حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلاَفًا إِذَا زَوَّجَ أَحَدُ الْوَلِيَّيْنِ قَبْلَ الآخَرِ فَنِكَاحُ الأَوَّلِ جَائِزٌ وَنِكَاحُ الآخَرِ مَفْسُوخٌ وَإِذَا زَوَّجَا جَمِيعًا فَنِكَاحُهُمَا جَمِيعًا مَفْسُوخٌ . وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
Samurah bin Jundab narrated that:The Messenger of Allah said: "Whichever woman is given in marriage by two Wali, then her case is in accordance with the first of them, and whoever sells something to two men, then it is for the first of them
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کی شادی دو ولی الگ الگ جگہ کر دیں تو وہ ان میں سے پہلے کے لیے ہو گی، اور جو شخص کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچ دے تو وہ بھی ان میں سے پہلے کی ہوئی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں علماء کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ دو ولی میں سے ایک ولی جب دوسرے سے پہلے شادی کر دے تو پہلے کا نکاح جائز ہو گا، اور دوسرے کا نکاح فسخ قرار دیا جائے گا، اور جب دونوں نے ایک ساتھ نکاح ( دو الگ الگ شخصوں سے ) کیا ہو تو دونوں کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، أَنْبَأَنَا مَعْنٌ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ، زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا أَنَّهَا، جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ وَأَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا حَتَّى إِذَا كَانَ بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ . قَالَتْ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْ لِي مَسْكَنًا يَمْلِكُهُ وَلاَ نَفَقَةً . قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " نَعَمْ " . قَالَتْ فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ نَادَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَوْ أَمَرَ بِي فَنُودِيتُ لَهُ فَقَالَ " كَيْفَ قُلْتِ " . قَالَتْ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي قَالَ " امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ " . قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلَىَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ . أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لَمْ يَرَوْا لِلْمُعْتَدَّةِ أَنْ تَنْتَقِلَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَعْتَدَّ حَيْثُ شَاءَتْ وَإِنْ لَمْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى وَالْقَوْلُ الأَوَّلُ أَصَحُّ .
Zainab bint Ka'b bin Ujrah narrated that :Al-Furay'ah bint Malik bin Sinan - the sister of the Abu Sa'eed Al-Khudri - informed her that she went to the Messenger of Allah to ask him if she could return to her family in Banu Khudrah. Her husband had gone out searching for his runaway slaves, and when he was in Turaf Al-Qadum he caught up with them and they killed him. She said: "So I asked the Messenger of Allah if I could return to my family since my husband had not left me a home that he owned nor any maintenance." She said: "So the Messenger of Allah said: 'Yes.' Then I left. When I was in the courtyard," or, "in the Masjid, the Messenger of Allah called me" or, "summoned for me to come back t him and he said: 'What did you say?'" She said: "So I repeated the store that I had mentioned to him about the case of my husband. He said: 'Stay in your house until what is written reaches its term.'" She said: "So I observed my Iddah there for four months and ten (days)." She said: "During the time of Uthman, he sent a message to me asking me about that, so I informed him. He followed it and judged accordingly
زینب بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان رضی الله عنہا جو ابو سعید خدری کی بہن ہیں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس بنی خدرہ میں واپس چلی جائیں ( ہوا یہ تھا کہ ) ان کے شوہر اپنے ان غلاموں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے تھے جو بھاگ گئے تھے، جب وہ مقام قدوم کے کنارے پر ان سے ملے، تو ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا۔ فریعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے اپنی ملکیت کا نہ تو کوئی مکان چھوڑا ہے اور نہ کچھ خرچ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، چنانچہ میں واپس جانے لگی یہاں تک کہ میں حجرہ شریفہ یا مسجد نبوی ہی میں ابھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی۔ ( یا آپ نے حکم دیا کہ مجھے آواز دی جائے ) پھر آپ نے پوچھا: ”تم نے کیسے کہا؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں ذکر کیا تھا، آپ نے فرمایا: ”تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ تمہاری عدت ختم ہو جائے“، چنانچہ میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ پھر جب عثمان رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلوایا اور مجھ سے اس بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو بتایا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ محمد بن بشار کی سند سے بھی اس جیسی اسی مفہوم کی حدیث آئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ عدت گزارنے والی عورت کے لیے درست نہیں سمجھتے ہیں کہ اپنے شوہر کے گھر سے منتقل ہو جب تک کہ وہ اپنی عدت نہ گزار لے۔ یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر عورت اپنے شوہر کے گھر میں عدت نہ گزارے تو اس کو اختیار ہے جہاں چاہے عدت گزارے، ۴- ( امام ترمذی ) کہتے ہیں: پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ . أَنْ يَقُولَ أَبِيعُكَ هَذَا الثَّوْبَ بِنَقْدٍ بِعَشَرَةٍ وَبِنَسِيئَةٍ بِعِشْرِينَ وَلاَ يُفَارِقُهُ عَلَى أَحَدِ الْبَيْعَيْنِ فَإِذَا فَارَقَهُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَلاَ بَأْسَ إِذَا كَانَتِ الْعُقْدَةُ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا . قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمِنْ مَعْنَى نَهْىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ أَنْ يَقُولَ أَبِيعُكَ دَارِي هَذِهِ بِكَذَا عَلَى أَنْ تَبِيعَنِي غُلاَمَكَ بِكَذَا فَإِذَا وَجَبَ لِي غُلاَمُكَ وَجَبَ لَكَ دَارِي . وَهَذَا يُفَارِقُ عَنْ بَيْعٍ بِغَيْرِ ثَمَنٍ مَعْلُومٍ وَلاَ يَدْرِي كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى مَا وَقَعَتْ عَلَيْهِ صَفْقَتُهُ .
Narrated Abu Hurairah: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited two sales in one." There are narrations on this topic from 'Abdullah bin 'Amr, Ibn 'Umar, and Ibn Mas'ud. [Abu Eisa said:] The Hadith of Abu Hurairah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. Some of the people of knowledge have explained it by saying that two sales in one is when one says: "I will sell you this garment for ten in cash, and twenty on credit." He does not distinguish between either of the two sales. But when he distinguishes it as being one of them, then there is no harm when one of them is agreed upon. Ash-Shafi'i said: "Included in the meaning of what the Prophet (ﷺ) prohibited of regarding two sales in one, is if one said: 'I will sell you the house of mine for that (price), upon the condition that you sell me you alve for this (price). When I get the slave, then you get the house.' In this way the sales are distinguished without the prices being known, and neither of them knows what will happen at the conclusion of it (the agreement)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابن عمر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- بعض اہل علم نے ایک بیع میں دو بیع کی تفسیر یوں کی ہے کہ ایک بیع میں دو بیع یہ ہے کہ مثلاً کہے: میں تمہیں یہ کپڑا نقد دس روپے میں اور ادھار بیس روپے میں بیچتا ہوں اور مشتری دونوں بیعوں میں سے کسی ایک پر جدا نہ ہو، ( بلکہ بغیر کسی ایک کی تعیین کے مبہم بیع ہی پر وہاں سے چلا جائے ) جب وہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر جدا ہو تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر بیع منعقد ہو گئی ہو، ۵- شافعی کہتے ہیں: ایک بیع میں دو بیع کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی کہے: میں اپنا یہ گھر اتنے روپے میں اس شرط پر بیچ رہا ہوں کہ تم اپنا غلام مجھ سے اتنے روپے میں بیچ دو۔ جب تیرا غلام میرے لیے واجب و ثابت ہو جائے گا تو میرا گھر تیرے لیے واجب و ثابت ہو جائے گا، یہ بیع بغیر ثمن معلوم کے واقع ہوئی ہے ۲؎ اور بائع اور مشتری میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا سودا کس چیز پر واقع ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الرُّقْبَى جَائِزَةٌ مِثْلَ الْعُمْرَى . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ . وَفَرَّقَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ بَيْنَ الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى فَأَجَازُوا الْعُمْرَى وَلَمْ يُجِيزُوا الرُّقْبَى . قَالَ أَبُو عِيسَى وَتَفْسِيرُ الرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ هَذَا الشَّىْءُ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنْ مِتَّ قَبْلِي فَهِيَ رَاجِعَةٌ إِلَىَّ . وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ الرُّقْبَى مِثْلُ الْعُمْرَى وَهِيَ لِمَنْ أُعْطِيَهَا وَلاَ تَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ .
Jabir narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:"The lifelong gift is permitted for its inhabitant, and the Ruqba is permitted for its inhabitant
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہے اور رقبیٰ ۱؎ بھی جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور بعض نے اسی سند سے ابوزبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے جابر سے موقوفاً نقل کیا ہے، اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- رقبیٰ کی تفسیر یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ یہ چیز جب تک تم زندہ رہو گے تمہاری ہے اور اگر تم مجھ سے پہلے مر گئے تو یہ پھر میری طرف لوٹ آئے گی، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عمریٰ کی طرح رقبیٰ بھی جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں ہی کا ہو گا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے عمریٰ اور رقبیٰ کے درمیان فرق کیا ہے، ان لوگوں نے عمریٰ کو تو معمر ( جس کے نام چیز دی گئی تھی ) کی موت کے بعد اس کے ورثاء کا حق بتایا ہے اور رقبیٰ کو کہا ہے کہ ورثاء کا حق نہیں ہو گا بلکہ وہ دینے والی کی طرف لوٹ جائے گا۔
Narrated by Sa'eed bin Al-Musayyab
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ وَلاَ تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا . حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلاَبِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَيْهِ " أَنْ وَرِّثِ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
Narrated Sa'eed bin Al-Musayyab:that 'Umar would say: "The blood-money upon the tribe, and the wife does not inherit any of her husband's blood-money." Until Ad-Dahhak bin Sufyan Al-Kulabi informed him that the Messenger of Allah (ﷺ) wrote to me, that Ashaim Ad-Dibabi's wife inherited the blood-money of her husband
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ کہتے تھے: دیت کی ادائیگی عاقلہ ۱؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا: ”اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Narrated by Jabir
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ وَلاَ مُنْتَهِبٍ وَلاَ مُخْتَلِسٍ قَطْعٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ . وَمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ هُوَ بَصْرِيٌّ أَخُو عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقَسْمَلِيِّ كَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ .
Narrated Jabir :That the Prophet (ﷺ) said: "There is no cutting of the hand for the traitor, or the embezzler, nor the plunderer
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے، ڈاکو اور اچکے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مغیرہ بن مسلم نے ابن جریج کی حدیث کی طرح اسے ابوزبیر سے، ابوزبیر نے جابر رضی الله عنہ سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Narrated by Abdullah bin Mughaffal
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ إِنِّي لَمِمَّنْ يَرْفَعُ أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ " لَوْلاَ أَنَّ الْكِلاَبَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَرْتَبِطُونَ كَلْبًا إِلاَّ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلاَّ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ كَلْبَ غَنَمٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated 'Abdullah bin Mughaffal:"I was one of those who held up the branches from the tree away from the face of the Messenger of Allah (ﷺ) while he was delivering the Khutbah saying: 'If it were not that dogs were a nation among nations, then I would order that they be killed. So kill every one among them that is all black. There is one inhabiting a home in which they keep a dog but their deeds are decreased by one Qirat every day - except for a hunting dog, or a farm dog, or a sheep dog
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص بھی جانوروں کی نگرانی کرنے والے یا شکاری یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے کتے کے سوا کوئی دوسرا کتا پالے گا تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عطا بن ابی رباح نے کتا پالنے کی رخصت دی ہے اگرچہ کسی کے پاس ایک ہی بکری کیوں نہ ہو۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Narrated by Muhammad bin 'Ali bin Al-Husain
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحَسَنِ بِشَاةٍ وَقَالَ " يَا فَاطِمَةُ احْلِقِي رَأْسَهُ وَتَصَدَّقِي بِزِنَةِ شَعْرِهِ فِضَّةً " . قَالَ فَوَزَنَتْهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ . وَأَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ .
Narrated Muhammad bin 'Ali bin Al-Husain:That Ali bin Abi Talib said: "The Messenger of Allah (ﷺ) had the 'Aqiqah for Al-Hasan with one sheep, and said: 'O Fatimah! Shave his head and give the weight of his hair in silver as charity.'" He said: "So I weighed it, and it was the weight of a Dirham or a bit of a Dirham
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کیا، اور فرمایا: ”فاطمہ! اس کا سر مونڈ دو اور اس کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرو“، فاطمہ رضی الله عنہا نے اس کے بال کو تولا تو اس کا وزن ایک درہم کے برابر یا اس سے کچھ کم ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس کی سند متصل نہیں ہے، اور راوی ابوجعفر الصادق محمد بن علی بن حسین نے علی بن ابی طالب کو نہیں پایا ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ خَيْلَنَا أَوْطَأَتْ مِنْ نِسَاءِ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلاَدِهِمْ . قَالَ " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ibn 'Abbas: "I was informed by As-Sa'b bin Jaththamah who said: " I said: "O Messenger of Allah our horses trampled over women and children of the idolaters." He said: "They are from their fathers.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے، آپ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے آبا و اجداد کی قسم سے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Sahl bin Sa'd As-Sa'idi
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي أَيُّوبَ وَأَنَسٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Sahl bin Sa'd As-Sa'idi: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Going out in the morning in the cause of Allah is better that the world and what is in it. And the place (the size) of a whip in Paradise is better than the world and what is in it." [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Abu Hurairah, Ibn 'Abbas, Abu Ayyub, and Anas. This Hadith is Hasan Sahih
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ۱؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، ابوایوب اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ سَبَقَ إِلاَّ فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Narrated Abu Hurairah:That the Prophet (ﷺ) said: "No stake is acceptable except in archery, racing a camel, and racing a horse
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Narrated by Abu An-Nadr
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ . قَالَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ . قَالَ فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزِعُ نَمَطًا تَحْتَهُ فَقَالَ لَهُ سَهْلٌ لِمَ تَنْزِعُهُ فَقَالَ لأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا قَدْ عَلِمْتَ . قَالَ سَهْلٌ أَوَلَمْ يَقُلْ " إِلاَّ مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ " فَقَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Abu An-Nadr: From 'Ubaidullah bin 'Abdullah bin 'Utbah, that he entered upon Abu Talhah Al-Ansari to pay him a visit (while he was ill), and he found Sahl bin Hunaif with him. He said: "Abu Talhah called for someone to remove a sheet that was under him. Sahl said to him: 'Why did you remove it?' He replied: 'Because it contains images on it, and the Prophet (ﷺ) said about them what you know.' Sahl said: 'Do he not say: Except for markings on a garment?' He said: 'Yes, but this is better to me.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی الله عنہ کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے، تو میں نے ان کے پاس سہل بن حنیف رضی الله عنہ کو پایا، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی کو وہ چادر نکالنے کے لیے بلایا جو ان کے نیچے تھی، سہل رضی الله عنہ نے ان سے کہا: کیوں نکال رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں، سہل رضی الله عنہ نے کہا: آپ نے تو یہ بھی فرمایا ہے: سوائے اس کپڑے کے جس میں نقش ہو ابوطلحہ نے کہا: آپ نے تو یہ فرمایا ہے لیکن یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ إِلاَّ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ . وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْفَوَائِتِ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ إِذَا قَضَاهَا وَإِنْ لَمْ يُقِمْ أَجْزَأَهُ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ .
Abdullah (bin Mas'ud] narrated:"The idolaters kept Allah's Messenger distracted from four prayers on the Day of Al-Khandaq (the battle of the Trench) until as much as Allah willed of the night had passed. So he ordered Bilal to call the Adhan, then he called the Iqamah to Zuhr, then he called the Iqamah to pray Asr, then he called the Iqamah to pray Maghrib, then he called the Iqamah to pray Isha
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: مشرکین نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو خندق کے دن چار نمازوں سے روک دیا۔ یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزر گئی، پھر آپ نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے عصر پڑھی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے عشاء پڑھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوسعید اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کوئی برائی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے، ۳- اور چھوٹی ہوئی نمازوں کے سلسلے میں بعض اہل علم نے اسی کو پسند کیا ہے کہ آدمی جب ان کی قضاء کرے تو ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہے ۱؎ اور اگر وہ الگ الگ اقامت نہ کہے تو بھی وہ اسے کافی ہو گا، اور یہی شافعی کا قول ہے۔
Narrated by Jabir bin ‘Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الأَشْقَرُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالاَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ ثُمَّ قَالَ " كُلْ بِسْمِ اللَّهِ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلاً عَلَيْهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ . وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ شَيْخٌ آخَرُ مِصْرِيٌّ أَوْثَقُ مِنْ هَذَا وَأَشْهَرُ . وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ وَحَدِيثُ شُعْبَةَ أَثْبَتُ عِنْدِي وَأَصَحُّ .
Narrated Jabir bin ‘Abdullah : "The Messenger of Allah (ﷺ) took the hand of a leper and put it in the Qas'ah. Then he said: 'Eat in Allah's Name, trusting in Allah and relying upon Him.'" [Abu 'Eisa said:] This is a Gharib Hadith, we do not know of it except through the report of Yunus bin Muhammad, from Al-Mufaddal bin Fadalah, a Shaikh from Al-Basrah. There is another Shaikh from Al-Basrah named Al-Mufaddal bin Fadalah, who is more reliable han this one and more popular. Shu'bah reported this Hadith from Habib bin Ash-Shahid, from Ibn Buraidah: "That Ibn 'Umar took the hand of a leper" and the narration of Shu'bah is more appropriate to me and more correct
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، پھر فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ مفضل بن فضالہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- یہ مفضل بن فضالہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، مفضل بن فضالہ ایک دوسرے شیخ بصریٰ ہیں وہ ان سے زیادہ ثقہ اور شہرت کے مالک راوی ہیں، ۳- شعبہ نے اس حدیث کو بطریق: «حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة أن ابن عمر» روایت کیا ہے کہ انہوں ( ابن عمر ) نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا، میرے نزدیک شعبہ کی حدیث زیادہ صحیح اور ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رِوَايَةً أَنَّهُ نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الأَسْقِيَةِ، . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Ubaidullah bin 'Abdullah narrated a report (of the Messenger of Allah (ﷺ) from Abu Sa'eed, that he prohibited bending the mouths of the water-skins. He said:There are narrations on this topic from Jabir, Ibn 'Abbas, and Abu Hurairah. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) مشکیزوں سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Jarir bin 'Abdullah narrated :" I pledged to the Prophet to establish the Salat, give the Zakat, and to give sincere advice to every Muslim
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ، أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ وَهُوَ ابْنُ أَبِي السَّفَرِ وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَفِيهَا شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ وَالْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو .
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (S.A.W) said:"Al-'Ajwah is from Paradise and it contains a cure for poison. Truffles are a form of manna, and its liquid is a cure for the eye
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عجوہ ( کھجور ) جنت کا پھل ہے، اس میں زہر سے شفاء موجود ہے اور صحرائے عرب کا «فقعہ» ۱؎ ایک طرح کا «من» ( سلوی والا «من» ) ہے، اس کا عرق آنکھ کے لیے شفاء ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ محمد بن عمرو کی روایت سے ہے، ہم اسے صرف محمد بن عمر ہی سعید بن عامر کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ محمد بن عمرو سے روایت کرتے ہیں، ۳- اس باب میں سعید بن زید، ابوسعید اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الأَحْلاَمِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي ذَرٍّ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حَيْثُ وَصَفَ هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لاَ يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ إِنَّمَا هُمُ الْخَوَارِجُ وَالْحَرُورِيَّةُ وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْخَوَارِجِ .
Abdullah [bin Mas'ud] narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"In the end of time there will come a people young in years, foolish in minds, reciting the Qur'an which will not go beyond their throats, uttering sayings from the best of creatures, going through the religion as an arrow goes through the target
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانہ ۱؎ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمر اور سطحی عقل والے ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی بات کریں گے لیکن وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے جس میں آپ نے انہیں لوگوں کی طرح اوصاف بیان کیا کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر ان کے گلے کے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے، ان سے مقام حروراء کی طرف منسوب خوارج اور دوسرے خوارج مراد ہیں، ۳- اس باب میں علی، ابوسعید اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ " . وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ثُمَّ بَسَطَهَا فَقَالَ " وَثَمَّ أَمَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .
Anas bin Malik narrated that that the Messenger of Allah(s.a.w) said:"This is the son of Adam, and this is his life-span." And he placed his hand at the (height of the) nape of his neck, then he extended it (higher) and said:" From there is what is hoped for, from there is what is hoped for
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابن آدم ہے اور یہ اس کی موت ہے“، اور آپ نے اپنا ہاتھ اپنی گدی پر رکھا پھر اسے دراز کیا اور فرمایا: ”یہ اس کی امید ہے، یہ اس کی امید ہے، یہ اس کی امید ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ قَالَ " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ مُصْحِيَةٍ مِنْ آنِيَةِ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهَا شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ وَابْنِ عُمَرَ وَحَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ وَالْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ . - وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ الْكُوفَةِ إِلَى الْحَجَرِ الأَسْوَدِ " .
Abu Dharr narrated:"I said: 'O Messenger of Allah! What about the vessels of the Hawd?' He said: 'By the one in Whose Hand is my soul! Its vessels number more than the stars of the heavens and the planets on a clear dark night. (They are) among the vessels of Paradise, whoever drinks from them, he will never be thirsty again. Its longest breadth is the same as its length, like that which is between 'Amman to Aylah, its water is whiter than milk and sweeter than honey.'" Another chain reports a similar narration. It has been reported from Ibn 'Umar that the Prophet SAW said: "My Hawd (covers a distance) like what is between Kufah to the Black Stone
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حوض کوثر کے برتن کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقیناً اس کے برتن تاروں سے بھی زیادہ ہیں اس تاریک رات میں جس میں آسمان سے بادل چھٹ گیا ہو، اور اس کے پیالے جنت کے برتنوں میں سے ہوں گے، اس سے جو ایک مرتبہ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہے، اس کا فاصلہ اتنا ہے جتنا عمان سے ایلہ تک کا فاصلہ ہے۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ بن یمان، عبداللہ بن عمرو، ابوبرزہ اسلمی، ابن عمر، حارثہ بن وہب اور مستورد بن شداد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے حوض کا فاصلہ اتنا ہے جتنا کوفہ سے حجر اسود تک کا فاصلہ ہے“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي شَبَابَةُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَمَنْ يَنْظُرُ إِلَى جِنَانِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَنَعِيمِهِ وَخَدَمِهِ وَسُرُرِهِ مَسِيرَةَ أَلْفِ سَنَةٍ وَأَكْرَمَهُمْ عَلَى اللَّهِ مَنْ يَنْظُرُ إِلَى وَجْهِهِ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: (وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ * إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ ثُوَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعٌ . وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ عَنْ ثُوَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفٌ . وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَوْلَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
Thuwair narrated from Ibn Umar, saying:The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Indeed the least of the people of Paradise in rank is the one who shall look at his gardens, his wives, his bounties, his servants and his beds for the distance of a thousand years, and the noblest of them with Allah is the one who shall look at His Face morning and night." Then the Messenger of Allah (s.a.w) recited: Some faces on that day shall be radiant. They shall be looking at their Lord
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے کم تر درجے کا جنتی وہ ہو گا جو اپنے باغات، بیویوں، نعمتوں، خادموں اور تختوں کی طرف دیکھے گا جو ایک ہزار سال کی مسافت پر مشتمل ہوں گے، اور اللہ کے پاس سب سے مکرم وہ ہو گا جو اللہ کے چہرے کی طرف صبح و شام دیکھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «وجوه يومئذ ناضرة إلى ربها ناظرة» ”اس دن بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے“ ( القیامۃ: ۲۲، ۲۳ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث کئی سندوں سے اسرائیل کے واسطہ سے جسے وہ ثویر سے، اور ثویر ابن عمر سے روایت کرتے ہیں مرفوعاً آئی ہے۔ جب کہ اسے عبدالملک بن جبر نے ثویر کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور عبیداللہ بن اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے ثویر سے، ثویر نے مجاہد سے اور مجاہد نے ابن عمر سے ان کے اپنے قول کی حیثیت سے اسے غیر مرفوع روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَوْفٌ، هُوَ ابْنُ أَبِي جَمِيلَةَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهَكَذَا يَقُولُ عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَيَقُولُ أَيُّوبُ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَكِلاَ الإِسْنَادَيْنِ لَيْسَ فِيهِمَا مَقَالٌ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو رَجَاءٍ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَقَدْ رَوَى غَيْرُ عَوْفٍ أَيْضًا هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ .
Imran bin Husain narrated that the Messenger Of Allah (s.a.w) said:" I looked into the Fire and I saw that most of its people are women, and I looked into Paradise and I saw that most of its people were the poor." Other chains report similar narrations
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں اور جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عوف نے سند بیان کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے: «عن أبي رجاء عن عمران بن حصين» اور ایوب نے کہا: «عن أبي رجاء عن ابن عباس»، دونوں سندوں میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ ابورجاء نے عمران بن حصین اور ابن عباس دونوں سے سنا ہو، عوف کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث ابورجاء کے واسطہ سے عمران بن حصین سے روایت کی ہے۔
Narrated by Ad-Dhahak
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَلاَعِنُ الْمُؤْمِنِ كَقَاتِلِهِ وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَاتِلِهِ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِمَا قَتَلَ بِهِ نَفْسَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Ad-Dhahak:that the Prophet (ﷺ) said: "It is not for a slave (of Allah) to vow about something he does not possess, and cursing a believer is like killing him, and whoever accuses a believer of disbelief, then it is like he has killed him, and whoever kills himself with something, then Allah will punish him with whatever he killed himself with on the Day of Judgement
ثابت بن ضحاک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ۱؎، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Ibn Jarir bin 'Abdullah
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ سَنَّ سُنَّةَ خَيْرٍ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا فَلَهُ أَجْرُهُ وَمِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ غَيْرَ مَنْقُوصٍ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ سَنَّ سُنَّةَ شَرٍّ فَاتُّبِعَ عَلَيْهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَمِثْلُ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ غَيْرَ مَنْقُوصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا " . وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوُ هَذَا . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَيْضًا .
Narrated Ibn Jarir bin 'Abdullah:from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever starts a good tradition which is followed, then for him is a reward, and the likes of their rewards of whoever follows him, there being nothing diminished from their rewards. And whoever starts a bad tradition which is followed, then for him is the sin, and the likes of the sins of whoever follows him, there being nothing diminished from their sins
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا ( کوئی اچھی سنت قائم کی ) اور اس اچھے طریقہ کی پیروی کی گئی تو اسے ( ایک تو ) اسے اپنے عمل کا اجر ملے گا اور ( دوسرے ) جو اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر و ثواب میں کسی طرح کی کمی کیے گئے بغیر ان کے اجر و ثواب کے برابر بھی اسے ثواب ملے گا، اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اور اس برے طریقے کی پیروی کی گئی تو ایک تو اس پر اپنے عمل کا بوجھ ( گناہ ) ہو گا اور ( دوسرے ) جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر بھی اسی پر گناہ ہو گا، بغیر اس کے کہ اس کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی کی گئی ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے جریر بن عبداللہ سے آئی ہے، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث منذر بن جریر بن عبداللہ سے بھی آئی ہے، جسے وہ اپنے والد جریر بن عبداللہ سے اور جریر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۴- یہ حدیث عبیداللہ بن جریر سے بھی آئی ہے، اور عبیداللہ اپنے والد جریر سے اور جریر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۵- اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا أَرَادَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ قِيلَ لَهُ إِنَّ الْعَجَمَ لاَ يَقْبَلُونَ إِلاَّ كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا . قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Anas bin Malik:"When the Prophet of Allah (ﷺ) wanted to write to the foreigners, it was said to him: 'The foreigners do not accept a letter unless it has a seal.' So he had a ring made." He said: "It is as if I am now looking at its whiteness in his hand
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عجمی ( بادشاہوں ) کو خطوط بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ عجمی بغیر مہر لگا ہوا خط قبول نہیں کرتے چنانچہ آپ نے ( مہر کے لیے ) ایک انگوٹھی بنوائی، تو ان میں آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک کو اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Zaid bin Arqam
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ لَمْ يَأْخُذْ مِنْ شَارِبِهِ فَلَيْسَ مِنَّا " . وَفِي الْبَابِ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ صُهَيْبٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
Narrated Zaid bin Arqam:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever does not take from his mustache, then he is not from us
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی مونچھوں کے بال نہ لیے ( یعنی انہیں نہیں کاٹا ) تو وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔
Narrated by Ali bin Abi Talib
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلاَلَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادٌ صَحِيحٍ . وَحَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو عُمَرَ بَزَّازٌ كُوفِيٌّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ .
Narrated 'Ali bin Abi Talib:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites the Qur'an and memorizes it, making lawful what it makes lawful, and unlawful what it makes unlawful, Allah will admit him to Paradise due to it, and grant him intercession for ten of his family members who were to be consigned to the Fire
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کر لیا، جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور اس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اس ( قرآن ) کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند صحیح نہیں ہے، ۳- حفص بن سلیمان حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
Narrated by Umm Salamah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِهِ : (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ) يَعْنِي صِمَامًا وَاحِدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَابْنُ خُثَيْمٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ وَابْنُ سَابِطٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابِطٍ الْجُمَحِيُّ الْمَكِّيُّ وَحَفْصَةُ هِيَ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَيُرْوَى فِي سِمَامٍ وَاحِدٍ .
Narrated Umm Salamah:from the Prophet (SA), regarding: Your wives are a tilth for you, so go to your tilth when or how you will (2:223). [He (ﷺ) said]: "Meaning one valve." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Ibn Khuthaim is 'Abdullãh bin 'Uthmãn bin . Khuthaim. Ibn Sãbit is 'AbdurRahmãn bin 'Abdullah bin Sabit A1-Jumahi Al-Makki, and Hafsah is the daughter of 'Abdur-Rahmãn bin Abi Bakr As-Siddiq (narrators in the chain). And it has been reported as: "In one hole
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ: «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» کی تفسیر میں فرمایا: اس سے مراد ایک سوراخ ( یعنی قبل اگلی شرمگاہ ) میں دخول ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Uthman bin Affan narrated that :the Prophet would go through his beard
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اپنی داڑھی میں خلال کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُنَا إِذَا أَخَذَ أَحَدُنَا مَضْجَعَهُ أَنْ يَقُولَ " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الأَرَضِينَ وَرَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَفَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى وَمُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَالظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَالْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Hurairah (ra) said:“The Messenger of Allah (ﷺ) used to order that when one of us went to sleep, he should say: ‘O Allah, Lord of the heavens and Lord of the earths, and our Lord, and the Lord of everything, splitter of the seed-grain and date-stone, and Revealer of the Tawrah and the Injil and the Qur’an. I seek refuge in You from the evil of every evil that You are holding by the forelock. You are the First, there is nothing before You, You are the Last, there is nothing after You, and Az-Zahir, there is nothing above you, and Al-Batin, there is nothing below You. Relieve me of my debt, and enrich me from poverty (Allāhumma rabbas-samāwati wa rabbal-arḍīna wa rabbanā, wa rabba kulli shai’in, fāliqal-ḥabbi wan-nawā, wa munzilat-Tawrāti wal-Injīli wal-Qur’ān. A`ūdhu bika sharri kulli dhi sharrin anta ākhidhun bināṣiyatihi, antal-Awwalu falaisa qablaka shai’un, wa antal-Ākhiru falaisa ba`daka shai’un, waẓ-Ẓāhiru falaisa fauqaka shai'un wal-Bātinu falaisa dūnaka shai’un, iqḍi `annid-daina wa aghninī minal-faqr).’”
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے تو کہے: «اللهم رب السموات ورب الأرضين وربنا ورب كل شيء وفالق الحب والنوى ومنزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء والظاهر فليس فوقك شيء والباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ”اے آسمانوں اور زمینوں کے رب! اے ہمارے رب! اے ہر چیز کے رب! زمین چیر کر دانے اور گٹھلی سے پودے اگانے والے، توراۃ، انجیل اور قرآن نازل کرنے والے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر والی چیز کے شر سے، تو ہی ہر شر و فساد کی پیشانی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں ہے، تو ہی سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہے، تو سب سے ظاہر ( اوپر ) ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، تو باطن ( نیچے و پوشیدہ ) ہے تیرے سے نیچے کوئی چیز نہیں ہے، مجھ پر جو قرض ہے اسے تو ادا کر دے اور تو مجھے محتاجی سے نکال کر غنی کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Al-Bara
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدٌ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلاَ بِالطَّوِيلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated Al-Bara:"I have not seen anyone with hair past his shoulders in a red Hullah more handsome than the Messenger of Allah (ﷺ). He had hair that would flow on his shoulders, having broad shoulders, not too short and not too tall
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ۱؎ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ۲؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ۳؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَالأَجْلَحِ، وَمَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلاَمُ عَلَيْكَ قَدْ عَلِمْنَا فَكَيْفَ الصَّلاَةُ عَلَيْكَ قَالَ " قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيِدٌ مَجِيدٌ " . قَالَ مَحْمُودٌ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَزَادَنِي زَائِدَةُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ وَنَحْنُ نَقُولُ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي حُمَيْدٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ وَطَلْحَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَبُرَيْدَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَارِجَةَ وَيُقَالُ ابْنُ جَارِيَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى كُنْيَتُهُ أَبُو عِيسَى وَأَبُو لَيْلَى اسْمُهُ يَسَارٌ .
Ka'b bin Ujrah narrated:"We said: 'O Messenger of Allah! We have learned about saying the Salam to you, but how about As-Salat upon you?' He said: 'Say: (Allahumma salli ala Muhammadin Wa Ala ali Muhammadin kama sallaita Ala Ibrahim, Innaka hamidan MAjid, Wa barik Ala Muhammadin wa Ala ali Muhammadin kamma barakta Ala Ibrahim Innaka Hamidan Majid)" O Allah! Send Salat upon Muhammad and upon Muhammad's family just as You have sent Salat upon Ibrahim, indeed You are the Praise and Majestic. And send blessings upon Muhammad and Muhammad's family just as You have sent blessing upon Ibrahim, indeed You are the Praised and Majestic.'Mahmud said: "Abu Usamah said: Za'idah added something for me, from Al-Amash, from Al-Hakam, from Abdur-Rahman bin Abi Laila, that he said: "We would say 'And upon us along with them
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا ہے ۱؎ لیکن آپ پر صلاۃ ( درود ) بھیجنے کا طریقہ کیا ہے؟ ۔ آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم إنك حميد مجيد وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم إنك حميد مجيد» ۲؎ ”اے اللہ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید ( تعریف کے قابل ) اور مجید ( بزرگی والا ) ہے، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید ( تعریف کے قابل ) اور مجید ( بزرگی والا ) ہے“۔ زائدہ نے بطریق اعمش عن الحکم عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ایک زائد لفظ کی روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: اور ہم ( درود میں ) «وعلينا معهم» ”یعنی اور ہمارے اوپر بھی رحمت و برکت بھیج“ بھی کہتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوحمید، ابومسعود، طلحہ، ابوسعید، بریدہ، زید بن خارجہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلاَةُ يُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ يَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَمَا يَزَالُ يُكَلِّمُهُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَنَا يَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Anas narrated:"I saw the Prophet, after the Iqamah was called for Salat, talking to a man who was standing between him and the Qiblah, he did not stop talking, and I saw some of them getting sleepy from his lengthy standing the Prophet
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نماز کھڑی ہو جانے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سے ایک آدمی باتیں کر رہا ہے، اور آپ اس کے اور قبلے کے درمیان کھڑے ہیں، آپ برابر اس سے گفتگو کرتے رہے، میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طول قیام کی وجہ سے بعض لوگ اونگھ رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ السُّجُودَ فِي(إِذََا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ) وَ (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ) . وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَةٌ مِنَ التَّابِعِينَ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ .
(Another chain in which) Abu Hurairah narrated :from the Prophet similarly
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اس حدیث کی سند میں چار تابعین ۱؎ ہیں، جو ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك الذي خلق» میں سجدہ کرنے کے قائل ہیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلاَ يُفَارِقَنَّكُمْ إِلاَّ عَنْ رِضًا " .
Jarir narrated that :the Prophet said: "When the charity collector comes to you, then he should not depart from you except while pleased
جریر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زکاۃ وصول کرنے والا تمہارے پاس آئے تو وہ تم سے راضی اور خوش ہو کر ہی جدا ہو“۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَمَا يَعِيبُ عَلَى الصَّائِمِ صَوْمَهُ وَلاَ عَلَى الْمُفْطِرِ إِفْطَارَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Abu Sa'eed (Al-Khudri) narrated:"We were on a journey with the Messenger of Allah during the month of Ramadan. No one objected to the fast of the one fasting nor the fast breaking of the one who broke his fast
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں سفر کرتے تو نہ آپ روزہ رکھنے والے کے روزہ رکھنے پر نکیر کرتے اور نہ ہی روزہ نہ رکھنے والے کے روزہ نہ رکھنے پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ السَّبُعَ الْعَادِيَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَأَةَ وَالْغُرَابَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ . قَالُوا الْمُحْرِمُ يَقْتُلُ السَّبُعَ الْعَادِيَ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ . وَقَالَ الشَّافِعِيُّ كُلُّ سَبُعٍ عَدَا عَلَى النَّاسِ أَوْ عَلَى دَوَابِّهِمْ فَلِلْمُحْرِمِ قَتْلُهُ .
Abu Sa'eed narrated that:The Prophet said: "The Muhrim may kill the wild beast of prey, the rabid dog, the mouse, the scorpion, the kite, and the crow
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم سرکش درندے، کاٹ کھانے والے کتے، چوہا، بچھو، چیل اور کوے مار سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں: محرم ظلم ڈھانے والے درندوں کو مار سکتا ہے، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: محرم ہر اس درندے کو جو لوگوں کو یا جانوروں کو ایذاء پہنچائے، مار سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِذَا وَلِيَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ " . وَفِيهِ عَنْ جَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ . وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ سَلاَّمُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ فِي قَوْلِهِ " وَلْيُحَسِّنْ أَحَدُكُمْ كَفَنَ أَخِيهِ " قَالَ هُوَ الصِّفَاقُ لَيْسَ بِالْمُرْتَفِعِ .
Abu Qatadah narrated that:The Messenger of Allah said: "When one of you shrouds his brother, then let him use the best of his shrouds
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی اپنے بھائی کا ( کفن کے سلسلے میں ) ولی ( ذمہ دار ) ہو تو اسے اچھا کفن دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ابن مبارک کہتے ہیں کہ سلام بن ابی مطیع آپ کے قول «وليحسن أحدكم كفن أخيه» ”اپنے بھائی کو اچھا کفن دو“ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد کپڑے کی صفائی اور سفیدی ہے، اس سے قیمتی کپڑا مراد نہیں ہے۔