حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، قَالَ كَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ إِذَا صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَتَقَالَّ النَّاسَ عَلَيْهَا جَزَّأَهُمْ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ ثَلاَثَةُ صُفُوفٍ فَقَدْ أَوْجَبَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ وَأَدْخَلَ بَيْنَ مَرْثَدٍ وَمَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ رَجُلاً . وَرِوَايَةُ هَؤُلاَءِ أَصَحُّ عِنْدَنَا .
Marthan bin Abdullah Al-Yazani narrated:"When Malik bin Hubairah performed Salat for a funeral and the people were few he would divide them into three groups (rows) then say: 'The Messenger of Allah said: "For whomever three rows perform Salat, then it is granted
مرثد بن عبداللہ یزنی کہتے ہیں کہ مالک بن ہبیرہ رضی الله عنہ جب نماز جنازہ پڑھتے اور لوگ کم ہوتے تو ان کی تین صفیں ۱؎ بنا دیتے، پھر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کی نماز جنازہ تین صفوں نے پڑھی تو اس نے ( جنت ) واجب کر لی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مالک بن ہبیرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے۔ ابراہیم بن سعد نے بھی یہ حدیث محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے سند میں مرثد اور مالک بن ہبیرہ کے درمیان ایک شخص کو داخل کر دیا ہے۔ ہمارے نزدیک ان لوگوں کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں عائشہ، ام حبیبہ، ابوہریرہ اور ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ قَبْلَ زَوْجِهَا ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ أَنَّ زَوْجَهَا أَحَقُّ بِهَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالأَوْزَاعِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather:"The Messenger of Allah returned his daughter Zainab to Abul-As bin Ar-Rabi with a new dowry and a new wedding
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لڑکی زینب کو ابوالعاص بن ربیع رضی الله عنہ کے پاس نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹا دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے اور دوسری حدیث میں بھی کلام ہے، ۲- اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ عورت جب شوہر سے پہلے اسلام قبول کر لے، پھر اس کا شوہر عدت کے دوران اسلام لے آئے تو اس کا شوہر ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب وہ عدت میں ہو۔ یہی مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ وَوَجَدَ رَجُلٌ سِلْعَتَهُ عِنْدَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَوْلَى بِهَا مِنْ غَيْرِهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَمُرَةَ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ . وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ .
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whichever person becomes bankrupt, and a man finds his particular merchandise with him, then he is more deserving of it than others. [He said:] There are narrations on this topic from Samurah and Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to some of the people of knowledge and it is the view of Ash-Shafi'i, Ahmad, and Ishaq. Some of the people of knowledge said that he is just like one of the debtors. This is the view of the people of Al-Kufah
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ( قرض دار ) آدمی مفلس ہو جائے اور ( قرض دینے والا ) آدمی اپنا سامان اس کے پاس بعینہ پائے تو وہ اس سامان کا دوسرے سے زیادہ مستحق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور بعض اہل علم کہتے ہیں: وہ بھی دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہو گا، یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لَمْ يَرَوْا بِالْمُزَارَعَةِ بَأْسًا عَلَى النِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ . وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَكُونَ الْبَذْرُ مِنْ رَبِّ الأَرْضِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمُزَارَعَةَ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَلَمْ يَرَوْا بِمُسَاقَاةِ النَّخِيلِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ بَأْسًا . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ . وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَصِحَّ شَيْءٌ مِنَ الْمُزَارَعَةِ إِلاَّ أَنْ يَسْتَأْجِرَ الأَرْضَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ .
Narrated Ibn 'Umar:"The Prophet (ﷺ) made a deal with the people of Khaibar for half of what was produced from it, whether fruits or crops
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کے ساتھ خیبر کی زمین سے جو بھی پھل یا غلہ حاصل ہو گا اس کے آدھے پر معاملہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابن عباس، زید بن ثابت اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ آدھے، تہائی یا چوتھائی کی شرط پر مزارعت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، ۴- اور بعض اہل علم نے یہ اختیار کیا ہے کہ بیج زمین والا دے گا، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۵- بعض اہل علم نے تہائی یا چوتھائی کی شرط پر مزارعت کو مکروہ سمجھا ہے، لیکن وہ تہائی یا چوتھائی کی شرط پر کھجور کے درختوں کی سینچائی کرانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ مالک بن انس اور شافعی کا یہی قول ہے، ۶- بعض لوگ مطلقًا مزارعت کو درست نہیں سمجھتے البتہ سونے یا چاندی ( نقدی ) کے عوض کرایہ پر زمین لینے کو درست سمجھتے ہیں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ .
Narrated Anas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever plunders then he is not of us." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih Gharib as a Hadith of Anas
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَلاَ يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ وَلاَ حَدِيثُ مَعْمَرٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
Narrated Anas: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited that a man should put on sandals while he is standing." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib. Muhammad bin Isma'il said: "This Hadith is not correct, not the Hadith of Ma'mar from 'Ammar bin Abi 'Ammar, from Abu Hurairah (no)
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ ٍ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اور نہ ہی معمر کی حدیث جسے وہ عمار بن ابی عمار سے اور عمار ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated by Ikrash bin Dhu'aib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ أَبُو الْهُذَيْلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ بَعَثَنِي بَنُو مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِصَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ " هَلْ مِنْ طَعَامٍ " . فَأُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ وَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ بِيَدِي مِنْ نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِي الْيُمْنَى ثُمَّ قَالَ " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ " . ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ الرُّطَبِ أَوِ التَّمْرِ عُبَيْدُ اللَّهِ شَكَّ قَالَ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَىَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الطَّبَقِ وَقَالَ " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ " . ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِبَلَلِ كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَالَ " يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْعَلاَءِ بْنِ الْفَضْلِ وَقَدْ تَفَرَّدَ الْعَلاَءُ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلاَ نَعْرِفُ لِعِكْرَاشٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثَ .
Narrated 'Ikrash bin Dhu'aib: "Banu Murrah bin 'Ubaid sent me to bring the Sadaqah from their wealth of the Messenger of Allah (ﷺ). I arrived with him in Al-Madinah and found him sitting between the Muhajirin and the Ansar." He said: "Then he took my hand and brought me to the home of Umm Salamah and he said: 'Do you have any food?' So a bowl containing a lot of Tharid with pieces of meat was brought to us, and presented for us to eat from it. So I began wandering my around it while the Messenger of Allah (ﷺ) ate from what was in front of him. He grabbed my right hand with his left hand, then he said: 'O 'Ikrash! Eat from one spot, for indeed the food is one.' Then a plate containing various dried dates" - or fresh dates - 'Ubaidullah (a narrator) was not sure. He said: "I began eating what was in front of me, while the hand of the Messenger of Allah (ﷺ) roamed about the plate. He said: 'O 'Ikrash! Eat from wherever you like, for indeed it is not all from the same variety.' Then water was brought, so the Messenger of Allah (ﷺ) washed his hands, and with the wetness of his hands he wiped his face, his forearms, and his head, and he said: 'O Ikrash! This is the Wudu' for that which has been altered by fire.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do not know of it except through the narration of Al-'Ala' bin Al-Fadl, and Al-Ala'was alone with this narration, and there is more in the story in the Hadith. And we do not know a Hadith from the Prophet (ﷺ) by 'Ikrash except this
عکراش بن ذؤیب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر لے گئے اور پوچھا: ”کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ چنانچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید ( شوربا میں ترکی ہوئی روٹی ) اور بوٹیاں تھیں، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے سے کھانے لگے، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ اس لیے کہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے“، پھر ہمارے پاس ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ طبق میں گھومنے لگا، آپ نے فرمایا: ”عکراش! جہاں سے چاہو کھاؤ، اس لیے کہ یہ ایک قسم کا نہیں ہے“، پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ہتھیلیوں کی تری سے چہرے، بازو اور سر پر مسح کیا اور فرمایا: ”عکراش! یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کا وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف علاء بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، علاء اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں، ۳- ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عکراش کی صرف اسی حدیث کو جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سُمَىٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي طَرِيقٍ إِذْ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ فَأَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي ذَرٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah said :"When a man was walking on the road, he found a thorny branch and removed it. Allah appreciated his action by forgiving him
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا کہ اسے ایک کانٹے دار ڈالی ملی، اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام سے خوش ہو کر اس کو بدلہ دیا یعنی اس کی مغفرت فرما دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ، ابن عباس اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو أَحْمَدَ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الدُّعَاءُ لاَ يُرَدُّ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ هَذَا .
Anas bin Malik narrated that :Allah's Messenger said: "The supplication made between the Adhan and Iqamah is not rejected
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ وَيُحِبُّونَ السِّمَنَ يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَلِيَّ بْنَ مُدْرِكٍ . قَالَ وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ يِسَافٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَهَذَا أَصَحُّ عِنْدِي مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Imran bin Husain narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"The best of people are my generation, then those who follow them. Then, after them a people will come who increase in fatness, loving fatness, giving testimony before they are asked for it
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن فضیل نے یہ حدیث اسی طرح «عن الأعمش عن علي بن مدرك عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، کئی حفاظ نے اسے «عن الأعمش عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، اس میں علی بن مدرک کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَّانٍ فَتَمَخَّطَ فِي أَحَدِهِمَا ثُمَّ قَالَ بَخٍ بَخٍ يَتَمَخَّطُ أَبُو هُرَيْرَةَ فِي الْكَتَّانِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَحُجْرَةِ عَائِشَةَ مِنَ الْجُوعِ مَغْشِيًّا عَلَىَّ فَيَجِيءُ الْجَائِي فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي يُرَى أَنَّ بِيَ الْجُنُونَ وَمَا بِي جُنُونٌ وَمَا هُوَ إِلاَّ الْجُوعُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ
Muhammad bin Sirin said:"We were with Abu Hurarirah and he was wearing two linen garments dyed with red ochre. He blew his nose in one of them and said: 'Excellent! Abu hurairah blows his nose in linens! I saw a time when I would pass out between the mimbar of the Messenger of Allah (s.a.w) and the dwelling of 'Aishah from overwhelming hunger. Someone came and placed his foot on my neck thinking that I was a mad man, but I was not crazy, It was nothing but hunger." (sahih)
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ رضی الله عنہ کی خدمت میں موجود تھے، آپ کے پاس گیرو سے رنگے ہوئے دو کتان کے کپڑے تھے، انہوں نے ایک کپڑے میں ناک پونچھی اور کہا: واہ واہ، ابوہریرہ! کتان میں ناک پونچھتا ہے، حالانکہ ایک وہ زمانہ بھی تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے، اور حجرہ عائشہ رضی الله عنہا کے درمیان بھوک کی شدت کی وجہ سے بیہوش ہو کر گر پڑتا تو کوئی آنے والا آتا اور میری گردن پر اپنا پاؤں رکھ دیتا اور سمجھتا کہ میں پاگل ہوں، حالانکہ میں پاگل نہیں ہوتا تھا ایسا صرف بھوک کی شدت کی وجہ سے ہوتا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اور اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْبَكَّاءُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ تَجَشَّأَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " كُفَّ عَنَّا جُشَاءَكَ فَإِنَّ أَكْثَرَهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ .
Yahya Al-Bakka' narrated from Ibn 'Umar who said:"A man belched in the presence of the Prophet(s.a.w), so he said: 'Restain your belching from us. For indeed those who are filled most in the world will be the hungriest on the Day of Judgement
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ڈکار لیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنی ڈکار ہم سے دور رکھو اس لیے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا رہے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوجحیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abu 'Uthman An-Nahdi
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلِيفَةَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، - بَصْرِيٌّ - وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ حَنَانٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أُعْطِيَ أَحَدُكُمُ الرَّيْحَانَ فَلاَ يَرُدَّهُ فَإِنَّهُ خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةِ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَلاَ نَعْرِفُ حَنَانًا إِلاَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَأَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُلٍّ وَقَدْ أَدْرَكَ زَمَنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَرَهُ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ .
Narrated Abu 'Uthman An-Nahdi:"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When one of you is given some fragrance then do not refuse it, for indeed it comes from Paradise
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو خوشبو دی جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ وہ جنت سے نکلی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حنان ( نام کے ) راوی کو ہم صرف اسی حدیث میں پاتے ہیں، ۳- ابوعثمان نہدی کا نام عبدالرحمٰن بن مل ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تو پایا لیکن انہیں آپ کا دیدار نصیب نہ ہوا اور نہ ہی آپ سے کوئی حدیث سن سکے۔
Narrated by Abu Wa'il
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعٍ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي رَاشِدٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ رَجُلٍ لاَ يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلاَّ جَعَلَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي عُنُقِهِ شُجَاعًا " . ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : (وَلَاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ) الآيَةَ . وَقَالَ مَرَّةً قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِصْدَاقَهُ : (سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ) " وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ بِيَمِينٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ : (إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ ) الآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَمَعْنَى قَوْلِهِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَعْنِي حَيَّةً .
Narrated Abu Wa'il:"'Abdullah [bin Mas'ud] narrating from the Prophet (ﷺ) that he said: 'There is no person who does not pay the Zakat due on his wealth but on the Day of Resurrection Allah will make a Shuja'a around his neck.' Then he recited the Ayah for us from the Book of Allah, the Mighty and Sublime, testifying to that: And let not those who are stringy with that which Allah has bestowed on them of His bounty... (3:180) And another time he said: 'Testifying to that, the Messenger of Allah (ﷺ) recited: On the Day of Resurrection, the things that they were stingy with... (3:180)' and whoever deprives his Muslim brother of his wealth by swearing, then he shall meet Allah while He is angry with him.' Then testifying to that, the Messenger of Allah (ﷺ) recited the Ayah from Allah's Book: Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant (3:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا“، پھر آپ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» ۱؎ پڑھی راوی نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ آپ نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ۲؎ تلاوت فرمائی، اور فرمایا: ”جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کر لے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم ( اور سخت غصے میں ) ہو گا“، پھر آپ نے اس کی مصداق آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله» پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ الْكُوفِيُّ، - وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ جَلَسَ فِي مَجْلِسٍ فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ . إِلاَّ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَعَائِشَةَ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sits in a sitting and engages in much empty, meaningless speech and then says before getting from that sitting of his: ‘Glory is to You, O Allah, and praise, I bear witness that there is none worthy of worship except You, I seek You forgiveness, and I repent to You, (Subḥānaka Allāhumma wa biḥamdika, ashhadu an lā ilāha illā anta, astaghfiruka wa atūbu ilaik)’ whatever occurred in that sitting would be forgiven to him.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اس سے بہت سی لغو اور بیہودہ باتیں ہو جائیں، اور وہ اپنی مجلس سے اٹھ جانے سے پہلے پڑھ لے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور سب تعریف تیرے لیے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں“، تو اس کی اس مجلس میں اس سے ہونے والی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، اور ہم اسے سہیل کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَخْرُجُ عَلَى أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلاَ يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلاَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَإِنَّهُمَا كَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ .
Narrated Anas:that the Messenger of Allah (ﷺ) used to go out to his Companions from The Muhajirin and the Ansar while they were sitting, and Abu Bakr and 'Umar would be with them. No one would lift their sight towards him except Abu Bakr and 'Umar, because they used to look at him, and he would look at them, and they would smile at him, and he would smile at them
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ قَالَ صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوءِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ .
Abdullah bin Busr narrated that :the Prophet said: "On the day of Resurrection, my nation will be radiant from prostrating and shining from Wudu
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن میری امت کی پیشانی سجدے سے اور ہاتھ پاؤں وضو سے چمک رہے ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کی روایت سے یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . أَوْ قَالَ " بِسُؤْرِهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ . وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ .
A1-Hakim bin Amr AI-Ghifari narrated that:"The Prophet forbade that a man should perform Wudu with the leftover (water) from a woman's purifcation." Or, he said: "from her drinking
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ۱؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں – «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ۲؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْتَطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ فَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنِ النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلاً أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَعَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَمَسْعُودِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ وَثَوْبَانَ وَزِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ وَأَنَسٍ وَحُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ وَقَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ وَسَمُرَةَ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ بَيَانٍ عَنْ قَيْسٍ .
Abu Hurairah narrated that he heard :the Messenger of Allah saying: "For one of you to go out early to gather firewood and carry it on his back so that he can give charity from it and be free of need from the people, is better for him than to ask a man who may give that to him or refuse. Indeed the upper hand (giving) is more virtuous than the lower hand (receiving), and begin with (those who are) your dependants
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی شخص صبح سویرے جائے اور لکڑیوں کا گٹھر اپنی پیٹھ پر رکھ کر لائے اور اس میں سے ( یعنی اس کی قیمت میں سے ) صدقہ کرے اور اس طرح لوگوں سے بے نیاز رہے ( یعنی ان سے نہ مانگے ) اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے مانگے، وہ اسے دے یا نہ دے ۱؎ کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے ۲؎، اور پہلے اسے دو جس کی تم خود کفالت کرتے ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- وہ بیان کی حدیث سے جسے انہوں نے قیس سے روایت کی ہے غریب جانی جاتی ہے، ۳- اس باب میں حکیم بن حزام، ابو سعید خدری، زبیر بن عوام، عطیہ سعدی، عبداللہ بن مسعود، مسعود بن عمرو، ابن عباس، ثوبان، زیاد بن حارث صدائی، انس، حبشی بن جنادہ، قبیصہ بن مخارق، سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاَّسُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَحَرَّى صَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ حَفْصَةَ وَأَبِي قَتَادَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Aishah narrated:"The Prophet used to try to fast on Mondays and Thursdays
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوموار اور جمعرات کے روزے کی تلاش میں رہتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے اور اس سند سے غریب ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ، قَالَ سَأَلْتُ عَلِيًّا بِأَىِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ قَالَ بِأَرْبَعٍ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلاَ يَجْتَمِعُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ وَمَنْ لاَ مُدَّةَ لَهُ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Zaid bin Uthai said:XI asked Ali: "What is it that you were sent with?" He said: "With four things: None will be admitted into Paradise except for the soul that is a Muslim. None is to perform Tawaf around the House while naked. The Muslims and the idolaters will not be gathering (in Makkah) together after this year. And for whomever there is a covenant between him and the Prophet, then his covenant is (valid) until its term, and for that in which there was no term, then it shall be four months
زید بن اثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کو کن باتوں کا حکم دے کر بھیجا گیا ہے؟ ۱؎ انہوں نے کہا: چار باتوں کا: جنت میں صرف وہی جان داخل ہو گی جو مسلمان ہو، بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے۔ مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں، جس کسی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عہد ہو تو اس کا یہ عہد اس کی مدت تک کے لیے ہو گا۔ اور جس کی کوئی مدت نہ ہو تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔