حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ فَقَامَ وَسَطَهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ .
Samurah bin Jundab narrated:"The Prophet prayed over a woman, so he stood at her middle
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت ۱؎ کی نماز جنازہ پڑھائی، تو آپ اس کے بیچ میں یعنی اس کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے بھی اسے حسین المعلم سے روایت کیا ہے۔
Narrated by Abdullah bin Mas'ud
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . فَقَالَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فِيَّ وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلَكَ بَيِّنَةٌ " . قُلْتُ لاَ . فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ " احْلِفْ " . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفَ فَيَذْهَبَ بِمَالِي . فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً ) . إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ وَأَبِي مُوسَى وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ الأَنْصَارِيِّ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ . وَحَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever takes a false oath to deprive a Muslim of his wealth, he will meet Allah while He is angry with him." Al-Ash'ath bin Qais said: "It is about me, by Allah! There was a dispute about some land between myself and a man from the Jews who denied my ownership of it, so I took him to the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Do you have any proof ?' I said: 'No'. So he said to Jew: 'Take an oath.' I said: 'O Messenger of Allah! If he takes an oath then my property will be gone!' So Allah, Most High revealed: Verily those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths.. until the end of the Ayah." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Wa'il bin Hujr, Abu Musa, Abu Umamah bin Tha'labah Al-Ansari, and 'Imran bin Husain. The Hadith of Ibn Mas'ud is a Hasan Sahih Hadith
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا“۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ نے میرے سلسلے میں یہ حدیث بیان فرمائی تھی۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصے کا انکار کیا تو میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پاس لے گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”اور جو لوگ اللہ کے قرار اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑا سا مول حاصل کرتے ہیں…“ ( آل عمران: ۷۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، ابوموسیٰ، ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ مَنْ يَرِثُكَ قَالَ أَهْلِي وَوَلَدِي . قَالَتْ فَمَا لِي لاَ أَرِثُ أَبِي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ نُورَثُ " . وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعُولُهُ وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُنْفِقُ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعْدٍ وَعَائِشَةَ . وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ إِنَّمَا أَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلاَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ . وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ .
Narrated Abu Hurairah: "Fatimah came to Abu Bakr and said: 'Who will inherit from you?' He said: 'My family and my son.' She said: 'So what about me? I do not get inheritance from my father?' So Abu Bakr said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'We are not inherited from' but I support those whom the Messenger of Allah (ﷺ) used to support, and I spend upon those whom the Messenger of Allah (ﷺ) spent upon." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Umar, Talhah, Az-Zubair, 'Abdur-Rahman bin 'Awf, Sa'd and 'Aishah. The Hadith of Abu Hurairah is Hasan Gharib from this route. It is only reported with a chain by Hammad bin Salamah and 'Abdul Wahhab bin 'Ata, from Muhammad bin 'Amr, from Abu Salamah, from Abu Hurairah. I asked Muhammad about this Hadith and he said: "No one is known to have reported it from Muhammad bin 'Amr, from Abu Salamah, from Abu Hurairah except from Hammad bin Salamah. 'Abdul Wahhab bin 'Ata reported it from Muhammad bib 'Amr, from Abu Salamah, and from Abu Hurairah and it is similar to the narration of Hammad bin Salamah. And this Hadith has been reported through other routes from Abu Bakr As-Siddiq, from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا نے ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا: آپ کی وفات کے بعد آپ کا وارث کون ہو گا؟ انہوں نے کہا: میرے گھر والے اور میری اولاد، فاطمہ رضی الله عنہا نے کہا: پھر کیا وجہ ہے کہ میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں؟ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”ہم ( انبیاء ) کا کوئی وارث نہیں ہوتا“ ( پھر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا ) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کی کفالت کرتے تھے ہم بھی اس کی کفالت کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس پر خرچ کرتے تھے ہم بھی اس پر خرچ کریں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اسے حماد بن سلمہ اور عبدالوہاب بن عطاء نے مسنداً روایت کیا ہے یہ دونوں اور محمد بن عمر سے اور محمد ابوسلمہ سے، اور ابوسلمہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں کہا: میں حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس حدیث کو محمد بن عمرو سے محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہو۔ ( ترمذی کہتے ہیں: ہاں ) عبدالوہاب بن عطاء نے بھی محمد بن عمرو سے اور محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عمر، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Sa'eed - who is 'Abdullah bin Busr
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الأَنْمَارِيَّ، يَقُولُ كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بُطْحًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ . وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةٌ .
Narrated Abu Sa'eed - who is 'Abdullah bin Busr: "I heard Abu Kabshah Al-Anmari saying: 'The Kimam (caps) of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) were Buthan (stretched over the head).'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Munkar, 'Abdullah bin Busr is from Al-Basrah, and he is weak according to the people of Hadith. Yahya bin Sa'eed and others graded him weak. Buthun means expansive
ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث منکر ہے، ۲- عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے، ۳- «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَاضْرِبُوا الْهَامَ تُورَثُوا الْجِنَانَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ وَشُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Narrated Abu Hurairah: That the Prophet (ﷺ) said: "Spread the (greetings of) Salam, feed others, strike the heads (of the enemy disbelievers); you will inherit Paradise." He said: There are narrations on this topic from 'Abdullah bin 'Amr, Ibn 'Umar, Anas, 'Abdus-Salam, 'Abdur-Rahman bin 'Aish, and Shuraih bin Hani' from his father. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib as a narration of [Ibn Ziyad] from Abu Hurairah
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلام کو عام کرو اور اسے پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور کافروں کا سر مارو ( یعنی ان سے جہاد کرو ) جنت کے وارث بن جاؤ گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے ابن زیاد کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابن عمر، انس، عبداللہ بن سلام، عبدالرحمٰن بن عائش اور شریح بن ہانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، شریح بن ہانی نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Mas'ud Al-Ansari narrated that the Messenger of Allah said:"A man's spending on his family is charity
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عمرو بن امیہ ضمری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَجَّتَهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاَةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ . قَالَ فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ وَانْحَرَفَ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي أُخْرَى الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ فَقَالَ " عَلَىَّ بِهِمَا " . فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا فَقَالَ " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا " . فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا . قَالَ فَلاَ تَفْعَلاَ إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلِّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ مِحْجَنٍ الدِّيلِيِّ وَيَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ قَالُوا إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ وَحْدَهُ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّهُ يُعِيدُ الصَّلَوَاتِ كُلَّهَا فِي الْجَمَاعَةِ وَإِذَا صَلَّى الرَّجُلُ الْمَغْرِبَ وَحْدَهُ ثُمَّ أَدْرَكَ الْجَمَاعَةَ قَالُوا فَإِنَّهُ يُصَلِّيهَا مَعَهُمْ وَيَشْفَعُ بِرَكْعَةٍ . وَالَّتِي صَلَّى وَحْدَهُ هِيَ الْمَكْتُوبَةُ عِنْدَهُمْ .
Jabir hin Yazid hin Al-Aswad [Al-Amir] narrated that his father said:"I attended Hajj with the Prophet. I prayed the Subh (Fajr) prayer with him in Masjid AI-Khaif." He said: "When the Prophet finished, he turned (from the Qiblah) and saw two men at the back of the people who had not prayed with him. He said, 'Bring them to me.' So I brought then while they were shuddering with fear. He said: 'What prevented you from praying with us?" They said: 'O Messenger of Allah!' We prayed at our camp.' So he said: 'Do not do that; when you pray in your camp then you come to a Masjid with a congregation, then pray with them. That will be a voluntary prayer for you
یزید بن اسود عامری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک رہا۔ میں نے آپ کے ساتھ مسجد خیف میں فجر پڑھی، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہماری طرف مڑے تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے آخر میں ( سب سے پیچھے ) دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے فرمایا: ”انہیں میرے پاس لاؤ“، وہ لائے گئے، ان کے مونڈھے ڈر سے پھڑک رہے تھے۔ آپ نے پوچھا: ”تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”ایسا نہ کیا کرو، جب تم اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو پھر مسجد آؤ جس میں جماعت ہو رہی ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی پڑھ لو ۱؎ یہ تمہارے لیے نفل ہو جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یزید بن اسود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں محجن دیلی اور یزید بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کئی لوگوں کا یہی قول ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب آدمی تنہا نماز پڑھ چکا ہو پھر اسے جماعت مل جائے تو وہ جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لے۔ اور جب آدمی تنہا مغرب پڑھ چکا ہو پھر جماعت پائے تو وہ ان کے ساتھ نماز پڑھے اور ایک رکعت اور پڑھ کر اسے جفت بنا دے، اور جو نماز اس نے تنہا پڑھی ہے وہی ان کے نزدیک فرض ہو گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ جَهْجَاهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"The night and the day shall not go away until a man called Jahjah among the Mawali reigns
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رات اور دن اس وقت تک باقی رہیں گے ( یعنی قیامت نہیں آئے گی ) یہاں تک کہ جہجاہ نامی ایک غلام بادشاہت کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، وَكَانَتْ، تَحْتَ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ مَنْ أَصَابَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَرُبَّ مُتَخَوِّضٍ فِيمَا شَاءَتْ بِهِ نَفْسُهُ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ لَيْسَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلاَّ النَّارُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو الْوَلِيدِ اسْمُهُ عُبَيْدُ سَنُوطَى
Khawlah bint Qais, who was the wife of Hamzah bin 'Abdul-Muttalib narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Indeed this wealth is green and sweet. Whoever gets what he deserves of it then he shall be blessed in it. And many a person who deals with what he wants for himself, from the wealth of Allah and His Messenger, gets nothing on the Day of Judgment but the Fire
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ۱؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام و ناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ الأَعْرَابِيِّ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ وَقِيلَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لأَنْظُرَ إِلَيْهِ فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ وَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ " أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِسَلاَمٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
Abdullah bin Salam said:"When the Messenger of Allah (s.a.w) arrived- meaning in Al-Madinah – the people came out to meet him. It was said that the Messenger of Allah (s.a.w) had arrived, so I went among the people to get a look at him. When I gazed upon the face of the Messenger of Allah (s.a.w), I knew that this face was not the face of a liar. The first thing that he spoke about was that he said: 'O you people! Spread the Salam, feed(others), and perform Salat while the people are sleeping; you will enter Paradise with(the greeting of) Salam.'” (Sahih)
عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، اللہ کے رسول آ گئے، چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ آیا تاکہ آپ کو دیکھوں، پھر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، اور سب سے پہلی بات جو آپ نے کہی وہ یہ تھی ”لوگو! سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھو، تم لوگ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Narrated by Abu Az-Zinad
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جَرْهَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِهِ وَهُوَ كَاشِفٌ عَنْ فَخِذِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " غَطِّ فَخِذَكَ فَإِنَّهَا مِنَ الْعَوْرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Narrated Abu Az-Zinad:"Ibn Jarhad informed me from his father, that the Prophet (ﷺ) passed by him while his thigh was exposed, so the Prophet (ﷺ) said: 'Cover your thigh, for indeed it is 'Awrah
جرہد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ اپنی ران کھولے ہوئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ران ڈھانپ لو کیونکہ یہ ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated by Abdur-Rahman bin Abi Bakrah
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، - بَصْرِيٌّ - حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ " . قَالَ وَجَلَسَ وَكَانَ مُتَّكِئًا قَالَ " وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ " . قَالَ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُهَا حَتَّى قُلْنَا لَيْتَهُ سَكَتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah:from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Shall I not narrate to you about the worst of the major sins?" They said: "Of course O Messenger of Allah!" He said: "Associating others with Allah and disobeying the parents." He said: "And he sat reclining and said: 'The false testimony.' Or he said: 'The false statement.'" He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) would not stop saying it until we said (to ourselves): 'If he would only stop
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بڑے سے بڑا گناہ نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شریک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر اٹھ بیٹھے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی دینا، یا جھوٹی بات کہنا“، آپ یہ بات باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم اپنے جی میں کہنے لگے کاش آپ خاموش ہو جاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ " آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَصَحُّ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسٍ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ .
Ar-Rabi` bin Al-Bara’ bin `Azib reported from, his father:That whenever the Prophet (ﷺ) would return from a trip, he would say: “(We are) Returning, repenting, worshipping, and to our Lord directing the praise (Ā’ibūna tā’būna `ābidūna lirabbinā ḥāmidūn).”
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ” ( ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے ) واپس آنے والے ہیں، ہم ( اپنے رب کے حضور ) توبہ کرنے والے ہیں، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثوری نے یہ حدیث ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے براء سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں ربیع ابن براء کا ذکر نہیں کیا ہے، اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح و درست ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر، انس اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Zaid bin Aslam
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالاً فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا قَالَ فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ " . قُلْتُ مِثْلَهُ وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ " يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لأَهْلِكَ " . قَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قُلْتُ وَاللَّهِ لاَ أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Zaid bin Aslam:"I heard 'Umar bin Al-Khattab saying: 'We were ordered by the Messenger of Allah (ﷺ) to give in charity, and that coincided with a time in which I had some wealth, so I said, "Today I will beat Abu Bakr, if ever I beat him."' So I came with half of my wealth, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What did you leave for your family?" I said: "The like of it." And Abu Bakr came with everything he had, so he said: "O Abu Bakr! What did you leave for your family?" He said: "I left Allah and His Messenger for them." I said: '[By Allah] I will never be able to beat him to something
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے ( دل میں ) کہا: اگر میں ابوبکر رضی الله عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اتنا ہی ( ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں ) اور ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ”ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا غَالِبٌ أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ الطَّائِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أُعِيذُكَ بِاللَّهِ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ مِنْ أُمَرَاءَ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي فَمَنْ غَشِيَ أَبْوَابَهُمْ فَصَدَّقَهُمْ فِي كَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلاَ يَرِدُ عَلَىَّ الْحَوْضَ وَمَنْ غَشِيَ أَبْوَابَهُمْ أَوْ لَمْ يَغْشَ فَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ فِي كَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَىَّ الْحَوْضَ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّلاَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ . يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لاَ يَرْبُو لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ إِلاَّ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى . وَأَيُّوبُ بْنُ عَائِذٍ الطَّائِيُّ يُضَعَّفُ وَيُقَالُ كَانَ يَرَى رَأْىَ الإِرْجَاءِ . وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى وَاسْتَغْرَبَهُ جِدًّا .
Ka'b bin Ujrah narrated:"The Messenger of Allah said to me: 'I seek refuge in Allah for you O Ka'b bin Ujrah from leader that will be after me. Whoever comes to their doors to approve of their lies and supports them in their oppression, then he is not of me and I am not of him, and he will not meet me at the Hawd. And whoever comes to their doors, or he does not come, and he does not approve of their lies and he does not support them in their oppression, then he is from me and I am from him, and he will meet me at the Hawd. Ka'ab bin Ujrah! Salat is clear proof, and Sawm (fasting) is an impregnable shield, and Sadaqah (charity) extinguishes sins just as water extinguishes fire. O Ka'b bin Ujrah! There is no flesh raised that sprouts from the unlawful except that the Fire is more appropriate for it
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب بن عجرہ! میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ایسے امراء و حکام سے جو میرے بعد ہوں گے، جو ان کے دروازے پر گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم پر ان کا تعاون کیا، تو وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ حوض پر میرے پاس آئے گا۔ اور جو کوئی ان کے دروازے پر گیا یا نہیں گیا لیکن نہ جھوٹ میں ان کی تصدیق کی، اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ وہ عنقریب حوض کوثر پر میرے پاس آئے گا۔ اے کعب بن عجرہ! صلاۃ دلیل ہے، صوم مضبوط ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اے کعب بن عجرہ! جو گوشت بھی حرام سے پروان چڑھے گا، آگ ہی اس کے لیے زیادہ مناسب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن موسیٰ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ایوب بن عائذ طائی ضعیف گردانے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ مرجئہ جیسے خیالات رکھتے تھے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو وہ اسے صرف عبیداللہ بن موسیٰ ہی کی سند سے جانتے تھے اور انہوں نے اسے بہت غریب حدیث جانا ۱؎۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ عَلَيْهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ وَزَيْنَبَ وَلُبَابَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ أُمُّ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبِي السَّمْحِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي لَيْلَى وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِثْلِ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالُوا يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلاَمِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ وَهَذَا مَا لَمْ يَطْعَمَا فَإِذَا طَعِمَا غُسِلاَ جَمِيعًا .
Umm Qais bin Mihsan narrated:"I entered upon the Prophet with a son of mine who was not yet eating food. He urinated on him, so he called for water which he sprinkled over it
ام قیس بنت محصن رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئی، وہ ابھی تک کھانا نہیں کھاتا تھا ۱؎، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اسے اس پر چھڑک لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ، زینب، فضل بن عباس کی والدہ لبابہ بنت حارث، ابوالسمح، عبداللہ بن عمرو، ابولیلیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں کا یہی قول ہے کہ بچے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے اور بچی کا پیشاب دھویا جائے، اور یہ حکم اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ دونوں کھانا نہ کھانے لگ جائیں، اور جب وہ کھانا کھانے لگ جائیں تو بالاتفاق دونوں کا پیشاب دھویا جائے گا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ وَهِنْدِ بْنِ أَسْمَاءَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَالرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ عَمِّهِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ذَكَرُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ حَثَّ عَلَى صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى لاَ نَعْلَمُ فِي شَيْءٍ مِنَ الرِّوَايَاتِ أَنَّهُ قَالَ " صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ كَفَّارَةُ سَنَةٍ " . إِلاَّ فِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ . وَبِحَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
Abu Qatadah narrated that :the Prophet said: "Fast the Day of Ashura, for indeed I anticipate that Allah will forgive (the sins of) the year before it
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ عاشوراء ۱؎ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، محمد بن صیفی، سلمہ بن الاکوع، ہند بن اسماء، ابن عباس، ربیع بنت معوذ بن عفراء، عبدالرحمٰن بن سلمہ خزاعی، جنہوں نے اپنے چچا سے روایت کی ہے اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کے روزہ رکھنے پر ابھارا، ۲- ابوقتادہ رضی الله عنہ کی حدیث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی اور روایت میں آپ نے یہ فرمایا ہو کہ عاشوراء کے دن کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ احمد اور اسحاق کا قول بھی ابوقتادہ کی حدیث کے مطابق ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَجَاءٍ أَبِي يَحْيَى، قَالَ سَمِعْتُ مُسَافِعًا الْحَاجِبَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِنَّ الرُّكْنَ وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ طَمَسَ اللَّهُ نُورَهُمَا وَلَوْ لَمْ يَطْمِسْ نُورَهُمَا لأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا قَوْلُهُ . وَفِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَيْضًا وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
Abdullah bin Amr narrated that :He heard the Messenger of Allah saying: "Indeed the Corner and the Maqam are two corundums from the corundum of Paradise. Allah removed their lights, and if their lights had not been removed then they would illuminate what is between east and the west
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یاقوت میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ نے ان کا نور ختم کر دیا، اگر اللہ ان کا نور ختم نہ کرتا تو وہ مشرق و مغرب کے سارے مقام کو روشن کر دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے موقوفاً ان کا قول روایت کیا جاتا ہے، ۳- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔