بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
29 hadith
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ ‏.‏
Salim narrated that:His father said: "I saw the Prophet, Abu Bakr, and Umar walking in front of the funeral
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر سب کو جنازے کے آگے آگے چلتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ، ابْنَىْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْءٌ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي الْمُتْعَةِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ حَيْثُ أُخْبِرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَمْرُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏
Ali bin Abi Talib narrated:"The Prophet prohibited the Mut'ah with women, and the meat of domestic donkeys during (the campaign of) Khaibar
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ۱؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سبرہ جہنی اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، البتہ ابن عباس سے کسی قدر متعہ کی اجازت بھی روایت کی گئی ہے، پھر انہوں نے اس سے رجوع کر لیا جب انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس کی خبر دی گئی۔ اکثر اہل علم کا معاملہ متعہ کی حرمت کا ہے، یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Narrated by Ibn Shihab
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَرِنَا ذَهَبَكَ ثُمَّ ائْتِنَا إِذَا جَاءَ خَادِمُنَا نُعْطِكَ وَرِقَكَ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ كَلاَّ وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنَّهُ وَرِقَهُ أَوْ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْوَرِقُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ إِلاَّ هَاءَ وَهَاءَ ‏"‏ يَقُولُ يَدًا بِيَدٍ ‏.‏
Narrated Ibn Shihab: From Malik bin Aws bin Hadathan that he said: "I once said: 'Who can change some Dirham?' So Talhah bin 'Ubaidullah - and he was with 'Umar bin Al-Khattab - said: "Leave your gold with us, then return to us when our servant comes and we will give you your silver." 'Umar bin Al-Khattab said: "No! By Allah! Either give him his silver or return his gold to him. Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Silver for gold is Riba, except for hand to hand; and wheat for wheat is Riba except for hand to hand; and barley for barley is Riba except hand to hand; and dried-dates for dried-dates is Riba except for hand to hand.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. This is acted upon according to the people of knowledge. And the meaning of Ha' Wa Ha' is hand to hand
مالک بن اوس بن حدثان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ( بازار میں ) یہ کہتے ہوئے آیا: درہموں کو ( دینار وغیرہ سے ) کون بدلے گا؟ تو طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ نے کہا اور وہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس تھے: ہمیں اپنا سونا دکھاؤ، اور جب ہمارا خادم آ جائے تو ہمارے پاس آ جاؤ ہم ( اس کے بدلے ) تمہیں چاندی دے دیں گے۔ ( یہ سن کر ) عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا تم اسے چاندی ہی دو ورنہ اس کا سونا ہی لوٹا دو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونے کے بدلے چاندی لینا سود ہے، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو ۱؎، گیہوں کے بدلے گیہوں لینا سود ہے، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو، جو کے بدلے جو لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو، اور کھجور کے بدلے کھجور لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ «إلاھاء وھاء» کا مفہوم ہے نقدا نقد۔
Narrated by Abdullah bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ ‏.‏ فَأَبَى عَلَيْهِ فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلزُّبَيْرِ ‏"‏ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَغَضِبَ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏"‏ يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لأَحْسِبُ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِي ذَلِكَ ‏:‏ ‏(‏فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ‏.‏ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنِ اللَّيْثِ وَيُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَ الْحَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:"A man from the Ansar disputed with Az-Zubair before the Messenger of Allah (ﷺ) about the canals of Harrah which they used to irrigate the date palms. The Ansari said: 'Let the water pass'. But he refused, So they brought their dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to Az-Zubair: 'O Zubair! Irrigate (your land) then let the water pass to you neighbor.' The Ansari became angry and said:'[O Messenger of Allah!] Is this because he is your aunt's son?' The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color. Then he said: 'O Zubair! Irrigate (your land) and then withhold the water until it reaches the walls.' Az-Zubair said: 'By Allah! I think that this Ayah was revealed about that: But no, by your Lord, they can have no Faith until they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions and accept (them) with full submission
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زبیر سے حرہ کی نالیوں کے بارے میں جس سے لوگ اپنے کھجور کے درخت سینچتے تھے جھگڑا کیا، انصاری نے زبیر سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ بہتا رہے، زبیر نے اس کی بات نہیں مانی، تو دونوں نے رسول اللہ کی خدمت میں اپنا قضیہ پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر سے فرمایا: ”زبیر! ( تم اپنے کھیت کو ) سیراب کر لو، پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو“، ( یہ سن کر ) انصاری غصہ ہو گیا اور کہا: اللہ کے رسول! ( ایسا فیصلہ ) اس وجہ سے کہ وہ آپ کی پھوپھی کا لڑکا ہے؟ ( یہ سنتے ہی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: ”زبیر! تم اپنے کھیت سیراب کر لو، پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ وہ منڈیر تک پہنچ جائے“ ۱؎، زبیر کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میرا گمان ہے کہ اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”آپ کے رب کی قسم، وہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں ( اے نبی ) وہ آپ کو حکم نہ مان لیں“ ( النساء: ۶۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اور زہری نے عروہ بن زبیر سے اور عروہ نے زبیر سے روایت کی ہے اور شعیب نے اس میں عبداللہ بن زبیر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور عبداللہ بن وہب نے اسے پہلی حدیث کی طرح ہی لیث اور یونس سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے زہری سے اور زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عبداللہ بن زبیر سے روایت کی ہے۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو السَّائِبِ، سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلاَحَ فَلَيْسَ مِنَّا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Musa:That the Prophet (ﷺ) said: "Whoever carries weapons against us, he is not from us
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ اس باب میں ابن عمر، ابن زبیر، ابوہریرہ اور سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ لاَ أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed the one who betrays will have a banner erected for him on the Day of Judgement." [He said:] There are narrations on this topic from 'Ali, 'Abdullah bin Mas'ud, Abu Sa'eed Al-Khudri, and Anas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. I asked Muhammad about the Hadith of Suwaid, from Abu Ishaq, from 'Umarah bin 'Umair, from 'Ali, from the Prophet (ﷺ) who said: "For every person who betrays there will be banner." He said: "I do not know of this Hadith being Marfu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بیشک بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد سے سوید کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جسے وہ ابواسحاق سبیعی سے، ابواسحاق نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہر عہد توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا ہو گا“، محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: میرے علم میں یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Sa’id Al Khudri
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ ‏"‏ رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا ثُمَّ مَنْ قَالَ ‏"‏ ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Sa’id Al Khudri : that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked: "Which of the people are most virtuous?" He said: "A man who take part in Jihad in Allah's cause." They said: "Then whom?" He said: "Then a believer who stays in one of the mountains path out of Taqwa for his Lord, leaving the people secure from his evil." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون آدمی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے“، صحابہ نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہو اور اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ وَالضَّرْبِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Jabir: "The Prophet (ﷺ) prohibited branding on the face and striking (it)." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور اسے داغنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Al-Bara' bin 'Azib
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَمُعَاوِيَةَ ‏.‏ وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ نَحْوَهُ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏
Narrated Al-Bara' bin 'Azib: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited riding (while sitting on) Miyathir." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Ali and Mu'awiyah. The Hadith if Al-Bara' is Hasan Sahih. Shu'bah reported similarly from Ash'ath bin Abi Ash-Sha'tha' in the lengthy Hadith
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ریشمی زین پر سوار ہونے سے منع فرمایا: راوی کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ – اس باب میں علی اور معاویہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، شعبہ نے بھی اشعث بن ابی شعثاء سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے۔
Narrated by Zahdam
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ زَهْدَمٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْحَدِيثِ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا عَنِ الْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ وَعَنْ أَبِي قِلاَبَةَ عَنْ زَهْدَمٍ (الْجَرْمِيِّ) ‏.‏
Narrated Zahdam: From Abu Musa who said: "I saw the Messenger of Allah (ﷺ) eating chicken meat." He said: The Hadith has more statements that this. And this Hadith is Hasan Sahih. Ayyub As-Sakhtiyani also reported this Hadith from Al-Qasim At-Tamimi, and, from Abu Qilabah, from Zahdam Al-Jarmi
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں کچھ اور باتیں بھی ہیں، ۳- ایوب سختیانی نے بھی اس حدیث کو «عن القاسم التميمي عن أبي قلابة عن زهدم» کی سند سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَجَدِّي، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْعَدَهُ وَأَلْقَى عَلَيْهِ الأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا ‏.‏ قَالَ إِبْرَاهِيمُ مِثْلَ أَذَانِنَا ‏.‏ قَالَ بِشْرٌ فَقُلْتُ لَهُ أَعِدْ عَلَىَّ ‏.‏ فَوَصَفَ الأَذَانَ بِالتَّرْجِيعِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي مَحْذُورَةَ فِي الأَذَانِ حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏ وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ بِمَكَّةَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ‏.‏
Abu Mahdhurah narrated that :Allah's Messenger sat with him and taught him the Adhan word for word. Ibrahim said, "It is the same as our Adhan." Bishr said: "So I said to him, 'Repeat it to me.' So he described the Adhan with At-Tarjl
ابو محذورہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بٹھا کر اذان کا ایک ایک لفظ سکھایا۔ ابراہیم بن عبدالعزیز بن عبدالملک بن ابی محذورہ کہتے ہیں: اس طرح جیسے ہماری اذان ہے۔ بشر کہتے ہیں تو میں نے ان سے یعنی ابراہیم سے کہا: اسے مجھ پر دہرائیے تو انہوں نے ترجیع ۱؎ کے ساتھ اذان کا ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اذان کے سلسلے میں ابو محذورہ والی حدیث صحیح ہے، کئی سندوں سے مروی ہے، ۲- اور اسی پر مکہ میں عمل ہے اور یہی شافعی کا قول ہے ۲؎۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَأَبُو سُفْيَانَ اسْمُهُ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ‏.‏
Jabir narrated that the Messenger of Allah said:"Indeed Ash-Shaitan has despaired of getting those who perform Salat to worship him.But he is engaged in sowing hatred among them
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مصلی اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے درمیان جھگڑا کرانے کی کوشش میں رہتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس اور «سليمان بن عمرو بن الأحوص عن أبيه» سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَنْعَتُ الزَّيْتَ وَالْوَرْسَ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ‏.‏ قَالَ قَتَادَةُ وَيَلُدُّهُ مِنَ الْجَانِبِ الَّذِي يَشْتَكِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ اسْمُهُ مَيْمُونٌ هُوَ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ ‏.‏
Qatadah narrated from Abu 'Abdullah that Zaid bin Arqam said:"The Prophet (S.A.W) would acclaim oil and Wars for (the treatment of) pleurisy." Qatadah said: "And it is put in the mouth on the side which he is suffering
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذات الجنب ۱؎ کی بیماری میں زیتون کا تیل اور ورس ۲؎ تشخیص کرتے تھے، قتادہ کہتے ہیں: اس کو منہ میں ڈالا جائے گا، اور منہ کی اس جانب سے ڈالا جائے گا جس جانب مرض ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ کا نام میمون ہے، وہ ایک بصریٰ شیخ ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْهَرْجُ قَالَ ‏"‏ الْقَتْلُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Musa narrated that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"Indeed after you there will be days in which knowledge shall be raised up and Al-Harj shall abound." They said: "O Messenger of Allah(s.a.w)! What is Al-Harj?" He said: "Killing
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جس میں علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج زیادہ ہو جائے گا“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہرج کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: ”قتل و خوں ریزی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، خالد بن ولید اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَحِيزَتْ جُمِعَتْ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ نَحْوَهُ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ
Salamah bin 'Ubaidullah bin Mihsan Al-Khatmi narrated from his father -and he was a Companion- who said:"The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever among you wakes up in the morning secured in his dwelling, healthy in his body, having his food for the day,then it is as if the world has been gathered for him
عبیداللہ بن محصن خطمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف مروان بن معاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور «حيزت» کا مطلب یہ ہے کہ جمع کی گئی۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أُبَىٌّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلاَةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلاَتِي فَقَالَ ‏"‏ مَا شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ الرُّبُعَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ النِّصْفَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَالثُّلُثَيْنِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَجْعَلُ لَكَ صَلاَتِي كُلَّهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
At-Tufail bin Ubayy bin Ka'b narrated from his father who said:"When a third of the night had passed, the Messenger of Allah(s.a.w) stood and said: 'O you people! Remember Allah! Remember Allah! The Rajifah is coming, followed by the Radifah, death and what it brings is coming, death and what it brings is coming!'" Ubayy said: "I said: 'O Messenger of Allah! Indeed I say very much Salat for you. How much of my Salat should I make for you?' He said: 'As you wish.'" [He said:] "I said: 'A fourth?' He said: 'As you wish. But if you add more it would be better for you.' I said: 'Then half?' He said: 'As you wish. And if you add more it would be better [for you].'" [He said:] "I said: 'Then two-thirds? 'He said: 'As you wish, but if you add more it would be better for you.' I said: 'Should I make all of my Salat for you?' He said: 'Then your problems would be solved and your sins would be forgiven
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور فرماتے: لوگو! اللہ کو یاد کرو، اللہ کو یاد کرو، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ پر بہت صلاۃ ( درود ) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو“، میں نے عرض کیا چوتھائی؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے“، میں نے عرض کیا: آدھا؟ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا دو تہائی؟“ آپ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے، میں نے عرض کیا: وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ‏:‏ ‏(‏فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ ‏)‏ قَالَ السَّمَّاعُ ‏.‏ وَمَعْنَى السَّمَّاعِ مِثْلَ مَا وَرَدَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّ الْحُورَ الْعِينَ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتِهِنَّ ‏.‏
From Yahya bin Abi Kathir, concerning His (Allah's), the Mighty and Glorious, statement:"Then they shall be in gardens living luxuriously" He said: "Listening."And the meaning of listening is similar to what has been mentioned in the Hadith that Al-Hur Al-'Ein raise their voices
یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ: «فهم في روضة يحبرون» ”وہ جنت میں خوش کر دیئے جائیں گے“ کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد سماع ہے اور سماع کا مفہوم وہی ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حورعین اپنے نغمے کی آواز بلند کریں گی۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ الْمَخْزُومِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The wise statement is the lost property of the believer, so wherever he finds it, then he is more worthy of it
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکمت کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے جہاں کہیں بھی اسے پائے وہ اسے حاصل کر لینے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابراہیم بن فضل مدنی مخزومی حدیث بیان کرنے میں حفظ کے تعلق سے کمزور مانے جاتے ہیں۔
Narrated by Ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الأَخْذُ بِالْيَدِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ الْبَرَاءِ وَابْنِ عُمَرَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ ‏.‏ قَالَ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعُدَّهُ مَحْفُوظًا وَقَالَ إِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي حَدِيثَ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ سَمَرَ إِلاَّ لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ مِنْ تَمَامِ التَّحِيَّةِ الأَخْذُ بِالْيَدِ ‏.‏
Narrated Ibn Mas'ud:that the Prophet (ﷺ) said: "taking hold of the hand is from the completeness of the greeting
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل سلام ( «السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ» کہنے کے ساتھ ساتھ ) ہاتھ کو ہاتھ میں لینا یعنی ( مصافحہ کرنا ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سلیم کی روایت سے جسے وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسے محفوظ شمار نہیں کیا، اور کہا کہ میرے نزدیک یحییٰ بن سلیم نے سفیان کی وہ روایت مراد لی ہے جسے انہوں نے منصور سے روایت کی ہے، اور منصور نے خیثمہ سے اور خیثمہ نے اس سے جس نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے سنا ہے اور ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” ( بعد نماز عشاء ) بات چیت اور قصہ گوئی نہیں کرنی چاہیئے، سوائے اس شخص کے جس کو ( ابھی کچھ دیر بعد اٹھ کر تہجد کی ) نماز پڑھنی ہے یا سفر کرنا ہے، محمد کہتے ہیں: اور منصور سے مروی ہے انہوں نے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے عبدالرحمٰن بن یزید سے یا ان کے سوا کسی اور سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: سلام کی تکمیل سے مراد ہاتھ پکڑنا ( مصافحہ کرنا ) ہے، ۳- اس باب میں براء اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abdullah bin Buraidah
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ ‏.‏ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لأَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ إِلاَّ أَنْ تَجْعَلَهُ لِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ ‏.‏ قَالَ فَرَكِبَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Buraidah:"I heard my father Buraidah saying: 'I was walking with the Prophet (ﷺ) when a man came to him with a donkey, so he said: "O Messenger of Allah! Ride" and the man moved toward the back. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "No, you have more right to the front of your beast, unless you allot it for me." He said: "I have allotted it for you.'" He said: 'So he rode
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلے جا رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص جس کے ساتھ گدھا تھا آپ کے پاس آیا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ سوار ہو جائیے، اور خود پیچھے ہٹ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی سواری کے سینے پر یعنی آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو الاّ یہ کہ تم مجھے اس کا حق دے دو۔ یہ سن کر فوراً اس نے کہا: میں نے اس کا حق آپ کو دے دیا۔ ”پھر آپ اس پر سوار ہو گئے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اس باب میں قیس بن سعد بن عبادۃ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Al-Hasan
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى قَارِىءٍ يَقْرَأُ ثُمَّ سَأَلَ فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَلْيَسْأَلِ اللَّهَ بِهِ فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَسْأَلُونَ بِهِ النَّاسَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مَحْمُودٌ هَذَا خَيْثَمَةُ الْبَصْرِيُّ الَّذِي رَوَى عَنْهُ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَلَيْسَ هُوَ خَيْثَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَخَيْثَمَةُ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ يُكْنَى أَبَا نَصْرٍ قَدْ رَوَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَحَادِيثَ وَقَدْ رَوَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ خَيْثَمَةَ هَذَا أَيْضًا أَحَادِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ ‏.‏
Narrated Al-Hasan:that 'Imran bin Husain passed by a reciter reciting then he began begging. So he ('Imran) said: 'Indeed we are from Allah and to Him shall we return.' Then he said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Whoever recites the Qur'an, then let him ask Allah by it. For indeed there will come a people, who will recite the Qur'an, asking from the people because of it
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا ( پڑھ کر ) وہ مانگنے لگا۔ تو انہوں نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے جو قرآن پڑھے تو اسے اللہ ہی سے مانگنا چاہیئے۔ کیونکہ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھ پڑھ کر لوگوں سے مانگیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، اس کی سند ویسی قوی نہیں ہے، ۲- محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ خیثمہ بصریٰ ہیں جن سے جابر جعفی نے روایت کی ہے۔ یہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن نہیں ہیں۔ اور خیثمہ شیخ بصریٰ ہیں ان کی کنیت ابونصر ہے اور انہوں نے انس بن مالک سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور جابر جعفی نے بھی خیثمہ سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Narrated by Umayyah
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمَيَّةَ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ‏)‏ وَعَنْ قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ‏)‏ فَقَالَتْ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ هَذِهِ مُعَاتَبَةُ اللَّهِ الْعَبْدَ فِيمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّى وَالنَّكْبَةِ حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّ قَمِيصِهِ فَيَفْقِدُهَا فَيَفْزَعُ لَهَا حَتَّى إِنَّ الْعَبْدَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ‏.‏
Narrated Umayyah:that she asked 'Aishah about the saying of Allah, blessed and Most High: And whether you disclose what is in yourselves or conceal it, Allah will call you to account for it (2:284). And about His saying: And whoever does evil, he will be recompensed for it (4:123). She said: "No one has asked me about it since I asked the Messenger of Allah (ﷺ), he said: 'This is Allah's admonition for His slave regarding whatever he is stricken with, of fever and problems, even the item that he has in the pocket of his shirt which he loses and worries about, until the slave's sins are removed, just as the red ore is removed from the bellows
امیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے قول «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله» ۱؎ اور ( دوسرے ) قول «من يعمل سوءا يجز به» ۲؎ کا مطلب پوچھا، تو انہوں نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا مطلب پوچھا ہے تب سے ( تمہارے سوا ) کسی نے مجھ سے ان کا مطلب نہیں پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ اللہ کی جانب سے بخار اور مصیبت ( وغیرہ ) میں مبتلا کر کے بندے کی سرزنش ہے۔ یہاں تک کہ وہ سامان جو وہ اپنی قمیص کی آستین میں رکھ لیتا ہے پھر گم کر دیتا ہے پھر وہ گھبراتا اور اس کے لیے پریشان ہوتا ہے، یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ویسے ہی پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ سرخ سونا بھٹی سے ( صاف ستھرا ) نکلتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الأَحْمَسِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلاَئِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مُعَقِّبَاتٌ لاَ يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيَحْمَدُهُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَعَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلاَئِيُّ ثِقَةٌ حَافِظٌ ‏.‏ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَكَمِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ‏.‏ وَرَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنِ الْحَكَمِ وَرَفَعَهُ ‏.‏
Ka’b bin Ujrah narrated that:The Prophet said: “There are Mu’aqqibat, he who says them shall not be miserable. Glorify Allah at the end of every prayer thirty-three times, and praise him thirty-three times, and extol His greatness thirty-four times.”
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ چیزیں نماز کے پیچھے ( بعد میں ) پڑھنے کی ایسی ہیں کہ ان کا کہنے والا محروم و نامراد نہیں رہتا، ہر نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ کہے، ۳۳ بار الحمدللہ کہے، اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- شعبہ نے یہ حدیث حکم سے روایت کی ہے، اور اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور منصور بن معتمر نے حکم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع کیا ہے۔
Narrated by Jabir bin Samurah
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ ‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ قُلْتُ لِسِمَاكٍ مَا ضَلِيعُ الْفَمِ قَالَ وَاسِعُ الْفَمِ ‏.‏ قُلْتُ مَا أَشْكَلُ الْعَيْنِ قَالَ طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ قَالَ قَلِيلُ اللَّحْمِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Jabir bin Samurah:"The Messenger of Allah (ﷺ) had a wide mouth (Dali' Al-Fam), his eyes were Ashkal, and he had thin heels (Manhus Al-'Aqib). Shu'bah (one of the narrators) said: "I said to Simak: 'What is "Dali' Al-Fam?"' He said: 'A wide mouth.' I said: 'What is "Ashkal Al-'Ainain?"' He said: 'Having long eyes.'" [He said:] "I said: 'What is "Manhus Al-'Aqib?"' He said: 'Little flesh
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، هُوَ الأَعْرَجُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رَوَى هَمَّامٌ عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"The Prophet performed Wudu two time (for each limb)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے، ۴- ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے ۱؎۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِلاَلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللَّهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهُ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي ظِلاَلٍ فَقَالَ هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَاسْمُهُ هِلاَلٌ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "Whoever prays Fajr in congregation, then sits remembering Allah until the sun has risen, then he prays two Rak'ah, then for him is the reward like that of a Hajj and Umrah." He said: "The Messenger of Allah said: 'Complete, complete, complete
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں، تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا“۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پورا، پورا، پورا، یعنی حج و عمرے کا پورا ثواب“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے ( سند میں موجود راوی ) ابوظلال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ مقارب الحدیث ہیں، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ان کا نام ہلال ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَدُّويَهْ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ سَأَلْتُ أَوْ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الزَّكَاةِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْمَالِ لَحَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ الَّتِي فِي الْبَقَرَةِ ‏(‏ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ ‏)‏ الآيَةَ ‏.‏
Fatimah bint Qais narrated that :she asked -or, the Prophet was asked - about Zakat, and he said: "Indeed there is a duty on wealthy aside from Zakat." Then he recited this Ayah which is in Al-Baqarah: 'It is not Al-Birr (piety, righteousness) that you turn your faces.' (Al-Baqarah 2:)
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے زکاۃ کے بارے میں پوچھا، یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ بھی کچھ حق ہے ۱؎“ پھر آپ نے سورۃ البقرہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی: «ليس البر أن تولوا وجوهكم» ”نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پھیر لو“ ۲؎ الآیۃ۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ وَاللَّفْظُ لَفْظُ أَبِي عَمَّارٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا أَهْلَكَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اجْلِسْ ‏"‏ ‏.‏ فَجَلَسَ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ - وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ قَالَ ‏"‏ تَصَدَّقْ بِهِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا أَحَدٌ أَفْقَرَ مِنَّا ‏.‏ قَالَ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَخُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ مُتَعَمِّدًا مِنْ جِمَاعٍ وَأَمَّا مَنْ أَفْطَرَ مُتَعَمِّدًا مِنْ أَكْلٍ أَوْ شُرْبٍ فَإِنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ قَدِ اخْتَلَفُوا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَالْكَفَّارَةُ ‏.‏ وَشَبَّهُوا الأَكْلَ وَالشُّرْبَ بِالْجِمَاعِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَإِسْحَاقَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَلاَ كَفَّارَةَ عَلَيْهِ لأَنَّهُ إِنَّمَا ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْكَفَّارَةُ فِي الْجِمَاعِ وَلَمْ تُذْكَرْ عَنْهُ فِي الأَكْلِ وَالشُّرْبِ ‏.‏ وَقَالُوا لاَ يُشْبِهُ الأَكْلُ وَالشُّرْبُ الْجِمَاعَ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَقَوْلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لِلرَّجُلِ الَّذِي أَفْطَرَ فَتَصَدَّقَ عَلَيْهِ ‏"‏ خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"‏ ‏.‏ يَحْتَمِلُ هَذَا مَعَانِيَ يَحْتَمِلُ أَنْ تَكُونَ الْكَفَّارَةُ عَلَى مَنْ قَدَرَ عَلَيْهَا وَهَذَا رَجُلٌ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى الْكَفَّارَةِ فَلَمَّا أَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا وَمَلَكَهُ فَقَالَ الرَّجُلُ مَا أَحَدٌ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنَّا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ ‏"‏ ‏.‏ لأَنَّ الْكَفَّارَةَ إِنَّمَا تَكُونُ بَعْدَ الْفَضْلِ عَنْ قُوتِهِ ‏.‏ وَاخْتَارَ الشَّافِعِيُّ لِمَنْ كَانَ عَلَى مِثْلِ هَذَا الْحَالِ أَنْ يَأْكُلَهُ وَتَكُونَ الْكَفَّارَةُ عَلَيْهِ دَيْنًا فَمَتَى مَا مَلَكَ يَوْمًا مَا كَفَّرَ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:A man came and said: "O Messenger of Allah; I am ruined!" He said: "What has ruined you?" He said: "I had sexual relations with my wife during Ramadan." He said: "Are you able to free a slave?" He said, "No." He said: "Then are you able to fast for two consecutive months?" He said, "No." He said: "Then are you able to feed sixty needy people?" He said, "No." He said: "Sit." So he sat. A big basket full of dates was brought to the Prophet, and he said: "Give it in charity." So he said: "There is no one needier than us between its two mountains." So the Prophet laughing until his pre-molar teeth appeared, and he said: "Then take it to feed your family
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ نے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟“ اس نے عرض کیا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا۔ آپ نے پوچھا: ”کیا تم ایک غلام یا لونڈی آزاد کر سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: ”کیا مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے پوچھا: ”کیا ساٹھ مسکین کو کھانا کھلا سکتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“ تو وہ بیٹھ گیا۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا ٹوکرہ لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا: ”اسے لے جا کر صدقہ کر دو“، اس نے عرض کیا: ان دونوں ملے ہوئے علاقوں کے درمیان کی بستی ( یعنی مدینہ میں ) مجھ سے زیادہ محتاج کوئی نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے ساتھ والے دانت دکھائی دینے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے لے لو اور لے جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، عائشہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں جو رمضان میں جان بوجھ کر بیوی سے جماع کر کے روزہ توڑ دے، اسی حدیث پر عمل ہے، ۴- اور جو جان بوجھ کر کھا پی کر روزہ توڑے، تو اس کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں: اس پر روزے کی قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہے، ان لوگوں نے کھانے پینے کو جماع کے مشابہ قرار دیا ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔ بعض کہتے ہیں: اس پر صرف روزے کی قضاء لازم ہے، کفارہ نہیں۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کفارہ مذکور ہے وہ جماع سے متعلق ہے، کھانے پینے کے بارے میں آپ سے کفارہ مذکور نہیں ہے، ان لوگوں نے کہا ہے کہ کھانا پینا جماع کے مشابہ نہیں ہے۔ یہ شافعی اور احمد کا قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص سے جس نے روزہ توڑ دیا، اور آپ نے اس پر صدقہ کیا یہ کہنا کہ ”اسے لے لو اور لے جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو“، کئی باتوں کا احتمال رکھتا ہے: ایک احتمال یہ بھی ہے کہ کفارہ اس شخص پر ہو گا جو اس پر قادر ہو، اور یہ ایسا شخص تھا جسے کفارہ دینے کی قدرت نہیں تھی، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دیا اور وہ اس کا مالک ہو گیا تو اس آدمی نے عرض کیا: ہم سے زیادہ اس کا کوئی محتاج نہیں۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے لو اور جا کر اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو“، اس لیے کہ روزانہ کی خوراک سے بچنے کے بعد ہی کفارہ لازم آتا ہے، تو جو اس طرح کی صورت حال سے گزر رہا ہو اس کے لیے شافعی نے اسی بات کو پسند کیا ہے کہ وہی اسے کھا لے اور کفارہ اس پر فرض رہے گا، جب کبھی وہ مالدار ہو گا تو کفارہ ادا کرے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْمُهَزِّمِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ ‏.‏ وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلْمُحْرِمِ أَنْ يَصِيدَ الْجَرَادَ وَيَأْكُلَهُ وَرَأَى بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ صَدَقَةً إِذَا اصْطَادَهُ وَأَكَلَهُ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"We went with the Messenger of Allah during Hajj or Umrah and we encountered a swarm of locusts. We began striking at them with our whips and set our staffs, and the Prophet said: "Eat it, for indeed it is game of the sea
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے تھے کہ ہمارے سامنے ٹڈی کا ایک دل آ گیا، ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھاؤ، کیونکہ یہ سمندر کا شکار ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوالمھزم کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، ۲- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے ان میں کلام کیا ہے، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو ٹڈی کا شکار کرنے اور اسے کھانے کی رخصت دی ہے، ۴- اور بعض کا خیال ہے کہ اگر وہ اس کا شکار کرے اور اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے۔