بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
47
3 hadith
Narrated by Ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ اخْتَصَمَ عِنْدَ الْبَيْتِ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ قُرَشِيَّانِ وَثَقَفِيٌّ أَوْ ثَقَفِيَّانِ وَقُرَشِيٌّ قَلِيلاً فِقْهُ قُلُوبِهِمْ كَثِيرًا شَحْمُ بُطُونِهِمْ فَقَالَ أَحَدُهُمْ أَتَرَوْنَ أَنَّ اللَّهَ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ فَقَالَ الآخَرُ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا وَلاَ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُ إِنْ كَانَ يَسْمَعُ إِذَا جَهَرْنَا فَإِنَّهُ يَسْمَعُ إِذَا أَخْفَيْنَا ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏:‏ ‏(‏ ومَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلاَ أَبْصَارُكُمْ وَلاَ جُلُودُكُمْ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Ibn Mas'ud:"Three men whose bellies were fat, but whose hearts had little understanding, were arguing at the House. Two of them were from Quraish and one was from Thaqif - or two from Thaqif, and one from Quraish. One of them said: 'Do you think that Allah can hear what we are saying?' Another said: 'He can hear if we are loud, but He can not hear when we are quiet.' Another said: 'If He can hear when we are loud then He can hear when we are quiet.' So Allah, the Mighty and Sublime revealed: And you have not been hiding yourselves, lest your ears and your eyes and your skins should testify against you (41:)
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تین آدمی خانہ کعبہ کے قریب جھگڑ بیٹھے، دو قریشی تھے اور ایک ثقفی، یا دو ثقفی تھے اور ایک قریشی، ان کے پیٹوں پر چربی چڑھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: کیا سمجھتے ہو کہ ہم جو کہتے ہیں اللہ اسے سنتا ہے، دوسرے نے کہا: ہم جب زور سے بولتے ہیں تو وہ سنتا ہے اور جب ہم دھیرے بولتے ہیں تو وہ نہیں سنتا۔ تیسرے نے کہا: اگر وہ ہمارے زور سے بولنے کو سنتا ہے تو وہ ہمارے دھیرے بولنے کو بھی سنتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» ( فصلت: 22 ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Shu'bah
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الأَنْصَارِ ‏ "‏ لاَ يُحِبُّهُمْ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلاَ يَبْغَضُهُمْ إِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ أَحَبَّهُمْ فَأَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لَهُ أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ فَقَالَ إِيَّاىَ حَدَّثَ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Shu'bah:from 'Adi bin Thabit, from Al-Bara bin 'Azib, that he heard the Prophet (ﷺ), or - he said: "The Prophet (ﷺ) said, about the Ansar: 'No one loves them except a believer, and no one hates them except a hypocrite. Whoever loves them, then Allah loves him, and whoever hates them then Allah hates him.'" So we said to him: "Did you hear this from Al-Bara?" He said: "He narrated it to me
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: ”ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، هُوَ السَّالَحِينِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأَبِي بَكْرٍ ‏"‏ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَخْفِضُ مِنْ صَوْتِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ إِنِّي أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ارْفَعْ قَلِيلاً ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ لِعُمَرَ ‏"‏ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّيْطَانَ قَالَ ‏"‏ اخْفِضْ قَلِيلاً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ هَانِئٍ وَأَنَسٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَإِنَّمَا أَسْنَدَهُ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ وَأَكْثَرُ النَّاسِ إِنَّمَا رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ مُرْسَلاً ‏.‏
Abu Qatadah narrated that :The Prophet (S) said to Abu Bakr: "I passed by you while you were reciting and your voice was low." He said: "I let He who, I was consulting hear." He said: "Raise your voice." Then he said to Umar: "I passed by while you were reciting and your voice was loud." So he said: "I repel drowsiness and keep Ash-Shaitan away." So he said: "Lower your voice
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”میں ( تہجد کے وقت ) تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز کچھ دھیمی تھی؟“ کہا: میں تو صرف اسے سنا رہا تھا جس سے میں مناجات کر رہا تھا۔ ( یعنی اللہ کو ) آپ نے فرمایا: ”اپنی آواز کچھ بلند کر لیا کرو“، اور عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”میں تمہارے پاس سے گزرا، تم قرآن پڑھ رہے تھے، تمہاری آواز بہت اونچی تھی؟“، کہا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، ام ہانی، انس، ام سلمہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسے یحییٰ بن اسحاق نے حماد بن سلمہ سے مسند کیا ہے اور زیادہ تر لوگوں نے یہ حدیث ثابت سے اور ثابت نے عبداللہ بن رباح سے مرسلاً روایت کی ہے۔ ( یعنی: ابوقتادہ رضی الله عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے)