بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
14 hadith
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدٍ، وَهُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ فِي الْجَنَائِزِ حَتَّى تُوضَعَ فَقَالَ عَلِيٌّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَعَدَ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِيهِ رِوَايَةُ أَرْبَعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ ‏.‏ وَهَذَا الْحَدِيثُ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏ "‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ إِنْ شَاءَ قَامَ وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَقُمْ ‏.‏ وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَامَ ثُمَّ قَعَدَ ‏.‏ وَهَكَذَا قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى مَعْنَى قَوْلِ عَلِيٍّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ ‏.‏ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى الْجَنَازَةَ قَامَ ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ بَعْدُ فَكَانَ لاَ يَقُومُ إِذَا رَأَى الْجَنَازَةَ ‏.‏
Mas'ud bin Al-Hakim narrated that standing for the funeral (procession) until it is put down was mentioned, and 'Ali bin Abi Talib mentioned and 'Ali bin Abi Talib said:"The Messenger of Allah (ﷺ) stood, then (later) he sat". (Sahih) There are narrations on this topic from Al-Hasan bin 'Ali, and Ibn 'Abbas. Abu Eisa said: The Hadith of 'Ali is a Hasan Sahih Hadith, regarding which there are narrations from four of the Tabi'in narrating it from each other. This is acted upon according to some of the people of knowledge. Ash-Shafi'i said: "This is the most correct thing on this topic" This Hadith abrogates first Hadith: "Whenever you see a funeral (procession), stand up [for it]." Ahmad said: "If he wants, he stands, and if he wants, he does not stand." His proof is that it has been reported that the Prophet (ﷺ) stood, then sat, and this is what Ishaq bin Ibrahim said. (Abu Eisa said:) As for the saying of 'Ali: The Prophet (ﷺ) stood for the funeral and then sat, he means that the Prophet (ﷺ) would stand when he saw a funeral (procession), then he did not do so later, so he would not stand when he saw the funeral (procession)
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک کہ وہ رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو علی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہتے تھے پھر آپ بیٹھنے لگے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس میں چار تابعین کی روایت ہے جو ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں، ۳- شافعی کہتے ہیں: اس باب میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ یہ حدیث پہلی حدیث ”جب تم جنازہ دیکھو، تو کھڑے ہو جاؤ“ کی ناسخ ہے، ۴- اس باب میں حسن بن علی اور ابن عباس سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۶- احمد کہتے ہیں کہ چاہے تو کھڑا ہو جائے اور چاہے تو کھڑا نہ ہو۔ انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے۔ اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۷- علی رضی الله عنہ کے قول ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنازے کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے پھر آپ بیٹھے رہنے لگے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہو جاتے پھر بعد میں آپ اس سے رک گئے۔ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے ) ۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ، فَقَالَ أَنَسٌ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ إِنَّ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِكُمُ الْحِجَامَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ فِي كَسْبِ الْحَجَّامِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ‏.‏
Narrated Anas: "The Messenger of Allah (ﷺ) was cupped. Abu Talhah did the cupping. So he ordered that he be given two Sa' of food, and he spoke to his masters to reduce his taxes. He said: 'The most virtuous of what you treat with is cupping.' Or, he said: 'The best of your treatments is cupping.'" [He said:] There are narrations on this topic from 'Ali, Ibn 'Abbas, and Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Anas is a Hasan Sahih. Some of the people of knowledge among the Companions of the Prophet (ﷺ), and others permitted paying the cupper. This is the view of Ash-Shafi'i
حمید کہتے ہیں کہ انس رضی الله عنہ سے پچھنا لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انس رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ کو پچھنا لگانے والے ابوطیبہ تھے، تو آپ نے انہیں دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے بات کی، تو انہوں نے ابوطیبہ کے خراج میں کمی کر دی اور آپ نے فرمایا: ”جن چیزوں سے تم دوا کرتے ہو ان میں سب سے افضل پچھنا ہے“ یا فرمایا: ”تمہاری بہتر دواؤں میں سے پچھنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳ – صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے پچھنا لگانے والے کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْءٍ إِلاَّ شَانَهُ وَمَا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْءٍ إِلاَّ زَانَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ‏.‏
Anas narrated that the Messenger of Allah said:"Al-Fuhsh is not present in anything but it mars it, and Al-Haya' is not present in anything but it beautifies it
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں بھی بےحیائی آتی ہے اسے عیب دار کر دیتی ہے اور جس چیز میں حیاء آتی ہے اسے زینت بخشتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سُبَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الدَّجَّالُ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَوْذَبٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي التَّيَّاحِ ‏.‏
Abu Bakr As-Siddiq said:"The Messenger of Allah(s.a.w) narrated to us, saying: 'The Dajjal shall emerge from a land in the east called Khurasan. He is followed by a people whom appear as if their f aces are shields coated with leather
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”دجال مشرق ( پورب ) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لِيَلِيَنِي مِنْكُمْ أُولُو الأَحْلاَمِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَلاَ تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الأَسْوَاقِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَالْبَرَاءِ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ ‏.‏ قَالَ وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ هُوَ خَالِدُ بْنُ مِهْرَانَ يُكْنَى أَبَا الْمُنَازِلِ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ يُقَالُ إِنَّ خَالِدًا الْحَذَّاءَ مَا حَذَا نَعْلاً قَطُّ إِنَّمَا كَانَ يَجْلِسُ إِلَى حَذَّاءٍ فَنُسِبَ إِلَيْهِ ‏.‏ قَالَ وَأَبُو مَعْشَرٍ اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ ‏.‏
Abdullah (Ibn Masud) narrated that :the Prophet said: "Let those among you with understanding and reason be close to me, then those after them, then those after them. And do not separate or dissention will occur among your hearts, and beware of the commotion of the markets
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہیئے، پھر وہ جو ( عقل و دانش میں ) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، تم آگے پیچھے نہ ہونا کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی، اور اپنے آپ کو بازار کے شور و غوغا سے بچائے رکھنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابومسعود، ابوسعید، براء، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوتے کہ مہاجرین اور انصار آپس میں قریب قریب رہیں تاکہ وہ آپ سے ( سیکھے ہوئے مسائل ) محفوظ رکھ سکیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنِي الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي مُعَانٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا جُبُّ الْحُزْنِ قَالَ ‏"‏ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَدْخُلُهُ قَالَ ‏"‏ الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Seek refuge in Allah from the Pit of Sorrows." They said: "O Messenger of Allah! What is the Pit of Sorrows?" He said: "gorge in Hell from which Hell seeks Allah's refuge a Hundred times every day." It was said: "O Messenger of Allah! Who shall enter it?" He said: "The reciters who were showing off with their deeds
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «جب الحزن» ( غم کی وادی ) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے“، پھر صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ریاکار قراء ( اس میں داخل ہوں گے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغِفَارِيُّ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ نَشَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ كَنَفَهُ وَأَدْخَلَهُ جَنَّتَهُ رِفْقٌ بِالضَّعِيفِ وَشَفَقَةٌ عَلَى الْوَالِدَيْنِ وَإِحْسَانٌ إِلَى الْمَمْلُوكِ ‏"‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْمُنْكَدِرِ هُوَ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ‏.‏
Abu Bakr bin Al-Munkadir narrated from Jabir that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"There are three (characteristics) for which whomever has them,Allah will expose His side,and admit him to Paradise:Being courteous to the guest,kind to parents,and doing good for slaves
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین خصلتیں ایسی ہیں کہ یہ جس کے اندر پائی جائیں تو قیامت کے روز اللہ اپنی رحمت کے سایہ تلے رکھے گا، اور اسے اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ ( ۱ ) ضعیفوں کے ساتھ نرم برتاؤ کرے ( ۲ ) ماں باپ کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرے، ( ۳ ) لونڈیوں اور غلاموں پر احسان کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Abdullah bin 'Amr
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَرَّ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَحْمَرَانِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِ السَّلاَمَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ كَرِهُوا لُبْسَ الْمُعَصْفَرِ وَرَأَوْا أَنَّ مَا صُبِغَ بِالْحُمْرَةِ بِالْمَدَرِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُعَصْفَرًا ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin 'Amr:"A man passed by while wearing two red garments. He gave Salam to the Prophet (ﷺ) but he did not return the Salam
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص سرخ رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے گزرا۔ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس حدیث سے اہل علم کے نزدیک مراد یہ ہے کہ وہ زرد رنگ میں رنگا ہوا کپڑا پہننا مکروہ سمجھتے ہیں۔ اور جو کپڑا گیروے رنگ وغیرہ میں رنگا جائے اس کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جب کہ وہ کسم کا نہ ہو ( یعنی زرد رنگ کا نہ ہو ) ۔
Narrated by Abdullah bin Yazid
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الآيَةِ ‏:‏ ‏(‏ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ ‏)‏ قَالَ رَجَعَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ أُحُدٍ ‏.‏ فَكَانَ النَّاسُ فِيهِمْ فَرِيقَيْنِ فَرِيقٌ يَقُولُ اقْتُلْهُمْ ‏.‏ وَفَرِيقٌ يَقُولُ لاَ ‏.‏ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏:‏ ‏(‏ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ ‏)‏ وَقَالَ ‏"‏ إِنَّهَا طِيبَةُ وَقَالَ إِنَّهَا تَنْفِي الْخَبِيثَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ هُوَ الأَنْصَارِيُّ الْخَطْمِيُّ وَلَهُ صُحْبَةٌ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Yazid:from Zaid bin Thabit that he heard about this Ayah: Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites? (4:88) He said: "People among the Companions of the Prophet (ﷺ) returned on the Day of Uhud and there were two parties among them, a group who said: 'Kill them,' and a group that say not to. So Allah revealed this Ayah: Then what is the matter with you that you are divided into two parties about the hypocrites? (4:88) So he said: "Indeed it is Taibah (Al-Madinah). And he said: 'It expels filth from it just like the fire expels filth from iron
عبداللہ بن یزید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ آیت: «فما لكم في المنافقين فئتين» کی تفسیر کے سلسلے میں کہتے ہیں احد کی لڑائی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ( ساتھی یعنی منافق میدان جنگ سے ) لوٹ آئے ۱؎ تو لوگ ان کے سلسلے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ نے کہا: انہیں قتل کر دو، اور دوسرے فریق نے کہا: نہیں، قتل نہ کرو تو یہ آیت «فما لكم في المنافقين فئتين» ۱؎ نازل ہوئی، اور آپ نے فرمایا: ”مدینہ پاکیزہ شہر ہے، یہ ناپاکی و گندگی کو ( إن شاء اللہ ) ایسے دور کر دے گا جیسے آگ لوہے کی ناپاکی ( میل و زنگ ) کو دور کر دیتی ہے۔ ( یہ منافق یہاں رہ نہ سکیں گے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبداللہ بن یزید انصاری خطمی ہیں اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَأَى الرِّيحَ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا فِيهَا وَخَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ رضى الله عنه وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Aishah [may Allah be pleased with her] narrates, saying:“When the Prophet (ﷺ) would see the wind he would say: ‘O Allah, indeed, I ask You for its good, the good of what is in it, and the good of what it has been sent with. And I seek refuge in You from its evil, the evil of what is in it, and the evil of what it has been sent with (Allāhumma innī as’aluka min khairihā wa khairi mā fīhā, wa khairi mā ursilat bihī, wa a`ūdhu bika min sharrihā wa sharri mā fīhā, wa sharri mā ursilat bih).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہوا چلتی ہوئی دیکھتے تو کہتے: «‏‏‏‏اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں، اور جو خیر اس میں ہے وہ چاہتا ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر اس میں چھپا ہوا ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابی بن کعب سے بھی روایت ہے اور یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ عُمَرُ لأَبِي بَكْرٍ يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ‏.‏
Narrated Jabir bin 'Abdullah:that 'Umar said to Abu Bakr: "O best of people after the Messenger of Allah (ﷺ)!" So Abu Bakr said: "If you say that, then I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The sun has not risen upon a man better than 'Umar
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر نے ابوبکر رضی الله عنہما سے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر انسان! اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: سنو! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَامٍ، يُحَدِّثُ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَصُمْ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي عَقْرَبٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ وَقَتَادَةَ بْنِ مِلْحَانَ وَعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِي وَجَرِيرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ أَنَّ ‏"‏ مَنْ صَامَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ كَانَ كَمَنْ صَامَ الدَّهْرَ ‏"‏ ‏.‏
Abu Dharr narrated that :the Messenger of Allah said: "O Abu Dharr! When you fast three days out of a month, then fast the thirteenth, fourteenth, and fifteenth
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! جب تم ہر ماہ کے تین دن کے روزے رکھو تو تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوقتادہ، عبداللہ بن عمرو، قرہ بن ایاس مزنی، عبداللہ بن مسعود، ابوعقرب، ابن عباس، عائشہ، قتادہ بن ملحان، عثمان بن ابی العاص اور جریر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض احادیث میں یہ بھی ہے کہ ”جس نے ہر ماہ تین دن کے روزے رکھے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے صوم الدھر رکھا“۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، سَمِعَ جَابِرًا، ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَذَبَحَتْ لَهُ شَاةً فَأَكَلَ وَأَتَتْهُ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ لِلظُّهْرِ وَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَتْهُ بِعُلاَلَةٍ مِنْ عُلاَلَةِ الشَّاةِ فَأَكَلَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي رَافِعٍ وَأُمِّ الْحَكَمِ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ وَأُمِّ عَامِرٍ وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ وَأُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَلاَ يَصِحُّ حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ إِنَّمَا رَوَاهُ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَالصَّحِيحُ إِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ هَكَذَا رَوَى الْحُفَّاظُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ رَأَوْا تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏.‏ وَهَذَا آخِرُ الأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ نَاسِخٌ لِلْحَدِيثِ الأَوَّلِ حَدِيثِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ‏.‏
Jabir narrated:"Allah's Messenger went out and I went with him. He entered upon a woman from the Ansar. She slaughtered a sheep and he ate from it; and she brought a basket with ripe dates and he ate from it. Then he performed Wudu for Zuhr and prayed. Then he finished, so she brought him something from the remainder of the sheep. So he ate it, then prayed Asr and did not perform Wudu
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ( مدینہ میں ) نکلے، میں آپ کے ساتھ تھا، آپ ایک انصاری عورت کے پاس آئے، اس نے آپ کے لیے ایک بکری ذبح کی آپ نے ( اسے ) تناول فرمایا، وہ تر کھجوروں کا ایک طبق بھی لے کر آئی تو آپ نے اس میں سے بھی کھایا، پھر ظہر کے لیے وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھی، آپ نے واپس پلٹنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ وہ بکری کے بچے ہوئے گوشت میں سے کچھ گوشت لے کر آئی تو آپ نے ( اسے بھی ) کھایا، پھر آپ نے عصر کی نماز پڑھی اور ( دوبارہ ) وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس، ابوہریرہ، ابن مسعود، ابورافع، ام الحکم، عمرو بن امیہ، ام عامر، سوید بن نعمان اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ابوبکر کی وہ حدیث جسے ابن عباس نے ان سے روایت کیا ہے سنداً ضعیف ہے ابن عباس کی مرفوعاً حدیث زیادہ صحیح ہے اور حفاظ نے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ ۲- صحابہ کرام تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم مثلاً سفیان ثوری ابن مبارک شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا اسی پر عمل ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو واجب نہیں، اور یہی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا آخری فعل ہے، گویا یہ حدیث پہلی حدیث کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ آگ کی پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، صَلَّى بِجَمْعٍ فَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَقَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَ مِثْلَ هَذَا فِي هَذَا الْمَكَانِ ‏.‏
Abdullah bin Malik narrated:"Ibn Umar prayed at Jam (Muzdalifah), so he combined two prayers with the Iqamah, and he said: 'I saw the Messenger of Allah doing the same as this at the place
عبداللہ بن مالک کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما نے مزدلفہ میں نماز پڑھی اور ایک اقامت سے مغرب اور عشاء کی دونوں نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھیں اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ پر ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۱؎۔