بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
27 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ خَطَأٌ أَخْطَأَ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَإِنَّمَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانُوا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ ‏.‏ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَمْشِي أَمَامَ الْجَنَازَةِ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
Anas bin Malik narrated:"The Messenger of Allah would walk in front of the funeral, as did Abu Bakr, Umar and Uthman
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم جنازے کے آگے چلتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: یہ حدیث غلط ہے اس میں محمد بن بکر نے غلطی کی ہے۔ یہ حدیث یونس سے روایت کی جاتی ہے، اور یونس زہری سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر جنازے کے آگے چلتے تھے۔ زہری کہتے ہیں: مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ہے کہ ان کے والد جنازے کے آگے آگے چلتے تھے، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: یہ زیادہ صحیح ہے۔ ( دیکھئیے سابقہ حدیث)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الشِّغَارِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ نِكَاحَ الشِّغَارِ ‏.‏ وَالشِّغَارُ أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ الآخَرُ ابْنَتَهُ أَوْ أُخْتَهُ وَلاَ صَدَاقَ بَيْنَهُمَا ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ نِكَاحُ الشِّغَارِ مَفْسُوخٌ وَلاَ يَحِلُّ وَإِنْ جُعِلَ لَهُمَا صَدَاقًا ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ يُقَرَّانِ عَلَى نِكَاحِهِمَا وَيُجْعَلُ لَهُمَا صَدَاقُ الْمِثْلِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏
Ibn Umar narrated:"The Prophet prohibited Shighar
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ نکاح شغار کو درست نہیں سمجھتے، ۳- شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کر دے گا اور ان کے درمیان کوئی مہر مقرر نہ ہو، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح شغار فسخ کر دیا جائے گا اور وہ حلال نہیں، اگرچہ بعد میں ان کے درمیان مہر مقرر کر لیا جائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۵- لیکن عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وہ اپنے نکاح پر قائم رہیں گے البتہ ان کے درمیان مہر مثل مقرر کر دیا جائے گا، اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Narrated by Hakim b. Hizam
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَسَمُرَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَقَالُوا الْفُرْقَةُ بِالأَبْدَانِ لاَ بِالْكَلاَمِ ‏.‏ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْفُرْقَةَ بِالْكَلاَمِ ‏.‏ وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ لأَنَّ ابْنَ عُمَرَ هُوَ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا رَوَى وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوجِبَ الْبَيْعَ مَشَى لِيَجِبَ لَهُ ‏.‏ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِي فَرَسٍ بَعْدَ مَا تَبَايَعَا ‏.‏ وَكَانُوا فِي سَفِينَةٍ فَقَالَ لاَ أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ‏"‏ ‏.‏ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ إِلَى أَنَّ الْفُرْقَةَ بِالْكَلاَمِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ قَالَ كَيْفَ أَرُدُّ هَذَا وَالْحَدِيثُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَوَّى هَذَا الْمَذْهَبَ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِلاَّ بَيْعَ الْخِيَارِ ‏"‏ ‏.‏ مَعْنَاهُ أَنْ يُخَيِّرَ الْبَائِعُ الْمُشْتَرِيَ بَعْدَ إِيجَابِ الْبَيْعِ فَإِذَا خَيَّرَهُ فَاخْتَارَ الْبَيْعَ فَلَيْسَ لَهُ خِيَارٌ بَعْدَ ذَلِكَ فِي فَسْخِ الْبَيْعِ وَإِنْ لَمْ يَتَفَرَّقَا ‏.‏ هَكَذَا فَسَّرَهُ الشَّافِعِيُّ وَغَيْرُهُ ‏.‏ وَمِمَّا يُقَوِّي قَوْلَ مَنْ يَقُولُ الْفُرْقَةُ بِالأَبْدَانِ لاَ بِالْكَلاَمِ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Hakim b. Hizam: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Both the buyer and the seller retain the option as long as they have not separated. If they spoke the truth and clarified (any defects or conditions), then they would be blessed in their sale, and if they hid something and lied then their sale would be deprived of blessings." And this is a Sahih Hadith. This is how it was reported from Abu Barzah Al-Aslami, that two men came disputing to him after the sale of a horse, and they were on a ship, so he said: "I did not see the two of your separate, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The buyer and the seller retain the choice as long as they did not separate.'" Some of the people of knowledge, among the people of Al-Kufah and others, held the view that the separation refers to speech. This is the saying of [Sufyan] Ath-Thawri. This has been reported from Malik bin Anas, and it has been reported from Ibn al-Mubarak that he said: "How could this be refuted ?" And the Hadith about it from the Prophet (ﷺ) is Sahih, and it strenghtens this view. And the meaning of the saying of the Prophet (ﷺ): "Except for the optional sale" is, that (while they are still together) the seller gives the buyer the option to cancel after the conclusion of the sale. If he chooses to agree to the sale, then he does not have the choice to cancel the sale after then, even if they did not separate. This is how Ash-Shafi'i and others explained it. And what strenghtens the view of those who said that the separation refers to them parting, (and) it does not refer to speech, is the (following) Hadith of 'Abdullah bin 'Amr from the Prophet (ﷺ)
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع ( بیچنے والا ) اور مشتری ( خریدار ) جب تک جدا نہ ہوں ۱؎ دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، اگر وہ دونوں سچ کہیں اور سامان خوبی اور خرابی واضح کر دیں تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر ان دونوں نے عیب کو چھپایا اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان کی بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسی طرح ابوبرزہ اسلمی سے بھی مروی ہے کہ دو آدمی ایک گھوڑے کی بیع کرنے کے بعد اس کا مقدمہ لے کر ان کے پاس آئے، وہ لوگ ایک کشتی میں تھے۔ ابوبرزہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تم دونوں جدا ہوئے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بائع اور مشتری کو جب تک ( مجلس سے ) جدا نہ ہوں اختیار ہے“، ۳- اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ جدائی قول سے ہو گی، یہی سفیان ثوری کا قول ہے، اور اسی طرح مالک بن انس سے بھی مروی ہے، ۴- اور ابن مبارک کا کہنا ہے کہ میں اس مسلک کو کیسے رد کر دوں؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد حدیث صحیح ہے، ۵- اور انہوں نے اس کو قوی کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «إلا بيع الخيار» کا مطلب یہ ہے کہ بائع مشتری کو بیع کے واجب کرنے کے بعد اختیار دیدے، پھر جب مشتری بیع کو اختیار کر لے تو اس کے بعد اس کو بیع فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہو گا، اگرچہ وہ دونوں جدا نہ ہوئے ہوں۔ اسی طرح شافعی وغیرہ نے اس کی تفسیر کی ہے، ۶- اور جو لوگ جسمانی جدائی ( تفرق بالابدان ) کے قائل ہیں ان کے قول کو عبداللہ بن عمرو کی حدیث تقویت دے رہی ہے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ( آگے ہی آ رہی ہے ) ۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ يَا يَهُودِيُّ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ وَإِذَا قَالَ يَا مُخَنَّثُ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا قَالُوا مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ مَنْ تَزَوَّجَ أُمَّهُ قُتِلَ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ قُتِلَ ‏.‏ - وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَقُرَّةُ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ أَنَّ رَجُلاً تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَتْلِهِ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:That the Prophet (ﷺ) said: "If a man says to another man: 'O you Jew' then beat him twenty times. If he says: 'O you effeminate' then beat him twenty times. And whoever has relations with someone that is a Mahram then kill him
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جب مخنث ( ہجڑا ) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے، ۴- براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، ۵- ہمارے اصحاب ( محدثین ) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے، ۶- ( امام ) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا، ۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔
Narrated by Atiyyah Al-Qurazi
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُمْ يَرَوْنَ الإِنْبَاتَ بُلُوغًا إِنْ لَمْ يُعْرَفِ احْتِلاَمُهُ وَلاَ سِنُّهُ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏
Narrated 'Atiyyah Al-Qurazi: "We were presented to the Messenger of Allah (ﷺ) on the day of (the battle of) Quraizah. Whoever had pubic hair was killed and whoever did not was left to his way. I was of those who did not have pubic hair so I was left to my way." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This is acted upon according to some of the people of knowledge. They consider pubic hair an indication of the age of responsibility, if it is not known whether he has had a wet dream, or his age. This is the view of Ahmad and Ishaq
عطیہ قرظی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں قریظہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو جس کے ( زیر ناف کے ) بال نکلے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے نہیں نکلے ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا، چنانچہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں نکلے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اگر بلوغت اور عمر معلوم نہ ہو تو وہ لوگ ( زیر ناف کے ) بال نکلنے ہی کو بلوغت سمجھتے تھے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Narrated by Al-Miqdam bin Ma'diykarib
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الأَكْبَرِ وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated Al-Miqdam bin Ma'diykarib: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are six things with Allah for the martyr. He is forgiven with the first flow of blood (he suffers), he is shown his place in Paradise, he is protected from punishment in the grave, secured from the greatest terror, the crown of dignity is placed upon his head - and its gems are better than the world and what is in it - he is married to seventy two wives along Al-Huril-'Ayn of Paradise, and he may intercede for seventy of his close relatives." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں، ( ۱ ) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، ( ۲ ) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے، ( ۳ ) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، ( ۴ ) «فزع الأكبر» ( عظیم گھبراہٹ والے دن ) سے مامون رہے گا، ( ۵ ) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، ( ۶ ) بہتر ( ۷۲ ) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Abdullah bin Abi Qatadah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الأَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُكَفِّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَيْفَ قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَيُكَفِّرُ عَنِّي خَطَايَاىَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلاَّ الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِي ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا وَرَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ نَحْوَ هَذَا عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Abi Qatadah: That he heard is father, narating a Hadith, which he heard from the Messenger of Allah (ﷺ) in which he stood among them, mentioning to them that Jihad in the cause of Allah and faith in Allah were the most virtuous of deeds. Then a man stood and said: "O Messenger of Allah! If I were killed in the cause of Allah, would my sins forgiven ?" So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Yes, If you are killed in Allah's cause, and you are patient, seeking the reward, advancing, not fleeing." Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: "What was it that you said?" So he replied: "If I were killed in the cause of Allah, would my sins be removed (forgiven)?" So the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Yes, If you are patient, seeking the reward, advancing, not fleeing - except debt. For Jibril said that to me." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Anas, Muhammad bin Jahsh, And Abu Hurairah. This Hadith is Hasan Sahih. Some of them reported this Hadith from Sa'eed Al-Maqburi, from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ) similar to this. Yahya bin Sa'eed Al-Ansari and more than one narrator reported this from Sa'eed Al-Maqburi from 'Abdullah bin Abi Qatadah, from his fahter, from the Prophet (ﷺ). This is more correct than the narration of Sa'eed Al-Maqburi from Abu Hurairah
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے بیچ کھڑے ہو کر ان سے بیان کیا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے“ ۱؎، ( یہ سن کر ) ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، تو کیا میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے اس حال میں کہ تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو، آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے مڑنے والے نہ ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کیسے کہا ہے؟“ عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگر تم صبر کرنے والے، ثواب کی امید رکھنے والے ہو اور آگے بڑھنے والے ہو پیچھے مڑنے والے نہ ہو، سوائے قرض کے ۲؎، یہ مجھ سے جبرائیل نے ( ابھی ) کہا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بسند «سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، یحییٰ بن سعید انصاری اور کئی لوگوں نے اس کو بسند «سعيد المقبري عن عبد الله ابن أبي قتادة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے، یہ روایت سعید مقبری کی روایت سے جو بواسطہ ابوہریرہ آئی ہے، زیادہ صحیح ہے، ۴- اس باب میں انس، محمد بن جحش اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Umm Salamah
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْقَمِيصُ ‏.‏ قَالَ وَسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يَقُولُ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَصَحُّ وَإِنَّمَا يُذْكَرُ فِيهِ أَبُو تُمَيْلَةَ عَنْ أُمِّهِ
Narrated Umm Salamah:"The most loved garment to the Messenger of Allah (ﷺ) was the Qamis (long shirt)
Narrated by Abu Juhaidah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَمَّا أَنَا فَلاَ آكُلُ مُتَّكِئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ‏.‏ وَرَوَى زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ هَذَا الْحَدِيثَ وَرَوَى شُعْبَةُ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ‏.‏
Narrated Abu Juhaidah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "As for me, I do not eat while reclining." He said: There are narrations on this topic from 'Ali, 'Abdullah bin 'Amr, and 'Abdullah bin Al-'Abbas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih, we do not know of it except as a narration of 'Ali bin Al-Aqmar. Zakariyya bin Abi Za'idah, Sufyan bin Sa'eed, and other reported this Hadith from 'Ali bin Al-Aqmar. And Shu'bah reported this Hadith from Sufyan Ath-Thawri from 'Ali bin Al-Aqmar
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَفْعًا شَفْعًا فِي الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَوَاهُ وَكِيعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ ‏.‏ وَقَالَ شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ‏.‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى وَالإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى ابْنُ أَبِي لَيْلَى هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى كَانَ قَاضِيَ الْكُوفَةِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا إِلاَّ أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏
Abdullah bin Zaid said:"Allah's Messenger would say each phrase of the call (for prayer) two times, for the Adhan and the Iqamah
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان اور اقامت دونوں دہری ہوتی تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن زید کی حدیث کو وکیع نے بطریق «الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان ( کا واقعہ ) دیکھا، اور شعبہ نے بطریق «عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» یہ روایت کی ہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے ہم سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان ( کا واقعہ ) دیکھا، ۲- یہ ابن ابی لیلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا ہے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اذان اور اقامت دونوں دہری ہیں یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا قول ہے، ۴- ابن ابی لیلیٰ سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ہیں۔ وہ کوفہ کے قاضی تھے، انہوں نے اپنے والد سے نہیں سنا ہے البتہ وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ ان کے والد سے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ ضَارَّ ضَارَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ ‏.‏
Abu Sirmah narrated that the Messenger of Allah said:"Whoever causes harm, Allah harms him, and whoever is harsh, Allah will be harsh with him
ابوصرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جو دوسرے کو تکلیف دے اللہ تعالیٰ اسے تکلیف دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَأَلَهَا ‏"‏ بِمَ تَسْتَمْشِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ بِالشُّبْرُمِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ حَارٌّ جَارٌّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ يَعْنِي دَوَاءَ الْمَشْىِّ ‏.‏
Asma' bint 'Umais narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) asked her what they used as a laxative. She said:"Shubrum" He said: "It is hot and too strong." She said:"Then I used Senna as a laxative." So the Prophet (S.A.W) said: "If there was anything that would have a cure for death in it, then it would have been Senna
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو؟“ میں نے کہا: «شبرم» ۱؎، آپ نے فرمایا: ”وہ گرم اور بہانے والا ہے“۔ اسماء کہتی ہیں: پھر میں نے «سنا» ۲؎ کا مسہل لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو «سنا» میں ہوتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس سے ( یعنی «سنا» سے ) مراد دست آور دواء ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَتْ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى أَبِي فَدَعَاهُ إِلَى الْخُرُوجِ مَعَهُ فَقَالَ لَهُ أَبِي إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَىَّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ فَقَدِ اتَّخَذْتُهُ فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ ‏.‏ قَالَتْ فَتَرَكَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ‏.‏
Udaisah bint Uhban bin Safi Al-Ghifari said:"Ali bin Abi Talib came to my father to call him to go out(to fight) with him. My father said to him: 'Indeed my beloved, the son of your paternal uncle, made a covenant with me, that when the people differ, to take a sword of wood. So I have resigned it, if you wish I will take it out with you.' She said: 'So he left him
عدیسہ بنت اہبان غفاری کہتی ہیں کہ میرے والد کے پاس علی رضی الله عنہ آئے اور ان کو اپنے ساتھ لڑائی کے لیے نکلنے کو کہا، ان سے میرے والد نے کہا: میرے دوست اور آپ کے چچا زاد بھائی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے وصیت کی کہ ”جب لوگوں میں اختلاف ہو جائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں“، لہٰذا میں نے بنا لی ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے لے کر آپ کے ساتھ نکلوں، عدیسہ کہتی ہیں: چنانچہ علی رضی الله عنہ نے میرے والد کو چھوڑ دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عبیداللہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں محمد بن مسلمہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ، عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الإِسْلاَمِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنِعَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَأَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Fadalah bin 'Ubaid narrated that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) saying:"Glad tidings to whoever is guided to Islam, his livelihood was sufficient and he was satisfied
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مبارکبادی ہو اس شخص کو جسے اسلام کی ہدایت ملی اور اسے بقدر «کفاف» روزی ملی پھر وہ اسی پر قانع و مطمئن رہا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوہانی کا نام حمید بن ہانی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ مَدُّويَهْ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْحَكَمِ الْعُرَنِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُصَلاَّهُ فَرَأَى نَاسًا كَأَنَّهُمْ يَكْتَشِرُونَ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ أَكْثَرْتُمْ ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ لَشَغَلَكُمْ عَمَّا أَرَى فَأَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَأْتِ عَلَى الْقَبْرِ يَوْمٌ إِلاَّ تَكَلَّمَ فِيهِ فَيَقُولُ أَنَا بَيْتُ الْغُرْبَةِ وَأَنَا بَيْتُ الْوَحْدَةِ وَأَنَا بَيْتُ التُّرَابِ وَأَنَا بَيْتُ الدُّودِ ‏.‏ فَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ مَرْحَبًا وَأَهْلاً أَمَا إِنْ كُنْتَ لأَحَبَّ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَىَّ فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَىَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ ‏.‏ قَالَ فَيَتَّسِعُ لَهُ مَدَّ بَصَرِهِ وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ‏.‏ وَإِذَا دُفِنَ الْعَبْدُ الْفَاجِرُ أَوِ الْكَافِرُ قَالَ لَهُ الْقَبْرُ لاَ مَرْحَبًا وَلاَ أَهْلاً أَمَا إِنْ كُنْتَ لأَبْغَضَ مَنْ يَمْشِي عَلَى ظَهْرِي إِلَىَّ فَإِذْ وُلِّيتُكَ الْيَوْمَ وَصِرْتَ إِلَىَّ فَسَتَرَى صَنِيعِي بِكَ ‏.‏ قَالَ فَيَلْتَئِمُ عَلَيْهِ حَتَّى تَلْتَقِيَ عَلَيْهِ وَتَخْتَلِفَ أَضْلاَعُهُ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَصَابِعِهِ فَأَدْخَلَ بَعْضَهَا فِي جَوْفِ بَعْضٍ قَالَ ‏"‏ وَيُقَيِّضُ اللَّهُ لَهُ سَبْعِينَ تِنِّينًا لَوْ أَنَّ وَاحِدًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ شَيْئًا مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا فَيَنْهَشْنَهُ وَيَخْدِشْنَهُ حَتَّى يُفْضَى بِهِ إِلَى الْحِسَابِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Abu Sa'eed narrated:" The Messenger of Allah (s.a.w) entered his Musalla and saw the people who looked as if they were smiling. So he said: 'Indeed, if you were to increase in remembrance of the severer of pleasures, then you would find yourselves too busy for what I see. So increase in remembrance of death, the severer of pleasures. For indeed there is no day that comes upon the grave except that it speaks, saying: "I am thee house of the estranged, I am the house of the solitude, I am the house of dust, and I am the house of the worm-eaten." When the believing worshipper is buried, the grave says to him: "Welcome, make yourself comfortable. Indeed, to me, you are the most beloved of those who walked upon me. Since you have been entrusted to me and delivered to me today, you shall see what I have arranged for you." It will then widen for him so that his sight extends, and the door to Paradise is opened for him. And when the wicked worshipper or the disbeliever is buried , the grave says to him: "You are not welcome, do not get comfortable. Indeed, to me, you are the most hated of those who walked upon me. Since you have been entrusted to me and delivered to me today, you shall see what I have arranged for you.'" He said: 'It will begin closing in on him(squeezing him) until his ribs are crushing each other.'" He said: " The Messenger of Allah (s.a.w) clasped some of his fingers between others and said: 'Seventy giant serpents will constrict him, if even one of them were to hiss on the earth, nothing upon it would grow as long as it remained. They will chew on him and bite him until he is brought to the Reckoning.'" He said: " The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'The grave is but a garden from the gardens of Paradise, or a pit from the pits of the Fire
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مصلی پر تشریف لائے اور دیکھا کہ لوگ ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر تم لوگ لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز کو یاد رکھتے تو تم اپنی ان حرکتوں سے باز رہتے، سو لذتوں کو ختم کر دینے والی موت کا ذکر کثرت سے کرو، اس لیے کہ قبر روزانہ بولتی ہے اور کہتی ہے: میں غربت کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں، اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، پھر جب مومن بندے کو دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے مرحبا ( خوش آمدید ) کہتی ہے اور مبارک باد دیتی ہے اور کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب تھا جو میرے پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہو گئی اور تو میری طرف آ گیا تو اب دیکھ لے گا کہ میں تیرے ساتھ کیسا حسن سلوک کروں گی، پھر اس کی نظر پہنچنے تک قبر کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا، اور جب فاجر یا کافر دفن کیا جاتا ہے تو قبر اسے نہ ہی مرحبا کہتی ہے اور نہ ہی مبارک باد دیتی ہے بلکہ کہتی ہے: بیشک تو میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ قابل نفرت تھا جو میری پیٹھ پر چلتے ہیں، پھر اب جب کہ میں تیرے کام کی نگراں ہوں اور تو میری طرف آ گیا سو آج تو اپنے ساتھ میری بدسلوکیاں دیکھ لے گا، پھر وہ اس کو دباتی ہے، اور ہر طرف سے اس پر زور ڈالتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک طرف سے دوسری طرف مل جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا اور ایک دوسرے کو آپس میں داخل کر کے فرمایا: ”اللہ اس پر ستر اژدہے مقرر کر دے گا، اگر ان میں سے کوئی ایک بار بھی زمین پر پھونک مار دے تو اس پر رہتی دنیا تک کبھی گھاس نہ اگے، پھر وہ اژدہے اسے حساب و کتاب لیے جانے تک دانتوں سے کاٹیں گے اور نوچیں گے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، قَالَ سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ وَثَلاَثَةٌ يَبْغَضُهُمُ اللَّهُ فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لاَ يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلاَّ اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ أَحَدُهُمْ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ ‏.‏ وَالثَّلاَثَةُ الَّذِينَ يَبْغَضُهُمُ اللَّهُ الشَّيْخُ الزَّانِي وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَى شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ‏.‏
Abu Dharr narrated that the Prophet(s.a.w) said:"There are three whom Allah loves and three whom Allah hates. As for those whom Allah loves: Then a man who came to a people and asked them by Allah, and he did not ask them due to any relation between him and them, but they did not give him. So a man stayed behind them and gave him secretly, none knew about what he gave except Allah and the one he gave. And, a group of people who traveled the night until when sleep became more beloved to them than all the things that equal it and they lay their heads down, but a man stoop up humbling himself to Me and reciting My Ayat. And a man who was in a small expedition and met the enemy and they were vanquished, yet he faced them until he was killed or victory was granted to him. And the three whom Allah hates are, the old man who commits adultery, the arrogant poor man, and the oppressive rich man." Another chain reports a similar narration
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت، جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس جائے اور ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے وہ اپنے اور اس قوم کے درمیان پائے جانے والے کسی رشتے کا واسطہ دے کر نہ مانگے اور وہ لوگ اسے کچھ نہ دیں، پھر ان میں سے ایک آدمی پیچھے پھرے اور اسے چپکے سے لا کر کچھ دے، اس کے عطیہ کو اللہ تعالیٰ اور جس کو دیا ہے اس کے سوا کوئی نہ جانے۔ دوسرے وہ لوگ جو رات کو چلیں یہاں تک کہ جب ان کو نیند ان چیزوں سے پیاری ہو جائے جو نیند کے برابر ہیں تو سواری سے اتریں اور سر رکھ کر سو جائیں اور ان میں کا ایک آدمی کھڑا ہو کر میری خوشامد کرنے اور میری آیتوں کی تلاوت کرنے لگے، تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو تو اس کے ساتھی ہار جائیں پھر بھی وہ سینہ سپر ہو کر آگے بڑھے یہاں تک کہ مارا جائے یا فتح حاصل ہو جائے۔ جن تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ یہ ہیں: وہ بوڑھا جو زنا کار ہو، وہ فقیر جو تکبر کرنے والا ہو اور مالدار جو دوسروں پر ظلم ڈھائے“۔
Narrated by Safwan bin Assal
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ ‏.‏ فَقَالَ صَاحِبُهُ لاَ تَقُلْ نَبِيٌّ إِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ كَانَ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ ‏.‏ فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلاَهُ عَنْ تِسْعِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ‏.‏ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ وَلاَ تَسْحَرُوا وَلاَ تَأْكُلُوا الرِّبَا وَلاَ تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً وَلاَ تُوَلُّوا الْفِرَارَ يَوْمَ الزَّحْفِ وَعَلَيْكُمْ خَاصَّةً الْيَهُودَ أَنْ لاَ تَعْتَدُوا فِي السَّبْتِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَبَّلُوا يَدَهُ وَرِجْلَهُ فَقَالاَ نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَتَّبِعُونِي ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا إِنَّ دَاوُدَ دَعَا رَبَّهُ أَنْ لاَ يَزَالَ فِي ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ وَإِنَّا نَخَافُ إِنْ تَبِعْنَاكَ أَنْ تَقْتُلَنَا الْيَهُودُ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ وَابْنِ عُمَرَ وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Safwan bin Assal:"A Jew said to his companion: 'Accompany us to this Prophet.' So his companion said: 'Do not say: "Prophet". For if he hears you (say that) then he will be very happy.' So they went to the Messenger of Allah (ﷺ) to question him about nine clear signs. So he said to them: 'Do not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful intercourse, nor take a life which Allah has made prohibited prohibited, except for what is required (in the law), nor hasten to damage the reputation of one of power so that he will be killed, nor practice magic, nor consume Riba, nor falsely accuse the chaste woman, nor turn to flee on the day of the march, and for you Jews particularly, to not violate the Sabbath.'" He said: "So they kissed his hands and his feet, and they said: 'We bear witness that you are a Prophet.' So he (ﷺ) said: 'Then what prevents you from following me?' They said: 'Because Dawud supplicated to his Lord that his offspring never be devoid of Prophets and we feared that if we follow you then the Jews will kill us
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: چلو اس نبی کے پاس لے چلتے ہیں۔ اس کے ساتھی نے کہا ”نبی“ نہ کہو۔ ورنہ اگر انہوں نے سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی، پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے ( موسیٰ علیہ السلام کو دی گئیں ) نو کھلی ہوئی نشانیوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے ان سے کہا ( ۱ ) کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ ( ۲ ) چوری نہ کرو ( ۳ ) زنا نہ کرو ( ۴ ) ناحق کسی کو قتل نہ کرو ( ۵ ) کسی بےگناہ کو حاکم کے سامنے نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے ( ۶ ) جادو نہ کرو ( ۷ ) سود مت کھاؤ ( ۸ ) پارسا عورت پر زنا کی تہمت مت لگاؤ ( ۹ ) اور دشمن سے مقابلے کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنے کی کوشش نہ کرو۔ اور خاص تم یہودیوں کے لیے یہ بات ہے کہ «سبت» ( سنیچر ) کے سلسلے میں حد سے آگے نہ بڑھو، ( آپ کا جواب سن کر ) انہوں نے آپ کے ہاتھ پیر چومے اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہیں میری پیروی کرنے سے کیا چیز روکتی ہے؟“ انہوں نے کہا: داود علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ کوئی نبی رہے۔ اس لیے ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع ( پیروی ) کی تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں یزید بن اسود، ابن عمر اور کعب بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Jabir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرٍو اسْمُهُ هَرِمٌ ‏.‏
Narrated Jabir bin 'Abdullah:"I asked the Messenger Of Allah (ﷺ) about the unintentional glance, so he ordered me that I divert my sight
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کسی اجنبیہ عورت پر ) اچانک پڑ جانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنی نگاہ پھیر لیا کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو لُبَابَةَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ قَدْ رَوَى عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ غَيْرَ حَدِيثٍ وَيُقَالُ اسْمُهُ مَرْوَانُ ‏.‏ أَخْبَرَنِي بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي كِتَابِ التَّارِيخِ ‏.‏
Narrated 'Aishah:"The Prophet (ﷺ) would not sleep until he recited Surat Bani Isra'il and Az-Zumar
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک سورۃ بنی اسرائیل اور سورۃ الزمر پڑھ نہ لیتے بستر پر سوتے نہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابولبابہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، حماد بن زید نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نام مروان ہے، یہ بات مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے کتاب التاریخ میں بتائی ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ هَذِهِ الآيَةِ ‏:‏ ‏(‏ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ ‏)‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّاهُمُ اللَّهُ فَاحْذَرُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَإِنَّمَا ذَكَرَ يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ‏.‏ وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ أَيْضًا ‏.‏
Narrated 'Aishah:"The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about this Ayah: 'It is He who sent down to you the Book. In it are Ayat that are entirely clear... (3:7)' until the end of the Ayah. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When you see those who seek what is not entirely clear thereof, then it is they whom Allah has described, so beware of them
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات» کی تفسیر پوچھی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ان لوگوں کو آیات متشابہات کے پیچھے پڑے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ نے نام لیا ہے اور ایسے لوگوں سے بچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ایوب سے بھی مروی ہے، اور ایوب نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- ایسے ہی یہ حدیث متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ سے عائشہ سے روایت کی ہے۔ لیکن ان لوگوں نے اپنی اپنی روایات میں ”قاسم بن محمد“ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ان کا ذکر صرف ”یزید بن ابراہیم تستری“ نے اس حدیث میں «عن القاسم» کہہ کر کیا ہے، ۴- ابن ابی ملیکہ عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہیں، انہوں نے بھی عائشہ سے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ كَانَ عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ يُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ وَيُسَبِّحُ مِائَةَ أَلْفِ تَسْبِيحَةٍ ‏.‏
Maslamah bin `Amr said:“`Umair bin Hani used to perform a thousand prostrations every day and recite a hundred thousand Tasbīḥs every day.”
مسلمہ بن عمرو کہتے ہیں کہ عمیر بن ہانی ۱؎ ہر دن ہزار رکعتیں نمازیں پڑھتے تھے، اور سو ہزار ( یعنی ایک لاکھ ) تسبیحات پڑھتے تھے، یعنی سبحان اللہ کہتے تھے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنِي عَمَّارٌ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:"The Prophet (ﷺ) died when he was sixty-five years old
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ۶۵ ) سال کے تھے ۱؎۔
قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى وَكِيعٌ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي جَعْفَرٍ حَدَّثَكَ جَابِرٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً قَالَ نَعَمْ ‏.‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ وَقُتَيْبَةُ قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ هَذَا عَنْ ثَابِتٍ نَحْوَ رِوَايَةِ وَكِيعٍ ‏.‏ وَشَرِيكٌ كَثِيرُ الْغَلَطِ وَثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ هُوَ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ‏.‏
Thabit bin Abi Safiyyah said, :"1 asked Abu Ja'far: 'Did Jabir narrate to you that: "The Prophet performed Wudu one time each?" He said: "Yes
یہ حدیث وکیع نے ثابت بن ابی صفیہ سے روایت کی ہے، میں نے ابو جعفر (محمد بن علی بن حسین الباقر) سے پوچھا کہ آپ سے جابر رضی الله عنہما نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک بار دھو دیا، انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ شریک کی روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ یہ ثابت سے وکیع کی روایت کی طرح اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- اور شریک کثیر الغلط راوی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ يَا بُنَىَّ إِيَّاكَ وَالاِلْتِفَاتَ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّ الاِلْتِفَاتَ فِي الصَّلاَةِ هَلَكَةٌ فَإِنْ كَانَ لاَ بُدَّ فَفِي التَّطَوُّعِ لاَ فِي الْفَرِيضَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Anas narrated:"The Messenger of Allah said to me: 'O my son! Beware of looking around during the Salat, for indeed looking around during Salat is destruction. If you must do so, then in the voluntary (prayers), not in the obligatory (prayers).'" (Da'if)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے میرے بیٹے! نماز میں ادھر ادھر ( گردن موڑ کر ) دیکھنے سے بچو، نماز میں گردن موڑ کر ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت ہے، اگر دیکھنا ضروری ہی ٹھہرے تو نفل نماز میں دیکھو، نہ کہ فرض میں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ ‏"‏ ‏.‏ وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏(‏وهُوَ الَّذِي يَقبَلُ التَّوبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ‏)‏ ويَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ‏‏ ‏(يَمْحَقُ الله الرَّبَا ويُرْبِي الصَّدَقَاتِ‏)‏‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا. وَقَدْ قَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَمَا يُشْبِهُ هَذَا مِنَ الرِّوَايَاتِ مِنَ الصِّفَاتِ وَنُزُولِ الرَّبِّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالُوا قَدْ تَثْبُتُ الرِّوَايَاتُ فِي هَذَا وَيُؤْمَنُ بِهَا وَلاَ يُتَوَهَّمُ وَلاَ يُقَالُ كَيْفَ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُمْ قَالُوا فِي هَذِهِ الأَحَادِيثِ أَمِرُّوهَا بِلاَ كَيْفٍ. وَهَكَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ. وَأَمَّا الْجَهْمِيَّةُ فَأَنْكَرَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ وَقَالُوا هَذَا تَشْبِيهٌ. وَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِهِ الْيَدَ وَالسَّمْعَ وَالْبَصَرَ فَتَأَوَّلَتِ الْجَهْمِيَّةُ هَذِهِ الآيَاتِ فَفَسَّرُوهَا عَلَى غَيْرِ مَا فَسَّرَ أَهْلُ الْعِلْمِ وَقَالُوا إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَخْلُقْ آدَمَ بِيَدِهِ. وَقَالُوا إِنَّ مَعْنَى الْيَدِ هَاهُنَا الْقُوَّةُ. وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِنَّمَا يَكُونُ التَّشْبِيهُ إِذَا قَالَ يَدٌ كَيَدٍ أَوْ مِثْلُ يَدٍ أَوْ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ. فَإِذَا قَالَ سَمْعٌ كَسَمْعٍ أَوْ مِثْلُ سَمْعٍ فَهَذَا التَّشْبِيهُ وَأَمَّا إِذَا قَالَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَدٌ وَسَمْعٌ وَبَصَرٌ وَلاَ يَقُولُ كَيْفَ وَلاَ يَقُولُ مِثْلُ سَمْعٍ وَلاَ كَسَمْعٍ فَهَذَا لاَ يَكُونُ تَشْبِيهًا وَهُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ}
Abu Hurairah narrated that :the Messenger of Allah said: "Indeed Allah accepts charity, and He accepts it with His Right (Hand) to nurture it for one of you, just like one of you would nuture his foal, until the bite (of food) becomes as large as Uhud." The Book of Allah, the Mighty and Sublime testifies to that: 'He accepts repentance from His worshipers, and accepts charity.'And: 'Allah will destroy Riba and give increase for charity.' (Abu Eisa) said: This Hadith is (Hasan) Sahih
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے پالتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ لقمہ احد پہاڑ کے مثل ہو جاتا ہے۔ اس کی تصدیق اللہ کی کتاب ( قرآن ) سے ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات» ”کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے“ اور «‏ ( يمحق الله الربا ويربي الصدقات‏» ”اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نیز عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے اس حدیث کے بارے میں اور اس جیسی صفات کی دوسری روایات کے بارے میں اور باری تعالیٰ کے ہر رات آسمان دنیا پر اترنے کے بارے میں کہا ہے کہ ”اس سلسلے کی روایات ثابت ہیں، ان پر ایمان لایا جائے، ان میں کسی قسم کا وہم نہ کیا جائے گا، اور نہ اس کی کیفیت پوچھی جائے۔ اور اسی طرح مالک، سفیان بن عیینہ اور عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، ان لوگوں نے ان احادیث کے بارے میں کہا ہے کہ ان حدیثوں کو بلاکیفیت جاری کرو ۱؎ اسی طرح کا قول اہل سنت و الجماعت کے اہل علم کا ہے، البتہ جہمیہ نے ان روایات کا انکار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان سے تشبیہ لازم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے کئی مقامات پر ”ہاتھ، کان، آنکھ“ کا ذکر کیا ہے۔ جہمیہ نے ان آیات کی تاویل کی ہے اور ان کی ایسی تشریح کی ہے جو اہل علم کی تفسیر کے خلاف ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا، دراصل ہاتھ کے معنی یہاں قوت کے ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: تشبیہ تو تب ہو گی جب کوئی کہے: «يد كيد أو مثل يد» یا «سمع كسمع أو مثل سمع» ”یعنی اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح ہے، یا ہمارے ہاتھ کے مانند ہے، اس کا کان ہمارے کان کی طرح ہے یا ہمارے کان کے مانند ہے“ تو یہ تشیبہ ہوئی۔ ( نہ کہ صرف یہ کہنا کہ اللہ کا ہاتھ ہے، اس سے تشبیہ لازم نہیں آتی ) اور جب کوئی کہے جیسے اللہ نے کہا ہے کہ اس کے ہاتھ کان اور آنکھ ہے اور یہ نہ کہے کہ وہ کیسے ہیں اور نہ یہ کہے کہ فلاں کے کان کی مانند یا فلاں کے کان کی طرح ہے تو یہ تشبیہ نہیں ہوئی، یہ ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا: «ليس كمثله شيئ وهو السميع البصير» ”اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سمیع ہے بصیر ہے“۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَقُتَيْبَةُ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَحَفْصَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْقُبْلَةِ لِلشَّيْخِ وَلَمْ يُرَخِّصُوا لِلشَّابِّ مَخَافَةَ أَنْ لاَ يَسْلَمَ لَهُ صَوْمُهُ وَالْمُبَاشَرَةُ عِنْدَهُمْ أَشَدُّ ‏.‏ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْقُبْلَةُ تَنْقُصُ الأَجْرَ وَلاَ تُفْطِرُ الصَّائِمَ ‏.‏ وَرَأَوْا أَنَّ لِلصَّائِمِ إِذَا مَلَكَ نَفْسَهُ أَنْ يُقَبِّلَ وَإِذَا لَمْ يَأْمَنْ عَلَى نَفْسِهِ تَرَكَ الْقُبْلَةَ لِيَسْلَمَ لَهُ صَوْمُهُ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ ‏.‏
Aishah narrated:"The Prophet would kiss during the month of fasting
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ صیام ( رمضان ) میں بوسہ لیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب، حفصہ، ابو سعید خدری، ام سلمہ، ابن عباس، انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صائم کے بوسہ لینے کے سلسلے میں صحابہ کرام وغیرہم کا اختلاف ہے۔ بعض صحابہ نے بوڑھے کے لیے بوسہ لینے کی رخصت دی ہے۔ اور نوجوانوں کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر رخصت نہیں دی کہ اس کا صوم محفوظ و مامون نہیں رہ سکے گا۔ جماع ان کے نزدیک زیادہ سخت چیز ہے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے: بوسہ اجر کم کر دیتا ہے لیکن اس سے روزہ دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا، ان کا خیال ہے کہ روزہ دار کو اگر اپنے نفس پر قابو ( کنٹرول ) ہو تو وہ بوسہ لے سکتا ہے اور جب وہ اپنے آپ پر کنٹرول نہ رکھ سکے تو بوسہ نہ لے تاکہ اس کا روزہ محفوظ و مامون رہے۔ یہ سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلاَهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَاَلَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Aishah narrated:"When Prophet came to Makkah he entered it from its higher side, and left from its lower side
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آتے تو بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور نشیب کی طرف سے نکلتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے۔