بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
14 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ - وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ مَرَّةً ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مَرَّةً ‏"‏ بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَرَوَاهُ أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا أَيْضًا ‏.‏
Ibn Umar narrated:"When he Prophet put the deceased in the grave" He said: And Abu Khalid (one of the narrators) said [one time]: "When he placed the deceased in the Lahd" - "He said one time: 'In the Name of Allah, by His command and upon the Millah of the Messenger of Allah.' and one time he said: 'In the Name of Allah, by His command and upon the Sunnah of the Messenger of Allah
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت قبر میں داخل کر دی جاتی ( اور کبھی راوی حدیث ابوخالد کہتے ) جب میت اپنی قبر میں رکھ دی جاتی تو آپ کبھی: «بسم الله وبالله وعلى ملة رسول الله»،‏‏‏‏ پڑھتے اور کبھی «بسم الله وبالله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم» ”اللہ کے نام سے، اللہ کی مدد سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر میں اسے قبر میں رکھتا ہوں“ پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی ابن عمر سے مروی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور اسے ابوالصدیق ناجی نے بھی ابن عمر سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، ۳- نیز یہ صدیق الناجی کے واسطہ سے ابن عمر سے بھی موقوفاً مروی ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الْهِرِّ وَثَمَنِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَعُمَرُ بْنُ زَيْدٍ لاَ نَعْرِفُ كَبِيرَ أَحَدٍ رَوَى عَنْهُ غَيْرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ‏.‏
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited eating the cat and from its price." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib. We do not know of any major (known) narrators who reports from 'Umar bin Zaid (one of the narrators) besides 'Abdur-Razzaq
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم عبدالرزاق کے علاوہ کسی بڑے محدث کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن زید سے روایت کی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَلاَعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلاَ بِغَضَبِهِ وَلاَ بِالنَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Samurah bin Jundab narrated that the Messenger of Allah said:"Do not curse yourselves with Allah's curse, nor with His anger, nor with the Fire
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ( کسی پر ) اللہ کی لعنت نہ بھیجو، نہ اس کے غضب کی لعنت بھیجو اور نہ جہنم کی لعنت بھیجو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، ابن عمر اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ فَتْحُ الْقُسْطُنْطِينِيَّةِ مَعَ قِيَامِ السَّاعَةِ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَالْقُسْطَنْطِينِيَّةُ هِيَ مَدِينَةُ الرُّومِ تُفْتَحُ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَالْقُسْطَنْطِينِيَّةُ قَدْ فُتِحَتْ فِي زَمَانِ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Anas bin Malik said:"Constantinople will be conquered with the coming of the Hour
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قسطنطنیہ قیامت کے قریب فتح ہو گا۔ محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، قَالَ أَخَذَ زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ بِيَدِي وَنَحْنُ بِالرَّقَّةِ فَقَامَ بِي عَلَى شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَقَالَ زِيَادٌ حَدَّثَنِي هَذَا الشَّيْخُ أَنَّ رَجُلاً صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَالشَّيْخُ يَسْمَعُ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعِيدَ الصَّلاَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ وَابِصَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ وَقَالُوا يُعِيدُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُجْزِئُهُ إِذَا صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ ‏.‏ وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى حَدِيثِ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَيْضًا قَالُوا مَنْ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ يُعِيدُ ‏.‏ مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَوَكِيعٌ ‏.‏ وَرَوَى حَدِيثَ حُصَيْنٍ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ رِوَايَةِ أَبِي الأَحْوَصِ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ حُصَيْنٍ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ هِلاَلاً قَدْ أَدْرَكَ وَابِصَةَ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْحَدِيثِ فِي هَذَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَاشِدٍ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ حَدِيثُ حُصَيْنٍ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ أَصَحُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ وَابِصَةَ ‏.‏
Hilal bin Yasar said:"Ziyad bin Abi Al-Ja'd took me by the hand while we were in Ar Raqqah, he made me stand before a Shaikh who was called Wabisah bin Ma'bad, from Bani Asad. Ziyad said: 'This Shaikh narrated to me that a prayed alone behind the row' - and the Shaikh was listening - 'so Allah's Messenger ordered him to repeat the Salat
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا، ( ہم لوگ رقہ میں تھے ) پھر انہوں نے مجھے لے جا کر بنی اسد کے وابصہ بن معبد نامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اور شیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وابصہ بن معبد رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دہرائے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ۴- اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے کافی ہو گا جب وہ صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ۵- اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، وہ اسے دہرائے۔ انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع ہیں، ۶- مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة» روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن زياد بن أبي الجعد عن وابصة» روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیاد بن ابی الجعد کے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الصَّلاَةِ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ‏"‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلاَةٍ وَلاَ صَوْمٍ إِلاَّ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ‏"‏ ‏.‏ فَمَا رَأَيْتُ فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَرَحَهُمْ بِهَذَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Anas narrated that a man came to the Messenger of Allah (s.a.w) and said:" O Messenger of Allah! When will the Hour be established?" So the Propher (s.a.w) stood to perform Salat and when he was finished his Salat he said: "Where is the one who asked when the hour will be established?" The man said: "It was I, O Mesenger of Allah!" He said: "What have you prepared for it?" He said: "O Messenger of allah! I have not prepared very much of salat nor fasting for it, but I love Allah and His Messenger." So the Messenger of Allah(s.a.w) said: "A man shall be with whom ever he loves, and you shall be with whomever you love." So after the advent of Islam, I did not see that anything brought the Muslims more happiness than that
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ اس آدمی نے کہا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”قیامت کے لیے تم نے کیا تیاری کر رکھی ہے“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کوئی زیادہ صوم و صلاۃ اکٹھا نہیں کی ہے ( یعنی نوافل وغیرہ ) مگر یہ بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے، اور تم بھی اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو“۔ انس کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں نے مسلمانوں کو اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا آپ کے اس قول سے وہ سب خوش نظر آ رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ سَعْدٍ، مَوْلَى طَلْحَةَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلاَّ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ كَانَ الْكِفْلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ يَتَوَرَّعُ مِنْ ذَنْبٍ عَمِلَهُ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَأَعْطَاهَا سِتِّينَ دِينَارًا عَلَى أَنْ يَطَأَهَا فَلَمَّا قَعَدَ مِنْهَا مَقْعَدَ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ أُرْعِدَتْ وَبَكَتْ فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ أَأَكْرَهْتُكِ قَالَتْ لاَ وَلَكِنَّهُ عَمَلٌ مَا عَمِلْتُهُ قَطُّ وَمَا حَمَلَنِي عَلَيْهِ إِلاَّ الْحَاجَةُ فَقَالَ تَفْعَلِينَ أَنْتِ هَذَا وَمَا فَعَلْتِهِ اذْهَبِي فَهِيَ لَكِ ‏.‏ وَقَالَ لاَ وَاللَّهِ لاَ أَعْصِي اللَّهَ بَعْدَهَا أَبَدًا ‏.‏ فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَأَصْبَحَ مَكْتُوبًا عَلَى بَابِهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لِلْكِفْلِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ قَدْ رَوَاهُ شَيْبَانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الأَعْمَشِ نَحْوَ هَذَا وَرَفَعُوهُ وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنِ الأَعْمَشِ فَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏ وَرَوَى أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ فَأَخْطَأَ فِيهِ وَقَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيُّ هُوَ كُوفِيٌّ وَكَانَتْ جَدَّتُهُ سُرِّيَّةً لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَرَوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
Ibn 'Umar said:"I heard the Prophet (s.a.w) narrating a hadith, not just once or twice, even seven times, but I heard him saying it more than that. I heard him saying: 'There was a man called Al-Kifl among the children of Isra'il who did not restrain himself from committing sins. A woman came to him and he gave her sixty Dinar so he could sleep with her. When he sat up from her, as a man sits up from a woman, she began to tremble and cry, so he said: "Why are you crying, did I do something to harm you?" She said: "No. But it is because of what I did, I only did so out of need." He said: "You did this without having done (it before), so leave me, and it (the money) is for you." And then he said: "By Allah! I will never disobey Allah after that." He died during the night and morning came with: " Indeed Allah has forgiven Al-Kifl" written upon his door." Other chains report similar narrations
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے اگر میں نے اسے ایک یا دو بار سنا ہوتا یہاں تک کہ سات مرتبہ گنا تو میں اسے تم سے بیان نہ کرتا، لیکن میں نے اسے اس سے زیادہ مرتبہ سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”بنی اسرائیل میں کفل نامی ایک شخص تھا جو کسی گناہ کے کرنے سے پرہیز نہیں کرتا تھا، چنانچہ اس کے پاس ایک عورت آئی، اس نے اسے ساٹھ دینار اس لیے دیے کہ وہ اس سے بدکاری کرے گا، لیکن جب وہ اس کے آگے بیٹھا جیسا کہ مرد اپنی بیوی کے آگے بیٹھتا ہے تو وہ کانپ اٹھی اور رونے لگی، اس شخص نے پوچھا: تم کیوں روتی ہو کیا میں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے؟ وہ بولی: نہیں، لیکن آج میں وہ کام کر رہی ہوں جو میں نے کبھی نہیں کیا اور اس کام کے کرنے پر مجھے سخت ضرورت نے مجبور کیا ہے، چنانچہ اس نے کہا: تم ایسا غلط کام کرنے جا رہی ہے جسے تم نے کبھی نہیں کیا، اس لیے تم جاؤ، وہ سب دینار بھی تمہارے لیے ہیں، پھر اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اب اس کے بعد میں کبھی بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا، پھر اسی رات میں اس کا انتقال ہو گیا، چنانچہ صبح کو اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا ”بیشک اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا““۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے شیبان اور دیگر لوگوں نے اعمش سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے، اور بعض لوگوں نے اسے اعمش سے غیر مرفوع روایت کیا ہے، ابوبکر بن عیاش نے اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے لیکن اس میں غلطی کی ہے، اور «عن عبد الله بن عبد الله عن سعيد بن جبير عن ابن عمر» کہا ہے جو کہ غیر محفوظ ہے۔
Narrated by Al-Bara bin 'Azib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَرَدِّ السَّلاَمِ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ عَنْ خَاتِمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالإِسْتَبْرَقِ وَالْقَسِّيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ هُوَ أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ سُلَيْمُ بْنُ الأَسْوَدِ ‏.‏
Narrated Al-Bara bin 'Azib:"The Messenger of Allah (ﷺ) ordered us with seven things and he forbade us from seven. He ordered us to follow the funeral, visit the ill, reply to the sneezing person, accept the invitation, assist the oppressed, to help the one who made an oath, and to return the Salam. And he forbade us from seven things: From the gold ring, or ringlets of gold, silver vessels, wearing silk, Ad-Dibaj, Al-Istabraq, And Al-Qassi
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں کے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ جنازے کے ساتھ جائیں۔ مریض کی عیادت کریں، چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دیں۔ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں، مظلوم کی مدد کریں، اور قسم کھانے والے کی قسم پوری کرائیں، اور سلام کا جواب دیں کا، اور سات چیزوں سے آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے سونے کی انگوٹھی پہننے، یا سونے کے چھلے استعمال کرنے سے، اور چاندی کے برتنوں سے اور حریر، دیباج، استبرق اور قسی کے پہننے سے ( یہ سب ریشمی کپڑے ہیں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اشعث بن سلیم: یہ اشعث بن ابوشعثاء ہیں، ابوشعثاء کا نام سلیم بن اسود ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ غَنَمٌ لَهُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ قَالُوا مَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ إِلاَّ لِيَتَعَوَّذَ مِنْكُمْ فَقَامُوا فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا غَنَمَهُ فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏(‏ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"A man from Banu Sulaim who had some sheep with him, passed by some of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ). He gave Salam to them and they said: 'He did not give Salam except to protect himself.' So they attacked him, killed him, and took his sheep. They went to the Messenger of Allah (ﷺ) with them, and Allah, Most High, revealed: O you who believe! When you go in the cause of Allah, verify and say not to anyone who greets you: "You are not a believer (4:)
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بنو سلیم کا ایک آدمی صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں، اس نے ان لوگوں کو سلام کیا، ان لوگوں نے کہا: اس نے تم لوگوں کی پناہ لینے کے لیے تمہیں سلام کیا ہے، پھر ان لوگوں نے بڑھ کر اسے قتل کر دیا، اس کی بکریاں اپنے قبضہ میں لے لیں۔ اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلام لست مؤمنا» ”اے ایمان والو! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تم سے سلام کرے تم اسے یہ نہ کہہ دو کہ تو ایمان والا نہیں“ ( النساء: ۹۴ ) نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں اسامہ بن زید سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي بِلاَلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلاَلَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ أَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلاَمَةِ وَالإِسْلاَمِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Bilal bin Yahya bin Talhah bin `Ubaidullah narrated :from his father, from his grandfather Talhah bin `Ubaidullah that when the Prophet (ﷺ) would see a crescent moon, he would say: “O Allah, bring it over us with blessing and faith, and security and Islam. My Lord and your Lord is Allah (Allāhumma ahlilhu `alainā bil-yumni wal-Īmān, was-salāmati wal-Islām, rabbī wa rabbuk Allāh).”
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چاند دیکھتے تھے تو کہتے تھے: «اللهم أهلله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله» ”اے اللہ! مبارک کر ہمیں یہ چاند، برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، ( اے چاند! ) میرا اور تمہارا رب اللہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Uqbah bin 'Amir
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ ‏.‏
Narrated 'Uqbah bin 'Amir:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If there was to have a Prophet after me, it would have been 'Umar bin Al-Khattab
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَةَ، قَالَتْ قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ مِنْ أَيِّهِ كَانَ يَصُومُ قَالَتْ كَانَ لاَ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ صَامَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ وَيَزِيدُ الرِّشْكُ هُوَ يَزِيدُ الضُّبَعِيُّ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ وَهُوَ الْقَسَّامُ وَالرِّشْكُ هُوَ الْقَسَّامُ بِلُغَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ‏.‏
Yazid Ar-Rishk said:"I heard Mu'adhah saying to Aishah: 'Did the Messenger of Allah fast three days of every month?' She replied in the affirmative. So she said: 'Which of them would he fast?' She said: 'Which of them he would fast was not noticeable
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں رکھتے تھے، میں نے کہا: کون سی تاریخوں میں رکھتے تھے؟ کہا: آپ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سی تاریخ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یزید الرشک یزید ضبعی ہی ہیں، یہی یزید بن قاسم بھی ہیں اور یہی قسّام ہیں، رشک کے معنی اہل بصرہ کی لغت میں قسّام کے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلاَ يُصَلِّ حَتَّى يَتَوَضَّأَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَرْوَى ابْنَةِ أُنَيْسٍ وَعَائِشَةَ وَجَابِرٍ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بُسْرَةَ ‏.‏
Busrah bint Safwan narrated that :the Prophet said: "Whoever touches his penis, then he is not to pray until he performs Wudu
بسرہ بنت صفوان رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی شرمگاہ ( عضو تناسل ) چھوئے تو جب تک وضو نہ کر لے نماز نہ پڑھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بسرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام حبیبہ، ابوایوب، ابوہریرہ، ارویٰ بنت انیس، عائشہ، جابر، زید بن خالد اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- کئی لوگوں نے اسے اسی طرح ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور عروہ نے بسرہ سے روایت کیا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَسَأَلُوهُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى ‏ "‏ الْحَجُّ عَرَفَةُ مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَزَادَ يَحْيَى وَأَرْدَفَ رَجُلاً فَنَادَى
Abdur-Rahman bin Ya'mar narrated that:Some people among the residents of Najd came to the Messenger of Allah while he was at Arafat. They were questioning him, so he ordered a caller to proclaim: "The Hajj is Arafah. Whoever came to Jam during the night, before the time of Fajr, then he has attended the Hajj. The days of Mina are three, so whoever hastens (leaving after) two days, then there is no sin upon him, and whoever delays, then there is no sin upon him." Muhammad said: "Yahya added: 'And he took a companion rider to proclaim it
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نجد کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت آپ عرفہ میں تھے۔ انہوں نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا تو آپ نے منادی کو حکم دیا تو اس نے اعلان کیا: حج عرفات میں ٹھہرنا ہے ۱؎ جو کوئی مزدلفہ کی رات کو طلوع فجر سے پہلے عرفہ آ جائے، اس نے حج کو پا لیا ۲؎ منی کے تین دن ہیں، جو جلدی کرے اور دو دن ہی میں چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو دیر کرے تیسرے دن جائے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ ( یحییٰ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ نے ایک شخص کو پیچھے بٹھایا اور اس نے آواز لگائی۔