بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
2 hadith
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ ‏:‏ ‏(‏ وفُرُشٍ مَرْفُوعَةٍ ‏)‏ قَالَ ‏"‏ ارْتِفَاعُهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ وَمَسِيرَةُ مَا بَيْنَهُمَا خَمْسُمِائَةِ عَامٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَارْتِفَاعُهَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏.‏ قَالَ ارْتِفَاعُ الْفُرُشِ الْمَرْفُوعَةِ فِي الدَّرَجَاتِ وَالدَّرَجَاتُ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ ‏.‏
Abu Sa’eed Al-Khudri may Allah be pleased with him, narrated :from the Prophet – regarding Allah’s saying ‘And on couches raised high – he said: “Their height is as what is between the heavens and the earth, and the distance between the two of them is five hundred years.”
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «وفرش مرفوعة» ”جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے“ ( الواقعہ: ۳۴ ) ، کے سلسلے میں فرمایا: ”ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض اہل علم کہتے ہیں: اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہو گی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَهْدَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةً مِنْ إِبِلِهِ الَّتِي كَانُوا أَصَابُوا بِالْغَابَةِ فَعَوَّضَهُ مِنْهَا بَعْضَ الْعِوَضِ فَتَسَخَّطَهُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ يَقُولُ ‏ "‏ إِنَّ رِجَالاً مِنَ الْعَرَبِ يُهْدِي أَحَدُهُمُ الْهَدِيَّةَ فَأُعَوِّضُهُ مِنْهَا بِقَدْرِ مَا عِنْدِي ثُمَّ يَتَسَخَّطُهُ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُ فِيهِ عَلَىَّ وَايْمُ اللَّهِ لاَ أَقْبَلُ بَعْدَ مَقَامِي هَذَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ أَيُّوبَ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:"A man from Banu Fazarah gave a gift to the Prophet (ﷺ) of she-camel from his camels which they had taken at Al-Ghabah. So he reciprocated for it with something in return, but he was upset with it. So I heard the Messenger of Allah (ﷺ), upon [this] Minbar saying: 'Indeed one of the men from the Bedouins gave me a gift so I reciprocated for it to the extent of what I had. Then he became very upset with me. By Allah! After my experience with this Bedouin man, I shall not accept a gift from anyone except from a Quraishi, Ansari, Thaqafi, or Dawsi
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ”عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے قریشی، انصاری یا ثقفی یا دوسی کے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ یزید بن ہارون کی روایت سے جسے وہ ایوب سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔