بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
14 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَجَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Ibn Abbas narrated that:The Prophet said: "The Lahd is for us and the hole is for other than us
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جریر بن عبداللہ، عائشہ، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالاَ أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ وَلاَ يَصِحُّ فِي ثَمَنِ السِّنَّوْرِ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ وَاضْطَرَبُوا عَلَى الأَعْمَشِ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ثَمَنَ الْهِرِّ وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُهُمْ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَرَوَى ابْنُ فُضَيْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the price of the dog and the cat." [Abu 'Eisa said:] There is some confusion (Idtirab) in the chain for this Hadith. The price of a cat is not correct. This Hadith has been reported from Al-A'mash, from some of his companions, from Jabir, and they caused some confusion for Al-A'mash in this narration. There are those among the people of knowledge who disliked the price of a cat, and some of them permitted it. This is the view of Ahmad and Ishaq. It has been reported from Ibn Al-Fudail, from Al-A'mash, from Abu Hazim, from Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ), through other than this route
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے۔ بلی کی قیمت کے بارے میں یہ صحیح نہیں ہے، ۲- یہ حدیث اعمش سے مروی ہے انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور اس نے جابر سے، یہ لوگ اعمش سے اس حدیث کی روایت میں اضطراب کا شکار ہیں، ۳- اور ابن فضل نے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بطریق: «الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اہل علم کی ایک جماعت نے بلی کی قیمت کو ناجائز کہا ہے، ۵- اور بعض لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاَقًا ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abdullah bin 'Amr said; "The Messenger of Allah said:"The best of you are those best in conduct.' And the Prophet was not one who was obscene, nor one who uttered obscenities
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں بہتر ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بےحیاء اور بدزبان نہیں تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، صَاحِبِ مُعَاذٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Abu Bahriyyah, a Companion of Mu'adh bin Jabal narrated that the Prophet(s.a.w) said:"The great Malhamah, the conquest of Constantinople, and the coming of the Dajjal occur in (the span of) seven months
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ملحمہ عظمی ( بڑی لڑائی ) ، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال ( یہ تینوں واقعات ) سات مہینے کے اندر ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں صعب بن جثامہ، عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن مسعود اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، قَالَ صَلَّيْنَا خَلْفَ أَمِيرٍ مِنَ الأُمَرَاءِ فَاضْطَرَّنَا النَّاسُ فَصَلَّيْنَا بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ فَلَمَّا صَلَّيْنَا قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مَنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُصَفَّ بَيْنَ السَّوَارِي ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي ذَلِكَ ‏.‏
Abdul-Hamid bin Mahmud said:"We prayed behind one of the Amirs, the people compelled us such that we prayed between two columns. When we had prayed, Anas bin Malik said: 'We would be prevented from this during the time of Allah's Messenger
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم نے امراء میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبور کر دیا ۱؎ جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس سے بچتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں قرۃ بن ایاس مزنی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- علماء میں سے کچھ لوگوں نے ستونوں کے درمیان صف لگانے کو مکروہ جانا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، اور علماء کچھ نے اس کی اجازت دی ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيُسِرُّهُ فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ أَعْجَبَهُ ذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَهُ أَجْرَانِ أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلاَنِيَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ الأَعْمَشُ وَغَيْرُهُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَأَصْحَابُ الأَعْمَشِ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ إِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ أَنْ يُعْجِبَهُ ثَنَاءُ النَّاسِ عَلَيْهِ بِالْخَيْرِ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ فَيُعْجِبُهُ ثَنَاءُ النَّاسِ عَلَيْهِ لِهَذَا لِمَا يَرْجُو بِثَنَاءِ النَّاسِ عَلَيْهِ فَأَمَّا إِذَا أَعْجَبَهُ لِيَعْلَمَ النَّاسُ مِنْهُ الْخَيْرَ لِيُكْرَمَ عَلَى ذَلِكَ وَيُعَظَّمَ عَلَيْهِ فَهَذَا رِيَاءٌ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ رَجَاءَ أَنْ يُعْمَلَ بِعَمَلِهِ فَيَكُونَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ فَهَذَا لَهُ مَذْهَبٌ أَيْضًا ‏.‏
Abu Hurairah narrated that A man said:"O Messenger of Allah! A man does a deed and conceals it, but when it is discovered that he did it, he is happy about that." He said: " The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'He receives two rewards: A reward in its concealment, and a reward in its publicity
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آدمی نیک عمل کرتا ہے پھر اسے چھپاتا ہے لیکن جب لوگوں کو اس کی اطلاع ہو جاتی ہے تو وہ اسے پسند کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دو اجر ہیں ایک نیکی کے چھپانے کا اور دوسرا اس کے ظاہر ہو جانے کا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ۲- اعمش وغیرہ نے اس حدیث کو «حبيب بن أبي ثابت عن أبي صالح عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور اعمش کے شاگردوں نے اس میں «عن أبي هريرة» کا ذکر نہیں کیا، ۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس کے نیک عمل کے ظاہر ہو جانے پر لوگوں کے پسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی تعریف اور ثناء خیر کو وہ پسند کرتا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو“، یقیناً اسے لوگوں کی تعریف پسند آتی ہے کیونکہ اسے لوگوں کی تعریف سے آخرت کے خیر کی امید ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی لوگوں کے جان جانے پر اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اس کے نیک عمل کو جان کر لوگ اس کی تعظیم و تکریم کریں گے تو یہ ریا و نمود میں داخل ہو جائے گا، ۴- اور بعض اہل علم نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ لوگوں کے جان جانے پر وہ اس لیے خوش ہوتا ہے کہ نیک عمل میں لوگ اس کی اقتداء کریں گے اور اسے بھی ان کے اعمال میں اجر ملے گا تو یہ خوشی بھی مناسب ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلاَّ مَنْ هَدَيْتُهُ فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلاَّ مَنْ أَغْنَيْتُ فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ وَكُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلاَّ مَنْ عَافَيْتُ فَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي غَفَرْتُ لَهُ وَلاَ أُبَالِي وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا عَلَى أَشْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمُ اجْتَمَعُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مِنْكُمْ مَا سَأَلَ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي إِلاَّ كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِالْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهِ إِبْرَةً ثُمَّ رَفَعَهَا إِلَيْهِ ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أُرِيدُ عَطَائِي كَلاَمٌ وَعَذَابِي كَلاَمٌ إِنَّمَا أَمْرِي لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْتُهُ أَنْ أَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مَعْدِيكَرِبَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏
Abu Dharr narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Allah,Most High said: 'O My Slaves! All of you are astray except whom I guide, so ask Me for guidance and I shall guide you. All of you are poor except whom I enrich, so ask Me and I shall provide you. All of you are sinners except whom I have pardoned, so whoever among you knows that I am the One able to forgive, and seeks My forgiveness, I shall forgive him, without concern for Me (and it will not affect Me). If the first of you and the last of you, the living among you and the dead among you, the fresh among you and the dry among you were to gather together to help the heart with the most Taqwa among My slaves, that would not add a mosquito's wing to My sovereignty. If the first of you and the last of you, the living among you and the dead among you, the fresh among you and the dry among you were to gather together to help the worst heart of My slaves, that would not diminish a mosquito's wing to My sovereignty. I shall forgive him, without concern for Me (and it will not affect Me). If the first of you and the last of you, the living among you and the dead among you, the fresh among you and the dry among you were to gather together upon one plateau, and each person among them were to ask for his utmost desire, and I were to give each what he asked for, that would not diminish from My sovereignty, except as if one of you were to pass by an ocean and dip a needle into it and then remove it. That is because I am the Most Liberal without need, the Most Generous, doing as I will. I give by My speech and I punish by My speech, whenever I will something I only say: "Be" and it shall be.'" Another chain reports a similar narration
ابوذر غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، اس لیے تم سب مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا، اور تم سب کے سب محتاج ہو سوائے اس کے جسے میں غنی ( مالدار ) کر دوں، اس لیے تم مجھ ہی سے مانگو میں تمہیں رزق دوں گا، اور تم سب گنہگار ہو، سوائے اس کے جسے میں عافیت دوں سو جسے یہ معلوم ہے کہ میں بخشنے پر قادر ہوں پھر وہ مجھ سے مغفرت چاہتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار بندے کی طرح ہو جائیں تو بھی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر برابر اضافہ نہ ہو گا، اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب میرے بندوں میں سے سب سے زیادہ شقی و بدبخت کی طرح ہو جائیں تو بھی میری سلطنت میں ایک مچھر کے پر برابر کمی نہ ہو گی، اور اگر تمہارے اگلے اور پچھلے، تمہارے زندے اور مردے اور تمہارے خشک و تر سب ایک ہی زمین پر جمع ہو جائیں اور تم میں سے ہر انسان مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی آرزوئیں پہنچیں اور میں تم میں سے ہر سائل کو دے دوں تو بھی میری سلطنت میں کچھ بھی فرق واقع نہ ہو گا مگر اتنا ہی کہ تم میں سے کوئی سمندر کے کنارے سے گزرے اور اس میں ایک سوئی ڈبو کر نکال لے، اور ایسا اس وجہ سے ہے کہ میں سخی، بزرگ ہوں، جو چاہتا ہوں کرتا ہوں، میرا دینا صرف کہہ دینا، اور میرا عذاب صرف کہہ دینا ہے، کسی چیز کے لیے جب میں چاہتا ہوں تو میرا حکم یہی ہے کہ میں کہتا ہوں ”ہو جا“ بس وہ ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو بطریق: «عن شهر بن حوشب عن معدي كرب عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے۔
Narrated by Ali bin Abi Talib
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ خَاتِمِ الذَّهَبِ وَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنِ الْمِيثَرَةِ وَعَنِ الْجَعَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو الأَحْوَصِ وَهُوَ شَرَابٌ يُتَّخَذُ بِمِصْرَ مِنَ الشَّعِيرِ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated 'Ali bin Abi Talib:"The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited the gold ring, Al-Qassi, Al-Mitharah, and Al-Ji'ah (beer)
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ( مردوں کو ) سونے کی انگوٹھی پہننے سے، قسی کے ( ریشم ملے ہوئے ) کپڑے پہننے سے، زین پر رکھنے والی ریشمی گدیلے سے اور جَو کی نبیذ سے۔ ابوالا ٔحوص کہتے ہیں «جعه» ایک شراب ہے جو مصر میں جَو سے بنائی جاتی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Amr bin Dinar
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ بِيَدِهِ وَأَوْدَاجُهُ تَشْخُبُ دَمًا يَقُولُ يَا رَبِّ هَذَا قَتَلَنِي حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَذَكَرُوا لاِبْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ فَتَلاَ هَذِهِ الآيَةََ‏:‏ ‏(‏وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَبَّمُ‏)‏ قَالَ وَمَا نُسِخَتْ هَذِهِ الآيَةُ وَلاَ بُدِّلَتْ وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏
Narrated 'Amr bin Dinar:from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said: "On the Day of Judgement, the murdered will come with the murderer's scalp and his head in his hand, and his jugular vein flowing blood saying: 'O Lord! This one killed me!' Until he comes close to the Throne." So they mentioned repentance to Ibn 'Abbas, and he recited this Ayah: And whoever kills a believer intentionally then his recompense is Hell (4:93). He said: "This Ayah was not abrogated nor (its ruling) replaced so from where is his repentance?
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آ جائے گا، اس کی پیشانی اور سر مقتول کے ہاتھ میں ہوں گے، مقتول کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا، کہے گا: اے میرے رب! اس نے مجھے قتل کیا تھا، ( یہ کہتا ہوا ) اسے لیے ہوئے عرش کے قریب جا پہنچے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے ابن عباس رضی الله عنہما سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ۱؎ تلاوت کی، اور کہا کہ یہ آیت نہ منسوخ ہوئی ہے اور نہ ہی تبدیل، تو پھر اس کی توبہ کیوں کر قبول ہو گی؟ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو بعض راویوں نے عمر بن دینار کے واسطہ سے ابن عباس سے اسی طرح روایت کی ہے اس کو مرفوع نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا ��ُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ لاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلاَ تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Salim bin Abdullah bin Umar narrated :from his father, that when the Messenger of Allah (ﷺ) would hear the sound of thunder and lightning bolts, he would say: “O Allah, do not kill us with Your wrath, and do not destroy us with Your punishment, and pardon us before that (Allāhumma lā taqtulnā bi-ghaḍabika wa lā tuhliknā bi-`adhābika wa `āfinā qabla dhālik).”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بجلی کی گرج اور کڑک سنتے تو فرماتے: «اللهم لا تقتلنا بغضبك ولا تهلكنا بعذابك وعافنا قبل ذلك» ”اے اللہ! تو اپنے غضب سے ہمیں نہ مار، اپنے عذاب کے ذریعہ ہمیں ہلاک نہ کر، اور ایسے برے وقت کے آنے سے پہلے ہمیں بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated by Muhammad bin Sirin
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ مَا أَظُنُّ رَجُلاً يَنْتَقِصُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated Muhammad bin Sirin:"I don't think that a man who degrades Abu Bakr and 'Umar loves the Prophet (ﷺ)
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں سمجھتا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہو اور وہ ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی تنقیص کرے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ صَامَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ ‏:‏ ‏(‏مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ‏)‏ ‏.‏ الْيَوْمُ بِعَشَرَةِ أَيَّامٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي شِمْرٍ وَأَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Abu Dharr narrated:"The Messenger of Allah said: 'Whoever fasts three days in every month, then that is (similar to) fasting every day.' Then Allah Mighty and Sublime is He, attested to that in His Book, by revealing: Whoever brings a good deed, shall have ten times the like thereof. So a day is like ten
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو یہی صیام الدھر ہے“، اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ارشاد باری ہے: «من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها» ( الأنعام: ۱۶۰ ) ”جس نے ایک نیکی کی تو اسے ( کم سے کم ) اس کا دس گنا اجر ملے گا“ گویا ایک دن ( کم سے کم ) دس دن کے برابر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث بطریق: «أبي شمر وأبي التياح عن أبي عثمان عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ فَقَالَ ‏"‏ تَوَضَّئُوا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ‏.‏ وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوُا الْوُضُوءَ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏
Al-Bara bin Azib narrated:Allah's Messenger was asked about performing Wudu for camel meat. He said: "Perform Wudu for it." He Was asked about Wudu after eating goat meat. So he said: "Do not perform Wudu for it
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے وضو نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے دو حدیثیں صحیح ہیں: ایک براء بن عازب کی ( جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے ) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ۴- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ يَحْيَى وَالصَّوَابُ حَدِيثُ سُفْيَانَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي أَيُّوبَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَجَابِرٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي رِوَايَةِ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى إِسْرَائِيلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَخَالِدٍ ابْنَىْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ وَحَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَيْضًا رَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ‏.‏ وَأَمَّا أَبُو إِسْحَاقَ فَرَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَخَالِدٍ ابْنَىْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لأَنَّهُ لاَ تُصَلَّى صَلاَةُ الْمَغْرِبِ دُونَ جَمْعٍ فَإِذَا أَتَى جَمْعًا وَهُوَ الْمُزْدَلِفَةُ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ فِيمَا بَيْنَهُمَا وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَذَهَبَ إِلَيْهِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَإِنْ شَاءَ صَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ تَعَشَّى وَوَضَعَ ثِيَابَهُ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ يُؤَذِّنُ لِصَلاَةِ الْمَغْرِبِ وَيُقِيمُ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ ثُمَّ يُقِيمُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى إِسْرَائِيلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَخَالِدٍ ابْنَيْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَحَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَيْضًا رَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَأَمَّا أَبُو إِسْحَقَ فَرَوَاهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَخَالِدٍ ابْنَيْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ
(Another chain) that Sa'eed bin Jubair narrated :Similarly from Ibn Umar, from the Prophet
اس سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ محمد بن بشار نے ( «حدثنا» کے بجائے ) «قال یحییٰ» کہا ہے۔ اور صحیح سفیان والی روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث جسے سفیان نے روایت کی ہے اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، اور سفیان کی حدیث صحیح حسن ہے، ۲- اسرائیل نے یہ حدیث ابواسحاق سبیعی سے روایت کی ہے اور ابواسحاق سبیعی نے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور عبداللہ اور خالد نے ابن عمر سے روایت کی ہے۔ اور سعید بن جبیر کی حدیث جسے انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، سلمہ بن کہیل نے اسے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے، رہے ابواسحاق سبیعی تو انہوں نے اسے مالک کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور خالد سے اور ان دونوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، ابوایوب، عبداللہ بن سعید، جابر اور اسامہ بن زید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس لیے کہ مغرب مزدلفہ آنے سے پہلے نہیں پڑھی جائے گی، جب حجاج جمع ۱؎ یعنی مزدلفہ جائیں تو دونوں نمازیں ایک اقامت سے اکٹھی پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھیں گے۔ یہی مسلک ہے جسے بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے اور اس کی طرف گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری کا بھی قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ چاہے تو مغرب پڑھے پھر شام کا کھانا کھائے، اور اپنے کپڑے اتارے پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کو مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ جمع کرے۔ مغرب کے لیے اذان کہے اور تکبیر کہے اور مغرب پڑھے، پھر تکبیر کہے اور عشاء پڑھے یہ شافعی کا قول ہے۔