Narrated by Anas [May Allah be pleased with him]
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، رضى الله عنه قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلمَ : (ليغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ) مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ قَرَأَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ فَقَالُوا هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يُفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يُفْعَلُ بِنَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : ( ليُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ ) حَتَّى بَلَغَ : (فوزًا عَظِيمًا ) قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ .
Narrated Anas [May Allah be pleased with him]:"While the Messenger of Allah (ﷺ) was returning from Al-Hudaibiyyah it was revealed to him, 'That Allah may forgive you your sins of the past and the future (48:2).' So the Prophet (ﷺ) said: 'An Ayah has been revealed to me which is dearer to me than whatever is upon the earth.' Then the Prophet (ﷺ) recited it for them and they said: 'Congratulations O Messenger of Allah! Allah has explained what He will do with you, but what will He do with us?' So (the following) was revealed: 'That He may admit the believing men and the believing women into Gardens under which rivers flow' up to (His Saying) 'a supreme success (48:)
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر حدیبیہ سے واپسی کے وقت «ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تأخر» ” ( اللہ نے جہاد اس لیے فرض کیا ہے ) تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے گناہ بخش دے“ ( الفتح: ۲ ) ، نازل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو مجھے زمین کی ساری چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“، پھر آپ نے وہ آیت سب کو پڑھ کر سنائی، لوگوں نے ( سن کر ) «هنيأ مريئًا» ( آپ کے لیے خوش گوار اور مبارک ہو ) کہا، اے اللہ کے نبی! اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جائے گا مگر ہمارے ساتھ کیا کیا جائے گا؟ اس پر آیت «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الأنهار» سے لے کر سے «فوزا عظيما» ”تاکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان سے ان کے گناہ دور کر دے اور اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی کامیابی ہے“ ( الفتح: ۵ ) ، تک نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مجمع بن جاریہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Ali bin Abi Talib and Abu Hurairah
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُبَاتَةَ، يُونُسُ بْنُ يَحْيَى بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated 'Ali bin Abi Talib and Abu Hurairah:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whatever is between my house and my Minbar is a garden from the gardens of Paradise
علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( مسجد نبوی ) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے۔