حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا عَبْدٍ تَزَوَّجَ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ فَهُوَ عَاهِرٌ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَلاَ يَصِحُّ وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ نِكَاحَ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إِذْنِ سَيِّدِهِ لاَ يَجُوزُ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَغَيْرِهِمَا بِلَا اخْتِلَافٍ
Jabir bin Abdullah narrated that:The Prophet said: "Whichever slave gets married without the permission of his owner, then he is a fornicator
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کر لے، وہ زانی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن ہے، ۲- بعض نے اس حدیث کو بسند «عبد الله بن محمد بن عقيل عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل نے جابر سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر غلام کا نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
Narrated by Hakim b. Hizam
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَأْتِينِي الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي مِنَ الْبَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدِي أَبْتَاعُ لَهُ مِنَ السُّوقِ ثُمَّ أَبِيعُهُ قَالَ " لاَ تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
Narrated Hakim b. Hizam:"I asked Messenger of Allah (ﷺ), I said: 'A man came to me asking to buy something that I did not have. Can I buy it from the market for him and then give it to him?' He said: 'Do not sell what is not with you.'" He said: There are narrations on this topic from 'Abdullah bin 'Umar
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میرے پاس کچھ لوگ آتے ہیں اور اس چیز کو بیچنے کے لیے کہتے ہیں جو میرے پاس نہیں ہوتی، تو کیا میں اس چیز کو ان کے لیے بازار سے خرید کر لاؤں پھر فروخت کروں؟ آپ نے فرمایا: ”جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کی بیع نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے- حکم ۱۲۳۴ میں آ رہا ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ صُلْحًا حَرَّمَ حَلاَلاً أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلاَّ شَرْطًا حَرَّمَ حَلاَلاً أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Kathir bin 'Amr bin 'Awf Al-Muzani narrated from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"Reconciliation is allowed among the Muslims, except for reconciliation that makes the lawful unlawful, or the unlawful lawful. And the Muslims will be held to their conditions, except the conditions that make the lawful unlawful, or the unlawful lawful
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہو گی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Imran bin Husain
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَنَزَعَ يَدَهُ فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ لاَ دِيَةَ لَكَ " . فَأَنْزَلَ اللَّهُ (وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ) . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُمَا أَخَوَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Imran bin Husain:"A man bit the hand of another man. The man who was bitten pulled his hand out, causing two of his incisors (teeth) to fall out. They brought their case of the Prophet (ﷺ). So he said: "One of you bites his brother like the stallion bites? There is no blood-money for you.' So Allah Most High revealed: Wounds, equal for equal
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: «والجروح قصاص» ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ – اس باب میں یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں اور یہ دونوں بھائی ہیں۔
Narrated by Rafi' bin Khadij
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ، وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلاَ كَثَرٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ .
Narrated Rafi' bin Khadij:That he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "There is no cutting of the hand for fruits or palm marrow
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح بعض اور لوگوں نے بھی لیث بن سعد کی روایت کی طرح بطریق: «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۲- مالک بن انس اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ان لوگوں نے اس حدیث کی سند میں واسع بن حبان کا ذکر نہیں کیا۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا إِلاَّ كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَيُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ رَخَّصَ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ وَإِنْ كَانَ لِلرَّجُلِ شَاةٌ وَاحِدَةٌ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ بِهَذَا .
Narrated Abu Hurairah:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever acquires a dog - with the exception of a dog to guard livestock, a hunting dog, or a farm dog - each day a Qirat is deducted from his reward
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک چہرے سے درخت کی شاخوں کو ہٹا رہے تھے اور آپ خطبہ دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں تو میں انہیں مارنے کا حکم دیتا ۱؎، سو اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کتے کو مار ڈالو، جو گھر والے بھی شکاری، یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے یا بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتوں کے سوا کوئی دوسرا کتا باندھے رکھتے ہیں ہر دن ان کے عمل ( ثواب ) سے ایک قیراط کم ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث بسند «حسن البصریٰ عن عبد الله بن مغفل عن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے۔
Narrated by Abdur-Rahman bin Abi Bakrah
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَطَبَ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِكَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abi Bakrah:From his father, that the Prophet (ﷺ) gave a Khutbah, then he descended and called for two rams and slaughtered them
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر ( منبر سے ) اترے پھر آپ نے دو مینڈھے منگائے اور ان کو ذبح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ( یہ عید الاضحی کی نماز کے بعد کیا تھا، دیکھئیے اگلی حدیث ) ۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْثٍ فَقَالَ " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تَحْرِقُوا فُلاَنًا وَفُلاَنًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لاَ يُعَذِّبُ بِهَا إِلاَّ اللَّهُ فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بَيْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَجُلاً فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ وَحَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ . قَالَ الْبُخَارِيُّ وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ مُحَمَّدٌ وَحَدِيثُ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ .
Narrated Abu Hurairah: "The Messenger of Allah (ﷺ) sent us with an army and said: 'If you see so-and-so, and so-and-so' referring to two men from the Quraish: 'then burn them with fire.' Then, upon our departure, the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I ordered you to burn so-and-so, and so-and-so with fire, and indeed, none punishes with fire except Allah. So if you see them, then kill them.'" There are narrations on this topic from Ibn 'Abbas and Hamzah bin 'Amr Al-Aslami. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. In this Hadith, Muhammad bin Ishaq mentioned a man (narrating) between Sulaiman bin Yasar and Abu Hurairah. Others reported this Hadith the same as Al-Laith reported it(here, without a man between them). The narration of Al-Laith bin Sa'd is more appropriate and more correct
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا: ”اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پاؤ تو انہیں جلا دو“، پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دو حالانکہ آگ سے صرف اللہ ہی عذاب دے گا اس لیے اب اگر تم ان کو پاؤ تو قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲- محمد بن اسحاق نے اس حدیث میں سلیمان بن یسار اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے درمیان ایک اور آدمی کا ذکر کیا ہے، کئی اور لوگوں نے لیث کی روایت کی طرح روایت کی ہے، لیث بن سعد کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے۔ ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Narrated by Abu Hurairah and Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَالْحَجَّاجُ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَأَبُو حَازِمٍ الَّذِي رَوَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الزَّاهِدُ وَهُوَ مَدَنِيٌّ وَاسْمُهُ سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ . وَأَبُو حَازِمٍ هَذَا الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ هُوَ أَبُو حَازِمٍ الأَشْجَعِيُّ الْكُوفِيُّ وَاسْمُهُ سَلْمَانُ وَهُوَ مَوْلَى عَزَّةَ الأَشْجَعِيَّةِ .
Narrated Abu Hurairah and Ibn 'Abbas: That the Prophet (ﷺ) said: "Going out in the morning in the cause of Allah, or in the afternoon, is better than the world and what is in it." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. The Abu Hazim who reported from Ashl bin Sa'd is Abu Hazim Az-Zahid. He is from Al-Madinah, and his name is Salamah bin Dinar. While [this] Abu Hazim who reported from Abu Hurairah is Abu Hazim Al-Ashja'i Al-Kufi, whose name is Salman, and he is the freed slave of 'Azzah Al-Ashja'iyyah
ابوہریرہ رضی الله عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کی ایک صبح یا ایک شام دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- جس ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے وہ ابوحازم زاہد ہیں، مدینہ کے رہنے والے ہیں اور ان کا نام سلمہ بن دینار ہے، اور یہ ابوحازم جنہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے یہ ابوحازم اشجعی ہیں، کوفہ کے رہنے والے ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزۃ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَهْضَمٍ، مُوسَى بْنُ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَبْدًا مَأْمُورًا مَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلاَّ بِثَلاَثٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ وَأَنْ لاَ نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لاَ نُنْزِيَ حِمَارًا عَلَى فَرَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ فَقَالَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ حَدِيثُ الثَّوْرِيِّ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَوَهِمَ فِيهِ الثَّوْرِيُّ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ .
Narrated Ibn 'Abbas: "The Messenger of Allah (ﷺ) was a slave (of Allah), who would order as he has ben ordered to. He did not give an order to us instead of the people regarding anything except for three: He ordered us that we make our Wudu' well (Isbagh), that we not eat from charity, and the we not mate a donkey with a horse." [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from 'Ali. This Hadith is Hasan Sahih. Sufyan Ath-Thawri reported this from Abu Jahdam, who said: "From 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Abbas, from Ibn 'Abbas." He said I heard Muhammad saying: "The narration of Ath-Thawri is not preserved. Ath-Thawri made a mistake in it. What is correct is what Ismail bin 'Ulaiyyah and 'Abul-Warith bin Sa'eed reported from Abu Jahdam, from 'Abdullah bin 'Ubaidullah bin 'Abbas from Ibn 'Abbas
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع اور مامور بندے تھے، آپ نے ہم کو دوسروں کی بنسبت تین چیزوں کا خصوصی حکم دیا: ہم کو حکم دیا ۱؎ کہ پوری طرح وضو کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گھوڑی پر گدھا نہ چھوڑیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے ابوجہضم سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث کی سند یوں بیان کی، «عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس عن ابن عباس»، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ثوری کی حدیث غیر محفوظ ہے، اس میں ثوری سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث بن سعید نے ابوجہضم سے، ابوجہضم عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس سے، اور عبیداللہ نے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، ۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا يَعْنِي الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn 'Abbas: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever fashions an image, he will be punished by Allah until he breathes into it - meaning the soul - and he cannot breath (a soul) into it. And whoever listens to a people's conversation, while they have gone away from him for it, then He will have lead poured into his ears on the Day of Judgement." He said: There are narrations on this topic from 'Abdullah bin Mas'ud, Abu Hurairah, Abu Juhaifah, 'Aishah, and Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Abbas is a Hasan Sahih Hadith
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوہریرہ، ابوحجیفہ، عائشہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا " . قَالَ فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَتَوَضَّأْنَا فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Jabir bin Abdullah narrated:"On the Day of Al-Khandaq (the battle of the Trench), Umar bin Al-Khattab came cursing the disbelievers of Quraish and said: 'O Allah's Messenger! I could not offer he Asr prayer until the sun was about to set.' The Prophet said: 'By Allah! I too have not offered the Salat.'" So he said: "We descended into Buthan, Allah's Messenger performed Wudu and we too performed Wudu. Allah's Messenger prayed Asr after the sun had set, then after it he prayed Maghrib
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے خندق کے روز کفار قریش کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول! میں عصر نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو گیا، تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے اسے ( اب بھی ) نہیں پڑھی ہے“، وہ کہتے ہیں: پھر ہم وادی بطحان میں اترے تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے سورج ڈوب جانے کے بعد پہلے عصر پڑھی پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۱؎۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ وَأَبِي مُوسَى وَجَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ وَمَيْمُونَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو .
Narrated Ibn 'Umar: That the Prophet (ﷺ) said: "The disbeliever eats with seven intestines and the believer eats with one intestine." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. He said: There are narrations on this topic from Abu Hurairah, Abu Sa'eed, Abu Basrah Al-Ghifari, Abu Musa, Jahjah Al-Ghifari, Maimunah, and 'Abdullah bin 'Amr
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر سات آنت میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوسعید، ابو بصرہ غفاری، ابوموسیٰ، جہجاہ غفاری، میمونہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Eisa bin 'Abdullah bin Unais
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ فَخَنَثَهَا ثُمَّ شَرِبَ مِنْ فِيهَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَلاَ أَدْرِي سَمِعَ مِنْ عِيسَى أَمْ لاَ
Narrated 'Eisa bin 'Abdullah bin Unais: From his father who said: "I saw the Prophet (ﷺ) standing at a hanging water-skin, so he bent it, then drank from it." He said: There is something on this topic from Umm Salamah. [Abu 'Eisa said:] The chain of this Hadith is not Sahih. 'Abdullah bin 'Umar Al-'Umari (a narrator in the chain) was graded weak due to his memory, and I do not know if he heard from 'Eisa or not
عبداللہ بن انیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے، اسے جھکایا، پھر اس کے منہ سے پانی پیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ام سلیم سے بھی روایت ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، ۲- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے، عبداللہ بن عمر حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، میں نہیں جانتا ہوں کہ انہوں نے عیسیٰ سے حدیث سنی ہے یا نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الدِّينُ النَّصِيحَةُ " . ثَلاَثَ مِرَارٍ . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَنْ قَالَ " لِلَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَتَمِيمٍ الدَّارِيِّ وَجَرِيرٍ وَحَكِيمِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ وَثَوْبَانَ .
Abu Hurairah narrated that:the Messenger of Allah said: "The religion is An-Nasihah" three times. They said: "O Messenger of Allah! For Whom?" He said : "To Allah , His books, the A'immah of the Muslims, and their average people
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قال حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Sa'eed bin Zaid narrated that the Prophet (S.A.W) said:"Truffles are a form of manna, and its liquid is a cure for the eye
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صحرائے عرب کا فقعہ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے اور اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَعْمَلْتَ فُلاَنًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Usaid bin Hudair said:"A man from Ansar said, 'O Messenger of Allah! You appointed so-and-so and did not appoint me. So, the Prophet(s.a.w) said, 'After me you will see preferential treatment, so be patient till you meet me at Al-Hawd
اسید بن حضیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں کو عامل بنا دیا اور مجھے عامل نہیں بنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ میرے بعد ( غلط ) ترجیح دیکھو گے، لہٰذا تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا فَقَالَ " مَا هَذَا " . فَقُلْنَا قَدْ وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ . قَالَ " مَا أُرَى الأَمْرَ إِلاَّ أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ يُحْمِدَ وَيُقَالُ ابْنُ أَحْمَدَ الثَّوْرِيُّ .
Abu As-Safr narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:"The Messenger of Allah (s.a.w) passed by us while we were repairing a hut of ours, so he said: 'What is this?' We said:"It has become weak, so we are repairing it.' He said: 'I do not think but that the matter (of life) is more in fleeting than that
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم اپنا چھپر کا مکان درست کر رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ گھر بوسیدہ ہو چکا ہے، لہٰذا ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میں تو معاملے ( موت ) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ، كُوفِيٌّ حَدَّثَنَا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جَعَلَ يَمُرُّ بِالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَمَعَهُمُ الْقَوْمُ وَالنَّبِيِّ وَالنَّبِيَّيْنِ وَمَعَهُمُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيِّ وَالنَّبِيِّينَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ حَتَّى مَرَّ بِسَوَادٍ عَظِيمٍ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قِيلَ مُوسَى وَقَوْمُهُ وَلَكِنِ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَانْظُرْ . قَالَ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ قَدْ سَدَّ الأُفُقَ مِنْ ذَا الْجَانِبِ وَمِنْ ذَا الْجَانِبِ فَقِيلَ هَؤُلاَءِ أُمَّتُكَ وَسِوَى هَؤُلاَءِ مِنْ أُمَّتِكَ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . فَدَخَلَ وَلَمْ يَسْأَلُوهُ وَلَمْ يُفَسِّرْ لَهُمْ فَقَالُوا نَحْنُ هُمْ . وَقَالَ قَائِلُونَ هُمْ أَبْنَاؤُنَا الَّذِينَ وُلِدُوا عَلَى الْفِطْرَةِ وَالإِسْلاَمِ . فَخَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " هُمُ الَّذِينَ لاَ يَكْتَوُونَ وَلاَ يَسْتَرْقُونَ وَلاَ يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَعَمْ " . ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ فَقَالَ " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
Ibn 'Abbas narrated :"When the Prophet (s.a.w) was taken for the Night Journey, he passed by a Prophet, and, some Prophets and with them were some people, and a Prophet, and some Prophets and with them was a group of people, and a Prophet, and some Prophets and with them there was no one. Until he passed by a large multitude. (The Prophet (s.a.w)said: ) I said: 'Who is this?' It was said: 'Musa and his people. But raise your head and look.' There was a large multitude that covered the horizon, from one side to the other. It was said: 'These people are your Ummah, and there are seventy thousand besides these from your Ummah that shall enter Paradise without a reckoning.' So he went inside, and they did not question him, and he gave no explanation to them. (Some of them) said: 'We are them.' Others said: 'They are the children who were born upon the Fitrah and Islam.' So the Prophet (s.a.w) came out and said: 'They are those who do not get themselves cauterized, nor seek Ruqyah, nor read omens, and upon their Lord they rely.' So 'Ukashah bin Mihsan stood and said: 'Am I among them O Messenger of Allah?' He said: 'Yes.' Then another one stood up and said: 'Am I among them?' So he said "Ukashah has preceded you to it.'" Other chains report similar narrations
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے لیے تشریف لے گئے تو وہاں آپ کا ایک نبی اور کئی نبیوں کے پاس سے گزر ہوا، ان میں سے کسی نبی کے ساتھ ان کی پوری امت تھی، کسی کے ساتھ ایک جماعت تھی، کسی کے ساتھ کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ آپ کا گزر ایک بڑے گروہ سے ہوا، تو آپ نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا گیا: یہ موسیٰ اور ان کی قوم ہے، آپ اپنے سر کو بلند کیجئے اور دیکھئیے: تو یکایک میں نے ایک بہت بڑا گروہ دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو اس جانب سے اس جانب تک گھیر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس کے سوا آپ کی امت میں ستر ہزار اور ہیں جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لے گئے اور لوگ آپ سے اس کی بابت نہیں پوچھ سکے اور نہ ہی آپ نے ان کے سامنے اس کی تفسیر بیان کی، چنانچہ ان میں سے بعض صحابہ نے کہا: شاید وہ ہم ہی لوگ ہوں اور بعض نے کہا: شاید ہماری وہ اولاد ہیں جو فطرت اسلام پر پیدا ہوئیں۔ لوگ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے اور فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو نہ بدن پر داغ لگواتے ہیں اور نہ جھاڑ پھونک اور منتر کرواتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں، وہ صرف اپنے رب پر توکل و اعتماد کرتے ہیں“، اسی اثناء میں عکاشہ بن محصن رضی الله عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، ( تم بھی انہی میں سے ہو ) پھر ایک دوسرے شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں؟ تو آپ نے فرمایا: ”عکاشہ نے تم پر سبقت حاصل کر لی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ نُوحٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَتُضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ " . قَالُوا لاَ . قَالَ " فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لاَ تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَهَكَذَا رَوَى يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَحَدِيثُ ابْنِ إِدْرِيسَ عَنِ الأَعْمَشِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَحَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَصَحُّ وَهَكَذَا رَوَاهُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ مِثْلُ هَذَا الْحَدِيثِ وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"Do you crowd one another in order to see the moon on the night of a full moon? Do you crowd one another in order to see the sun?" They said: "No." He said: "So verily, you shall see your Lord as you see the moon on the night of a full moon, you shall not crowd one another to see Him." Other chains report similar narrations
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں مزاحمت اور دھکم پیل کرتے ہو؟ کیا تم سورج کو دیکھنے میں مزاحمت اور دھکم پیل کرتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح چودہویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو، اس کو دیکھنے میں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں کرو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- یحییٰ بن عیسیٰ رملی اور کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، عبداللہ بن ادریس نے اسے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- ابن ادریس کی حدیث جو اعمش کے واسطہ سے مروی ہے غیر محفوظ ہے، اور ابوصالح کی حدیث جو ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ۴- سہیل بن ابی صالح نے اسے اسی طرح اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ یہ حدیث ابو سعید خدری رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سند سے اسی کے مثل مروی ہے، اور وہ صحیح حدیث ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ فِي إِخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
An-Numan bin Bashir narrated that the Messenger Of Allah (s.a.w) said:"Indeed the person among the inhabitants of the Fire punished least [on the Day of Judgment] is a man who has two coals beneath his feet, which cause his brain to boil." Other chains report similar narrations
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب والا وہ جہنمی ہو گا جس کے تلوے میں دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عباس بن عبدالمطلب، ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لأَخِيهِ كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَمَعْنَى قَوْلِهِ بَاءَ يَعْنِي أَقَرَّ .
Narrated Ibn 'Umar:Ibn 'Umar narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever says to his brother 'disbeliever' then it will have settled upon one of them." Sahih
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک نے ( گویا کہ ) اپنے کافر ہونے کا اقرار کر لیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- «باء»، «أقر» کے معنی میں ہے، یعنی اقرار کیا۔
Narrated by Al-'Irbad bin Sariyah
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَعْدَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلاَفًا كَثِيرًا وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّهَا ضَلاَلَةٌ فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَوَى ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ هَذَا . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَالْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ يُكْنَى أَبَا نَجِيحٍ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ حُجْرِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
Narrated Al-'Irbad bin Sariyah:"One day after the morning Salat, the Messenger of Allah (ﷺ) exhorted us to the extent that the eyes wept and the hearts shuddered with fear. A man said: 'Indeed this is a farewell exhortation. [So what] do you order us O Messenger of Allah?' He said: 'I order you to have Taqwa of Allah, and to listen and obey, even in the case of an Ethiopian slave. Indeed, whomever among you lives, he will see much difference. Beware of the newly invented matters, for indeed they are astray. Whoever among you sees that, then he must stick to my Sunnah and the Sunnah of the rightly guided Khulafa', cling to it with the molars
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمیں نماز فجر کے بعد ایک موثر نصیحت فرمائی جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور دل لرز گئے، ایک شخص نے کہا: یہ نصیحت ایسی ہے جیسی نصیحت دنیا سے ( آخری بار ) رخصت ہو کر جانے والے کیا کرتے ہیں، تو اللہ کے رسول! آپ ہمیں کس بات کی وصیت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے، امیر کی بات سننے اور اسے ماننے کی نصیحت کرتا ہوں، اگرچہ تمہارا حاکم اور امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے آئندہ جو زندہ رہے گا وہ ( امت کے اندر ) بہت سارے اختلافات دیکھے گا تو تم ( باقی رہنے والوں ) کو میری وصیت ہے کہ نئے نئے فتنوں اور نئی نئی بدعتوں میں نہ پڑنا، کیونکہ یہ سب گمراہی ہیں۔ چنانچہ تم میں سے جو شخص ان حالات کو پالے تو اسے چاہیئے کہ وہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت پر قائم اور جمار ہے اور میری اس نصیحت کو اپنے دانتوں کے ذریعے مضبوطی سے دبا لے“۔ ( اور اس پر عمل پیرا رہے ) امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثور بن یزید نے بسند «خالد بن معدان عن عبدالرحمٰن بن عمرو السلمي عن العرباض بن سارية عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔
Narrated by Al-Miqdad bin Al-Aswad
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ، قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبَانِ، لِي قَدْ ذَهَبَتْ أَسْمَاعُنَا وَأَبْصَارُنَا مِنَ الْجَهْدِ فَجَعَلْنَا نَعْرِضُ أَنْفُسَنَا عَلَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَلَيْسَ أَحَدٌ يَقْبَلُنَا فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَتَى بِنَا أَهْلَهُ فَإِذَا ثَلاَثَةُ أَعْنُزٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " احْتَلِبُوا هَذَا اللَّبَنَ بَيْنَنَا " . فَكُنَّا نَحْتَلِبُهُ فَيَشْرَبُ كُلُّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ وَنَرْفَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَصِيبَهُ فَيَجِيءُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ فَيُسَلِّمُ عَلَيْنَا تَسْلِيمًا لاَ يُوقِظُ النَّائِمَ وَيُسْمِعُ الْيَقْظَانَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَأْتِي شَرَابَهُ فَيَشْرَبُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Al-Miqdad bin Al-Aswad:"Two of my companions and I went and presented ourselves to the Companions of the Prophet (ﷺ), for our hearing and sight had gone from suffering (hunger and thirst). But there was no one who would accept us. So we went to the Prophet (ﷺ) and he brought us to his family where there were three goats. The Prophet (ﷺ) said: 'Milk these.' We milked them, and each person drank his share, and we put aside a share for the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) came during the night and gave the Salam such that it would not wake the sleeping person, and the one who was awake could hear it. Then he went to the Masjid to per form Salat. Then he went for his drink and drank it
مقداد بن اسود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دو دوست ( مدینہ ) آئے، فقر و فاقہ اور جہد و مشقت کی بنا پر ہماری سماعت متاثر ہو گئی تھی ۱؎ اور ہماری آنکھیں دھنس گئی تھیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے لگے لیکن ہمیں کسی نے قبول نہ کیا ۲؎، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ ہمیں اپنے گھر لے آئے، اس وقت آپ کے پاس تین بکریاں تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”ان کا دودھ ہم سب کے لیے دوہو“، تو ہم دوہتے اور ہر شخص اپنا حصہ پیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ اٹھا کر رکھ دیتے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تشریف لاتے اور اس انداز سے سلام کرتے تھے کہ سونے والا جاگ نہ اٹھے اور جاگنے والا سن بھی لے ۳؎، پھر آپ مسجد آتے نماز تہجد پڑھتے پھر جا کر اپنے حصے کا دودھ پیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Amr bin Shu'aib
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ لاَ أَعْرِفُ لَهُ حَدِيثًا لَيْسَ إِسْنَادُهُ أَصْلاً أَوْ قَالَ يَنْفَرِدُ بِهِ إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِهِ مِنْ عَرْضِهَا وَطُولِهَا . لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ هَارُونَ وَرَأَيْتُهُ حَسَنَ الرَّأْىِ فِي عُمَرَ بْنِ هَارُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَمِعْتُ قُتَيْبَةَ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ كَانَ صَاحِبَ حَدِيثٍ وَكَانَ يَقُولُ الإِيمَانُ قَوْلٌ وَعَمَلٌ . قَالَ سَمِعْتُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَصَبَ الْمَنْجَنِيقَ عَلَى أَهْلِ الطَّائِفِ . قَالَ قُتَيْبَةُ قُلْتُ لِوَكِيعٍ مَنْ هَذَا قَالَ صَاحِبُكُمْ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ .
Narrated 'Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather that he Prophet (ﷺ) would take from his beard; from its breadth and its length
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی لمبائی اور چوڑائی سے لیا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے: عمر بن ہارون مقارب الحدیث ہیں۔ میں ان کی کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس کی اصل نہ ہو، یا یہ کہ میں کوئی ایسی حدیث نہیں جانتا جس میں وہ منفرد ہوں، سوائے اس حدیث کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ڈاڑھی کے طول و عرض سے کچھ لیتے تھے۔ میں اسے صرف عمر بن ہارون کی روایت سے جانتا ہوں۔ میں نے انہیں ( یعنی بخاری کو عمر بن ہارون ) کے بارے میں اچھی رائے رکھنے والا پایا ہے، ۳- میں نے قتیبہ کو عمر بن ہارون کے بارے میں کہتے ہوئے سنا ہے کہ عمر بن ہارون صاحب حدیث تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ ایمان قول و عمل کا نام ہے، ۴- قتیبہ نے کہا: وکیع بن جراح نے مجھ سے ایک شخص کے واسطے سے ثور بن یزید سے بیان کیا ثور بن یزید سے اور ثور بن یزید روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف پر منجنیق نصب کر دیا۔ قتیبہ کہتے ہیں میں نے ( اپنے استاد ) وکیع بن جراح سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہیں؟ ( جن کا آپ نے ابھی روایت میں «عن رجل» کہہ کر ذکر کیا ہے ) تو انہوں نے کہا: یہ تمہارے ساتھی عمر بن ہارون ہیں ۱؎۔
Narrated by Al-Harith Al-A'war
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ حَمْزَةَ الزَّيَّاتَ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ الأَعْوَرِ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلاَ تَرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي الأَحَادِيثِ . قَالَ أَوَقَدْ فَعَلُوهَا قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَلاَ إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ " . فَقُلْتُ مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ هُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ هُوَ الَّذِي لاَ تَزِيغُ بِهِ الأَهْوَاءُ وَلاَ تَلْتَبِسُ بِهِ الأَلْسِنَةُ وَلاَ يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلاَ يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ وَلاَ تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا (إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا * يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ) مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ " . خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ حَمْزَةَ الزًّيَّاتِ وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ . وَفِي حَدِيثِ الْحَارِثِ مَقَالٌ .
Narrated Al-Harith Al-A'war:"I passed by the Masjid when the people were absorbed in story-telling. So I entered upon 'Ali and said: 'O Commander of the believers! Do you not see the people are becoming engrossed in story-telling?' He said: 'They have been consumed with it?' I said: "Yes.' He said: 'As for me, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: "Indeed there comes a Fitnah" So I said: "What is the way out from it O Messenger of Allah?" He said: "Allah's book. In it is news for what happened before you, and information about what comes after you, and judgement for what happens between you. It is the Criterion (between right and wrong) without jest. Whoever among the oppressive abandons it, Allah crushes him, and whoever seeks guidance from other than it, then Allah leaves him to stray. It is the firm rope of Allah, it is the wise remembrance, it is the straight path, and it is the one that the desires can not distort, nor can the tongues twist it, nor can the scholars ever have enough of it, and it shall not become dull from reciting it much, and the amazement of it does not diminish. It is the one that when the Jinns hear it, they did not hesitate to say about it: 'Verily, we have heard a wonderful Recitation (this Qur'an)! 'It guides to the Right Path, and we have believed therein.' Whoever speaks according to it then he has said the truth, and whoever acts according to it he is rewarded, and whoever judges by it he has judged justly, and whoever invites to it then he guides to the straight path." Take this O A'war
حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی رضی الله عنہ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”عنقریب کوئی فتنہ برپا ہو گا“، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہو گی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ وہ ( قرآن ) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں، اور علماء کو ( خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں ) آسودگی نہیں ہوتی، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا ( اور بے مزہ ) نہیں ہوتا۔ اور اس کی انوکھی ( و قیمتی ) باتیں ختم نہیں ہوتیں، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے: ہم نے ایک عجیب ( انوکھا ) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اعور! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند مجہول ہے، ۳- حارث کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ قَالَ " وَمَا أَهْلَكَكَ " . قَالَ حَوَّلْتُ رَحْلِي اللَّيْلَةَ . قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَذِهِ الآيَةَ : (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الدُّبُرَ وَالْحِيضَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَيَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَشْعَرِيُّ هُوَ يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ .
Narrated Ibn 'Abbas:"'Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah! I am ruined!' He said: 'Why are you ruined?' He said: 'I turned my mount during the night (meaning that he went into his wife from behind).'" He said: "So the Messenger of Allah (ﷺ) did not say anything in reply to him. Then Allah revealed this Ayah to the Messenger of Allah (ﷺ): 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223).' From the front, the back, avoiding the anus, and menstruation
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاک کر دیا؟“ کہا: رات میں نے سواری تبدیل کر دی ( یعنی میں نے بیوی سے آگے کے بجائے پیچھے کی طرف سے صحبت کر لی ) ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) انہیں کوئی جواب نہ دیا، تو آپ پر یہ آیت: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل ہوئی، بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرو، مگر دبر سے اور حیض سے بچو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَالْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ .
Abdullah bin Zaid narrated that:"Allah's Messenger wiped over his head with his hands, going over the front with them and the rear. He began with the front of his head until they went to the nape of his neck. Then he brought them back again to the place where he began. Then he washed his feet
عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے سر کا مسح کیا تو انہیں آگے سے پیچھے لے گئے اور پیچھے سے آگے لائے، یعنی اپنے سر کے اگلے حصہ سے شروع کیا پھر انہیں گدی تک لے گئے پھر انہیں واپس لوٹایا یہاں تک کہ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر آپ نے دونوں پیر دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں معاویہ، مقدام بن معدیکرب اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن زید رضی الله عنہ کی حدیث سب سے صحیح اور عمدہ ہے اور اسی کے قائل شافعی احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ فِرَاشِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَلْيَنْفُضْهُ بِصَنِفَةِ إِزَارِهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ فَإِذَا اضْطَجَعَ فَلْيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ . فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَلْيَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي وَرَدَّ عَلَىَّ رُوحِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ وَعَائِشَةَ . قَالَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ وَقَالَ فَلْيَنْفُضْهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ .
Abu Hurairah (ra) narrated that :the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When one of you leaves his bed then returns to it, then let him brush it off with the edge of his Izar three times, for indeed, he does not know what succeeded him upon it after him. When he lies down, let him say: ‘In Your Name, my Lord, I lay my side down, and in Your Name I raise it. And if You take my soul, then have mercy upon it, and if You release it, then protect it with that which You protect Your righteous worshipers (Bismika rabbī waḍa`tu janbī wa bika arfa`uhu, fa’in amsakta nafsī farḥamhā wa in arsaltahā faḥfaẓhā bimā taḥfaẓu bihī `ibādakaṣ-ṣāliḥīn)’ And when he awakens, let him say: All praise is due to Allah, Who healed me in my body, and returned to me my soul, and permitted me to remember Him (Al-ḥamdulillāh alladhī `āfānī fī jasadī wa radda `alayya rūḥī wa adhina lī bidhikrih).’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم میں سے اپنے بستر پر سے اٹھ جائے پھر لوٹ کر اس پر ( لیٹنے، بیٹھنے ) آئے تو اسے چاہیئے کہ اپنے ازار ( تہبند، لنگی ) کے ( پلو ) کو نے اور کنارے سے تین بار بستر کو جھاڑ دے، اس لیے کہ اسے کچھ پتہ نہیں کہ اس کے اٹھ کر جانے کے بعد وہاں کون سی چیز آ کر بیٹھی یا چھپی ہے، پھر جب لیٹے تو کہے: «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! میں تیرا نام لے کر ( اپنے بستر پر ) اپنے پہلو کو ڈال رہا ہوں یعنی سونے جا رہا ہوں، اور تیرا ہی نام لے کر میں اسے اٹھاؤں گا بھی، پھر اگر تو میری جان کو ( سونے ہی کی حالت میں ) روک لیتا ہے ( یعنی مجھے موت دے دیتا ہے ) تو میری جان پر رحم فرما، اور اگر تو سونے دیتا ہے تو اس کی ویسی ہی حفاظت فرما جیسی کہ تو اپنے نیک و صالح بندوں کی حفاظت کرتا ہے“، پھر نیند سے بیدار ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ کہے: «الحمد لله الذي عافاني في جسدي ورد علي روحي وأذن لي بذكره» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے بدن کو صحت مند رکھا، اور میری روح مجھ پر لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی اجازت ( اور توفیق ) دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حدیث حسن ہے، ۲- بعض دوسرے راویوں نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے، اور اس روایت میں انہوں نے «فلينفضه بداخلة إزاره» کا لفظ استعمال کیا ہے «بداخلة إزاره» سے مراد تہبند کا اندر والا حصہ ہے، ۳- اس باب میں جعفر اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Ishaq
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ الْبَرَاءَ أَكَانَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَ السَّيْفِ قَالَ لاَ مِثْلَ الْقَمَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Narrated Abu Ishaq:"A man asked Al-Bara: 'Was the face of the Messenger of Allah (ﷺ) like a sword?' He said: 'No, like the moon
ابواسحاق کہتے ہیں کہ ایک شخص نے براء سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ چاند کی مانند تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَىَّ صَلاَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ " مَنْ صَلَّى عَلَىَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا وَكَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ " .
Abdullah bin Mas'ud narrated that :Allah's Messenger said: "The person closest to me on the Day of Judgement is the one who sent the most Salat upon me
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن مجھ سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ۱؎ وہ ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ صلاۃ ( درود ) بھیجے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ”جو مجھ پر ایک بار صلاۃ ( درود ) بھیجتا ہے، اللہ اس پر اس کے بدلے دس بار صلاۃ ( درود ) بھیجتا ہے ۲؎، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں“ ( یہی حدیث آگے آ رہی ہے ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ وَفِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ: (ِإذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ ) قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ بِهِمَا . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَأَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلاَنِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلاَةِ الْجُمُعَةِ بِـ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى ) وَ (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ ) . عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
Ubaidullah bin Abi Rafi the freed slave of Allah's Messenger said:"Marwan left Abu Hurairah in charge of Al-Madinah and he went to Makkah. So Abu Hurairah led us in Salat in Friday, reciting Surah Al-Jumuah (in the first Rak'ah) and in the second prostration (Rak'ah): When the hypocrites come to you." Ubaidullah said: "So I caught up with Abu Hurairah and said to him: 'You recited two Surah that Ali recited in Al-Kufah. Abu Hurairah said: 'Indeed I heard Allah's Messenger reciting them
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں: مروان نے ابوہریرہ رضی الله عنہ کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ رضی الله عنہ نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے ( پہلی رکعت میں ) سورۃ الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءك المنافقون»، عبیداللہ کہتے ہیں: تو میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ملا، میں نے ان سے کہا: آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی رضی الله عنہ کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا - يَعْنِي النَّجْمَ - وَالْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ السُّجُودَ فِي سُورَةِ النَّجْمِ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لَيْسَ فِي الْمُفَصَّلِ سَجْدَةٌ . وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ .
Ibn Abbas narrated:"The Messenger of Allah prostrated for it - meaning (in Surat) An-Najm - and so did the Muslims, the idolaters, the Jinns, and the people
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یعنی سورۃ النجم میں سجدہ کیا اور مسلمانوں، مشرکوں، جنوں اور انسانوں نے بھی سجدہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کی رائے میں سورۃ النجم میں سجدہ ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مفصل کی سورتوں میں سجدہ نہیں ہے۔ اور یہی مالک بن انس کا بھی قول ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ دَاوُدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ . وَقَدْ ضَعَّفَ مُجَالِدًا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ .
Jarir narrated :similar (narration to no. 647 with a different chain) from the Prophet
اس سند سے بھی جریر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: داود کی شعبی سے روایت کی ہوئی حدیث مجالد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، مجالد کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے وہ کثیر الغلط ہیں یعنی ان سے بکثرت غلطیاں ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، ح قَالَ وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلاَ يَجِدُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ وَلاَ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَحَسَنٌ وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَأَفْطَرَ فَحَسَنٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated:"We were on a journey with the Messenger of Allah. Some of us were fasting and some of us broke their fast. The one who broke their fast had no objection to the one who fasted, and the one who fasted had no objection to the one who broke his fast. They saw that whoever had the strength to fast then that was good, and whoever was weak, then breaking it was better
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کرتے تھے تو ہم میں سے بعض روزے سے ہوتے اور بعض روزے سے نہ ہوتے۔ تو نہ تو روزہ نہ رکھنے والا رکھنے والے پر غصہ کرتا اور نہ ہی روزہ رکھنے والے نہ رکھنے والے پر، ان کا خیال تھا کہ جسے قوت ہو وہ روزہ رکھے تو بہتر ہے، اور جس نے کمزوری محسوس کی اور روزہ نہ رکھا تو بھی بہتر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ وَقَالُوا لاَ يَحْلِقُ شَعَرًا . وَقَالَ مَالِكٌ لاَ يَحْتَجِمُ الْمُحْرِمُ إِلاَّ مِنْ ضَرُورَةٍ . وَقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَالشَّافِعِيُّ لاَ بَأْسَ أَنْ يَحْتَجِمَ الْمُحْرِمُ وَلاَ يَنْزِعُ شَعَرًا .
Ibn Abbas narrated:"The Messenger of Allah was cupped while he was a Muhrim
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس ۲؎، عبداللہ بن بحینہ ۳؎ اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے محرم کو پچھنا لگوانے کی اجازت دی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بال نہیں منڈائے گا، ۴- مالک کہتے ہیں کہ محرم پچھنا نہیں لگوا سکتا، الا یہ کہ ضروری ہو، ۵- سفیان ثوری اور شافعی کہتے ہیں: محرم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بال نہیں اتار سکتا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُفِّنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي ثَلاَثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلاَ عِمَامَةٌ . قَالَ فَذَكَرُوا لِعَائِشَةَ قَوْلَهُمْ فِي ثَوْبَيْنِ وَبُرْدِ حِبَرَةٍ . فَقَالَتْ قَدْ أُتِيَ بِالْبُرْدِ وَلَكِنَّهُمْ رَدُّوهُ وَلَمْ يُكَفِّنُوهُ فِيهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Hisham bin Urwah narrated from his father that:Aishah said: "The Prophet was shrouded in three white Yemeni cloths, there was no shirt nor turban among them." He said: "So they mentioned the saying of the others to Aishah, that there were two garments and a Habir Burd. She said: 'A Burd was brought, but they refused it and they did not shroud him in it
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید ۱؎ یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا ۲؎ نہ ان میں قمیص ۳؎ تھی اور نہ عمامہ۔ لوگوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کپڑوں اور ایک دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو ام المؤمنین عائشہ نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے واپس کر دیا تھا، آپ کو اس میں نہیں کفنایا گیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔