بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
26 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي جَنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا رُكْبَانًا فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ تَسْتَحْيُونَ إِنَّ مَلاَئِكَةَ اللَّهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ عَلَى ظُهُورِ الدَّوَابِّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ثَوْبَانَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مَوْقُوفًا قَالَ مُحَمَّدٌ الْمَوْقُوفُ مِنْهُ أَصَحُّ ‏.‏
Thawban narrated:"We went with the Prophet (following) a funeral. He saw people riding so he said: 'Are you not ashamed? Indeed Allah's angels are on their feet, while you are on the backs of your beasts
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے، آپ نے کچھ لوگوں کو سوار دیکھا تو فرمایا: ”کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم جانوروں کی پیٹھوں پر بیٹھے ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ثوبان کی حدیث، ان سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ان کی موقوف روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- اس باب میں مغیرہ بن شعبہ اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى ابْنَةِ أَخِيهَا أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لاَ تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلاَ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلاَفًا أَنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا فَإِنْ نَكَحَ امْرَأَةً عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ خَالَتِهَا أَوِ الْعَمَّةَ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا فَنِكَاحُ الأُخْرَى مِنْهُمَا مَفْسُوخٌ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ عَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى أَدْرَكَ الشَّعْبِيُّ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَوَى عَنْهُ ‏.‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا فَقَالَ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى الشَّعْبِيُّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"The Messenger of Allah prohibited that a woman be married along with her paternal aunt, or the paternal aunt along with her brother's daughter, or a woman with her maternal aunt, or the maternal aunt along with her sister's daughter, and the younger is not to be married with the older, nor the older with the younger
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کیا جائے جبکہ اس کی بھتیجی ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا بھانجی سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی خالہ ( پہلے سے ) نکاح میں ہو یا خالہ سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی بھانجی پہلے سے نکاح میں ہو۔ اور نہ نکاح کیا جائے کسی چھوٹی سے جب کہ اس کی بڑی نکاح میں ہو اور نہ بڑی سے نکاح کیا جائے جب کہ چھوٹی نکاح میں ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں ان کے درمیان اس بات میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں رکھے۔ اگر اس نے کسی عورت سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ بھی اس کے نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کر لیا جب کہ اس کی بھتیجی نکاح میں ہو تو ان میں سے جو نکاح بعد میں ہوا ہے، وہ فسخ ہو گا، یہی تمام اہل علم کا قول ہے، ۳- شعبی نے ابوہریرہ کو پایا ہے اور ان سے ( براہ راست ) روایت بھی کی ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ہے، ۴- شعبی نے ابوہریرہ سے ایک شخص کے واسطے سے بھی روایت کی ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَهُوَ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَتَفَرَّقَنَّ عَنْ بَيْعٍ إِلاَّ عَنْ تَرَاضٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah: That the Prophet (ﷺ) said: "They (the two) are not separate from a sale except in agreement. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری بیع ( کی مجلس ) سے رضا مندی کے ساتھ ہی جدا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Narrated by An-Nu'man bin Bashir
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ الْمَعْنَى الْوَاحِدُ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، يُحَدِّثَانِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ، نَحَلَ ابْنًا لَهُ غُلاَمًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُشْهِدُهُ فَقَالَ ‏"‏ أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَارْدُدْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ التَّسْوِيَةَ بَيْنَ الْوَلَدِ حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ يُسَوِّي بَيْنَ وَلَدِهِ حَتَّى فِي الْقُبْلَةِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يُسَوِّي بَيْنَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ وَالْعَطِيَّةِ الذَّكَرُ وَالأُنْثَى سَوَاءٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمُ التَّسْوِيَةُ بَيْنَ الْوَلَدِ أَنْ يُعْطَى الذَّكَرُ مِثْلَ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ مِثْلَ قِسْمَةِ الْمِيرَاثِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏
Narrated An-Nu'man bin Bashir:That his father gave a slave to a son of his. So he went to the Prophet (ﷺ) to have him witness it. He (ﷺ) said: 'Have you given a gift similar to this one to all of your sons?' He replied: 'No'. So he said: 'Then take him back
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے باپ ( بشیر ) نے اپنے ایک بیٹے کو ایک غلام دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں، تو آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اپنے تمام لڑکوں کو ایسا ہی غلام عطیہ میں دیا ہے ۱؎ جیسا اس کو دیا ہے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے واپس لے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲- یہ اور بھی سندوں سے نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے مروی ہے۔ ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ اولاد کے درمیان ( عطیہ دینے میں ) برابری کو ملحوظ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے تو کہا ہے کہ بوسہ لینے میں بھی اپنی اولاد کے درمیان برابری برقرار رکھے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: بخشش اور عطیہ میں اپنی اولاد یعنی بیٹا اور بیٹی کے درمیان بھی برابری برقرار رکھے۔ یہی سفیان ثوری کا قول ہے، ۵- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: اولاد کے درمیان برابری یہی ہے کہ میراث کی طرح لڑکے کو لڑکی کے دوگنا دیا جائے۔
Narrated by Bajalah bin 'Abdah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَنَاذِرَ فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ انْظُرْ مَجُوسَ مَنْ قِبَلَكَ فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Narrated Bajalah bin 'Abdah : "I was a scribe for Jaz' bin Mu'awiyah at Manadhir when 'Umar's letter came to us (saying): 'Inspect the Zoroastrians around you to take the Jizyah from them. For indeed 'Abdur-Rahman bin 'Awf informed me that the Messenger of Allah (ﷺ) took the Jizyah from the Zoroastrians of Hajar.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan
بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں مقام مناذر میں جزء بن معاویہ کا منشی تھا، ہمارے پاس عمر رضی الله عنہ کا خط آیا کہ تمہاری طرف جو مجوس ہوں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو کیونکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated by Muhammad bin Al-Munkadir
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ مَرَّ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ بِشُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ وَهُوَ فِي مُرَابَطٍ لَهُ وَقَدْ شَقَّ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ قَالَ أَلاَ أُحَدِّثُكَ يَا ابْنَ السِّمْطِ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ بَلَى ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ رِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ وَرُبَّمَا قَالَ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ وَمَنْ مَاتَ فِيهِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَنُمِّيَ لَهُ عَمَلُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Narrated Muhammad bin Al-Munkadir: "Salman Al-Farisi passed by Shurahbil bin As-Simt while he was in garrison in which he and his companions were suffering from difficulties. He said to him: 'Shall I narrate to you - O Ibn As-Simt - a Hadith I heard from the Messenger of Allah (ﷺ) ?' He said: 'Of course.' He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "(Ribat) Guarding the frontier for a day in the cause of Allah is more virtuous" - and perhaps he said: "better, than fasting a month and standing (in prayer) for it. And whoever dies in it, he is protected from the trials of the grave, and his deeds (continuously) multiplied until the Day of Resurrection. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ شرحبیل بن سمط کے پاس سے گزرے، وہ اپنے «مرابط» ( سرحد پر پاسبانی کی جگہ ) میں تھے، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر وہاں رہنا گراں گزر رہا تھا، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے کہا: ابن سمط؟ کیا میں تم سے وہ حدیث بیان نہ کروں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، سلمان رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ کی راہ میں ایک دن کی پاسبانی ایک ماہ روزہ رکھنے اور تہجد پڑھنے سے افضل ہے، آپ نے «أفضل» کی بجائے کبھی «خير» ( بہتر ہے ) کا لفظ کہا: اور جو شخص اس حالت میں وفات پا گیا، وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اور قیامت تک اس کا عمل بڑھایا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abu 'Ubaidah
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَجِيءَ بِالأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلاَءِ الأُسَارَى ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ قِصَّةً فِي هَذَا الْحَدِيثِ طَوِيلَةً ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ ‏.‏ وَيُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَكْثَرَ مَشُورَةً لأَصْحَابِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Abu 'Ubaidah: That 'Abdullah said: "On the Day of Badr when the captives were gathered, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'What do you (people) say about these captives?'" Then he mentioned the story in the lengthy Hadith. [Abu 'Eisa said:] There are narrations of this topic from 'Umar, Abu Ayyub, Anas, and Abu Hurairah This Hadith is Hasan, and Abu 'Ubaidah did not hear from his father. It has been reported that Abu Hurairah said: "None was more apt to seek council of his Companions than the Messenger of Allah (ﷺ)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب بدر کے دن قیدیوں کو لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو“، پھر راوی نے اس حدیث میں ایک طویل قصہ بیان کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعبیدہ نے اپنے باپ سے نہیں سنا ہے، ۳- ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا جو اپنے ساتھیوں سے زیادہ مشورہ لیتا ہو ۲؎، ۴- اس حدیث میں عمر، ابوایوب، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Asma' bint Yazid bin As-Sakan Al-Ansariyyah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ الأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ كَانَ كُمُّ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الرُّسْغِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated Asma' bint Yazid bin As-Sakan Al-Ansariyyah:"The sleeves of (the shirt) of the Messenger of Allah (ﷺ) were to the wrist." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کی آستین کلائی ( پہنچوں ) تک ہوتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Alqamah bin Al-Muzani
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ‏.‏
Narrated 'Alqamah bin Al-Muzani: From his father, who said that the Prophet (ﷺ) said: "When one of you buys meat, then let him increase its broth. For, if he does not find any meat you'll have broth; and it is one of the two meats." And there are narrations on this topic from Abu Dharr. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do not know of it except through this route, as a narration of Muhammad bin Fada', who is Muhammad bin Fada' Al-Mu'abbar, and he has been criticized by Sulaiman bin Harb. 'Alqamah bin 'Abdullah is the brother of Bakr bin 'Abdullah Al-Muzani
عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں ( پکاتے وقت ) شوربا ( سالن ) زیادہ کر لے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» ( یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے ) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے، ۳- یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ - عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Aishah narrated that the Messenger of Allah said:"Jibril – may the Salawat of Allah be upon him – continued to recommend me about (treating) the neighbors so (kindly and politely), that I thought he would order me to make them heirs.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت ( تاکید ) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں ( بھی ) شریک ٹھہرا دیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ، نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ وَعَبْدُ الْمُنْعِمِ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ ‏.‏
Jabir [bin Abdullah] narrated:(Another chain for) a similar narration (as no)
اس سند سے بھی عبدالمنعم سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: جابر رضی الله عنہ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے یعنی عبدالمنعم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یہ مجہول سند ہے، عبدالمنعم بصرہ کے شیخ ہیں ( یعنی ضعیف راوی ہیں ) ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْمِنْهَالَ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَعُودُ مَرِيضًا لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَيَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ إِلاَّ عُوفِيَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏
Ibn 'Abbas narrated that the Prophet (S.A.W) said:"There is no Muslim worshiper who visits one who is ill - other than at the time of death - and he says seven times: As'alullah Al-'Azeem Rabbal 'Arshil 'Azeem an yashfik ('I ask Allah the Magnificent, Lord of the Magnificent Throne to cure you') except when he will be cured
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم أن يشفيك» ”میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے“ تو ضرور اس کی شفاء ہو جاتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف منہال بن عمرو کی روایت سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَفْشُوَ الزِّنَا وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Anas bin Malik said:"I shall narrate a Hadith to you that I heard from the Messenger of Allah(s.a.w), which none after me shall narrate that he heard it from the Messenger of Allah(s.a.w)." [He said:] "The Messenger of Allah(s.a.w) said: 'Indeed, among the signs of the Hour are that knowledge shall be raised up, ignorance shall be rampant, Zina shall abound, Khamr shall be drunk, women shall increase and men shall decrease such that fifty women will be supported by one man
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ۱؎، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے: علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہو جانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِمِائَةِ سَنَةٍ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَجَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Abu Sa'eed narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"The poor Muhajirin will enter Paradise before the rich among them by five hundred years
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، وَيُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَىٍّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَدِمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ وَسَمِعَتِ الأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَوْا صَلاَةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْصَرَفَ فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ رَآهُمْ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا فَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Al-Mustawrad bin Makhramah narrated that 'Amir bin 'Awf informed him- and he was an ally of Banu 'Amr bin Lu'ay who had participated with The Messenger of Allah (s.a.w) at(the battle of ) Badr, he said:"The Messenger of Allah (s.a.w) had dispatched Abu 'Ubaidah bin Al-Jarrah, so he arrived with the wealth from Al-Bahrain. When the Ansar had heard of the arrival of Abu 'Ubaidah they were attending Salat Al-Fajr. So the the Messenger of Allah (s.a.w) performed the Salat and when he finished, they assembled before him. The Messenger of Allah (s.a.w) smiled when he saw them, then he said: 'I think that you heard that Abu 'Ubaidah has arrived with something?' They said: 'Yes O Messenger of Allah! 'He said: 'Then receive good news, and hope for what will please you. By Allah! It is not poverty that I fear for you, but what I fear for you is that the world will be presented for you just as it was presented for those before you,then you will compete for it, just as they competed for it, and it will destroy you, just as it destroyed them
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ عمرو بن عوف رضی الله عنہ ( یہ بنو عامر بن لوی کے حلیف اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے ) نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو بھیجا پھر وہ بحرین ( احساء ) سے کچھ مال غنیمت لے کر آئے، جب انصار نے ابوعبیدہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، ادھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو لوگ آپ کے سامنے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا: ”شاید تم لوگوں نے یہ بات سن لی ہے کہ ابوعبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں“، لوگوں نے کہا جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تمہارے لیے خوشخبری ہے اور اس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش کرے، اللہ کی قسم! میں تم پر فقر و محتاجی سے نہیں ڈرتا ہوں، البتہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ دنیا تم پر کشادہ کر دی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کی گئی، پھر تم اس میں حرص و رغبت کرنے لگو جیسا کہ ان لوگوں نے حرص و رغبت کی، پھر دنیا تمہیں تباہ و برباد کر دے جیسا کہ اس نے ان کو تباہ و برباد کیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Prophet(s.a.w) said similar to it, except that he said,:"uncover a pot of gold
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سونے کا پہاڑ اگلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Nabhan the freed slave of Umm Salamah
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ نَبْهَانَ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا، كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَيْمُونَةُ قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أُمِرْنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ احْتَجِبَا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى لاَ يُبْصِرُنَا وَلاَ يَعْرِفُنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Nabhan the freed slave of Umm Salamah:to Ibn Shihab, that Umm Salamah narrated to him, that she and Maimunah were with the Messenger of Allah (ﷺ), she said: "So when we were with him, Ibn Umm Maktum came, and he entered upon him, and that was after veiling had been ordered for us. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Veil yourselves from him.' So I said: 'O Messenger of Allah! Is he not blind such that he can not see us or recognize us?' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Are you two blind such that you can not see him?
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں اور میمونہ رضی الله عنہا بھی موجود تھیں، اسی دوران کہ ہم دونوں آپ کے پاس بیٹھی تھیں، عبداللہ بن ام مکتوم آئے اور آپ کے پاس پہنچ گئے۔ یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ہمیں پردے کا حکم دیا جا چکا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم دونوں ان سے پردہ کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ اندھے نہیں ہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں؟ اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں بھی اندھی ہو؟ کیا تم دونوں انہیں دیکھتی نہیں ہو؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Ma'qil bin Yasar
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو الْعَلاَءِ الْخَفَّافُ، قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعُ بْنُ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَقَرَأَ ثَلاَثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ وَإِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Narrated Ma'qil bin Yasar:that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever says three times when he gets up in the morning: 'A'udhu Billahis-Sami Al-'Alim Min Ash-Shaitanir-Rajim' and he recites three Ayat from the end of Surah Al-Hashr - Allah appoints seventy-thousand angels who say Salat upon him until the evening. If he dies on that day, he dies a martyr, and whoever reaches the evening, he holds the same status
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورۃ الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مر جاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated by Abdullah
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَكَ بَيِّنَةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ ‏.‏ فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ ‏"‏ احْلِفْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفَ فَيَذْهَبَ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى‏:‏ ‏(‏ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً ‏)‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ‏.‏
Narrated 'Abdullah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever takes a false oath to deprive a Muslim of his property, he will meet Allah while He is angry with him." So Al-Ash'ath bin Qais said: "By Allah! This was about me. There was a dispute between myself and a Jewish man who denied my right, and I complained against him to the Prophet (ﷺ). So the Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Do you have any proof?' I said: 'No.' So he said to the Jew: 'Take an oath.' I said: 'O Messenger of Allah! If he takes an oath then I will lose my property.' So Allah, Blessed and Most High, revealed: Verily those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths... until the end of the Ayah. (3:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی امر پر قسم کھائی اور وہ جھوٹا ہو اور قسم اس لیے کھائی تاکہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کا مال ناحق لے لے تو جب وہ ( قیامت میں ) اللہ سے ملے گا، اس وقت اللہ اس سخت غضبناک ہو گا“۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے بارے میں ہے۔ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان ایک ( مشترک ) زمین تھی، اس نے اس میں میری حصہ داری کا انکار کر دیا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کوئی دلیل و ثبوت ہے؟“ میں نے کہا: نہیں، پھر آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ۱؎ نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا ‏"‏ ‏.‏ وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ ‏"‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَا نَفْسِي بَعْدَ مَا أَمَاتَهَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Hudhaifah bin Al-Yaman [may Allah be pleased with him] narrated that when the Prophet (ﷺ) wanted to sleep, he would say:“O Allah, in Your Name I die and I live (Allāhumma bismika amūtu wa aḥyā).” And when he would wake, he would say: “Allah praise is due to Allah who revived my soul after causing its death and to Him is the resurrection (Al-ḥamdulillāh, alladhī aḥyā nafsī ba`da mā amātahā wa ilaihin-nushūr).”
حذیفہ بن الیمان رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو کہتے: «اللهم باسمك أموت وأحيا» ۱؎، اور جب آپ سو کر اٹھتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أحيا نفسي بعد ما أماتها وإليه النشور» ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِمَكَّةَ ثَلاَثَ عَشْرَةَ - يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاَثٍ وَسِتِّينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ وَلاَ يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ رُؤْيَةٌ ‏.‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) stayed in Makkah for thirteen years - meaning while he was receiving Revelation - and he died when he was sixty-three years old
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ ( ۱۳ ) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ۶۳ ) سال کی عمر میں ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور دغفل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، قَالَ رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلاَثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذَ فَضْلَ طَهُورِهِ فَشَرِبَهُ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ طُهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالرُّبَيِّعِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ وَعَائِشَةَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ ‏.‏
Abu Hayyah narrated:"I saw Ali performing Wudu. He washed his hands until he cleaned them, then he rinsed out his mouth three times, sniffed water into his nose and blew it out three times, washed his face three times, and his forearms three times. He wiped his head once, then he washed his feet up to the ankles. Then he stood up, taking what was left over from his purification (water) and drank it while he was standing. Then he said, 'I wanted to show you how Allah's Messenger purified himself
ابوحیہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پہنچے دھوئے یہاں تک کہ انہیں خوب صاف کیا، پھر تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی چڑھایا، تین بار اپنا چہرہ دھویا پھر ‌تین ‌دفعہ ‌بازو ‌دھوئے اور ایک بار اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور وضو سے بچے ہوئے پانی کو کھڑے کھڑے پی لیا ۱؎، پھر کہا: میں نے تمہیں دکھانا چاہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا وضو کیسے ہوتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عبداللہ بن زید، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ربیع، عبداللہ بن انیس اور عائشہ رضوان اللہ علیہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالاَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الصَّلاَةَ وَالإِمَامُ عَلَى حَالٍ فَلْيَصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الإِمَامُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا أَسْنَدَهُ إِلاَّ مَا رُوِيَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ قَالُوا إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ وَالإِمَامُ سَاجِدٌ فَلْيَسْجُدْ وَلاَ تُجْزِئُهُ تِلْكَ الرَّكْعَةُ إِذَا فَاتَهُ الرُّكُوعُ مَعَ الإِمَامِ وَاخْتَارَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَنْ يَسْجُدَ مَعَ الإِمَامِ وَذَكَرَ عَنْ بَعْضِهِمْ فَقَالَ لَعَلَّهُ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي تِلْكَ السَّجْدَةِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ ‏.‏
Mu'adh bin Jabal narrated that :the Messenger of Allah said: "When one of you comes to the Salat and (finds) the Imam is in a position, then do as the Imam is doing
علی اور معاذ بن جبل رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے اور امام جس حالت میں ہو تو وہ وہی کرے جو امام کر رہا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مسند کیا ہو سوائے اس کے جو اس طریق سے مروی ہے، ۲- اسی پر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب آدمی آئے اور امام سجدے میں ہو تو وہ بھی سجدہ کرے، لیکن جب امام کے ساتھ اس کا رکوع چھوٹ گیا ہو تو اس کی رکعت کافی نہ ہو گی۔ عبداللہ بن مبارک نے بھی اسی کو پسند کیا ہے کہ امام کے ساتھ سجدہ کرے، اور بعض لوگوں سے نقل کیا کہ شاید وہ اس سجدے سے اپنا سر اٹھاتا نہیں کہ بخش دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "Indeed charity extinguishes the Lord's anger and it protects against the evil death
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتا ہے اور بری موت سے بچاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو مَيْسَرَةَ اسْمُهُ عَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ ‏.‏ وَمَعْنَى لإِرْبِهِ لِنَفْسِهِ ‏.‏
Aishah narrated:"The Messenger of Allah would kiss and fondle while he was fasting, and he had the most control among you of his limbs
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور اپنی بیویوں کے ساتھ لپٹ کر لیٹتے تھے، آپ اپنی جنسی خواہش پر تم میں سب سے زیادہ کنٹرول رکھنے والے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «لإربه» کے معنی «لنفسه» ”اپنے نفس پر“ کے ہیں۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ الْمُهَاجِرِ الْمَكِّيِّ، قَالَ سُئِلَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَيَرْفَعُ الرَّجُلُ يَدَيْهِ إِذَا رَأَى الْبَيْتَ فَقَالَ حَجَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَفَكُنَّا نَفْعَلُهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الْبَيْتِ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ‏.‏ وَأَبُو قَزَعَةَ اسْمُهُ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ ‏.‏
Al-Muhajir Al-Makki said:Jabir bin Abdulla was asked about a man raising his hands when he sees the House (Ka'bah). So he said: 'We performed Hajj with the Messenger of Allah and we did it
مہاجر مکی کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ سے پوچھا گیا: جب آدمی بیت اللہ کو دیکھے تو کیا اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے؟ انہوں نے کہا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، تو کیا ہم ایسا کرتے تھے؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھانے کی حدیث ہم شعبہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، شعبہ ابوقزعہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوقزعہ کا نام سوید بن حجیر ہے۔