بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
2 hadith
Narrated by ['Abdullah] bin Mas'ud
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى قَالَ ‏"‏ انْتَهَى إِلَيْهَا مَا يَعْرُجُ مِنَ الأَرْضِ وَمَا يَنْزِلُ مِنْ فَوْقَ ‏.‏ قَالَ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ عِنْدَهَا ثَلاَثًا لَمْ يُعْطِهِنَّ نَبِيًّا كَانَ قَبْلَهُ فُرِضَتْ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ خَمْسًا وَأُعْطِيَ خَوَاتِمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لأُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ مَا لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ ‏:‏ ‏(‏ إذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى ‏)‏ قَالَ السِّدْرَةُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ ‏.‏ قَالَ سُفْيَانُ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَأَرْعَدَهَا وَقَالَ غَيْرُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ إِلَيْهَا يَنْتَهِي عِلْمُ الْخَلْقِ لاَ عِلْمَ لَهُمْ بِمَا فَوْقَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated ['Abdullah] bin Mas'ud:"When the Messenger of Allah (ﷺ) reached Sidrat Al-Muntaha" He said: 'There terminates everything that ascends from the earth, and everything that descends from above. So there Allah gave him three, which He did not give to any Prophet before him: He made fiver prayers obligatory upon him, He gave him the last Verses of Surat Al-Baqarah, and He pardoned the grave sins for those of his Ummah who do not associate anything with Allah.' Ibn Mas'ud said regarding the Ayah: "When that covered the Sidrah which did cover it! (53:16)" he said: "The sixth Sidrah in heavens." Sufyan said: "Golden butterflies" and Sufyan indicated with his hand in a fluttering motion. Others besides Malik bin Mighwal said: "There terminates the creatures' knowledge, there is no knowledge for them of what is above that
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( معراج کی رات ) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا: یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، ( ۱ ) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، ( ۲ ) سورۃ البقرہ کی «خواتیم» ( آخری آیات ) عطا کی گئیں، ( ۳ ) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، ( پھر ) ابن مسعود رضی الله عنہ نے آیت «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ”ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی“ ( النجم: ۱۶ ) ، پڑھ کر کہا «السدرہ» ( بیری کا درخت ) چھٹے آسمان پر ہے، سفیان کہتے ہیں: سونے کے پروانے ڈھانپ رہے تھے اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں چونکا دیا ( یعنی تصور میں چونک کر ان پروانوں کے اڑنے کی کیفیت دکھائی ) مالک بن مغول کے سوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہیں تک مخلوق کے علم کی پہنچ ہے اس سے اوپر کیا کچھ ہے کیا کچھ ہوتا ہے انہیں اس کا کچھ بھی علم اور کچھ بھی خبر نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Uthman bin 'Affan
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ ابْنِ عَفَّانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الأَحْمَسِيِّ عَنْ مُخَارِقٍ ‏.‏ وَلَيْسَ حُصَيْنٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ ‏.‏
Narrated 'Uthman bin 'Affan:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever cheats the Arabs, he will not be included in my intercession, and my love shall not reach him
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہو گا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔