بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
10
30 hadith
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، أَنَّ مُوسَى بْنَ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ بَاكِيهِ فَيَقُولُ وَاجَبَلاَهُ وَاسَيِّدَاهُ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ إِلاَّ وُكِّلَ بِهِ مَلَكَانِ يَلْهَزَانِهِ أَهَكَذَا كُنْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Musa bin Abi Musa Al-Asha'ri narrated from his father that:The Messenger of Allah said: "No one dies and they stand over him crying and saying: 'O what a great man he was! O how respectful he was!' except that two angels are appointed for him to poke him (saying): 'Is that you?
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی بھی مر جائے پھر اس پر رونے والا کھڑا ہو کر کہے: ہائے میرے پہاڑ، ہائے میرے سردار یا اس جیسے الفاظ کہے تو اسے دو فرشتوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے، وہ اسے گھونسے مارتے ہیں ( اور کہتے جاتے ہیں ) کیا تو ایسا ہی تھا؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا فَلاَ يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلاَ يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لاَ يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ وَإِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ‏.‏ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ وَابْنُ لَهِيعَةَ يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ امْرَأَةً ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا حَلَّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ ابْنَتَهَا وَإِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الاِبْنَةَ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا لَمْ يَحِلَّ لَهُ نِكَاحُ أُمِّهَا لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ‏(‏وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ ‏)‏ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏
Amr bin Shu'aib narrated from his father, from his grandfather that:The Prophet said: "Whichever man married a woman and entered into her, then it is not lawful for him to marry her daughter. If he did not enter into her then he may marry her daughter. And whichever man married a woman and he entered into her, or he did not enter into her, then it is not lawful for him to marry her mother
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے ساتھ دخول کیا تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح کرنا درست نہیں ہے، اور اگر اس نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا ہے تو وہ اس کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے، اور جس مرد نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس نے اس سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے، اسے صرف ابن لہیعہ اور مثنی بن صالح نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔ اور مثنی بن صالح اور ابن لہیعہ حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔ ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی کی ماں سے شادی کر لے اور پھر اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے، اور جب آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح کرے اور اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح جائز نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وأمهات نسائكم» ( النساء: ۲۳ ) ، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْهِجْرَةِ وَلاَ يَشْعُرُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ عَبْدٌ فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بِعْنِيهِ ‏"‏ ‏.‏ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِعَبْدٍ بِعَبْدَيْنِ يَدًا بِيَدٍ ‏.‏ وَاخْتَلَفُوا فِيهِ إِذَا كَانَ نَسِيئًا ‏.‏
Narrated Jabir: "A slave came to give the pledge to the Prophet (ﷺ) for Hijrah, but the Prophet (ﷺ) did not realize that he was a slave. So his master came to get him and the Prophet (ﷺ) said: 'Sell him to me.' So he purchased him for two black slaves. Then he would not pledge from anyone until he asked him if he was a slave." [He said:] There is something on this topic from Anas. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Jabir is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. There is no harm in a slave for two slaves in hand to hand exchange, but they differ when it is on credit
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جان سکے کہ یہ غلام ہے۔ اتنے میں اس کا مالک آ گیا وہ اس کا مطالبہ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تم اسے مجھ سے بیچ دو، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ کسی سے اس وقت تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس سے دریافت نہ کر لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ ایک غلام کو دو غلام سے نقدا نقد خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب ادھار ہو تو اس میں اختلاف ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أَهْدَتْ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا فِي قَصْعَةٍ فَضَرَبَتْ عَائِشَةُ الْقَصْعَةَ بِيَدِهَا فَأَلْقَتْ مَا فِيهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ طَعَامٌ بِطَعَامٍ وَإِنَاءٌ بِإِنَاءٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Anas narrated:"One of the wives of the Prophet (ﷺ) gave the Prophet (ﷺ) some food in a bowl. Then 'Aishah broke the bowl with her hand, and discarded what was in it. So the Prophet (ﷺ) said: "Food for food and vessel for vessel
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے آپ کے پاس پیالے میں کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی، عائشہ رضی الله عنہا نے ( غصے میں ) اپنے ہاتھ سے پیالے کو مار کر اس کے اندر کی چیز گرا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کے بدلے کھانا اور پیالے کے بدلے پیالہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Sahl bin Abi Hatamah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ يَحْيَى وَحَسِبْتُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا قَالاَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَاكَ ثُمَّ إِنَّ مُحَيِّصَةَ وَجَدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلاً قَدْ قُتِلَ فَدَفَنَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَبِّرِ الْكُبْرَ ‏"‏ ‏.‏ فَصَمَتَ وَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مَعَهُمَا فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ قَالَ ‏"‏ فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَى عَقْلَهُ ‏.‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْقَسَامَةِ وَقَدْ رَأَى بَعْضُ فُقَهَاءِ الْمَدِينَةِ الْقَوَدَ بِالْقَسَامَةِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ إِنَّ الْقَسَامَةَ لاَ تُوجِبُ الْقَوَدَ وَإِنَّمَا تُوجِبُ الدِّيَةَ ‏.‏ آخِرُ أَبْوَابِ الدِّيَاتِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ‏.‏
Narrated Sahl bin Abi Hatamah:Yahya (one of the narrators) said: And I think it was from Rafi' bin Khadij - that 'Abdullah bin Sahl bin Zaid and Muhaiysah bin Mas'ud bin Zaid went out and when they reached Khaibar they separated while there. Then Muhayyisah found 'Abdullah bin Sahl murdered [so he buried him]. Then he went to the Messenger of Allah (ﷺ) along with Huwayyisah bin Mas'ud and Abdur-Rahman bin Sahl. The youngest of the people, Abdur-Rahman, went to speak ahead of his companions. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Let the eldest of you speak." So he was silent and two companions spoke. So he conversed with them and they mentioned to the Messenger of Allah (ﷺ) about the murder of 'Abdullah bin Sahl. He said to them: "If fifty of you can swear an oath then you will have the right against the murderer." They said: "How can we take an oath when we did not witness it?" He said: "Then fifty of Jews can swear to clear the charge with you?" They said: "How could we accept the oaths of a disbelieving people?" So when he saw that, the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood-money." (Another Chain) from Sahl bin Abi Hathman and Rafi' bin Khadij, and the meaning is similar to this Hadith
سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی الله عنہما کہیں جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، جب وہ خیبر پہنچے تو الگ الگ راستوں پر ہو گئے، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا، کسی نے ان کو قتل کر دیا تھا، آپ نے انہیں دفنا دیا، پھر وہ ( یعنی راوی حدیث ) حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمٰن بن سہل ان میں سب سے چھوٹے تھے، وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے ( اس معاملہ میں آپ سے ) گفتگو کرنا چاہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بڑے کا لحاظ کرو، لہٰذا وہ خاموش ہو گئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی، پھر وہ بھی ان دونوں کے ساتھ شریک گفتگو ہو گئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا، آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم لوگ پچاس قسمیں کھاؤ گے ( کہ فلاں نے اس کو قتل کیا ہے ) تاکہ تم اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہو جاؤ ( یا کہا ) قاتل کے خون کے مستحق ہو جاؤ؟“ ان لوگوں نے عرض کیا: ہم قسم کیسے کھائیں جب کہ ہم حاضر نہیں تھے؟ آپ نے فرمایا: ”تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے“، ان لوگوں نے کہا: ہم کافر قوم کی قسم کیسے قبول کر لیں؟ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ معاملہ دیکھا تو ان کی دیت ۱؎ خود ادا کر دی۔ اس سند سے بھی سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج سے اسی طرح اسی معنی کی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- قسامہ کے سلسلہ میں بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ۳- مدینہ کے بعض فقہاء قسامہ ۲؎ کی بنا پر قصاص درست سمجھتے ہیں، ۴- کوفہ کے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگ کہتے ہیں: قسامہ کی بنا پر قصاص واجب نہیں، صرف دیت واجب ہے۔
Narrated by Abu Bakrah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَتَاهُ أَمْرٌ فَسُرَّ بِهِ فَخَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا سَجْدَةَ الشُّكْرِ ‏.‏ وَبَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ ‏.‏
Narrated Abu Bakrah: "The Prophet (ﷺ) was met by some affair that made him happy, so he prostrated to Allah." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib, we do not know of it except from this route, as a narration of Bakkar bin 'Abdul-'Aziz. This is acted upon according to most of the people of knowledge, they held the view that one could perform the prostration of gratitude. And Bakkar bin 'Adbul-'Aziz bin Abi Bakrah is Muqarib (average) in Hadith
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خبر آئی، آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اس کو صرف اسی سند سے بکار بن عبدالعزیز کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بکار بن عبدالعزیز بن ابی بکرہ مقارب الحدیث ہیں، ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ سجدہ شکر کو درست سمجھتے ہیں۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلاَّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "None is wounded in Allah's cause - and Allah knows better about who has been injured in His cause - except that he will come on the Day of Resurrection with his wound the color of blood but its scent will be the scent of musk." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. It has been reported through other routes from the Prophet (ﷺ)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِنْ أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلاَ سَمْعَ عَلَيْهِ وَلاَ طَاعَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Hearing and obeying is required from every Muslim man - in what he like and what he dislikes - as long as he is not ordered with disobedience. If he is ordered with disobedience, then no hearing or obeying is required of him." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Ali, 'Imran bin Husain, and Al-Hakam bin 'Amr Al-Ghifari. This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک معصیت کا حکم نہ دیا جائے مسلمان پر سمع و طاعت لازم ہے خواہ وہ پسند کرے یا ناپسند کرے، اور اگر اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کے لیے سننا ضروری ہے اور نہ اطاعت کرنا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عمران بن حصین اور حکم بن عمر و غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ وَأَلْبَانِهَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَرَوَى الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar: "The Prophet (ﷺ) prohibited eating the Jallalah and milking it." He said: There is something on this topic from 'Abdullah bin 'Abbas. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. Ath-Thawri reported it from Ibn Abi Najih, from Mujahid, from the Prophet (ﷺ) in Mursal form
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کھانے اور ان کے دودھ پینے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ثوری نے اسے «عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عباس سے بھی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلاَ مَطَرٍ ‏.‏ قَالَ فَقِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ بِذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لاَ يُحْرِجَ أُمَّتَهُ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيُّ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ هَذَا ‏.‏
Ibn Abbas said:"Allah's Messenger combined the Zuhr and Asr (prayers), and the Maghrib and Isha (prayers) in Al-Madinah, without being in a state of fear, nor due to rain
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر خوف اور بارش ۱؎ کے مدینے میں ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ جمع کیا ۲؎۔ ابن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کیا منشأ تھی؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشأ یہ تھی کہ آپ اپنی امت کو کسی پریشانی میں نہ ڈالیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کئی سندوں سے مروی ہے، ابن عباس رضی الله عنہما سے اس کے خلاف بھی مرفوعاً مروی ہے ۳؎۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ آخَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ لَهُ هَلُمَّ أُقَاسِمْكَ مَالِي نِصْفَيْنِ وَلِي امْرَأَتَانِ فَأُطَلِّقُ إِحْدَاهُمَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا ‏.‏ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ ‏.‏ فَدَلُّوهُ عَلَى السُّوقِ فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ إِلاَّ وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ قَدِ اسْتَفْضَلَهُ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ ذَلِكَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ ‏"‏ مَهْيَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا أَصْدَقْتَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَوَاةً ‏.‏ قَالَ حُمَيْدٌ أَوْ قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ ثَلاَثَةِ دَرَاهِمَ وَثُلُثٍ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزْنُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَزْنُ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ ‏.‏ سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ مَنْصُورٍ يَذْكُرُ عَنْهُمَا هَذَا ‏.‏
Anas said:: "When 'Abdur-Rahman bin 'Awf arrived in Al-Madinah, the Messenger of Allah established a bond of brotherhood between him and sa'd bin Ar-Rabi. So he said to him: "Come here, I will divide my wealth and give you half, and I have two wives, I will divorce one of them, and when she completes her waiting period you may marry her." He said: " May Allah bless you in your family and your wealth. Show me where the market is." So they showed him where the market was and he did not return that day except with some cottage cheese and cooking fat which he had earned as a profit. The Messenger of Allah saw him after that, and he had traces of yellow on him. So he said to him: "What is this?" He said: "I married a woman from the Ansar." He said : " What dowry did you give her?" He said: " A date-stone(of gold) - ( one of the narrators) Humaid said: "Or he said: - gold equal to the weight of a date-stone." So he said: 'Have a banquet, even if with only a sheep
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ( ہجرت کر کے ) مدینہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، سعد بن ربیع نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے کہا: آؤ تمہارے لیے اپنا آدھا مال بانٹ دوں، اور میرے پاس دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے شادی کر لو، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ بتاؤ، انہوں نے ان کو بازار کا راستہ بتا دیا، اس دن وہ ( بازار سے ) کچھ پنیر اور گھی لے کر ہی لوٹے جو نفع میں انہیں حاصل ہوا تھا، اس کے ( کچھ دنوں ) بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوپر زردی کا اثر دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟“ ( یہ زردی کیسی ) کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: ”اس کو مہر میں تم نے کیا دیا؟“ کہا: ایک ( سونے کی ) گٹھلی، ( یا گٹھلی کے برابر سونا ) آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد کہتے ہیں: گٹھلی کے برابر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے، ۳- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: گٹھلی کے برابر سونا، پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، قال حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا وَكِلاَ الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ ‏.‏
Aishah narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) said:"Fever is from the heat of the Hell, so cool it with water." Another chain reports similar narration
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی سے ہوتا ہے، لہٰذا اسے پانی سے ٹھنڈا کرو“۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً فَقَالَ ‏ "‏ سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ يَا رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٍ فِي الآخِرَةِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Umm Salamah narrated:"One night the Prophet (ﷺ) awoke and said, 'Subhan Allah! How many Fitan (trials and afflictions) have descended tonight. And how many treasures have been disclosed? Who will awaken the women sleeping in these dwellings? O! How many are clothed in this world, yet naked in the Hereafter
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا: ”سبحان اللہ! آج کی رات کتنے فتنے اور کتنے خزانے نازل ہوئے! حجرہ والیوں ( امہات المؤمنین ) کو کوئی جگانے والا ہے؟ سنو! دنیا میں کپڑا پہننے والی بہت سی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ ‏:‏ ‏(‏أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ‏)‏ قَالَ ‏"‏ يَقُولُ ابْنُ آدَمَ مَالِي مَالِي وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلاَّ مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Mutarrif narrated from his father, that he met up with the Prophet (s.a.w) while he was saying:"The mutual increase diverts you". He (s.a.w) said: "The son of Adam says:'My wealth, my wealth, but is there something for you from your wealth besides what you give in charity that remains, or you eat which perishes, or what you wear that grows worn?
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ «ألهاكم التكاثر» کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے جو تم نے صدقہ کر دیا اور اسے آگے چلا دیا ۱؎، اور کھایا اور اسے ختم کر دیا یا پہنا اور اسے پرانا کر دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَلْمَانَ أَبُو عُمَرَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةً فَإِنْ كَانَ صَاحِبُهَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوهُ وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ فَلاَ تَعُدُّوهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ - وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ فِي دِينٍ أَوْ دُنْيَا إِلاَّ مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said:"Indeed for everything there is a zeal, and for every zeal there is a slackening. So if its practitioner behaves properly,and is moderate, then hope for him (for his success). But if the fingers are pointed to him, then do not count him (among the worthy)." It has been related from Anas bin Malik that the Prophet SAW said: "It is sufficient evil for a man that fingers be raised against him, regarding religion or worldly matters, except for one whom Allah has protected
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک حرص و نشاط ہوتی ہے، اور ہر حرص و نشاط کی ایک کمزوری ہوتی ہے، تو اگر اس کا اپنانے والا معتدل مناسب رفتار چلا اور حق کے قریب ہوتا رہا تو اس کی بہتری کی امید رکھو، اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے تو اسے کچھ شمار میں نہ لاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے بگاڑ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں اس کی طرف انگلیاں اٹھائی جائیں، مگر جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے“۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ احْتَجَّتِ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَقَالَتِ الْجَنَّةُ يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ ‏.‏ وَقَالَتِ النَّارُ يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ ‏.‏ فَقَالَ لِلنَّارِ أَنْتِ عَذَابِي أَنْتَقِمُ بِكِ مِمَّنْ شِئْتُ ‏.‏ وَقَالَ لِلْجَنَّةِ أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ شِئْتُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Paradise and the Fire debated. Paradise said: 'The weak and the poor shall enter me,' and the Fire said: 'The tyrants and the proud shall enter me.' So He said to the Fire: 'You are My Punishment, I take vengeance through you from whom I will,' and He said to Paradise: 'You are My Mercy I show mercy through you to whom I will
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت اور جہنم کے درمیان بحث و تکرار ہوئی، جنت نے کہا: میرے اندر کمزور اور مسکین داخل ہوں گے، جہنم نے کہا: میرے اندر ظالم اور متکبر داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ( فیصلہ کرتے ہوئے ) جہنم سے کہا: تو میرا عذاب ہے اور میں تیرے ذریعہ جس سے چاہوں گا انتقام لوں گا اور جنت سے کہا: تو میری رحمت ہے میں تیرے ذریعہ جس پر چاہوں گا رحم کروں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abu Dharr
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، وَالأَعْمَشِ، كُلُّهُمْ سَمِعُوا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَبَشَّرَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ‏.‏
Narrated Abu Dharr:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Jibril came to me and gave me glad tidings, that whoever dies without associating anything with Allah, then he will enter Paradise. I said: "Even if he commits adultery and theft?" He said: "Yes
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل ( علیہ السلام ) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا“، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، ( اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Ibn Ashwa
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سَلَمَةَ الْجُعْفِيِّ، قَالَ قَالَ يَزِيدُ بْنُ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ، حَدِيثًا كَثِيرًا أَخَافُ أَنْ يُنْسِيَنِي، أَوَّلَهُ آخِرُهُ فَحَدِّثْنِي بِكَلِمَةٍ تَكُونُ جِمَاعًا ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ اتَّقِ اللَّهَ فِيمَا تَعْلَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَهُوَ عِنْدِي مُرْسَلٌ ‏.‏ وَلَمْ يُدْرِكْ عِنْدِي ابْنُ أَشْوَعَ يَزِيدَ بْنَ سَلَمَةَ وَابْنُ أَشْوَعَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ ‏.‏
Narrated Ibn Ashwa:from Yazid bin Salamah Al-Ju'fi, he said: "Yazid bin Salamah 'O Messenger of Allah! I heard so many narrations from you that I am afraid the last of them will cause me to forget the first of them. So narrate a statement to me that will encompass them.' So he said: 'Have Taqwa of Allah with what you learn
یزید بن سلمہ جعفی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے بہت سی حدیثیں آپ سے سنی ہیں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بعد کی حدیثیں شروع کی حدیثوں کو بھلا نہ دیں، آپ مجھے کوئی ایسا کلمہ ( کوئی ایسی بات ) بتا دیجئیے جو دونوں ( اول و آخر ) کو ایک ساتھ باقی رکھنے کا ذریعہ بنے۔ آپ نے فرمایا: ”جو کچھ بھی تم جانتے ہو ان کے متعلق اللہ کا خوف و تقویٰ ملحوظ رکھو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ایسی ہے جس کی سند متصل نہیں ہے، یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے۔ ۲- میرے نزدیک ابن اشوع نے یزید بن سلمی ( کے دور ) کو نہیں پایا ہے، ۳- ابن اشوع کا نام سعید بن اشوع ہے۔
Narrated by Shu'bah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنْ كُنْتُمْ لاَ بُدَّ فَاعِلِينَ فَرُدُّوا السَّلاَمَ وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ وَاهْدُوا السَّبِيلَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated Shu'bah:"From Abu Ishaq, from Al-Bara - and he did not hear it from him - the Messenger of Allah (ﷺ) passed by some people from the Ansar while they were sitting in the road. He said: 'If you people must do this, then return the Salam, assist the wronged, and give directions to the one who is on the route
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ( سند میں اس بات کی صراحت ہے کہ ابواسحاق نے براء سے سنا نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بالخصوص شعبہ کی روایت ہونے کی وجہ سے قوی ہے ) انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ” ( یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے ) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو، اور ( بھولے بھٹکے ہوئے کو ) راستہ بتا دیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Bahz bin Hakim
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ قَالَ ‏"‏ احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلاَّ مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ الرَّجُلُ يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ قَالَ ‏"‏ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لاَ يَرَاهَا أَحَدٌ فَافْعَلْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ وَالرَّجُلُ يَكُونُ خَالِيًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَجَدُّ بَهْزٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ وَقَدْ رَوَى الْجُرَيْرِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ وَالِدُ بَهْزٍ ‏.‏
Narrated Bahz bin Hakim:"My father narrated to me from my grandfather, who said: 'I said: "O Messenger of Allah! Regarding our 'Awrah, what of it must we cover and what of it may we leave?" He said: "Protect your 'Awrah except from your wife or what your right hand possesses."' He said: "What about a man with another man?" He said: "If you are able to not let anyone see it, then do so." I said: "What about a man when he is alone?" He said: "Allah is most deserving of being shy from Him
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے اور کس قدر چھپانا ضروری ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا ہر کسی سے اپنی شرمگاہ کو چھپاؤ“، انہوں نے کہا: آدمی کبھی آدمی کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تب بھی تمہاری ہر ممکن کوشش یہی ہونی چاہیئے کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھ سکے“، میں نے کہا: آدمی کبھی تنہا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ تو اور زیادہ مستحق ہے کہ اس سے شرم کی جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- بہز کے دادا کا نام معاویہ بن حیدۃ القشیری ہے۔ ۳- اور جریری نے حکیم بن معاویہ سے روایت کی ہے اور وہ بہز کے والد ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the one who does not have the Qur'an inside him (his heart), is like the ruined house
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abu Malik
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنِ الْبَرَاءِ‏:‏ ‏(‏وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ‏)‏ قَالَ نَزَلَتْ فِينَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ كُنَّا أَصْحَابَ نَخْلٍ فَكَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي مِنْ نَخْلِهِ عَلَى قَدْرِ كَثْرَتِهِ وَقِلَّتِهِ وَكَانَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِالْقِنْوِ وَالْقِنْوَيْنِ فَيُعَلِّقُهُ فِي الْمَسْجِدِ وَكَانَ أَهْلُ الصُّفَّةِ لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ فَكَانَ أَحَدُهُمْ إِذَا جَاعَ أَتَى الْقِنْوَ فَضَرَبَهُ بِعَصَاهُ فَيَسْقُطُ مِنَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ فَيَأْكُلُ وَكَانَ نَاسٌ مِمَّنْ لاَ يَرْغَبُ فِي الْخَيْرِ يَأْتِي الرَّجُلُ بِالْقِنْوِ فِيهِ الشِّيصُ وَالْحَشَفُ وَبِالْقِنْوِ قَدِ انْكَسَرَ فَيُعَلِّقُهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلاَّ أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ‏)‏ قَالُوا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أُهْدِيَ إِلَيْهِ مِثْلُ مَا أَعْطَى لَمْ يَأْخُذْهُ إِلاَّ عَلَى إِغْمَاضٍ وَحَيَاءٍ قَالَ فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ يَأْتِي أَحَدُنَا بِصَالِحِ مَا عِنْدَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ وَأَبُو مَالِكٍ هُوَ الْغِفَارِيُّ وَيُقَالُ اسْمُهُ غَزْوَانُ وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ عَنِ السُّدِّيِّ شَيْئًا مِنْ هَذَا ‏.‏
Narrated Abu Malik:from Al-Bara (regarding): And do not aim at that which is bad to spend from it (2:267) - he said: "It was revealed about us, the people of the Ansar who were date-palm owners. A man would bring the amount of dates that he would from his date-palms, either a lot or a little. A man would bring a cluster or two and hang it in the Masjid. The people of As-Suffah did not have food, so one of them would go up to the cluster and hit it with his stick, and unripe and ripe dates would fall, and he would eat. Some people did not hope for good, so a man would bring a cluster with pitless and hard dates, and a cluster with damaged dates, and hang it. So Allah, Blessed and Most High, revealed: O you who believe! Spend of the good things which you have earned, and of that which We have produced from the earth for you, and do not aim at that which is bad to spend from it (2:267). They said: 'If one of you were given similar to what he gave, he would take it except bashfully with your eyes closed.' So after that, one of us would bring the best that we had
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آیت «ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون» ۱؎ ہم گروہ انصار کے بارے میں اتری ہے۔ ہم کھجور والے لوگ تھے، ہم میں سے کوئی آدمی اپنی کھجوروں کی کم و بیش پیداوار و مقدار کے اعتبار سے زیادہ یا تھوڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا۔ بعض لوگ کھجور کے ایک دو گچھے لے کر آتے، اور انہیں مسجد میں لٹکا دیتے، اہل صفہ کے کھانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا تو ان میں سے جب کسی کو بھوک لگتی تو وہ گچھے کے پاس آتا اور اسے چھڑی سے جھاڑتا کچی اور پکی کھجوریں گرتیں پھر وہ انہیں کھا لیتا۔ کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں خیر سے رغبت و دلچسپی نہ تھی، وہ ایسے گچھے لاتے جس میں خراب، ردی اور گلی سڑی کھجوریں ہوتیں اور بعض گچھے ٹوٹے بھی ہوتے، وہ انہیں لٹکا دیتے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیت «يا أيها الذين آمنوا أنفقوا من طيبات ما كسبتم ومما أخرجنا لكم من الأرض ولا تيمموا الخبيث منه تنفقون ولستم بآخذيه إلا أن تغمضوا فيه» ۲؎ نازل فرمائی۔ لوگوں نے کہا کہ اگر تم میں سے کسی کو ویسا ہی ہدیہ دیا جائے جیسا دین سے بیزار لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو وہ اسے نہیں لے گا اور لے گا بھی تو منہ موڑ کر، اس کے بعد ہم میں سے ہر شخص اپنے پاس موجود عمدہ چیز میں سے لانے لگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے سدی سے اس روایت میں سے کچھ روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رضى الله عنه قَالَ شَكَتْ إِلَىَّ فَاطِمَةُ مَجَلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحِينِ فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا فَقَالَ ‏ "‏ أَلاَ أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا تَقُولاَنِ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَأَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ مِنْ تَحْمِيدٍ وَتَسْبِيحٍ وَتَكْبِيرٍ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ ‏.‏
Ali [may Allah be pleased with him] said:“Fatimah complained to me about her hands blistering from grinding flour. So I said: ‘If you were to approach your father and ask him for a servant?’ So he (the Prophet) said: ‘Should I not direct the two of you, to that which is better for you than a servant? When the two of you lay down to sleep, say thirty-three, thirty-three, thirty-four, of At-Taḥmīd, At-Tasbīḥ, and At-Takbīr.”
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا نے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں آبلے پڑ جانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپ اپنے ابو جان کے پاس جاتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں، ( وہ گئیں تو ) آپ نے ( جواب میں ) فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتا دوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ۳۳ بار الحمدللہ اور سبحان اللہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عون کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے علی رضی الله عنہ سے آئی ہے۔
Narrated by As-Sa'ib bin Yazid
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْجَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ ذَهَبَتْ بِي خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ أُخْتِي وَجِعٌ فَمَسَحَ بِرَأْسِي وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ وَتَوَضَّأَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهِ فَقُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَنَظَرْتُ إِلَى الْخَاتَمِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَإِذَا هُوَ مِثْلُ زِرِّ الْحَجَلَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى الزِّرُّ يُقَالُ بَيْضٌ لَهَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَانَ وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ وَأَبِي رِمْثَةَ وَبُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ وَعَمْرِو بْنِ أَخْطَبَ وَأَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏
Narrated As-Sa'ib bin Yazid:"My maternal aunt took me to the Prophet (ﷺ), and said: 'O Messenger of Allah! Indeed my nephew is in pain.' So he wiped over my head and supplicated for blessings for me. And he performed Wudu and I drank from the water of his Wudu. Then I stood behind his back, and I looked at the seal between his two shoulder blades, and it resembled the egg of a partridge
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئیں، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا بھانجہ بیمار ہے، تو آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی، آپ نے وضو کیا تو میں نے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی پی لیا، پھر میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، اور میں نے آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی وہ چھپر کھٹ ( کے پردے ) کی گھنڈی کی طرح تھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: کبوتر کے انڈے کو «زر» کہا جاتا ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان، قرہ بن ایاس مزنی، جابر بن سمرہ، ابورمثہ، بریدہ اسلمی، عبداللہ بن سرجس، عمرو بن اخطب اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، هُوَ الْجَوْهَرِيُّ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَالِحٍ، مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَخَلِّلْ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْكَ وَرِجْلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Ibn Abbas narrated that :Allah's Messenger said: "When performing Wudu go between the fingers of your hands and (toes of) your feet
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے بیچ خلال کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Ibn Umar narrated that :the Prophet said: "When one of you becomes sleepy during the Friday prayer, then let him move from where he is sitting
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اونگھے تو اپنی جگہ بدل دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَهُوَ أَبُو الْحَارِثِ الْبَصْرِيُّ ثِقَةٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُتَيْبَةُ قَالَ حَمَّادٌ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ وَإِنَّمَا قَالَ ‏"‏ أَمَا يَخْشَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ هُوَ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ وَيُكْنَى أَبَا الْحَارِثِ ‏.‏
Abu Hurairah narrated:"Muhammad said: 'Does not the one who raises his head before the Imam fear that Allah will transform his head into a donkey's head?
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ اس کے سر کو گدھے کا سر بنا دے؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏ فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِغُرَمَائِهِ ‏"‏ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلاَّ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَجُوَيْرِيَةَ وَأَنَسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated:"During the time of the Messenger of Allah, a man suffered a loss on fruits that he had sold, resulting in more debt. The Messenger of Allah said: 'Give him charity.' So the people gave him charity but it did not cover his debt. So the Messenger of Allah said to his debtors: 'Take what you have and there is nothing for you but that
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص ۱؎ کے پھلوں میں جو اس نے خریدے تھے، کسی آفت کی وجہ سے جو اسے لاحق ہوئی نقصان ہو گیا اور اس پر قرض زیادہ ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ دو“ چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، مگر وہ اس کے قرض کی مقدار کو نہ پہنچا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: ”جتنا مل رہا ہے لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لیے کچھ نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، جویریہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ ذَرَعَهُ الْقَىْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَثَوْبَانَ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ‏.‏ وَقَالَ مُحَمَّدٌ لاَ أَرَاهُ مَحْفُوظًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ يَصِحُّ إِسْنَادُهُ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَثَوْبَانَ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَاءَ فَأَفْطَرَ ‏.‏ وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ صَائِمًا مُتَطَوِّعًا فَقَاءَ فَضَعُفَ فَأَفْطَرَ لِذَلِكَ ‏.‏ هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ مُفَسَّرًا ‏.‏ وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الصَّائِمَ إِذَا ذَرَعَهُ الْقَىْءُ فَلاَ قَضَاءَ عَلَيْهِ وَإِذَا اسْتَقَاءَ عَمْدًا فَلْيَقْضِ ‏.‏ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that :the Prophet said: "Whoever is overcome by vomiting, then he is not required to make up (the fast), and whoever vomits on purpose, then he must make it up
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے قے آ جائے اس پر روزے کی قضاء لازم نہیں ۱؎ اور جو جان بوجھ کر قے کرے تو اسے روزے کی قضاء کرنی چاہیئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے بسند «هشام عن ابن سيرين عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» عیسیٰ بن یونس ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں اسے محفوظ نہیں سمجھتا، ۲- یہ حدیث دوسری اور سندوں سے بھی ابوہریرہ سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے، ۳- اس باب میں ابو الدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- ابو الدرداء، ثوبان اور فضالہ بن عبید رضی الله عنہم سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قے کی تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نفلی روزے سے تھے۔ قے ہوئی تو آپ نے کچھ کمزوری محسوس کی اس لیے روزہ توڑ دیا، بعض روایات میں اس کی تفسیر اسی طرح مروی ہے، ۵- اور اہل علم کا عمل ابوہریرہ کی حدیث پر ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ روزہ دار کو جب قے آ جائے تو اس پر قضاء لازم نہیں ہے۔ اور جب قے جان بوجھ کر کرے تو اسے چاہیئے کہ قضاء کرے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلاَلٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ وَطَلْحَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ ‏.‏ وَالْمُطَّلِبُ لاَ نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ جَابِرٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ بِأَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا إِذَا لَمْ يَصْطَدْهُ أَوْ لَمْ يُصْطَدْ مِنْ أَجْلِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا أَحْسَنُ حَدِيثٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَفْسَرُ وَالَعَمَلُ عَلَى هَذَا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ ‏.‏
Jabir bin Abdullah narrated that:The Prophet said: "The land game is lawful for you while you are in Ihram as long as you did not hunt it - or - it was not hunted for you
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوقتادہ اور طلحہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۲- جابر کی حدیث مفسَّر ہے، ۳- اور ہم مُطّلب کا جابر سے سماع نہیں جانتے، ۴- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ محرم کے لیے شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب اس نے خود اس کا شکار نہ کیا ہو، نہ ہی وہ اس کے لیے کیا گیا ہو، ۵- شافعی کہتے ہیں: یہ اس باب میں مروی سب سے اچھی اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے، اور اسی پر عمل ہے۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔