Narrated by Ash-Shaibani
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِهِ : (فكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى ) فَقَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّمِائَةِ جَنَاحٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ash-Shaibani:"I asked Zirr bin Hubaish about the saying of Allah the Might and Sublime: And was a distance of two bow lengths or less (53:9). So he said: 'Ibn Mas'ud informed me that the Prophet (ﷺ) saw Jibra'il, and he had six-hundred wings
شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے آیت: «فكان قاب قوسين أو أدنى» ”دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا“ ( النجم: ۹ ) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا: مجھے ابن مسعود رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Narrated by Muhammad bin Abi Razin
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ كَانَتْ أُمُّ الْحَرِيرِ إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا فَقِيلَ لَهَا إِنَّا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ . قَالَتْ سَمِعْتُ مَوْلاَىَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلاَكُ الْعَرَبِ " . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ وَمَوْلاَهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ . هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ .
Narrated Muhammad bin Abi Razin:that his mother said: "If someone died from the Arabs it would be hard upon Umm Al-Harir so it was said to her: 'We see that if a man from the Arabs dies it is hard upon you.' She said: 'I heard my Mawla say that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "From the (signs of) coming of the Hour is the destruction of the Arabs." Muhammad bin Abi Razin said: "And her Mawla was Talhah bin Malik
محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہو جاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے“۔ محمد بن رزین کہتے ہیں: ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں۔