بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
22 hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ إِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ أَوْ مِنْ تَمَامِ السُّنَّةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ يَخْتَارُونَ أَنْ يُقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الأُولَى ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يُقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ إِنَّمَا هُوَ ثَنَاءٌ عَلَى اللَّهِ وَالصَّلاَةُ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالدُّعَاءُ لِلْمَيِّتِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏ وَطَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ هُوَ ابْنُ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ ‏.‏
Talhah bin Abdullah bin Awf narrated:"Ibn Abbas performed Salat for a funeral and he recited Fatihatil-Kitab. So I asked him about it and he said: 'It is from the Sunnah' or, 'From the completeness of the Sunnah
طلحہ بن عوف کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے ایک نماز جنازہ پڑھایا تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی۔ میں نے ان سے ( اس کے بارے میں ) پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- طلحہ بن عبداللہ بن عوف، عبدالرحمٰن بن عوف کے بھتیجے ہیں۔ ان سے زہری نے روایت کی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے یہ لوگ تکبیر اولیٰ کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھنے کو پسند کرتے ہیں یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی ۱؎ اس میں تو صرف اللہ کی ثنا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) اور میت کے لیے دعا ہوتی ہے۔ اہل کوفہ میں سے ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ ‏.‏ وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كَانَ يُقَالُ ‏.‏ وَلاَ نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ ‏وَهَمَّامٌ ثِقَةٌ حَافِظٌ
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah said: "When a man has two wives and he is not just between them, he will come on the Day of Judgment with one side drooping
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی شخص کے پاس دو بیویاں ہوں اور ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے مسنداً ۱؎ روایت کیا ہے، ۲- اور اسے ہشام دستوائی نے بھی قتادہ سے روایت کیا ہے لیکن اس روایت میں ہے کہ ایسا کہا جاتا تھا … ۳- ہم اس حدیث کو صرف ہمام ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور ہمام ثقہ حافظ ہیں ۲؎۔
Narrated by Umm Salamah
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِحْدَاكُنَّ مَا يُؤَدِّي فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى التَّوَرُّعِ وَقَالُوا لاَ يُعْتَقُ الْمُكَاتَبُ وَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي حَتَّى يُؤَدِّيَ ‏.‏
Narrated Umm Salamah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you (women) has a Mukatab ho has with him what will fulfill (the Kitabah) then observe Hijab from him." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. And the meaning of this Hadith according to the people of knowledge is that of caution. They say that the Mukatab is not freed, even if he has the amount to pay, until he pays it
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت ادا کر سکے تو اسے اس سے پردہ کرنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ازراہ ورع و تقویٰ اور احتیاط ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ مکاتب غلام جب تک زر کتابت نہ ادا کر دے آزاد نہیں ہو گا اگرچہ اس کے پاس زر کتابت ادا کرنے کے لیے رقم موجود ہو۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلاَّ كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ وَجَابِرٍ وَأُمِّ مُبَشِّرٍ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Anas:that the Prophet (ﷺ) said: "No Muslim plants a plant or sows a crop, then a person, or a bird, or an animal eats from it, except that it will be charity for him
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا فصل بوتا ہے اور اس میں سے انسان یا پرند یا چرند کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوایوب، جابر، ام مبشر اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abayah bin Rifa'ah
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ فَاطَّبَخُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي أُخْرَى النَّاسِ فَمَرَّ بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَبِيهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ، جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي، رَيْحَانَةَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي أَيُّوبَ ‏.‏
Narrated 'Abayah bin Rifa'ah: From his father, from his grandfather Rafi' bin Khadij, who said: "We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, when the hasty people went rushing ahead to the sheep to cook them, while the Messenger of Allah (ﷺ) was in the rear of the people. Then he passed the kettled and ordered that they be weighed, then he distributed it between them and equated a camel to ten sheep." [Abu 'Eisa said:] Sufyan Ath-Thawri reported it from his father, from 'Abayah, from his grandfather Rafi' bin Khadij, and he did not mention "from his father" in it. This was narrated to us by Mahmud bin Ghailan (who said:) "Waki' narrated it to us from Sufyan." And this is more correct. 'Abayah bin Rifa'ah heard from his grandfather Rafi' bin Khadij. He said: There are narrations on this topic from Tha'labah bin Al-Hakam, Anas, Abu Rihanah, Abu Ad-Darda, 'Abdur-Rahman bin Samurah, Zaid bin Khalid, Jabir, Abu Hurairah, and Abu Ayyub
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے ( کھانے پکانے کی چیزیں ) جلدی لیا اور ( تقسیم سے پہلے اسے ) پکانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق: «عن أبيه سعيد، عن عباية، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے اس حدیث کو محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: ہم سے وکیع نے بیان کیا، اور وکیع سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے، عبایہ بن رفاعہ کا سماع ان کے دادا رافع بن خدیج سے ثابت ہے، ۲- اس باب میں ثعلبہ بن حکم، انس، ابوریحانہ، ابوالدرداء، عبدالرحمٰن بن سمرہ، زید بن خالد، جابر، ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ لاَ يَصِحُّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَالْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ وَلاَ نَعْرِفُ لِحَدِيثِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَصْلاً ‏.‏
Narrated Abu Hurairah: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited that a man should put on sandals while he is standing." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. 'Ubaidullah bin 'Amr Ar-Raqqi reported this Hadith from Ma'mar, from Qatadah, from Anas. Both of the Ahadith are not correct according to the people of Hadith. Al-Harith bin Nabhan is not a Hafiz according to them, and we do not know any basis for the narration of Qatadah from Anas
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر جوتا پہنے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عبیداللہ بن عمر ورقی نے اس حدیث کو معمر سے، معمر نے قتادہ سے، قتادہ نے انس سے روایت کی ہے، یہ دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہیں، حارث بن نبہان کا حافظہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے، ۳- قتادہ کی انس سے مروی حدیث کی ہم کوئی اصل نہیں جانتے ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ مِنَ الْخَلاَءِ فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالُوا أَلاَ نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلاَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ يَكْرَهُ غَسْلَ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُوضَعَ الرَّغِيفُ تَحْتَ الْقَصْعَةِ ‏
Narrated Ibn 'Abbas: "The Messenger of Allah (ﷺ) cae out from the toilet and some food was brought to him. They said: 'Shall we bring you some water for Wudu'?' He said: 'I have only been ordered to perform Wudu' when standing for Salat.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan [Sahih]. 'Amr bin Dinar has reported it from Sa'eed bin Al-Huwairith, from Ibn 'Abbas. 'Ali bin Al-Madini said: 'Sufyan Ath-Thawri disliked washing the hands before eating food, and he disliked placing the bread under the bowl
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے تشریف لائے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، صحابہ نے عرض کیا: کیا آپ کے لیے وضو کا پانی لائیں؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے نماز کے لیے جاتے وقت وضو کا حکم دیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے، ۳- علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا مکروہ سمجھتے تھے، وہ پیالہ کے نیچے چپاتی رکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ لَبَنٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ مِثْلُ عِتْقِ رَقَبَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ وَشُعْبَةُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ هَذَا الْحَدِيثَ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةَ وَرِقٍ ‏"‏ ‏.‏ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ قَرْضَ الدَّرَاهِمِ قَوْلُهُ ‏"‏ أَوْ هَدَى زُقَاقًا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي بِهِ هِدَايَةَ الطَّرِيقِ ‏.‏
Al-Bara bin Azib narrated that the Messenger of Allah said :"Whoever gives someone some milk or silver, or guides him through a strait, then he will have the reward similar to freeing a slave
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ۱؎، یا چاندی قرض دی، یا کسی کو راستہ بتایا، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابواسحاق کی روایت سے جسے وہ طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- منصور بن معتمر اور شعبہ نے بھی اس حدیث کی روایت طلحہ بن مصرف سے کیا ہے، ۳- اس باب میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۴- «من منح منيحة ورق» کا مطلب ہے بطور قرض دینا «هدى زقاقا» کا مطلب ہے راستہ دکھانا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِلاَّ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ‏.‏ وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ دِينَارٌ ‏.‏
Jabir bin Abdullah narrated that :Allah's Messenger said: "Whoever says, when he hears the call: (Allahumma, rabba hadhihidda 'watit-tammati was Salatilqa'imah, ati Muhammadanil wasilata wal-Fadilata, wab'athhu Maqamun Mahmudan alladhi wa'adtahu) 'O Allah! Lord of this perfect call and established prayer, grant Muhammad Al-Wasilah and Al-Fadilah, and raise him to the praised station that you promised him' - then intercession on the Day of Resurrection is made lawful for him
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اذان سن کر «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته إلا حلت له الشفاعة يوم القيامة» ”اے اللہ! اس کامل دعوت ۱؎ اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب! ( ہمارے نبی ) محمد ( صلی الله علیہ وسلم ) کو وسیلہ ۲؎ اور فضیلت ۳؎ عطا کر، اور انہیں مقام محمود ۴؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے“ کہا تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہو جائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جابر رضی الله عنہ کی حدیث محمد بن منکدر کے طریق سے حسن غریب ہے، ہم نہیں جانتے کہ شعیب بن ابی حمزہ کے علاوہ کسی اور نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى يُقَالُ الْكَذَّابُ الْمُخْتَارُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ وَالْمُبِيرُ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ أَحْصَوْا مَا قَتَلَ الْحَجَّاجُ صَبْرًا فَبَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ وَعِشْرِينَ أَلْفَ قَتِيلٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، نَحْوَهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ ‏.‏ وَشَرِيكٌ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ وَإِسْرَائِيلُ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَصْمَةَ ‏.‏
Ibn 'Umar narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"In Thaqif there will be a great liar and destroyer
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کذاب اور جھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اور ہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ۱؎۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ إِنِّي أَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلاَّ الْحُبُلَةَ وَهَذَا السَّمُرَ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا تَضَعُ الشَّاةُ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ يُعَزِّرُونِي فِي الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ غَزْوَانَ ‏.‏
Sa'd Bin Malik said:"I was the first man among the Arabs to shoot an arrow in Allah's cause. I saw that we battled along with the Messenger of Allah(s.a.w) and there was no food for us but Al-Hubla and this Samur, such that one of us would leave droppings like the droppings of a sheep. Then Banu Asad appeared wanting to instruct me in religion. I would be a loser and have wasted my efforts
سعد بن مالک (ابی وقاص) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عرب کا پہلا شخص ہوں جس نے راہ خدا میں تیر پھینکا، اور ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے وقت دیکھا ہے کہ ہمارے پاس خاردار درختوں کے پھل اور کیکر کے درخت کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہم لوگ قضائے حاجت میں بکریوں کی طرح مینگنیاں نکالا کرتے تھے ۱؎، اور اب قبیلہ بنی اسد کے لوگ مجھے دین کے سلسلے میں ملامت کرنے لگے ہیں، اگر میں اسی لائق ہوں تو بڑا ہی محروم ہوں اور میرے اعمال ضائع ہو گئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عتبہ بن غزوان سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ أَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافَ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ يَأْوُونَ عَلَى أَهْلٍ وَلاَ مَالٍ وَاللَّهِ الَّذِي لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ إِنْ كُنْتُ لأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ وَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمُ الَّذِي يَخْرُجُونَ فِيهِ فَمَرَّ بِي أَبُو بَكْرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلاَّ لِيَسْتَتْبِعَنِي فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِي عُمَرُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا أَسْأَلُهُ إِلاَّ لِيَسْتَتْبِعَنِي فَمَرَّ وَلَمْ يَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِي أَبُو الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآنِي وَقَالَ ‏"‏ أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ الْحَقْ ‏"‏ ‏.‏ وَمَضَى فَاتَّبَعْتُهُ وَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي فَوَجَدَ قَدَحًا مِنْ لَبَنٍ فَقَالَ ‏"‏ مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قِيلَ أَهْدَاهُ لَنَا فُلاَنٌ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ لَبَّيْكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ الْحَقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَهُمْ أَضْيَافُ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ يَأْوُونَ عَلَى أَهْلٍ وَلاَ مَالٍ إِذَا أَتَتْهُ صَدَقَةٌ بَعَثَ بِهَا إِلَيْهِمْ وَلَمْ يَتَنَاوَلْ مِنْهَا شَيْئًا وَإِذَا أَتَتْهُ هَدِيَّةٌ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَأَصَابَ مِنْهَا وَأَشْرَكَهُمْ فِيهَا فَسَاءَنِي ذَلِكَ وَقُلْتُ مَا هَذَا الْقَدَحُ بَيْنَ أَهْلِ الصُّفَّةِ وَأَنَا رَسُولُهُ إِلَيْهِمْ فَسَيَأْمُرُنِي أَنْ أُدِيرَهُ عَلَيْهِمْ فَمَا عَسَى أَنْ يُصِيبَنِي مِنْهُ وَقَدْ كُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْهُ مَا يُغْنِينِي وَلَمْ يَكُنْ بُدٌّ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ فَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ فَقَالَ ‏"‏ أَبَا هُرَيْرَةَ خُذِ الْقَدَحَ وَأَعْطِهِمْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُنَاوِلُهُ الرَّجُلَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يُرْوَى ثُمَّ يَرُدُّهُ فَأُنَاوِلُهُ الآخَرَ حَتَّى انْتَهَيْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ رَوِيَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَتَبَسَّمَ فَقَالَ ‏"‏ أَبَا هُرَيْرَةَ اشْرَبْ ‏"‏ ‏.‏ فَشَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ اشْرَبْ ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ أَزَلْ أَشْرَبُ وَيَقُولُ ‏"‏ اشْرَبْ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهُ مَسْلَكًا فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَسَمَّى ثُمَّ شَرِبَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"The people of As-Suffah were the guests of the people of Islam,they had nothing of people nor wealth to rely upon. And By Allah, the One Whom there is none worthy of worship besides Him – I would lay on the ground on my liver (side) due to hunger, And I would fasten a stone to my stomach out of hunger. One day I sat by the way that they (the Companions) use to come out through. Abu Bakr passed and so I asked him about an Ayah from Allah's Book, not asking him except that he might tell me to follow him (for something to eat). But he passed on without doing so. Then `Umar passed, so I asked him about an Ayah from Allah's Book, not asking him except that he might tell me to follow him. But he passed on without doing so. Then Abul-Qasim (s.a.w) passed, and he smiled when he saw me, and said: 'Abu Hurairah?' I said: 'I am here O Messenger of Allah!' He said: 'Come along.' He continued and I followed him, he entered his house, so I sought permission to enter, and he permitted me. He found a bowl of milk and said: 'Where did this milk come from?' It was said: 'It was a gift to us from so – and – so.' So the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'O Abu Hurairah' I said: 'I am here O Messenger of Allah!' He said: 'Go to the people of As-Suffah to invite them.' - Now, they were the guests of the people of Islam, they had nothing of people nor wealth to rely upon. Whenever some charity was brought to him, he would send it to them without using any of it. And when a gift was given to him (s.a.w), he would send for them to participate and share with him in it. I became upset about that, and I said (to myself): 'What good will this bowl be among the people of As-Suffah and I am the one bringing it to them?' Then he ordered me to circulate it among them (So I wondered) what of it would reach me from it, and I hoped that I would get from it what would satisfy me. But I would certainly not neglect to obey Allah and obey His Messenger, so I went to them and invited them. When they entered upon him they sat down. He said: 'Abu Hurairah, take the bowl and give it to them.' So I gave it to a man who drank his fill, then he gave it to another one, until it ended up with the Messenger of Allah (s.a.w), and all of the people had drank their fill. The Messenger of Allah (s.a.w) took the bowl, put it on his hand,then raised his head. He smiled and said: 'Abu Hurairah, drink.' So I drank, then he said: 'Drink.' I kept drinking and he kept on saying, 'Drink.' Then I said: 'By the One Who sent you with the truth! I have no more space for it.' So he took the bowl and praised Allah, mentioned His Name and drank.'” (Sahih)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل صفہ مسلمانوں کے مہمان تھے، وہ مال اور اہل و عیال والے نہ تھے، قسم ہے اس معبود کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، بھوک کی شدت سے میں اپنا پیٹ زمین پر رکھ دیتا تھا اور بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا، ایک دن میں لوگوں کی گزرگاہ پر بیٹھ گیا، اس طرف سے ابوبکر رضی الله عنہ گزرے تو میں نے ان سے قرآن مجید کی ایک آیت اس وجہ سے پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں لیکن وہ چلے گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لیا، پھر عمر رضی الله عنہ گزرے، ان سے بھی میں نے کتاب اللہ کی ایک آیت پوچھی تاکہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں مگر وہ بھی آگے بڑھ گئے اور مجھے اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ پھر ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر مسکرایا اور فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”ساتھ چلو“ اور آپ چل پڑے، میں بھی ساتھ میں ہو لیا، آپ اپنے گھر میں داخل ہوئے پھر میں نے بھی اجازت چاہی، چنانچہ مجھے اجازت دے دی گئی، وہاں آپ نے دودھ کا ایک پیالہ پایا، دریافت فرمایا: ”یہ دودھ کہاں سے ملا؟“ عرض کیا گیا: فلاں نے اسے ہدیہ بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ!“ میں نے کہا: حاضر ہوں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ اہل صفہ کو بلا لاؤ“، یہ مسلمانوں کے مہمان تھے ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، گھربار تھا نہ کوئی مال، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی صدقہ آتا تھا تو اسے ان کے پاس بھیج دیتے تھے، اس میں سے آپ کچھ نہیں لیتے تھے، اور جب کوئی ہدیہ آتا تو ان کو بلا بھیجتے، اس میں سے آپ بھی کچھ لے لیتے، اور ان کو بھی اس میں شریک فرماتے، لیکن اس ذرا سے دودھ کے لیے آپ کا مجھے بھیجنا ناگوار گزرا اور میں نے ( دل میں ) کہا: اہل صفہ کا کیا بنے گا؟ اور میں انہیں بلانے جاؤں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ہی حکم دیں گے کہ اس پیالے میں جو کچھ ہے انہیں دوں، مجھے یقین ہے کہ اس میں سے مجھے کچھ نہیں ملے گا، حالانکہ مجھے امید تھی کہ اس میں سے مجھے اتنا ضرور ملے گا جو میرے لیے کافی ہو جائے گا، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، چنانچہ میں ان سب کو بلا لایا، جب وہ سب آپ کے پاس آئے اور اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: ”ابوہریرہ! یہ پیالہ ان لوگوں کو دے دو“، چنانچہ میں وہ پیالہ ایک ایک کو دینے لگا، جب ایک شخص پی کر سیر ہو جاتا تو میں دوسرے شخص کو دیتا یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا، ساری قوم سیر ہو چکی تھی ( یا سب لوگ سیر ہو چکے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ لے کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا پھر اپنا سر اٹھایا اور مسکرا کر فرمایا: ”ابوہریرہ! یہ دودھ پیو“، چنانچہ میں نے پیا، پھر آپ نے فرمایا: ”اسے پیو“ میں پیتا رہا اور آپ یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق لے کر بھیجا ہے اب میں پینے کی گنجائش نہیں پاتا، پھر آپ نے پیالہ لیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور بسم اللہ کہہ کر دودھ پیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ ثَلاَثٌ لاَ تُرَدُّ الْوَسَائِدُ وَالدُّهْنُ وَاللَّبَنُ ‏"‏ ‏.‏ الدُّهْنُ يَعْنِي بِهِ الطِّيبَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعَبْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدَبٍ وَهُوَ مَدَنِيٌّ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are three that are not refused: Cushions, oils [Duhn (fragrance)], and milk
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں ( ہدیہ و تحفہ میں آئیں ) تو وہ واپس نہیں کی جاتی ہیں: تکئے، دہن، اور دودھ، دہن ( تیل ) سے مراد خوشبو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عبداللہ یہ مسلم بن جندب کے بیٹے ہیں اور مدنی ہیں۔
Narrated by Masruq
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏وَلَاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ‏)‏ فَقَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَأُخْبِرْنَا أَنَّ أَرْوَاحَهُمْ فِي طَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ وَتَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلاَعَةً فَقَالَ هَلْ تَسْتَزِيدُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ قَالُوا رَبَّنَا وَمَا نَسْتَزِيدُ وَنَحْنُ فِي الْجَنَّةِ نَسْرَحُ حَيْثُ شِئْنَا ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ هَلْ تَسْتَزِيدُونَ شَيْئًا فَأَزِيدُكُمْ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَمْ يُتْرَكُوا قَالُوا تُعِيدُ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّى نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ مَرَّةً أُخْرَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، مِثْلَهُ وَزَادَ فِيهِ وَتُقْرِئُ نَبِيَّنَا السَّلاَمَ وَتُخْبِرُهُ عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرُضِيَ عَنَّا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Narrated Masruq:from 'Abdullah that he was asked about Allah's saying: Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay they are alive, with their Lord (3:169). So he said: "As for us, we asked about that, and we were informed that their souls are in green birds wandering in Paradise wherever they wish, returning to lamps hanging from the Throne. Your Lord looks at them and says: 'Do you want anything more that We may grant you more?' They say: 'Our Lord! What more could we have when we are in Paradise wandering wherever we want' Then He looks at them a second time and says: "Do you want anything more that We may grant you more?' When they realize that they will not be left alone with that, they say: 'Return our souls to our bodies, so that we may return to the world to be killed in Your cause another time.'" AbU 'Ubaidah narrated similar from Ibn Mas'ud but he added: "Convey our Salam to our Prophet (ﷺ) and inform him that we are pleased, and You are pleased with us." (Da'if)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے آیت «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کی تفسیر پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: لوگو! سن لو، ہم نے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) اس کی تفسیر پوچھی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں ہیں، جنت میں جہاں چاہتی گھومتی پھرتی ہیں اور شام میں عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں۔ ایک بار تمہارے رب نے انہیں جھانک کر ایک نظر دیکھا اور پوچھا: ”تمہیں کوئی چیز مزید چاہیئے تو میں عطا کروں؟“ انہوں نے کہا: رب! ہمیں مزید کچھ نہیں چاہیئے۔ ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں گھومتی ہیں۔ پھر ( ایک دن ) دوبارہ اللہ نے ان کی طرف جھانکا اور فرمایا: ”کیا تمہیں مزید کچھ چاہیئے تو میں عطا کر دوں؟“ جب انہوں نے دیکھا کہ ( اللہ دینے پر ہی تلا ہوا ہے، بغیر مانگے اور لیے ) چھٹکارا نہیں ہے تو انہوں نے کہا: ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں دوبارہ لوٹا دے، تاکہ ہم دنیا میں واپس چلے جائیں۔ پھر تیری راہ میں دوبارہ قتل کئے جائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abdur-Rahman bin Zaid
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ‏(‏ما كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى ‏)‏ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated 'Abdur-Rahman bin Zaid:from 'Abdullah (regarding the Ayah): The heart lied not in what he saw (53:11). He said: "The Messenger of Allah (ﷺ) saw Jibra'il in a Hullah (dress normally made up of two pieces) of Rafraf filling what is between the heavens and the earth
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اس آیت: «ما كذب الفؤاد ما رأى» کی تفسیر میں کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو باریک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ آسمان و زمین کی ساری جگہیں ان کے وجود سے بھر گئی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ رَأَى مُبْتَلًى فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلاَكَ بِهِ وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلاً لَمْ يُصِبْهُ ذَلِكَ الْبَلاَءُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever sees an afflicted person then says: ‘All praise is due to Allah who saved me from that which He has afflicted you with, and blessed me greatly over many of those whom He has created, (Al-ḥamdulillāhi alladhī `āfānī mimmabtalāka bihī wa faḍḍalanī `alā kathīrin mimman khalaqa tafḍīla)’ he shall not be struck by that affliction.”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی شخص کو مصیبت میں مبتلا دیکھے پھر کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تو اسے یہ بلا نہ پہنچے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Narrated by Abu Sa'eed Al-Khudri
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَلَسْتُ أَحَقَّ النَّاسِ بِهَا أَلَسْتُ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ قَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri:that Abu Bakr said: "Am I not the most deserving of it among the people, am I not the first to become Muslim, am I not the person of such and such, am I not the person of such and such
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ، حَدَّثَنَا خَلاَّدٌ الصَّفَّارُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ سَتْرُ مَا بَيْنَ أَعْيُنِ الْجِنِّ وَعَوْرَاتِ بَنِي آدَمَ إِذَا دَخَلَ أَحَدُهُمُ الْخَلاَءَ أَنْ يَقُولَ بِسْمِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَشْيَاءُ فِي هَذَا ‏.‏
Ali bin Abi Talid (may Allah be pleased with him) narrated that :the Messenger of Allah said: "The screen between the eyes of the jinns and nakedness of the children of Adam when one of you enters the area of relieving oneself is saying: 'Bismillah
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنوں کی آنکھوں اور انسان کی شرمگاہوں کے درمیان کا پردہ یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی پاخانہ جائے تو وہ بسم اللہ کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس سلسلہ کی بہت سی چیزیں انس رضی الله عنہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي غِفَارٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَكَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ كَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا ‏.‏
Abu Hajib narrated from a man from Banu Ghifar who said:"The Prophet prohibited using the leftover (water) of a woman's Purification
قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے ( وضو کرنے سے ) منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ جَحْلٍ، عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِعُمَرَ ‏ "‏ إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا زَكَاةَ الْعَبَّاسِ عَامَ الأَوَّلِ لِلْعَامِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى لاَ أَعْرِفُ حَدِيثَ تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَحَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ زَكَرِيَّا عَنِ الْحَجَّاجِ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ قَبْلَ مَحِلِّهَا فَرَأَى طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لاَ يُعَجِّلَهَا ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ قَالَ أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ لاَ يُعَجِّلَهَا ‏.‏ وَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ عَجَّلَهَا قَبْلَ مَحِلِّهَا أَجْزَأَتْ عَنْهُ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏
Ali narrated that :the Prophet said to Umar: "We have taken this year's Zakat from Al-Abbas in the previous year
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- اسرائیل کی پہلے زکاۃ نکالنے والی حدیث کو جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۳- اسماعیل بن زکریا کی حدیث جسے انہوں نے حجاج سے روایت کی ہے میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث سے جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے، ۴- نیز یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۵- اہل علم کا وقت سے پہلے پیشگی زکاۃ دینے میں اختلاف ہے، اہل علم میں سے ایک جماعت کی رائے ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں: کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے، اور اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وقت سے پہلے پیشگی ادا کر دے تو جائز ہے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ۱؎۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلاَّ فِيمَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلاَّ لِحَاءَ عِنَبَةٍ أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضُغْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَمَعْنَى كَرَاهَتِهِ فِي هَذَا أَنْ يَخُصَّ الرَّجُلُ يَوْمَ السَّبْتِ بِصِيَامٍ لأَنَّ الْيَهُودَ تُعَظِّمُ يَوْمَ السَّبْتِ ‏.‏
Abdullah bin Busr narrated from his sister that :the Messenger of Allah said: "Do not fast on Saturday except for what has been made obligatory upon you (by Allah). If one of you does not find but a grape peal or a tree's twig, then let him chew it
عبداللہ بن بسر کی بہن بہیہ صمّاء رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہفتہ کے دن روزہ مت رکھو ۱؎، سوائے اس کے کہ جو اللہ نے تم پر فرض کیا ہو، اگر تم میں سے کوئی انگور کی چھال اور درخت کی ٹہنی کے علاوہ کچھ نہ پائے تو اسی کو چبا لے ( اور روزہ نہ رکھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور اس کے مکروہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی روزہ کے لیے ہفتے ( سنیچر ) کا دن مخصوص کر لے، اس لیے کہ یہودی ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يَقْرَأَ، فِي رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ بِـ ‏(‏ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ‏)‏ وَ ‏(‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عِمْرَانَ وَحَدِيثُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏
Ja'far bin Muhammad narrated from his father:that he considered it recommended for the two Rak'ah of Tawaf to recite: Say: "O you disbelievers!" and: Say: "He is Allah, (the) One
محمد (محمد بن علی الباقر) سے روایت ہے کہ وہ طواف کی دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھنے کو مستحب سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان کی جعفر بن محمد عن أبیہ کی روایت عبدالعزیز بن عمران کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- اور ( سفیان کی روایت کردہ ) جعفر بن محمد کی حدیث جسے وہ اپنے والد ( کے عمل سے ) سے روایت کرتے ہیں ( عبدالعزیز کی روایت کردہ ) جعفر بن محمد کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ اپنے والد سے اور وہ جابر سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۱؎، ۳- عبدالعزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں۔