حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَىِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ ثَلاَثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يَكْرَهُونَ الصَّلاَةَ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي هَذِهِ السَّاعَاتِ . وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا . يَعْنِي الصَّلاَةَ عَلَى الْجَنَازَةِ . وَكَرِهَ الصَّلاَةَ عَلَى الْجَنَازَةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا وَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . قَالَ الشَّافِعِيُّ لاَ بَأْسَ بِالصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي السَّاعَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهِنَّ الصَّلاَةُ .
Uqbah bin Amir Al-Juhni narrated:"There are three times that the Messenger of Allah prohibited us from performing Salat in, burying our dead in: When the sun's rising appears until it has risen up; when the sun is at the zenith until it passes, and when the sun begins its setting, until it has set
عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین ساعتیں ایسی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے سے یا اپنے مردوں کو دفنانے سے منع فرماتے تھے: جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، اور جس وقت ٹھیک دوپہر ہو رہی ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور جس وقت سورج ڈوبنے کی طرف مائل ہو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ لوگ ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنے کو مکروہ سمجھتے ہیں، ۳- ابن مبارک کہتے ہیں: اس حدیث میں ان اوقات میں مردے دفنانے سے مراد ان کی نماز جنازہ پڑھنا ہے ۱؎ انہوں نے سورج نکلتے وقت ڈوبتے وقت اور دوپہر کے وقت جب تک کہ سورج ڈھل نہ جائے نماز جنازہ پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ ان اوقات میں جن میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، ان میں نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي فَرُدَّهَا عَلَىَّ . فَرَدَّهَا عَلَيْهِ . هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . سَمِعْتُ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، يَذْكُرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثَ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ . قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَجْوَدُ إِسْنَادًا . وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ .
Ibn Abbas narrated:"A man became a Muslim during the time of the Prophet, then his wife became a Muslim, so he said: 'O Messenger of Allah! She accepted Islam along with me, so return her to me.' So he returned her to him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو کر آیا پھر اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس نے میرے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ تو آپ اسے مجھے واپس دے دیجئیے۔ تو آپ نے اسے اسی کو واپس دے دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- حجاج نے یہ حدیث بطریق «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص کے ہاں نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹایا، ۳- یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے اچھی ہے لیکن عمل «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده» کی حدیث پر ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، وَقَيْسٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلاَ تَخُنْ مَنْ خَانَكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ وَقَالُوا إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَى آخَرَ شَيْءٌ فَذَهَبَ بِهِ فَوَقَعَ لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْبِسَ عَنْهُ بِقَدْرِ مَا ذَهَبَ لَهُ عَلَيْهِ . وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ . وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَقَالَ إِنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَرَاهِمُ فَوَقَعَ لَهُ عِنْدَهُ دَنَانِيرُ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْبِسَ بِمَكَانِ دَرَاهِمِهِ إِلاَّ أَنْ يَقَعَ عِنْدَهُ لَهُ دَرَاهِمُ فَلَهُ حِينَئِذٍ أَنْ يَحْبِسَ مِنْ دَرَاهِمِهِ بِقَدْرِ مَا لَهُ عَلَيْهِ .
Narrated Abu Hurairah: That the Prophet (ﷺ) said: "Fulfill the trust for the one who entrusted you, and do not cheat the one who cheated you." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. Some of the people of knowledge followed this Hadith, they said that when something belonging to a man is with another and he leaves (with it), then he has something that belongs to him, he may not withhold from him an equivalent to what the other took of his. Some of the people of knowledge among the Tabi'in allowed that. This is the view of Sufyan Ath-Thawri, he said: "If one man has some Dirham that belong to another, and the second has some Dinar belonging to the first, he may not withhold any in place of his Dirham, unless it so happens that he has some Dirham of his, then in that case he can withhold some of his Dirham equal to what he is owed by the first
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے امانت لوٹاؤ ۱؎ اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ ( بھی ) خیانت نہ کرو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کا کسی دوسرے کے ذمہ کوئی چیز ہو اور وہ اسے لے کر چلا جائے پھر اس جانے والے کی کوئی چیز اس کے ہاتھ میں آئے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس میں سے اتنا روک لے جتنا وہ اس کالے کر گیا ہے، ۳- تابعین میں سے بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے، اور یہی ثوری کا بھی قول ہے، وہ کہتے ہیں: اگر اس کے ذمہ درہم ہو اور ( بطور امانت ) اس کے پاس اس کے دینار آ گئے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے دراہم کے بدلے اسے روک لے، البتہ اس کے پاس اس کے دراہم آ جائیں تو اس وقت اس کے لیے درست ہو گا کہ اس کے دراہم میں سے اتنا روک لے جتنا اس کے ذمہ اس کا ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى الشَّيْبَانِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُحَرِّمِ الْمُزَارَعَةَ وَلَكِنْ أَمَرَ أَنْ يَرْفُقَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَحَدِيثُ رَافِعٍ فِيهِ اضْطِرَابٌ يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ عُمُومَتِهِ وَيُرْوَى عَنْهُ عَنْ ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ وَهُوَ أَحَدُ عُمُومَتِهِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْهُ عَلَى رِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ . وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ رضى الله عنهما .
Narrated Ibn 'Abbas:"The Messenger of Allah (ﷺ) did not prohibit share-cropping. But he ordered that they be helpful with each other
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو حرام نہیں کیا، لیکن آپ نے ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- رافع کی حدیث میں ( جو اوپر مذکور ہوئی ) اضطراب ہے۔ کبھی یہ حدیث بواسطہ رافع بن خدیج ان کے چچاؤں سے روایت کی جاتی ہے اور کبھی بواسطہ رافع بن خدیج ظہیر بن رافع سے روایت کی جاتی ہے، یہ بھی ان کے ایک چچا ہیں، ۳- اور ان سے یہ حدیث مختلف طریقے پر روایت کی گئی ہے، ۴- اس باب میں زید بن ثابت اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed when a Jew gives Salam to one of you, then he is only saying: 'As-Samu 'Alaikum' (Death be upon you) so say: "Alaik (And upon you).'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود میں سے کوئی جب تم لوگوں کو سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام عليک» ( یعنی تم پر موت ہو ) ، اس لیے تم جواب میں صرف «عليک» کہو ( یعنی تم پر موت ہو ) “۔
Narrated by Abdur-Rahman bin Al-Qasim
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا مَشَتْ بِنَعْلٍ وَاحِدَةٍ . وَهَذَا أَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَكَذَا رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مَوْقُوفًا وَهَذَا أَصَحُّ .
Narrated 'Abdur-Rahman bin Al-Qasim: From his father, about 'Aishah that: "She would walk in one sandal." This is more correct. [Abu 'Eisa said:] This is how it was reported by Sufyan Ath-Thawri and others, from 'Abdur-Rahman bin Al-Qasim, in Mawquf form, and this is more correct
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک جوتا پہن کر چلیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطہ سے موقوف طریقہ سے روایت کیا ہے اور یہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ فِي الصَّحْفَةِ - يَعْنِي الدُّبَّاءَ فَلاَ أَزَالُ أُحِبُّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَرُوِيَ أَنَّهُ رَأَى الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَىْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ مَا هَذَا قَالَ " هَذَا الدُّبَّاءُ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا " .
Narrated Anas bin Malik: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) taking from the sides around the dish - meaning the gourd. Since then I still like it." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This Hadith has been reported through more than one route from Anas bin Malik
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈ رہے تھے یعنی کدو، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو دیکھا تو آپ سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کدو ہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنْ شَيْءٍ إِلاَّ مَا أَدْخَلَ عَلَىَّ الزُّبَيْرُ أَفَأُعْطِي قَالَ " نَعَمْ وَلاَ تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ " . يَقُولُ لاَ تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رضى الله عنهما وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا عَنْ أَيُّوبَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ .
Asma bint Abi Bakr said:" O the Messenger of Allah! I have nothing except what was given to me by (my husband) Az-Zubair, shall I give it (in charity)?'" It was said: "Do not hold (your wealth) so that Allah will hold against you
اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے گھر میں صرف زبیر کی کمائی ہے، کیا میں اس میں سے صدقہ و خیرات کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، صدقہ کرو اور گرہ مت لگاؤ ورنہ تمہارے اوپر گرہ لگا دی جائے گی“ ۱؎۔ «لا توكي فيوكى عليك» کا مطلب یہ ہے کہ شمار کر کے صدقہ نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی شمار کرے گا اور برکت ختم کر دے گا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو «عن ابن أبي مليكة عن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما» کی سند سے روایت کی ہے ۳؎، کئی لوگوں نے اس حدیث کی روایت ایوب سے کی ہے اور اس میں عباد بن عبیداللہ بن زبیر کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَأَنَسٍ وَحَنْظَلَةَ الأُسَيِّدِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that :Allah's Messenger said: "The five prayers, and Al-Jumuah (the Friday prayer) to Al-Jumuah are atonement for what is between them, as long as the major sins have not been committed
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، انس اور حنظلہ اسیدی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَكُونُ مِنْ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا " . قَالَ ثُمَّ تَكَلَّمَ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَسَأَلْتُ الَّذِي يَلِينِي فَقَالَ قَالَ " كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ وقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو .
Simak bin Harb narrated from Jabir bin Samurah who said " The Messenger of Allah(s.a.w) said:'There will be twelve Amir after me."' He said: "Then he said something that I did not understand. So I asked the one who was next to me, who said that he(s.a.w) had said: 'All of them are from Quraish
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد بارہ امیر ( خلیفہ ) ہوں گے“، پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جسے میں نہیں سمجھ سکا، لہٰذا میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے سوال کیا تو اس نے کہا کہ آپ نے فرمایا: ”یہ بارہ کے بارہ ( خلیفہ ) قبیلہ قریش سے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَاعَةٍ لاَ يَخْرُجُ فِيهَا وَلاَ يَلْقَاهُ فِيهَا أَحَدٌ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ " مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . فَقَالَ خَرَجْتُ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ وَالتَّسْلِيمَ عَلَيْهِ . فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ " مَا جَاءَ بِكَ يَا عُمَرُ " . قَالَ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا قَدْ وَجَدْتُ بَعْضَ ذَلِكَ " . فَانْطَلَقُوا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ رَجُلاً كَثِيرَ النَّخْلِ وَالشَّاءِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خَدَمٌ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَالُوا لاِمْرَأَتِهِ أَيْنَ صَاحِبُكِ فَقَالَتِ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ . فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ جَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِقِرْبَةٍ يَزْعَبُهَا فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَاءَ يَلْتَزِمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَيُفَدِّيهِ بِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِمْ إِلَى حَدِيقَتِهِ فَبَسَطَ لَهُمْ بِسَاطًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى نَخْلَةٍ فَجَاءَ بِقِنْوٍ فَوَضَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَلاَ تَنَقَّيْتَ لَنَا مِنْ رُطَبِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَخْتَارُوا أَوْ قَالَ تَخَيَّرُوا مِنْ رُطَبِهِ وَبُسْرِهِ . فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظِلٌّ بَارِدٌ وَرُطَبٌ طَيِّبٌ وَمَاءٌ بَارِدٌ " . فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِيَصْنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ " . قَالَ فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا فَأَتَاهُمْ بِهَا فَأَكَلُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ خَادِمٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَإِذَا أَتَانَا سَبْىٌ فَائْتِنَا " . فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَأْسَيْنِ لَيْسَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اخْتَرْ مِنْهُمَا " . فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اخْتَرْ لِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا " . فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ مَا أَنْتَ بِبَالِغٍ مَا قَالَ فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنْ تَعْتِقَهُ قَالَ فَهُوَ عَتِيقٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا وَلاَ خَلِيفَةً إِلاَّ وَلَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لاَ تَأْلُوهُ خَبَالاً وَمَنْ يُوقَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Abu Hurairah narrated :"The Prophet (s.a.w) went out during an hour in which he would normally not go out, nor meet with anyone. Then Abu Bakr came to him. So he said:"What brought you O Abu Bakr?" He said: "I came to meet the Messenger of Allah (s.a.w) and to look at his face, and to make sure he was safe. It was not long before 'Umar came. He said: "What has brought you O 'Umar ?" He said: "Hunger O Messenger of Allah!"He said: "I also experienced some of that" So they went to the home of Abu Al-Haitham At-Taiyyihan Al-Ansari. He was a man with many date-palms and sheep, but he had no servants so they did not find him there. They said to his wife: "Where is your companion?" She said: "He has gone to fetch us some good water." It was not long before Abu Al-Haitham came along hauling to a large water-skin which he put down. Then he came to hug the Prophet (s.a.w) and uttered that his father and mother should be ransomed for him. Then he went to grove of his and he spread out a mat for them. Then he went to a date-palm and returned with a cluster of dates which he put down. The prophet (s.a.w) said: "Why don't you select some ripe dates for us?" He said: "O Messenger of Allah(s.a.w)! I wanted you to select from the ripe dates and the unripe dates." So they ate and they drank from that water. The Messenger of Allah(s.a.w) said: "By the One in Whose Hand is my soul! This is among the favors which you shall be asked about on the Day of Judgement. Cool shade, tasty ripe dates, and cool water." Abu Al-Haitham left to prepare some food for them. The Prophet (s.a.w) said: "Do not slaughter one with milk." So he Slaughtered a small female or male goat and brought it to them so they could eat it. The Prophet (s.a.w) said: "Do you have any servants?" He said: "No." So he said: "Then if we get some captives we shall bring them for you." So (later) the Prophet (s.a.w) came with 2 males, there was no third among them and he brought them to Abu Al-Haitham. The Prophet (s.a.w) said: "Choose from them." He said: "O Prophet of Allah! Choose for me." So the Prophet (s.a.w) said: "Indeed the one consulted is entrusted. Take this one for I have seen him praying, and encourage him to do well." So Abu Al-Haitham went to his wife and informed her of what the Messenger of Allah (s.a.w) said. So his wife said: "You will not fulfill what the Prophet (s.a.w) said until you have freed him." So he said: "He is free." So the Prophet (s.a.w) said: "Indeed Allah has not send a Prophet nor made a Khalifah except that he has two groups of supporters, group ordering him to do good, and prohibiting him from evil and a group that never ceases spoiling his affairs. So whoever protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتا تھا، پھر آپ کے پاس ابوبکر رضی الله عنہ پہنچے تو آپ نے پوچھا: ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس لیے نکلا تاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں اور آپ پر سلام پیش کروں، کچھ وقفے کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: عمر! تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی، آپ نے فرمایا: ”مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ۱؎، پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے، ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا، ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں پایا تو ان کی بیوی سے پوچھا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، گفتگو ہو رہی تھی کہ اسی دوران! ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے، انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں، یا یہ کہا کہ آپ حضرات پکی کھجوروں کو کچی کھجوروں میں سے خود پسند کر لیں، بہرحال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا اور وہ نعمتیں یہ ہیں: باغ کا ٹھنڈا سایہ، پکی ہوئی عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی“، پھر ابوالھیثم اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا“، چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق انہوں نے بکری کا ایک مادہ بچہ یا نر بچہ ذبح کیا اور اسے پکا کر ان حضرات کے سامنے پیش کیا، ان سبھوں نے اسے کھایا اور پھر آپ نے ابوالھیثم سے پوچھا؟ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس کوئی قیدی آئے تو تم ہم سے ملنا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا، ابوالھیثم بھی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کر لو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ خود ہمارے لیے پسند کر دیجئیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ لہٰذا تم اس کو لے لو ( ایک غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کیونکہ ہم نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“، پھر ابوالھیثم اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں سے اسے باخبر کیا، ان کی بیوی نے کہا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو پورا نہ کر سکو گے مگر یہ کہ اس غلام کو آزاد کر دو، اس لیے ابوالھیثم نے فوراً اسے آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا خلیفہ کو نہیں بھیجا ہے مگر اس کے ساتھ دو راز دار ساتھی ہوتے ہیں، ایک اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، جب کہ دوسرا ساتھی اسے خراب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا، پس جسے برے ساتھی سے بچا لیا گیا گویا وہ بڑی آفت سے نجات پا گیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا الْجَارُودُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، قَالَ الْبِنَاءُ كُلُّهُ وَبَالٌ قُلْتُ أَرَأَيْتَ مَا لاَ بُدَّ مِنْهُ قَالَ لاَ أَجْرَ وَلاَ وِزْرَ .
Sufyan Ath-Thawri narrated:From Abu Hamzah, (who said): "From Ibrahim An-Nakha'i who said: 'All buildings and concerns for them will be against you.' I said: 'What do you think about what one can not do without?' He said: 'There is no reward for that nor harm
ابوحمزہ سے روایت ہے کہ ابراہیم نخعی کہتے ہیں: گھر مکان سب کا سب ہر عمارت باعث وبال ہے، میں نے کہا: اس مکان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، جسے بنائے بغیر چارہ نہیں انہوں نے کہا: نہ اس میں کوئی اجر ہے اور نہ کوئی گناہ۔
Narrated by Abdur-Rahman bin Abi Sa'eed [Al-Khudri] from his father who said
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ وَلاَ تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ وَلاَ يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلاَ تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Sa'eed [Al-Khudri] from his father who said:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'A man is not to look at the 'Awrah of a man, and a woman is not to look at the 'Awrah of a woman. A man is not to be alone with a man under one garment, and a woman is not to be alone with a woman under one garment
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد مرد کی شرمگاہ اور عورت عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے، اور مرد مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں ننگا ہو کر نہ لیٹے اور عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، غریب صحیح ہے۔
Narrated by Humaid bin 'Abdur-Rahman bin 'Awf
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ قَالَ اذْهَبْ يَا رَافِعُ لِبَوَّابِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْ لَهُ لَئِنْ كَانَ كُلُّ امْرِئٍ فَرِحَ بِمَا أُوتِيَ وَأَحَبَّ أَنْ يُحْمَدَ بِمَا لَمْ يَفْعَلْ مُعَذَّبًا لَنُعَذَّبَنَّ أَجْمَعُونَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَا لَكُمْ وَلِهَذِهِ الآيَةِ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ ثُمَّ تَلاَ ابْنُ عَبَّاسٍ : ( وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَكْتُمُونَهُ ) وَتَلاَ : (لَاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَيْءٍ فَكَتَمُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِغَيْرِهِ فَخَرَجُوا وَقَدْ أَرَوْهُ أَنْ قَدْ أَخْبَرُوهُ بِمَا قَدْ سَأَلَهُمْ عَنْهُ وَاسْتُحْمِدُوا بِذَلِكَ إِلَيْهِ وَفَرِحُوا بِمَا أُوتُوا مِنْ كِتْمَانِهِمْ وَمَا سَأَلَهُمْ عَنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Narrated Humaid bin 'Abdur-Rahman bin 'Awf:that Marwan bin Al-Hakam said: "Go O Rafi' - who was his gate-keeper - "to Ibn 'Abbas and say to him: 'If every person who rejoices with what he has done, and loves to be praised for what he has not done, will be punished, then we will all be punished.' So Ibn 'Abbas said: 'This Ayah has got nothing to do with you. This was only revealed about the People of the Book.' Then Ibn 'Abbas recited: "When Allah took a covenant from those who were given the Scripture to make it known and clear to mankind... (3:187)" and he recited: "Think not that those who rejoice in what they have done, and love to be praised for what they have not done... (3:188)" Ibn 'Abbas said: 'The Prophet (ﷺ) asked them about something, and they concealed it, and told him about something else. So they left wanting him to think that they informed him about what he asked them, and wanting to be praised for that by him, and they were rejoicing over what they had concealed, and the fact that they were asked about it
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں بتایا کہ مروان بن حکم نے اپنے دربان ابورافع سے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے کہو، اگر اپنے کیے پر خوش ہونے والا اور بن کیے پر تعریف چاہنے والا ہر شخص سزا کا مستحق ہو جائے، تب تو ہم سب ہی مستحق سزا بن جائیں گے، ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا: تمہیں اس آیت سے کیا مطلب؟ یہ تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، پھر ابن عباس رضی الله عنہما نے یہ آیت «وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه» ۱؎ پڑھی اور «لا تحسبن الذين يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا» ۲؎ کی تلاوت کی۔ اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( یہود ) سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے وہ چیز چھپا لی، اور اس سے ہٹ کر کوئی اور چیز بتا دی اور چلے گئے، پھر آپ پر یہ ظاہر کیا کہ آپ نے ان سے جو کچھ پوچھا تھا اس کے متعلق انہوں نے بتا دیا ہے، اور آپ سے اس کی تعریف سننی چاہی، اور انہوں نے اپنی کتاب سے چھپا کر آپ کو جو جواب دیا اور آپ نے انہیں جو مخاطب کر لیا اس پر خوش ہوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَدْعُو عِنْدَ الْكَرْبِ " لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْحَلِيمُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ " . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Ibn Abbas narrated that :when he was in distress, the Prophet of Allah (ﷺ) would supplicate: “There is none worthy of worship except Allah, the Forbearing, the Wise, there is none worthy of worship except Allah, the Lord of the Magnificent Throne, there is none worthy of worship except Allah, the Lord of the heavens and the earth, and the Lord of the Noble Throne (Lā ilāha illallāh al-`aliyyul ḥalīm, lā ilāha illallāh, rabbul-`arshil-`aẓīm, lā ilāha illallāh, rabbus-samāwāti wal-arḍi wa rabbul-`arshil-karīm).”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله الحليم الحكيم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السموات والأرض ورب العرش الكريم» ”کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اللہ بلند و بردبار کے، اور کوئی معبود برحق نہیں سوائے اس اللہ کے جو عرش عظیم کا رب ( مالک ) ہے اور کوئی معبود برحق نہیں ہے سوائے اس اللہ کے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور قابل عزت عرش کا رب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے بیان کیا محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا ابن ابوعدی نے، اور انہوں نے ہشام سے، ہشام نے قتادہ سے، قتادہ نے ابوالعالیہ سے، اور ابوالعالیہ نے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ روایت کے مثل روایت کی، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الأَسْوَدِ، قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ " أَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr: "You are my companion at the Hawd, and my companion in the cave
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ ابْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُجْزِئُ فِي الْوُضُوءِ رِطْلاَنِ مِنْ مَاءٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ . وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمَكُّوكِ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ . وَرُوِيَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ .
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: The acceptable Wudu is with two Ratils of water
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو میں دو رطل پانی کافی ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ غریب ہے، ہم یہ حدیث صرف شریک ہی کی سند سے جانتے ہیں، ۲- شعبہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن جبر سے اور انہوں نے انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکوک ۳؎ سے وضو، اور پانچ مکوک سے غسل کرتے تھے ۴؎، ۳- سفیان ثوری نے بسند «عبداللہ بن عیسیٰ عن عبداللہ بن جبر عن انس» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد ۵؎ سے وضو اور ایک صاع ۶؎ سے غسل کرتے تھے، ۴- یہ شریک کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَاعَةَ وَهِيَ بِئْرٌ يُلْقَى فِيهَا الْحِيَضُ وَلُحُومُ الْكِلاَبِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ لاَ يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ جَوَّدَ أَبُو أُسَامَةَ هَذَا الْحَدِيثَ فَلَمْ يَرْوِ أَحَدٌ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ أَحْسَنَ مِمَّا رَوَى أَبُو أُسَامَةَ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ .
Abu Sa'eed AI-Khudri narrated:"It was said, 'O Allah's Messenger! Shall we use the water of Buda'ah well to perform ablution while it is a well in which menstruation rags, flesh of dogs and the putrid are dumped?" Allah's Messenger said: 'Indeed water is pure, nothing makes it impure
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم بضاعہ نامی کنویں ۱؎ سے وضو کریں اور حال یہ ہے وہ ایک ایسا کنواں ہے جس میں حیض کے کپڑے، کتوں کے گوشت اور بدبودار چیزیں آ کر گرتی ہیں؟ ۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بئر بضاعہ والی ابو سعید خدری کی یہ حدیث جس عمدگی کے ساتھ ابواسامہ نے روایت کی ہے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے ۳؎، ۳- یہ حدیث کئی اور طریق سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے، ۴- اس باب میں ابن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " تُعْرَضُ الأَعْمَالُ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "Deeds are presented on Monday and Thursday, and I love that my deeds be presented while I am fasting
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال سوموار ( دوشنبہ ) اور جمعرات کو اعمال ( اللہ کے حضور ) پیش کئے جاتے ہیں، میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِي وَهُوَ قَرِيرُ الْعَيْنِ طَيِّبُ النَّفْسِ فَرَجَعَ إِلَىَّ وَهُوَ حَزِينٌ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ وَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ فَعَلْتُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ أَتْعَبْتُ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Aishah narrated:"The Prophet left me while he had a joyous look of contentment and he returned to me grieving. So I asked him about that and he said: 'I entered the Ka'bah, and I wished that I had not done it. I fear that my Ummah will follow me (in that) after me
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکل کر گئے، آپ کی آنکھیں ٹھنڈی تھیں اور طبیعت خوش، پھر میرے پاس لوٹ کر آئے، تو غمگین اور افسردہ تھے، میں نے آپ سے ( وجہ ) پوچھی، تو آپ نے فرمایا: ”میں کعبہ کے اندر گیا۔ اور میری خواہش ہوئی کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ میں ڈر رہا ہوں کہ اپنے بعد میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔