بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
14 hadith
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بِحُبْشِيٍّ ‏.‏ قَالَ فَحُمِلَ إِلَى مَكَّةَ فَدُفِنَ فِيهَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ وَكُنَّا كَنَدْمَانَىْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ لَوْ حَضَرْتُكَ مَا دُفِنْتَ إِلاَّ حَيْثُ مُتَّ وَلَوْ شَهِدْتُكَ مَا زُرْتُكَ ‏.‏
Abdullah bin Abi Mulaikah said:"Abdur-Rahman bin Abi Bakr died in Al-Hubshi" He said: "He was carried to Makkah to be buried there. So when Aishah arrived she went to the grave of Abdur-Rahman bin Abi Bakr and she said: "We were like two drinking companions of Jadhimah for such a long time that they would say: 'They will never part.' So when we were separated it was as if I and Malik - due to the length of unity - never spent a night together
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر حبشہ میں وفات پا گئے تو انہیں مکہ لا کر دفن کیا گیا، جب ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا ( مکہ ) آئیں تو عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی الله عنہ کی قبر پر آ کر انہوں نے یہ اشعار پڑھے۔ «وكنا كندماني جذيمة حقبة من الدهر حتى قيل لن يتصدعا فلما تفرقنا كأني ومالكا لطول اجتماع لم نبت ليلة معا» ”ہم دونوں ایک عرصے تک ایک ساتھ ایسے رہے تھے جیسے بادشاہ جزیمہ کے دو ہم نشین، یہاں تک کہ یہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے۔ پھر جب ہم جدا ہوئے تو مدت دراز تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود ایسا لگنے لگا گویا میں اور مالک ایک رات بھی کبھی ایک ساتھ نہ رہے ہوں“۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! اگر میں تمہارے پاس موجود ہوتی تو تجھے وہیں دفن کیا جاتا جہاں تیرا انتقال ہوا اور اگر میں حاضر رہی ہوتی تو تیری زیارت کو نہ آتی۔
Narrated by Amr bin Shu'aib
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ ‏ "‏ مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلاَ شَىْءَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Narrated 'Amr bin Shu'aib: From his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) was asked about hanging fruits (on the trees), so he said: "Whoever is in need and picks some of it without taking any in his garment, then there is no sin upon him." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جو ضرورت مند اس میں سے ( ضرورت کے مطابق ) لے لے اور کپڑے میں جمع کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ نِعِمَّا لأَحَدِهِمْ أَنْ يُطِيعَ رَبَّهُ وَيُؤَدِّيَ حَقَّ سَيِّدِهِ ‏"‏ يَعْنِي الْمَمْلُوكَ ‏.‏ وَقَالَ كَعْبٌ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said:"How wonderful it is for one of them that he obeys Allah and fulfills the rights of his master." Meaning the slave. And Ka'b said: "Allah and His Messenger spoke the truth
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے لیے کیا ہی اچھا ہے کہ اپنے رب کی اطاعت کریں اور اپنے مالک کا حق ادا کریں“، آپ کے اس فرمان کا مطلب لونڈی و غلام سے تھا ۱؎۔ کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَمْكُثُ أَبُو الدَّجَّالِ وَأُمُّهُ ثَلاَثِينَ عَامًا لاَ يُولَدُ لَهُمَا وَلَدٌ ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلاَمٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَوَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ أَبُوهُ طِوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فَرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ فَذَهَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِمَا فَقُلْنَا هَلْ لَكُمَا وَلَدٌ فَقَالاَ مَكَثْنَا ثَلاَثِينَ عَامًا لاَ يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلاَمٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ ‏.‏ قَالَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِمَا فَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ وَلَهُ هَمْهَمَةٌ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ مَا قُلْتُمَا قُلْنَا وَهَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا قَالَ نَعَمْ تَنَامُ عَيْنَاىَ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ‏.‏
It was narrated from 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah from his father who said:"The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'The father of the Dajjal and hid mother, will abide for thirty years without bearing a son. Then a boy shall be born to them, having one eye in which there is some defect, providing little use. His eyes sleep but his heart does not sleep.' Then the Messenger of Allah(s.a.w) described his parents for us: 'His father is tall, with little fat, with a nose as if it were a beak. His mother is a bulky woman with long breasts.'" So Abu Bakrah said: "I heard about a child being born to some Jews in Al-Madinah. So Az-Zubair bin Al-'Awwam and I went until we entered upon his parents. They appeared as the Messenger of Allah(s.a.w) had described them. We said: 'Do you have any children?' They said: 'We remained for thirty years without any children being born to us, then we bore a boy, having one eye in which there is some defect, providing little use. His eyes sleep but his heart does not sleep.'" He said: "So we were leaving them, when he appeared, glittering in the sunlight in a velvet garment, murmuring something. He uncovered his head and said: 'What were you saying?' We said: 'Did you hear what we were saying?' He said: 'Yes, that my eyes sleep but my heart does not sleep
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دجال کے باپ اور ماں تیس سال تک اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہو گا، پھر ایک کانا لڑکا پیدا ہو گا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہو گا، اس کی آنکھیں سوئیں گی مگر دل نہیں سوئے گا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اس کا باپ دراز قد اور دبلا ہو گا اور اس کی ناک چونچ کی طرح ہو گی، اس کی ماں بھاری بھر کم اور لمبے ہاتھ والی ہو گی“، ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: ہم نے مدینہ کے اندر یہود میں ایک ایسے ہی لڑکے کے بارے میں سنا، چنانچہ میں اور زبیر بن عوام چلے یہاں تک کہ اس کے والدین کے پاس گئے تو وہ ویسے ہی تھے، جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا، ہم نے پوچھا: کیا تمہارا کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے ہاں تیس سال تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا، پھر ہم سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں مگر اس کا دل نہیں سوتا، ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ لڑکا دھوپ میں ایک موٹی چادر پر لیٹا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا، پھر اس نے اپنے سر سے کپڑے ہٹایا اور پوچھا: تم دونوں نے کیا کہا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے جو کہا ہے کیا تم نے اسے سن لیا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں، مگر دل نہیں سوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلاَةِ نَشَرَ أَصَابِعَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ وَأَخْطَأَ يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"When Allah's Messenger performed the Takbir for Salat he would spread his fingers
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے تو اپنی انگلیاں کھلی رکھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق «ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان عن أبي هريرة» روایت کی ہے ( ان کے الفاظ ہیں ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے تھے۔ یہ روایت یحییٰ بن یمان کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، یحییٰ بن یمان کی روایت غلط ہے ان سے اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے، ( اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَأَثْنَى عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الأُمَرَاءِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى زَائِدَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَحَدِيثُ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ أَصَحُّ ‏.‏ وَأَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ وَالْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ هُوَ الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ وَيُكْنَى أَبَا مَعْبَدٍ وَإِنَّمَا نُسِبَ إِلَى الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ لأَنَّهُ كَانَ قَدْ تَبَنَّاهُ وَهُوَ صَغِيرٌ ‏.‏
Abu Ma'mar said:"A man stood and praised one of the 'Amirs so Al-Miqdad bin Al-Aswad threw dust in his face and said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) ordered us to throw dust in the faces of those who praise others
ابومعمر عبداللہ بن سخبرہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر ایک امیر کی تعریف شروع کی تو مقداد بن عمرو کندی رضی الله عنہ اس کے چہرے پر مٹی ڈالنے لگے، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- زائدہ نے یہ حدیث مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کی ہے حالانکہ مجاہد کی روایت جو ابومعمر سے ہے وہ زیادہ صحیح ہے، ۳- ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے اور مقداد بن اسود مقداد بن عمرو الکندی ہیں، جن کی کنیت ابو معبد ہے۔ اسود بن عبدیغوث کی طرف ان کی نسبت اس لیے کی گئی کیونکہ انہوں نے مقداد کو لڑکپن میں اپنا متبنی بیٹا بنا لیا تھا، ۴- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتَّى يَعْمَلَهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ مِنْ ذَنْبٍ قَدْ تَابَ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ‏.‏ وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ وَرُوِيَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّهُ أَدْرَكَ سَبْعِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَمَاتَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ فِي خِلاَفَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ رَوَى عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذٍ غَيْرَ حَدِيثٍ ‏.‏
Khalid bin Ma'dan narrated from Mu'adh bin Jabal that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever shames his brother for a sin, he shall not die until he (himself) commits it." (One of the narrators) Ahmad said: They said: 'From a sin he has repented from
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے کسی دینی بھائی کو کسی گناہ پر عار دلایا تو اس کی موت نہیں ہو گی یہاں تک کہ اس سے وہ گناہ صادر ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند متصل نہیں ہے، اور خالد بن معدان کی ملاقات معاذ بن جبل سے ثابت نہیں ہے، خالد بن معدان سے مروی ہے کہ انہوں نے ستر صحابہ سے ملاقات کی ہے، اور معاذ بن جبل کی وفات عمر بن خطاب کی خلافت میں ہوئی، اور خالد بن معدان نے معاذ کے کئی شاگردوں کے واسطہ سے معاذ سے کئی حدیثیں روایت کی ہے، ۳- احمد بن منیع نے کہا: اس سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ شخص توبہ کر چکا ہو۔
Narrated by The freed slave of Asma
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مَوْلَى، أَسْمَاءَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ، يَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَحُذَيْفَةَ وَأَنَسٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ اللِّبَاسِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُمَرَ ‏.‏ وَمَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَيُكْنَى أَبَا عُمَرَ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ‏.‏
Narrated The freed slave of Asma:from Ibn 'Umar who said: "I heard 'Umar mentioning that the Prophet (ﷺ) said: 'Whoever wears silk in the world he shall not wear it in the Hereafter
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی الله عنہ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں «حریر» ( ریشمی کپڑا ) پہنا تو وہ اسے آخرت ( یعنی جنت ) میں نہ پہنے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے اسماء بنت ابی بکر کے آزاد کردہ غلام ابوعمرو سے مروی ہے۔ ان کا نام عبداللہ اور ان کی کنیت ابوعمرو ہے، ان سے عطاء بن ابی رباح اور عمرو بن دینار نے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، حذیفہ، انس رضی الله عنہم اور دیگر کئی لوگوں سے بھی احادیث آئی ہیں، جن کا ذکر ہم کتاب اللباس میں کر چکے ہیں۔
Narrated by Abu Bakr As-Siddiq
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، أَخْبَرَنِي مَوْلَى ابْنِ سَبَّاعٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلاَ يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلاَ نَصِيرًا ‏)‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا بَكْرٍ أَلاَ أُقْرِئُكَ آيَةً أُنْزِلَتْ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ فَأَقْرَأَنِيهَا فَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنِّي قَدْ كُنْتُ وَجَدْتُ انْقِصَامًا فِي ظَهْرِي فَتَمَطَّأْتُ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَأَيُّنَا لَمْ يَعْمَلْ سُوءًا وَإِنَّا لَمَجْزِيُّونَ بِمَا عَمِلْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ وَالْمُؤْمِنُونَ فَتُجْزَوْنَ بِذَلِكَ فِي الدُّنْيَا حَتَّى تَلْقَوُا اللَّهَ وَلَيْسَ لَكُمْ ذُنُوبٌ وَأَمَّا الآخَرُونَ فَيُجْمَعُ ذَلِكَ لَهُمْ حَتَّى يُجْزَوْا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ ‏.‏ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمَوْلَى ابْنِ سَبَّاعٍ مَجْهُولٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ أَيْضًا ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏
Narrated Abu Bakr As-Siddiq:"I was with the Prophet (ﷺ) when this Ayah was revealed to him: Whoever works evil will have the recompense of it (4:123). So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Abu Bakr! Shall I recite to you an Ayah revealed to me?' I said: 'Of course O Messenger of Allah!' So he recited it to me, and I do not know except that I found it as a fatal blow, but I repressed it. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'What is bothering you O Abu Bakr?' I said: 'O Messenger of Allah! May my father and my mother be your ransom! Which of us has not done evil - and yet we shall be recompensed for what we have done?' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'As for you O Abu Bakr, and the believers, they will be recompensed for that in the world until they meet Allah and they have no sins. As for the others, then that will be collected for them until they are recompensed for it on the Day of Judgement
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اس وقت آپ پر یہ آیت: «من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون الله وليا ولا نصيرا» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”ابوبکر! کیا میں تمہیں ایک آیت جو ( ابھی ) مجھ پر اتری ہے نہ پڑھا دوں؟“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ ابوبکر رضی الله عنہ کہتے ہیں: تو آپ نے مجھے ( مذکورہ آیت ) پڑھائی۔ میں نہیں جانتا کیا بات تھی، مگر میں نے اتنا پایا کہ کمر ٹوٹ رہی ہے تو میں نے اس کی وجہ سے انگڑائی لی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر کیا حال ہے!“ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بھلا ہم میں کون ہے ایسا جس سے کوئی برائی سرزد نہ ہوتی ہو؟ اور حال یہ ہے کہ ہم سے جو بھی عمل صادر ہو گا ہمیں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( گھبراؤ نہیں ) ابوبکر تم اور سارے مومن لوگ یہ ( چھوٹی موٹی ) سزائیں تمہیں اسی دنیا ہی میں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب تم اللہ سے ملو گے تو تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو گا، البتہ دوسروں کا حال یہ ہو گا کہ ان کی برائیاں جمع اور اکٹھی ہوتی رہیں گی جن کا بدلہ انہیں قیامت کے دن دیا جائے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور اس کی سند میں کلام ہے، ۲- موسیٰ بن عبیدہ حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور احمد بن حنبل نے ضعیف کہا ہے۔ اور مولی بن سباع مجہول ہیں، ۳- اور یہ حدیث اس سند کے علاوہ سند سے ابوبکر سے مروی ہے، لیکن اس کی کوئی سند بھی صحیح نہیں ہے، ۴- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا عَلَى الأَرْضِ أَحَدٌ يَقُولُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ‏.‏ إِلاَّ كُفِّرَتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَيُقَالُ أَيْضًا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَحَاتِمٌ يُكْنَى أَبَا يُونُسَ الْقُشَيْرِيَّ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏
Abdullah bin Amr narrated that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: “there is not anyone upon the earth who says: ‘None has the right to be worshipped but Allah, and Allah is the Greatest, and there is no might nor power except by Allah, (Lā ilāha illallāh, wa Allāhu akbar, wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh) except that his sins shall be pardoned, even if they were like the foam of the sea.”
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین پر جو کوئی بھی بندہ: «لا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہے گا ”اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے، اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی کام کے کرنے کی کسی میں نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی قوت“، اس کے ( چھوٹے چھوٹے ) گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ سمندر کی جھاگ کی طرح ( بہت زیادہ ) ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ اسی طرح ابوبلج سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا، اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے اور انہیں یحییٰ بن سلیم بھی کہا جاتا ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَرْعَى غَنَمًا لَهُ إِذْ جَاءَ ذِئْبٌ فَأَخَذَ شَاةً فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ فَقَالَ الذِّئْبُ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَآمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "While a man was tending some of his sheep, a wolf came and took a sheep. So its owner came and retrieved it. The wolf said: 'What will you do for it on the Day of the Predator, the Day when there will be no shepherd for it other than me?'" The Messenger of Allah (ﷺ) said: "So I believe in that, I and Abu Bakr, and 'Umar." (One of the narrators) Abu Salamah said: "And the two of them were (present) not among the people that day
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا: درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہو گا تو کیسے کرے گا؟“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی“، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامَيْنِ يَوْمِ الأَضْحَى وَيَوْمِ الْفِطْرِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَعَمْرُو بْنُ يَحْيَى هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ الْمَازِنِيُّ الْمَدَنِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ‏.‏
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated:"The Messenger of Allah prohibited two fasts: Fasting the Day of Adha and the Day of Fitr
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزوں سے منع فرمایا: ”یوم الاضحی ( بقر عید ) کے روزے سے اور یوم الفطر ( عید ) کے روزے سے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، عائشہ، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- عمرو بن یحییٰ ہی عمارہ بن ابی الحسن مازنی ہیں، وہ مدینے کے رہنے والے ہیں اور ثقہ ہیں۔ سفیان ثوری، شعبہ اور مالک بن انس نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي الْجِمَارَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Ibn Abbas narrated:"The Messenger of Allah stoned the Jimar when the sun had passed the zenith
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمار اس وقت کرتے جب سورج ڈھل جاتا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ يُغْسَلُ الإِنَاءُ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولاَهُنَّ أَوْ أُخْرَاهُنَّ بِالتُّرَابِ وَإِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ ‏"‏ إِذَا وَلَغَتْ فِيهِ الْهِرَّةُ غُسِلَ مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Wash the vessel the dog has drunk from seven times: the first or the last of them with dirt. And when the cat drinks out of it, wash it once
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن میں جب کتا منہ ڈال دے تو اسے سات بار دھویا جائے، پہلی بار یا آخری بار اسے مٹی سے دھویا جائے ۱؎، اور جب بلی منہ ڈالے تو اسے ایک بار دھویا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے کئی سندوں سے اسی طرح مروی ہے جن میں بلی کے منہ ڈالنے پر ایک بار دھونے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔