سے ایک قباء تھی“، آپ نے فرمایا: ”یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی“۔ مسور کہتے ہیں: پھر مخرمہ نے آپ کو دیکھا اور بول اٹھے: مخرمہ اسے پا کر خوش ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی ملیکہ کا نام عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَشِيَتْ سَوْدَةُ أَنْ يُطَلِّقَهَا، النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ لاَ تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي وَاجْعَلْ يَوْمِي لِعَائِشَةَ فَفَعَلَ فَنَزَلَتْ : ( فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ) . فَمَا اصْطَلَحَا عَلَيْهِ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ كَأَنَّهُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Narrated Ibn 'Abbas:"Sawdah feared that the Prophet (ﷺ) was going to divorce her, so she said: 'Do not divorce me, but keep me and give my day to 'Aishah.' So he (ﷺ) did so, and the following was revealed: Then there is no sin on them both if they make terms of peace between themselves, and making peace is better (4:128). So whatever they agree to make peace in something then it is permissible
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ام المؤمنین سودہ رضی الله عنہا کو ڈر ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں طلاق دے دیں گے، تو انہوں نے عرض کیا: آپ ہمیں طلاق نہ دیں، اور مجھے اپنی بیویوں میں شامل رہنے دیں اور میری باری کا دن عائشہ رضی الله عنہا کو دے دیں، تو آپ نے ایسا ہی کیا، اس پر آیت «فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير» ”کوئی حرج نہیں کہ دونوں ( میاں بیوی ) صلح کر لیں اور صلح بہتر ہے“ ( النساء: ۱۲۸ ) ، تو جس بات پر بھی انہوں نے صلح کر لی، وہ جائز ہے۔ لگتا ہے کہ یہ ابن عباس رضی الله عنہما کا قول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزَاةٍ فَلَمَّا قَفَلْنَا أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ فَكَبَّرَ النَّاسُ تَكْبِيرَةً وَرَفَعُوا بِهَا أَصْوَاتَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَصَمَّ وَلاَ غَائِبٍ هُوَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ " . ثُمَّ قَالَ " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ أَلاَ أُعَلِّمُكَ كَنْزًا مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَلٍّ وَأَبُو نَعَامَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ عِيسَى . وَمَعْنَى قَوْلِهِ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رُءُوسِ رِحَالِكُمْ يَعْنِي عِلْمَهُ وَقُدْرَتَهُ .
Abu Musa Al-Ash`ari said:“We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a military expedition. When we returned, we overlooked Al-Madinah, and the people were pronouncing the Takbir, and they raised their voices with it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Verily, your Lord is not deaf nor absent, [and] He is between you and between the heads of your mounts.’ Then he said: ‘O `Abdullah bin Qais, should I not inform you of a treasure from the treasures of Paradise: Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh (There is no might or power except by Allah).’”
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوے میں تھے، جب ہم واپس پلٹے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے کہی، آپ نے فرمایا: ”تمہارا رب بہرا نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب ہے، وہ تمہارے درمیان اور تمہاری سواریوں کے درمیان موجود ہے، پھر آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتا دوں؟ وہ: «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے، یعنی حرکت و قوت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعثمان النہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، ۳- اور ابونعامہ کا نام عمرو بن عیسیٰ ہے، ۴- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «بينكم وبين رءوس رحالكم» سے مراد یہ ہے کہ اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے۔
Narrated by Abu Hurairah [may Allah be pleased with him]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ عَلَى حِرَاءَ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَعُثْمَانُ وَطَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ رضى الله عنهم فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اهْدَأْ إِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ " .وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَبُرَيْدَةَ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
Narrated Abu Hurairah [may Allah be pleased with him]:that the Messenger of Allah (ﷺ) was at Hira, him, Abu Bakr, 'Umar, 'Uthman, 'Ali, Talhah and Az-Zubair (may Allah be pleased with them all), and the boulder (mount Hira) shook. So the Prophet (ﷺ) said: "Be calm, for there is none upon you except a Prophet, or a Siddiq, or a martyr
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر رضی الله عنہم حرا پہاڑ ۱؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک، اور بریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الإِسْلاَمِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَسَعْدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ وَنُبَيْشَةَ وَبِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ وَأَنَسٍ وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَعَائِشَةَ وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الصِّيَامَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ إِلاَّ أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ رَخَّصُوا لِلْمُتَمَتِّعِ إِذَا لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَلَمْ يَصُمْ فِي الْعَشْرِ أَنْ يَصُومَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ . وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَهْلُ الْعِرَاقِ يَقُولُونَ مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ مُوسَى بْنُ عُلَىٍّ . وَقَالَ سَمِعْتُ قُتَيْبَةُ يَقُولُ سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ قَالَ مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ لاَ أَجْعَلُ أَحَدًا فِي حِلٍّ صَغَّرَ اسْمَ أَبِي .
Uqbah bin Amir narrated that :The Messenger of Allah said: "The Day of Arafah, the Day of Nahr, and the Days of Tashriq are Eid for us. The people of Islam, and they are days of eating and drinking
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ ۱؎، یوم نحر ۲؎ اور ایام تشریق ۳؎ ہماری یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، سعد، ابوہریرہ، جابر، نبیشہ، بشر بن سحیم، عبداللہ بن حذافہ، انس، حمزہ بن عمرو اسلمی، کعب بن مالک، عائشہ، عمرو بن العاص اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ البتہ صحابہ کرام وغیرہم کی ایک جماعت نے حج تمتع کرنے والے کو اس کی رخصت دی ہے جب وہ ہدی نہ پائے اور اس نے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن میں روزہ نہ رکھے ہوں کہ وہ ایام تشریق میں روزہ رکھے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْجِمَارِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي إِلَى الْجِمَارِ . وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا أَنَّهُ رَكِبَ فِي بَعْضِ الأَيَّامِ لِيُقْتَدَى بِهِ فِي فِعْلِهِ وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
Ibn Abbas narrated:"The Prophet stoned the Jamrah on the Day of An-Nahr while riding
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر، قدامہ بن عبداللہ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ( رضی الله عنہم ) سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں، ۵- ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے، ۶- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَتْ، عِنْدَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، دَخَلَ عَلَيْهَا . قَالَتْ فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا قَالَتْ فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا بِنْتَ أَخِي فَقُلْتُ نَعَمْ . قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ " . وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ لَمْ يَرَوْا بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ بَأْسًا . وَهَذَا أَحَسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ . وَقَدْ جَوَّدَ مَالِكٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ وَلَمْ يَأْتِ بِهِ أَحَدٌ أَتَمَّ مِنْ مَالِكٍ .
Humaidah bint Ubaid bin Rifa'ah narrated:"Kabshah bint Ka'b bin Malik - she was (married) with Ibn Abi Qatadah - narrated "That Abu Qatadah visited her, [so she said:] 'So I poured water for him to use for Wudu.' She said: 'A cat came to drink, so he lowered he container until it drank.' Kabshah said: 'So he saw me looking at it and said, "O my niece! Are you surprised at that?" So I said yes. He said: "Indeed Allah's Messenger said 'It is not impure, it is only one of those roam around among you
کبشہ بنت کعب (جو ابن ابوقتادہ کے نکاح میں تھیں) کہتی ہیں کہ ابوقتادہ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے لیے ( ایک برتن ) وضو کا پانی میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آ کر پینے لگی تو انہوں نے برتن کو اس کے لیے جھکا دیا تاکہ وہ ( آسانی سے ) پی لے، کبشہ کہتی ہیں: ابوقتادہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: بھتیجی! کیا تم کو تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ ( بلی ) نجس نہیں، یہ تو تمہارے پاس برابر آنے جانے والوں یا آنے جانے والیوں میں سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث مروی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ بلی کے جھوٹے میں کوئی حرج نہیں، اور یہ سب سے اچھی حدیث ہے جو اس باب میں روایت کی گئی ہے۔