بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
2 hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لاَ يَقْطَعُهَا وَإِنْ شِئْتُمْ فَاقْرَءُوا ‏:‏ ‏(‏ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ * وَمَاءٍ مَسْكُوبٍ ‏)‏ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏
Anas narrated that the Prophet said:“Indeed in Paradise there is a tree under whose shade a rider can travel for one hundred years without stopping. Recite if you wish: And in shave extended. And water flowing constantly.”
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا پھر بھی اس درخت کے سایہ کو عبور نہ کر سکے گا، اگر چاہو تو پڑھو «وظل ممدود وماء مسكوب» ”ان کے لیے دراز سایہ ہے اور ( فراواں ) بہتا ہوا پانی“ ( الواقعہ: ۳۰ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَكْرَةً فَعَوَّضَهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَتَسَخَّطَهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ فُلاَنًا أَهْدَى إِلَىَّ نَاقَةً فَعَوَّضْتُهُ مِنْهَا سِتَّ بَكَرَاتٍ فَظَلَّ سَاخِطًا وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لاَ أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلاَّ مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْحَدِيثِ كَلاَمٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ يَرْوِي عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلاَءِ وَهُوَ أَيُّوبُ بْنُ مِسْكِينٍ وَيُقَالُ ابْنُ أَبِي مِسْكِينٍ وَلَعَلَّ هَذَا الْحَدِيثَ الَّذِي رُوِيَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ هُوَ أَيُّوبُ أَبُو الْعَلاَءِ ‏.‏
Narrated Abu Hurairah:that a Bedouin gave a young female camel as a gift to the Messenger of Allah (ﷺ), so he in turn for that, gave him six young female camels. But he was not satisfied with that, so when that news reached the Prophet (ﷺ), he praised Allah, and expressed gratitude to Him, then said: 'Indeed so-and-so gave a camel to me as a gift, so I reciprocated for that with six young she-camels, yet he became upset. So I decided that I would not accept a gift except from a Quraishi, or Ansari, or Dawsi
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں“، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث متعدد سندوں سے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے آئی ہے، ۲- اور یزید بن ہارون ایوب ابوالعلاء سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ایوب بن مسکین ہیں اور انہیں ابن ابی مسکین بھی کہا جاتا ہے، اور شاید یہی وہ حدیث ہے جسے انہوں نے ایوب سے اور ایوب نے سعید مقبری سے روایت کی ہے، اور ایوب سے مراد ایوب ابوالعلاء ہیں۔