حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَسَعِيدٍ، ابْنَىْ عُبَيْدٍ عَنْ أَبِي حَاتِمٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ إِلاَّ تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الأَرْضِ وَفَسَادٌ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ فِيهِ قَالَ " إِذَا جَاءَكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَأَنْكِحُوهُ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَأَبُو حَاتِمٍ الْمُزَنِيُّ لَهُ صُحْبَةٌ وَلاَ نَعْرِفُ لَهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ .
Abu Hatim Al-Muzani narrated that:The Messenger of Allah said: "When someone whose religion and character you are pleased with comes to you then marry (her to) him. If you do not do so, then there will be turmoil (Fitnah) in the land and discord (Fasad). If you do not do so, then there will be turmoil (Fitnah) in the land and discord (Fasad)." They said: "O Messenger of Allah! What if there was something about him?" He said: "When someone whose religion and character you are pleased with comes to you then marry him." (And he (pbuh) said this) three times
ابوحاتم مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس جب کوئی ایسا شخص ( نکاح کا پیغام لے کر ) آئے، جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو۔ اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد برپا ہو گا ۱؎ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر اس میں کچھ ہو؟ آپ نے تین بار یہی فرمایا: ”جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کی دین داری اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس سے نکاح کر دو ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوحاتم مزنی کو شرف صحبت حاصل ہے، ہم اس کے علاوہ ان کی کوئی حدیث نہیں جانتے جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ وَسَمِعْتُهُ مِنْ، عُقْبَةَ وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا . فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ فُلاَنَةَ بِنْتَ فُلاَنٍ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ . قَالَ فَأَعْرَضَ عَنِّي . قَالَ فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي بِوَجْهِهِ فَقُلْتُ إِنَّهَا كَاذِبَةٌ . قَالَ " وَكَيْفَ بِهَا وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا قَدْ أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ " دَعْهَا عَنْكَ " . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَجَازُوا شَهَادَةَ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ فِي الرَّضَاعِ . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الرَّضَاعِ وَيُؤْخَذُ يَمِينُهَا . وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ الْوَاحِدَةِ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ . سَمِعْتُ الْجَارُودَ يَقُولُ سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ فِي الْحُكْمِ وَيُفَارِقُهَا فِي الْوَرَعِ .
Abdullah bin Abi Mulaikah narrated:“Ubaid bin Abi Maryam narrated to me from Uqbah bin Al-Harith” and, he (Abdullah bin Abi Mulaikah) said: “And I heard it from Uqbah bin Al-Harith, but to me, the narration of Ubaid is better preserved; he said: (Uqbah bin Al-Harith narrated: ) “I married a woman, then a black woman came to us and she said: ‘I suckled both of you.’ So I went to the Prophet and said: ‘I married so-and-so the daughter of so-and-so, then a black women came to us, and said: “I suckled both of you” but she is a liar.’” He said: “Then he (pbuh) turned away from me.” He said: “So I went around to face him (and he (pbuh) turned his face away from me) so I said: ‘She is a liar.’ He said: ‘How can you stay with her while she claims that she suckled both of you? Leave her.’”
عقبہ بن حارث رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نے ایک عورت سے شادی کی تو ایک کالی کلوٹی عورت نے ہمارے پاس آ کر کہا: میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں نے فلاں کی بیٹی فلاں سے شادی کی ہے، اب ایک کالی کلوٹی عورت نے آ کر کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، وہ جھوٹ کہہ رہی ہے۔ آپ نے اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لیا تو میں آپ کے چہرے کی طرف سے آیا، آپ نے ( پھر ) اپنا چہرہ پھیر لیا۔ میں نے عرض کیا: وہ جھوٹی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ وہ کہہ چکی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ اپنی بیوی اپنے سے علاحدہ کر دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عقبہ بن حارث رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث کو کئی اور بھی لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے اور ابن ابی ملیکہ نے عقبہ بن حارث سے روایت کی ہے اور ان لوگوں نے اس میں عبید بن ابی مریم کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز اس میں «دعها عنك» ”اسے اپنے سے علاحدہ کر دو“، کا ذکر بھی نہیں ہے۔ اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ انہوں نے رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت کو درست قرار دیا ہے، ۴- ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رضاعت کے سلسلے میں ایک عورت کی شہادت جائز ہے۔ لیکن اس سے قسم بھی لی جائے گی۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۵- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک عورت کی گواہی درست نہیں جب تک کہ وہ ایک سے زائد نہ ہوں۔ یہ شافعی کا قول ہے، ۶- وکیع کہتے ہیں: ایک عورت کی گواہی فیصلے میں درست نہیں۔ اور اگر ایک عورت کی گواہی سن کر وہ بیوی سے علاحدگی اختیار کر لے تو یہ عین تقویٰ ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلاَثًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ سُكْنَى لَكِ وَلاَ نَفَقَةَ " . قَالَ مُغِيرَةُ فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ قَالَ عُمَرُ لاَ نَدَعُ كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صلى الله عليه وسلم لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لاَ نَدْرِي أَحَفِظَتْ أَمْ نَسِيَتْ . وَكَانَ عُمَرُ يَجْعَلُ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا حُصَيْنٌ، وَإِسْمَاعِيلُ، وَمُجَالِدٌ، قَالَ هُشَيْمٌ وَحَدَّثَنَا دَاوُدُ، أَيْضًا عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَاصَمَتْهُ فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً . وَفِي حَدِيثِ دَاوُدَ قَالَتْ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمُ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَالشَّعْبِيُّ وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَقَالُوا لَيْسَ لِلْمُطَلَّقَةِ سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةٌ إِذَا لَمْ يَمْلِكْ زَوْجُهَا الرَّجْعَةَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ عُمَرُ وَعَبْدُ اللَّهِ إِنَّ الْمُطَلَّقَةَ ثَلاَثًا لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَهَا السُّكْنَى وَلاَ نَفَقَةَ لَهَا . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَالشَّافِعِيِّ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ إِنَّمَا جَعَلْنَا لَهَا السُّكْنَى بِكِتَابِ اللَّهِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (لاَ تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلاَ يَخْرُجْنَ إِلاَّ أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ) قَالُوا هُوَ الْبَذَاءُ أَنْ تَبْذُوَ عَلَى أَهْلِهَا . وَاعْتَلَّ بِأَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ لَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم السُّكْنَى لِمَا كَانَتْ تَبْذُو عَلَى أَهْلِهَا . قَالَ الشَّافِعِيُّ وَلاَ نَفَقَةَ لَهَا لِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قِصَّةِ حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ .
Fatimah bint Qais said:"My husband divorced me three times during the time of the Prophet. So the Messenger of Allah said: 'There is no housing for you nor maintenance.'" Al-Mughirah (one of the narrators) said: "I mentioned that to Ibrahim and he said: Umar said: "We do not leave the Book of Allah and the Sunnah of our Prophet for the saying of a woman, and we do not know if she remembered or forgot." And Umar used to give her (the divorced woman) housing and maintenance
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے میرے شوہر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تین طلاقیں دیں ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں نہ «سکنی» ( رہائش ) ملے گا اور نہ «نفقہ» ( اخراجات ) “۔ مغیرہ کہتے ہیں: پھر میں نے اس کا ذکر ابراہیم نخعی سے کیا، تو انہوں نے کہا کہ عمر رضی الله عنہ کا کہنا ہے کہ ہم ایک عورت کے کہنے سے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ترک نہیں کر سکتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اسے یہ بات یاد بھی ہے یا بھول گئی۔ عمر ایسی عورت کو «سکنٰی» اور «نفقہ» دلاتے تھے۔ دوسری سند سے ہشیم کہتے ہیں کہ ہم سے داود نے بیان کیا شعبی کہتے ہیں: میں فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کے پاس آیا اور میں نے ان سے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ان کے شوہر نے انہیں طلاق بتہ دی تو انہوں نے «سکنٰی» اور «نفقہ» کے سلسلے میں مقدمہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہ «سکنٰی» ہی دلوایا اور نہ «نفقہ» ۔ داود کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے کہا: اور مجھے آپ نے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزاروں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا یہی قول ہے۔ ان میں حسن بصری، عطاء بن ابی رباح اور شعبی بھی ہیں۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مطلقہ کے لیے جب اس کا شوہر رجعت کا اختیار نہ رکھے نہ سکنیٰ ہو گا اور نہ نفقہ، ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما ہیں کہتے ہیں کہ تین طلاق والی عورت کو «سکنٰی» اور «نفقہ» دونوں ملے گا۔ یہی ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: اسے «سکنٰی» ملے گا «نفقہ» نہیں ملے گا۔ یہ مالک بن انس، لیث بن سعد اور شافعی کا قول ہے، ۵- شافعی کہتے ہیں کہ ہم نے اس کے لیے «سکنٰی» کا حق کتاب اللہ کی بنیاد پر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور وہ بھی نہ نکلیں سوائے اس کے کہ وہ کھلم کھلا کوئی بےحیائی کر بیٹھیں ۲؎، «بذاء» یہ ہے کہ عورت شوہر کے گھر والوں کے ساتھ بدکلامی کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کو «سکنٰی» نہ دینے کی علت بھی یہی ہے کہ وہ گھر والوں سے بدکلامی کرتی تھیں۔ اور فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کے واقعے میں «نفقہ» نہ دینے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی رو سے اسے نفقہ نہیں ملے گا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"When the judge passes a judgement in which he strived and was correct, then he receives two rewards. And when he judges and is mistaken, then he receives one reward
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حاکم ( قاضی ) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے ۱؎ اور جب فیصلہ کرے اور غلط ہو جائے تو ( بھی ) اس کے لیے ایک اجر ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمرو بن العاص اور عقبہ بن عامر سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوہریرہ کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ ہم اسے بسند «سفيان الثوري عن يحيى بن سعيد الأنصاري» إلا من حديث «عبدالرزاق عن معمر عن سفيان الثوري» روایت کی ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دِيَةُ الأَصَابِعِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ لِكُلِّ أُصْبُعٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The blood-money for the fingers on the hands and (the toes of) the feet is the same: Ten camels for each finger
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں کی دیت کے بارے میں فرمایا: ”دونوں ہاتھ اور دونوں پیر برابر ہیں، ( دیت میں ) ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے ابن عباس کی حدیث حسن صحیح اور غریب ہے، ۲- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
Narrated Ibn 'Umar:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Muslim is the brother of the Muslim, he doesn't oppress him and doesn't put him into ruin, and whoever is concerned for the needs of his brother, Allah is concerned for his needs, and whoever relieves a Muslim of a burden, Allah will relieve him of a burden from the burdens of the Day of Judgement and whoever covers (the faults of) a Muslim, Allah will cover (his faults) on the Day of Judgement
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Adi bin Hatim
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَجِدُ فِيهِ مِنَ الْغَدِ سَهْمِي قَالَ " إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ فَكُلْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ .
Narrated 'Adi bin Hatim:"I said: 'O Messenger of Allah! I shoot some game and then find my arrow in it the next day.' He said: 'If you know that your arrow killed it, and you dont see any marks of predators, then eat it
عدی بن حاتم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر اگلے دن اس میں اپنا تیر پاتا ہوں ( اس شکار کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ تمہارے ہی تیر نے شکار کو مارا ہے اور تم اس میں کسی اور درندے کا اثر نہ دیکھو تو اسے کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث ابوبشر سے اور عبدالملک بن میسرہ نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے عدی بن حاتم سے روایت کی ہے، دونوں روایتیں صحیح ہیں، ۳- اس باب میں ابوثعلبہ خشنی سے بھی روایت ہے، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Narrated by Uqbah bin 'Amir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كَفَّارَةُ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Narrated 'Uqbah bin 'Amir:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The atonement of a vow when it is not specified is the atonement of an oath
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غیر متعین نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، - هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ " . قَالَ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ . قَالَ وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ أَيْضًا عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ وَجَابِرٍ وَبِلاَلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَأَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالتَّابِعِينَ الإِسْفَارَ بِصَلاَةِ الْفَجْرِ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ مَعْنَى الإِسْفَارِ أَنْ يَضِحَ الْفَجْرُ فَلاَ يُشَكَّ فِيهِ وَلَمْ يَرَوْا أَنَّ مَعْنَى الإِسْفَارِ تَأْخِيرُ الصَّلاَةِ .
Rafi bin Khadlj said:"I heard Allah's Messenger saying: 'Perform Fajr at AI-Isfar, for indeed its reward is greater
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”فجر خوب اجالا کر کے پڑھو، کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ اسلمی، جابر اور بلال رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کی رائے نماز فجر اجالا ہونے پر پڑھنے کی ہے۔ یہی سفیان ثوری بھی کہتے ہیں۔ اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ «اسفار» ”اجالا ہونے“ کا مطلب یہ ہے کہ فجر واضح ہو جائے اور اس کے طلوع میں کوئی شک نہ رہے، «اسفار» کا یہ مطلب نہیں کہ نماز تاخیر ( دیر ) سے ادا کی جائے ۱؎۔
Narrated by Abu Umamah Al-Bahili
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَعَلَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ خَنْدَقًا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ " . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ .
Narrated Abu Umamah Al-Bahili: That the Prophet (ﷺ) said, "Whoever fasts a day in the cause of Allah, Allah shall put between him and the Fire a trench whose distance is like that between the heavens and the earth." This Hadith is Gharib as a narration of Abu Umamah
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے“۔ یہ حدیث ابوامامہ کی روایت سے غریب ہے۔
Narrated by Jabir bin ‘Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْحَرْبُ خُدْعَةٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "War is deceit." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Ali, Zaid bin Thabit, 'Aishah, Ibn 'Abbas, Abu Hurairah, Asma' bint Yazid bin As-Sakan, Ka'b bin Malik and Anas bin Malik. This Hadith is Hasan Sahih
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، زید بن ثابت، عائشہ ابن عباس، اسماء بنت یزید بن سکن، کعب بن مالک اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ali
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ نَهَانِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَحَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Ali: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited wearing Al-Qassi and what was dyed with 'Usfur." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Anas and 'Abdullah bin 'Amr
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ہوئے ریشمی اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ . وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرٍ وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ أَحْفَظُ مِنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
Narrated Jabir: "The Messenger of Allah (ﷺ) allowed us to eat horse meat, and he forbade us from eating donkey meat." He said: There is something on this from Asma' bin Abi Bakr. Abu 'Eisa said: This Hadith is Hasan Sahih. This is how it was reported by more than one narrator, from 'Amr bin Dinar from Jabir. Hammad bin Zaid reported it from 'Amr bin Dinar from Muhammad bin 'Ali, from Jabir. The narration of Ibn 'Uyainah (no. 1793) is more correct. He said: I heard Muhammad saying: "Sufyan bin 'Uyainah is better at memorizing than Hammad bin Zaid
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے، ۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي ۳۸ ( ۳۲۱۹ ) ، والصید ۲۷ ( ۵۵۲۰ ) ، و۲۸ ( ۵۵۲۴ ) ، صحیح مسلم/الصید ۶ ( ۱۹۴۱ ) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ۲۶ ( ۳۷۸۸ ) ، سنن النسائی/الصید ۲۹ ( ۴۳۳۲ ) ، وانظر: سنن ابن ماجہ/النکاح ۴۴ ( ۱۹۶۱ ) ، والذبائح ۱۲ ( ۳۱۹۱ ) ، ( تحفة الأشراف : ۲۵۳۹ ) ، و مسند احمد ( ۳/۳۲۲، ۳۲۵۶، ۳۶۱، ۳۶۲، ۳۸۵ ) ، سنن الدارمی/الأضاحي
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ مَا أَسْكَرَ الْفَرَقُ مِنْهُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ أَحَدُهُمَا فِي حَدِيثِهِ " الْحُسْوَةُ مِنْهُ حَرَامٌ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَالرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الأَنْصَارِيِّ نَحْوَ رِوَايَةِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ . وَأَبُو عُثْمَانَ الأَنْصَارِيُّ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ سَالِمٍ وَيُقَالُ عُمَرُ بْنُ سَالِمٍ أَيْضًا .
Narrated 'Aishah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Every intoxicant is unlawful. Whatever a Faraq of it intoxicates, then a handful of it is unlawful." [Abu 'Eisa said:] One of them said in his Hadith: "A sip of it is unlawful." He said: This Hadith is Hasan. Al-Laith bin Abi Sulaim and Ar-Rabi' bin Sabih reported similar to the narration of Mahdi bin Maimun from Abu 'Uthman Al-Ansari. Abu 'Uthman Al-Ansari's (a narrator in this chain) name is 'Amr bin Salim, and they say: "Umar bin Salim" (as well)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس چیز کا ایک فرق ( سولہ رطل ) کی مقدار بھر نشہ پیدا کر دے تو اس کی مٹھی بھر مقدار بھی حرام ہے ۱؎، ان میں ( یعنی محمد بن بشار اور عبداللہ بن معاویہ جمحی ) میں سے ایک نے اپنی روایت میں کہا: یعنی اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابوعثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ " نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَشْتُمُ أَبَاهُ وَيَشْتُمُ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abdullah bin 'Amr narrated that :the Messenger of Allah said: "It is among the greatest of sins that a man should curse his parents." They said: "O Messenger of Allah! Does a man curse his parents?" He said: "Yes. He verbally abuses the father of a man, who in turn, verbally abuses his father, and he (retaliates and) curses his mother , so he curses his mother
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا، اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلاَّ السَّامَ " . وَالسَّامُ الْمَوْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ هِيَ الشُّونِيزُ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Use this black seed. For indeed it contains a cure for every disease except As-Sam" And As-Sam is death
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اس کالے دانہ ( کلونجی ) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے، «سام» موت کو کہتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- «الحبة السوداء»، «شونيز» ( کلونجی ) کو کہتے ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قال حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلاَّتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ . وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْحَارِثِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ .
Al-Harith narrated that 'Ali said:"The Messenger of Allah(S.A.W) judged that the children (sons and daughters) from the same mother and father inherit, not the sons from various mothers
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: ”حقیقی بھائی وارث ہوں گے نہ کہ علاتی بھائی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف ابواسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ابواسحاق سبیعی روایت کرتے ہیں حارث سے اور حارث، علی رضی الله عنہ سے، ۲- بعض اہل علم نے حارث کے بارے میں کلام کیا ہے، ۳- عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ عَلَى نَاقَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجَرَّتِهَا وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَىَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلاَ عَدْلاً " . قَالَ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ يَقُولُ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لاَ أُبَالِي بِحَدِيثِ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ . قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ فَوَثَّقَهُ وَقَالَ إِنَّمَا يَتَكَلَّمُ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ ثُمَّ رَوَى ابْنُ عَوْنٍ عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Amr bin Kharajah narrated:"The Prophet (s.a.w) gave a Khutbah upon his she-camel, while I was under the front of her neck, and she was chewing her curd, with her saliva dripping between my shoulders. I heard him saying: 'Indeed Allah, Most Blessed and Most High, has given the right due to everyone deserving a right. So there is no will for an heir, the child is for the bed, and for the fornicator is the stone
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر خطبہ دے رہے تھے، اس وقت میں اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، لڑکا ( ولد الزنا ) بستر والے کی طرف منسوب ہو گا، اور زانی رجم کا مستحق ہے، جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کی طرف نسبت کرے یا ( غلام ) اپنے مالکوں کے علاوہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے انہیں ناپسند کرتے ہوئے اس پر اللہ کی لعنت ہے، اللہ ایسے شخص کا نہ نفلی عبادت قبول کرے گا نہ فریضہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: میں شہر بن حوشب کی حدیث کی پرواہ نہیں کرتا ہوں، ۳- امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل سے شہر بن حوشب کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے توثیق کی اور کہا: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے، پھر ابن عون نے خود ہلال بن ابوزینب کے واسطہ سے شہر بن حوشب سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ الْبَصْرِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رَبِيعَةَ الْبُنَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْمِلَّةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُشَرِّكَانِهِ " . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ هَلَكَ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ بِهِ " . حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ " يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ . وَفِي الْبَابِ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Every child is born upon the Millah, then his parents make him a Jew, a Christian, or an idolater." It was said: "O Messenger of Allah! What about those who die before that?" He said: "Allah knows best what they would have done." [Another chain) with similar in meaning, and he said: "Born upon the Fiirah
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ۱؎، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی، یا مشرک بناتے ہیں“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جو اس سے پہلے ہی مر جائے؟ ۲؎ آپ نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُتَعَاطَى السَّيْفُ مَسْلُولاً . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ . وَرَوَى ابْنُ لَهِيعَةَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ بَنَّةَ الْجُهَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَحَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عِنْدِي أَصَحُّ .
Jabir narrated :"The Messenger of Allah(s.a.w) prohibited passing an unsheathed sword
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگی تلوار لینے اور دینے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حماد بن سلمہ کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- ابن لہیعہ نے یہ حدیث «عن أبي الزبير عن جابر عن بنة الجهني عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- میرے نزدیک حماد بن سلمہ کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِهِ (لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ) قَالَ " هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ " . قَالَ حَرْبٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
It is narrated from 'Ubadah bin As-Samit, who said:"[I asked] the Messenger of Allah (s.a.w) about For them are glad tidings in the life of the present world. He said: 'This refers to the righteous dreams which the Muslim sees or which are seen about him
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ الْعُصْفُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الأَسَدِيِّ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الأَسَدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَلَّى صَلاَةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ " عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللَّهِ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ (وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا عِنْدِي أَصَحُّ . وَخُرَيْمُ بْنُ فَاتِكٍ لَهُ صُحْبَةٌ وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ وَهُوَ مَشْهُورٌ .
Khuraim bin Fatik Al-Asadi narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) performed the Subh (Fajr)prayer. Then when he turned he got up to stand and said:"O you people! False witness is tantamount to Shirk with Allah."Saying it three times, then he recited this Ayah And shun false speech Until the end of the Ayah
خریم بن فاتک اسدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب پلٹے تو خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے“، آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی پھر آپ نے یہ مکمل آیت تلاوت فرمائی «واجتنبوا قول الزور» ”اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، ۲- خریم بن فاتک کو شرف صحابیت حاصل ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، اور مشہور صحابی ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَأَنَسٍ وَأَبِي مُوسَى . قَالَ حَدِيثُ عُبَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Ubadah bin As-Samit narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him. Whoever is averse to meeting Allah, Allah is averse to meeting him
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ام المؤمنین عائشہ، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Rights will be given to their due, such that the hornless sheep would get its claim from the horned sheep." There are narrations on this topic from Abu Dharr and 'Abdullah bin Unais. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( قیامت کے دن ) حقداروں کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے گا، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کا بدلہ لیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور عبداللہ بن انیس رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ جَنَّتَيْنِ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا مِنْ فِضَّةٍ وَجَنَّتَيْنِ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا مِنْ ذَهَبٍ وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلاَّ رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ " . وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَخَيْمَةً مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلاً فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لاَ يُعْرَفُ اسْمُهُ . وَأَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ وَأَبُو مَالِكٍ الأَشْعَرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ .
Abu Bakr bin 'Abdullah bin Qais narrated from his father that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed, in Paradise, there are two gardens, their vessels and all that are in them are of silver. And, there are two gardens, their vessels and all that are in them are of gold. There is nothing between the people and their seeing their Lord except the Cloak of Greatness upon his Face in the Garden of Eternity." And from the chain it is reported from the Prophet (s.a.w) he said: "Indeed in Paradise there is a great tent of hollowed pearl, its breadth is sixty miles, in every corner of it is a family, they do not see the others, and the believer goes around to them
ابوموسیٰ اشعری عبداللہ بن قیس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں دو ایسے باغ ہیں کہ جن کے برتن اور اس کی تمام چیزیں چاندی کی ہیں اور دو ایسے باغ ہیں جس کے برتن اور جس کی تمام چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف وہ کبریائی چادر حائل ہو گی جو اس کے چہرے پر ہے“ ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي، مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مَسِيرَةَ ثَلاَثٍ مِثْلُ الرَّبَذَةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . " وَمِثْلُ الرَّبَذَةِ " كَمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَالرَّبَذَةِ . وَالْبَيْضَاءُ جَبَلٌ مِثْلُ أُحُدٍ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The molar teeth of the disbeliever on the Day of Judgment will be like Uhud (mountain), his thigh will be like Al-Baida, and his seat in the Fire will be like the distance of three the likes of Ar-Rabadhah." His SAW statement: "The likes of Ar-Rabadhah" means: like what is between Al-Madinah and ArRabadhah. And Al-Baidã' is a mountain like Uhud
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی، اس کی ران بیضاء ( پہاڑ ) جیسی ہو گی اور جہنم کے اندر اس کے بیٹھنے کی جگہ تین میل کی مسافت کے برابر ہو گی جس طرح ربذہ کی دوری ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- «مثل الربذة» کا مطلب ہے کہ جس طرح ربذہ پہاڑ مدینہ سے دور ہے، ربذہ اور بیضاء احد کی طرح دو پہاڑ ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّا هَذَا الْحَىَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَلَسْنَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلاَّ فِي أَشْهُرِ الْحَرَامِ فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا . فَقَالَ " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ الإِيمَانِ بِاللَّهِ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ شَهَادَةَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامَ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ " . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ . وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ أَيْضًا وَزَادَ فِيهِ أَتَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ شَهَادَةُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . سَمِعْتُ قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَؤُلاَءِ الأَشْرَافِ الأَرْبَعَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ وَعَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيِّ وَعَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ . قَالَ قُتَيْبَةُ كُنَّا نَرْضَى أَنْ نَرْجِعَ مِنْ عِنْدِ عَبَّادٍ كُلَّ يَوْمٍ بِحَدِيثَيْنِ وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ هُوَ مِنْ وَلَدِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ .
Narrated Ibn 'Abbas:"A delegation of Abdul-Qais came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'We are a tribe from Rabi'ah, and we cannot come to you except during the sacred months. So order us with something that we can take from you, and then we call those who are behind us to it.' So he said: 'I order you with four things: To testify to La Ilaha Illallah, and that I am the Messenger of Allah; to establish the Salat, to give the Zakat, and to give the Khumus from the spoils of war that you gain
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبدقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے آپ سے عرض کیا: ( اے اللہ کے رسول! ) ہمارے اور آپ کے درمیان ربیعہ کا یہ قبیلہ حائل ہے، حرمت والے مہینوں کے علاوہ مہینوں میں ہم آپ کے پاس آ نہیں سکتے ۱؎ اس لیے آپ ہمیں کسی ایسی چیز کا حکم دیں جسے ہم آپ سے لے لیں اور جو ہمارے پیچھے ہیں انہیں بھی ہم اس کی طرف بلا سکیں، آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں ( ۱ ) اللہ پر ایمان لانے کا، پھر آپ نے ان سے اس کی تفسیر و تشریح بیان کی «لا إلہ الا اللہ» اور «محمد رسول الله» “ کی شہادت دینا ( ۲ ) نماز قائم کرنا ( ۳ ) زکاۃ دینا ( ۴ ) مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ( خمس ) نکالنا۔
Narrated by Abu Harun [Al-'Abdi]
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَبَا سَعِيدٍ فَيَقُولُ مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ وَإِنَّ رِجَالاً يَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الأَرَضِينَ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ فَإِذَا أَتَوْكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى قَالَ عَلِيٌّ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ كَانَ شُعْبَةُ يُضَعِّفُ أَبَا هَارُونَ الْعَبْدِيَّ . قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مَا زَالَ ابْنُ عَوْنٍ يَرْوِي عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ حَتَّى مَاتَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو هَارُونَ اسْمُهُ عُمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ .
Narrated Abu Harun [Al-'Abdi]:"We went to Abu Sa'eed and he said: 'Welcome with the exhortation of the Messenger of Allah (ﷺ). Indeed the Prophet (ﷺ) said: "Surely, the people are followers of you, and men will certainly come to you from the regions of the earth to gain understanding in the religion. So when they come to you exhort them with good
ابوہارون کہتے ہیں کہ ہم ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے پاس ( علم دین حاصل کرنے کے لیے ) آتے، تو وہ کہتے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تمہارے پیچھے ہیں ۱؎ کچھ لوگ تمہارے پاس زمین کے گوشہ گوشہ سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے تو جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی بن عبداللہ بن المدینی نے کہا: یحییٰ بن سعید کہتے تھے: شعبہ ابوہارون عبدی کو ضعیف قرار دیتے تھے، ۲- یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: ابن عون جب تک زندہ رہے ہمیشہ ابوہارون عبدی سے روایت کرتے رہے، ۳- ابوہارون کا نام عمارہ بن جوین ہے۔
Narrated by Abu Salamah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهَا " إِنَّ جِبْرِيلَ يُقْرِئُكِ السَّلاَمَ " . قَالَتْ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ .
Narrated Abu Salamah:that 'Aishah narrated to him that he Messenger of Allah (ﷺ) said to her: "Indeeed Jibril has sent Salam to you." She said: "And upon him be peace and the mercy of Allah and His Blessings
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بنی نمیر کے ایک شخص سے بھی روایت ہے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۳- زہری نے بھی یہ حدیث ابوسلمہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔
Narrated by Abu Ayyub
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ يَرْحَمُكَ اللَّهُ وَلْيَقُلْ هُوَ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
Narrated Abu Ayyub:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When one of you sneezes let him say: 'Al-Hamdulillahi 'Ala Kulli Hal (All praise is due to Allah in every circumstance).' And let the one replying to him say: "Yarhamukallah (May Allah have mercy upon you).' And let him say to him: 'Yahdikumullah Wa Yuslihu Balakum (May Allah guide you and rectify your affairs)
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسی کو چھینک آئے تو «الحمد لله على كل حال» ( تمام تعریفیں ہر حال میں اللہ کے لیے ہیں ) کہے۔ اور جو اس کا جواب دے وہ «يرحمك الله» کہے، اور اس کے جواب میں چھینکنے والا کہے «يهديكم الله ويصلح بالكم» ( اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست فرما دے ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلاَّمٍ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، عَنِ الْحَارِثِ الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَأَبُو سَلاَّمٍ الْحَبَشِيُّ اسْمُهُ مَمْطُورٌ وَقَدْ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ .
(Another chain) with similar in meaning
اس سند سے بھی حارث اشعری رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح اسی کی ہم معنی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۲- ابوسلام حبشی کا نام ممطور ہے، ۳- اس حدیث کو علی بن مبارک نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی ہے۔
Narrated by Abdur-Rahman bin Abi Laila
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ، عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ سَهْوَةٌ فِيهَا تَمْرٌ فَكَانَتْ تَجِيءُ الْغُولُ فَتَأْخُذُ مِنْهُ قَالَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَاذْهَبْ فَإِذَا رَأَيْتَهَا فَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " . قَالَ فَأَخَذَهَا فَحَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ " . قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ فَقَالَ " كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ " . قَالَ فَأَخَذَهَا مَرَّةً أُخْرَى فَحَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ " . قَالَ حَلَفَتْ أَنْ لاَ تَعُودَ . فَقَالَ " كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ " . فَأَخَذَهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِتَارِكِكِ حَتَّى أَذْهَبَ بِكِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . فَقَالَتْ إِنِّي ذَاكِرَةٌ لَكَ شَيْئًا آيَةَ الْكُرْسِيِّ اقْرَأْهَا فِي بَيْتِكَ فَلاَ يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ وَلاَ غَيْرُهُ . قَالَ فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ " . قَالَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ . قَالَ " صَدَقَتْ وَهِيَ كَذُوبٌ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ .
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Laila:that Abu Ayyub Al-Ansari had a store house in which he kept dates. A ghoul would come and take from it, so he complained about that to the Prophet (ﷺ). So he said: "Go, and when you see her say: 'In the Name of Allah, answer to the Messenger of Allah (ﷺ).'" He said: "So I caught her, and she swore that she would not return, so I released her." He went to the Prophet (ﷺ) and he said: "What did your captive do?" He said: "She swore not to return." He said: "She has lied, and she will come again to lie." He said: "I caught her another time and she swore that she would not return, so I released her, and went to the Prophet (ﷺ)." He said: "What did your captive do?" He said: "She swore that she would not return." So he said: "She lied and she will come again to lie." So he caught her and said: "I shall not let you go until you accompany me to the Prophet (ﷺ)." She said: "I shall tell you something: If you recite Ayat Al-Kursi in your home, then no Shaitan, nor any other shall come near you." So he went to the Prophet (ﷺ) and he said: "What did your captive do?" He said: "I informed him of what she said, and he said: 'She told the truth and she is a continuous liar
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہٰ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا: ”جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو: بسم اللہ ( اللہ کے نام سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان“، ابوذر رضی الله عنہ نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چنانچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا، ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ !“ انہوں نے کہا: اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا: وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے“، راوی کہتے ہیں: انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے ( دوبارہ ) چھوڑ دیا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا: ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ انہوں نے کہا: اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ کہا، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے“۔ ( پھر جب وہ آیا ) تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، اور کہا: اب تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتا رہا ہوں۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرو۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا“، پھر ابوذر رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: ”تمہارے قیدی نے کیا کیا؟“ تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے بات تو صحیح کہی ہے، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Umm Salamah
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَحَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا هَارُونُ النَّحْوِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ : (إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ ).
Narrated Umm Salamah:"The Messenger of Allah (ﷺ) recited this Ayah: 'Innahu 'Amalun Ghairu Salih'" (11:)
ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت اس طرح پڑھی: «إنه عمل غير صالح»
Narrated by Adiyy bin Hatim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَبُنْدَارٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْيَهُودُ مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ وَالنَّصَارَى ضُلاَّلٌ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ .
Narrated 'Adiyy bin Hatim:that the Prophet (ﷺ) said: "The Jews are those who Allah is wrath with, and the Christians have strayed
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلاَمِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَىَّ فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ . قَالَ " لاَ يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
Abdullah bin Busr (ra) narrated that:A man said: “O Messenger of Allah (ﷺ), indeed, the legislated acts of Islam have become too much for me, so inform me of a thing that I should stick to.” He (ﷺ) said: “Let not your tongue cease to be moist with the remembrance of Allah.”
عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اسلام کے احکام و قوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ تھوڑی سی چیزیں مجھے بتا دیجئیے جن پر میں ( مضبوطی ) سے جما رہوں، آپ نے فرمایا: ”تمہاری زبان ہر وقت اللہ کی یاد اور ذکر سے تر رہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَوَّلُ النَّاسِ خُرُوجًا إِذَا بُعِثُوا وَأَنَا خَطِيبُهُمْ إِذَا وَفَدُوا وَأَنَا مُبَشِّرُهُمْ إِذَا أَيِسُوا لِوَاءُ الْحَمْدِ يَوْمَئِذٍ بِيَدِي وَأَنَا أَكْرَمُ وَلَدِ آدَمَ عَلَى رَبِّي وَلاَ فَخْرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "I am the first of the people to appear upon their being resurrected, and I am their spokesman whenever they gather, and I am the one that gives them glad tidings whenever they give up hope. And the Banner of Praise will be in my hand that day, and I am the most noble of the children of Adam with my Lord, and I am not boasting
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب لوگ ( قبروں سے ) اٹھائے جائیں گے تو میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہو گی اور جب وہ دربار الٰہی میں آئیں گے تو میں ان کا خطیب ہوں گا، اور جب وہ مایوس اور ناامید ہو جائیں گے تو میں انہیں خوشخبری سنانے والا ہوں گا، حمد کا پرچم اس دن میرے ہاتھ میں ہو گا، اور میں اپنے رب کے نزدیک اولاد آدم میں سب سے بہتر ہوں اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
وَرُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ كِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ . وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي آلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
Salim narrated:(Another chain) from Abdullah bin Umar from the Prophet which is similar
نیز ابن شہاب زہری سے یہ حدیث بطریق: «الزهري عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» بھی مروی ہے، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہری کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «سالم عن أبيه عبدالله بن عمر» روایت کی ہے اور جو حدیث انہوں نے بطریق: «عبدالله بن عبدالله بن عمر عن أبيه عبدالله بن عمر» روایت کی ہے دونوں حدیثیں صحیح ہیں، اور زہری کے بعض تلامذہ نے اسے بطریق: «الزهري عن آل عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر» روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جمعہ کے دن کے غسل کے سلسلہ میں بطریق: «ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرفوعاً مروی ہے، ( جو آگے آ رہی ہے ) اور یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ .
Ubaidullah bin Abdullah bin Utbah:There is a another chain with similar narration
اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَفَرًا فَصَلَّى تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنٍ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَحْنُ نُصَلِّي فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Ibn Abbas narrated:"The Messenger of Allah traveled on a journey and he prayed two Rak'ah for nineteen days." Ibn Abbas said: "So when we would stay somewhere for nineteen (days) we would pray two Rak'ah , and if we stayed longer than that we would complete the Salat
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کیا، تو آپ نے انیس دن تک دو دو رکعتیں پڑھیں ۱؎، ابن عباس کہتے ہیں: تو ہم لوگ بھی انیس یا اس سے کم دنوں ( کے سفر ) میں دو دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ اور جب ہم اس سے زیادہ قیام کرتے تو چار رکعت پڑھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا دَخَلَ الْخَلاَءَ قَالَ " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Anas bin Malik said:"When the Prophet would enter the toilet 'He said: "O Allah! Indeed I seek refuge in You from Al-Khubith and Al- Khaba'ith
انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ”اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور ناپاک جنیوں سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِي ثَلاَثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ خُصَيْفٍ وَعَبْدُ السَّلاَمِ ثِقَةٌ حَافِظٌ . وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خُصَيْفٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ .
Abdullah bin Mas'ud narrated that :the Prophet said: "A Tabi or a Tabi'ah (is due) on thirty cows, and a Musinnah (is due) on every forty
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیس گائے میں ایک سال کا بچھوا، یا ایک سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے اور چالیس گایوں میں دو سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے ( دانتی یعنی دو دانت والی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبدالسلام بن حرب نے اسی طرح یہ حدیث خصیف سے روایت کی ہے، اور عبدالسلام ثقہ ہیں حافظ ہیں، ۲- شریک نے بھی یہ حدیث بطریق: «خصيف عن أبي عبيدة عن أمه عن عبد الله» روایت کی ہے، ۳- اور ابوعبیدہ بن عبداللہ کا سماع اپنے والد عبداللہ سے نہیں ہے۔ ۴- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَجَّاجٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَحْصُوا هِلاَلَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ . وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقَدَّمُوا شَهْرَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ " . وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو اللَّيْثِيِّ .
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: "Count the (the appearances of) the crescent of Sha'ban for Ramadan
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے اس طرح ابومعاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور صحیح وہ روایت ہے جو ( عبدہ بن سلیمان نے ) بطریق «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”رمضان کے استقبال میں ایک یا دو دن پہلے روزہ شروع نہ کر دو، اسی طرح بطریق: «يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ( وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً ) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ قَالَ " لاَ وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لاَ تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ ) . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَاسْمُ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ فَيْرُوزَ .
Ali bin Abi Talib narrated:"When Allah revealed: And Hajj to the House is a duty that mankind owes to Allah, for whomever is able to bear the journey. They said: 'O Messenger of Allah! Is that every year?' He remained silent. So they said: 'O Messenger of Allah! Is that every year?' He said: 'No. If I had said yes, then it would have been made obligatory.' So Allah revealed: O you who believe! Do not ask about things which, if made plain to you, may cause you trouble
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ ”اللہ کے لیے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھیں“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال ( فرض ہے ) ؟ آپ خاموش رہے۔ لوگوں نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، اور ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ( ہر سال ) واجب ہو جاتا اور پھر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا: ”اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تم پر شاق گزریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ابوالبختری کا نام سعید بن ابی عمران ہے اور یہی سعید بن فیروز ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ فَقَالَ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَقِيَ مِنَ الْبَلاَءِ مَا لَقِيتُ لَقَدْ كُنْتُ وَمَا أَجِدُ دِرْهَمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَفِي نَاحِيَةٍ مِنْ بَيْتِي أَرْبَعُونَ أَلْفًا وَلَوْلاَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَانَا - أَوْ نَهَى - أَنْ نَتَمَنَّى الْمَوْتَ لَتَمَنَّيْتُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ خَبَّابٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " لاَ يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ وَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي ."
Harithah bin Mudarrib said:"I entered upon Khabab and he had been cauterized on his stomach. He said: 'I do not know any of the Companions of the Prophet who met with the trial I have met with. Indeed I could not find a Dirham during the time of the Prophet, and (now) outside my house there are forty thousand. If it were not that the Messenger of Allah forbade us' - or: 'forbade' - 'from wishing for death, then I would wish for it