Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، أَنَّ الأَغَرَّ أَبَا مُسْلِمٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يُنَادِي مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلاَ تَمُوتُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلاَ تَسْقَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا فَلاَ تَهْرَمُوا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلاَ تَبْأَسُوا أَبَدًا " . فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : (وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى وَرَوَى ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الثَّوْرِيِّ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ .
Narrated Abu Hurairah:that the Prophet (ﷺ) said: "A caller will call out: 'You shall have life and never die; you shall be healthy and never be ill; you shall be young and never grow old; you shall live in favor and never suffer difficult circumstances.' That is the saying of Allah Most High: This is Paradise, which you have been made to inherit because of your deeds that you used to do (43:)
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پکارنے والا پکار کر کہے گا: ( جنت میں ) تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی مرو گے نہیں، تم صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہ ہو گے، کبھی محتاج و حاجت مند نہ ہو گے، اللہ تعالیٰ کے قول: «وتلك الجنة التي أورثتموها بما كنتم تعملون» ”یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے نیک اعمال کے بدلے وارث بنائے جاؤ گے“ ( الزخرف: ۷۲ ) ، کا یہی مطلب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن مبارک وغیرہ نے یہ حدیث ثوری سے روایت کی ہے، اور انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
Narrated by Ubayy bin Ka'b
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " . فَقَرَأَ عَلَيْهِ : ( لمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا ) وَفِيهَا " إِنَّ ذَاتَ الدِّينِ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ الْمُسْلِمَةُ لاَ الْيَهُودِيَّةُ وَلاَ النَّصْرَانِيَّةُ وَلاَ الْمَجُوسِيَّةُ مَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ " . وَقَرَأَ عَلَيْهِ " لَوْ أَنَّ لاِبْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لاَبْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا وَلَوْ كَانَ لَهُ ثَانِيًا لاَبْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا وَلاَ يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلاَّ التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللهُ عَلَى مَنْ تَابَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " . وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لأُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ " .
Narrated Ubayy bin Ka'b:that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Indeed Allah has ordered me to recite the Qur'an to you." So he recited to him: "Those who disbelieved were not going to... (98:1) and he recited in it: "Indeed the religion with Allah is that which is Hanafiyyah, Muslim, not Judaism, nor Christianity, nor Zoroastrian, whoever does good then it shall not be rejected from him." And he recited to him: "If the son of Adam had a valley of wealth he would seek a second, and if he had a second he would seek a third, and nothing fills the belly of the son of Adam except dirt. And Allah pardons those who repent
ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، چنانچہ آپ نے انہیں «لم يكن الذين كفروا» پڑھ کر سنایا، اس میں یہ بات بھی کہ بیشک دین والی، اللہ کے نزدیک تمام ادیان وملل سے کٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہو جانے والی مسلمان عورت ہے، نہ یہودی، نصرانی اور مجوسی عورت، جو کوئی نیکی کرے گا تو اس کی ناقدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور آپ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ انسان کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ دوسری بھی چاہے گا، اور اگر اسے دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا، اور انسان کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکے گی اور اللہ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو واقعی توبہ کرے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد سے انہوں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں“، ۳- اسے قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا: ”اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا لَمْ يُصَلِّ مِنَ اللَّيْلِ - مَنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ النَّوْمُ أَوْ غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ رَكْعَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَسَعْدُ بْنُ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ الأَنْصَارِيُّ وَهِشَامُ بْنُ عَامِرٍ هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ كَانَ زُرَارَةُ بْنُ أَوْفَى قَاضِيَ الْبَصْرَةِ وَكَانَ يَؤُمُّ فِي بَنِي قُشَيْرٍ فَقَرَأَ يَوْمًا فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ: (فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ * فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ ) فَخَرَّ مَيِّتًا فَكُنْتُ فِيمَنِ احْتَمَلَهُ إِلَى دَارِهِ .
Aishah narrated:"When the Prophet (S) did not pray at night because he was prevented from it by sleep or being sleepy then he would pray twelve Rak'ah during the daytime
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں تہجد نہیں پڑھ پاتے تھے اور نیند اس میں رکاوٹ بن جاتی یا آپ پر نیند کا غلبہ ہو جاتا تو دن میں ( اس کے بدلہ میں ) بارہ رکعتیں پڑھتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعد بن ہشام ہی ابن عامر انصاری ہیں اور ہشام بن عامر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔ بہز بن حکیم سے روایت ہے کہ زرارہ بن اوفی بصرہ کے قاضی تھے۔ وہ بنی قشیر کی امامت کرتے تھے، انہوں نے ایک دن فجر میں آیت کریمہ «فإذا نقر في الناقور * فذلك يومئذ يوم عسير» ”جب صور پھونکا جائے گا تو وہ دن سخت دن ہو گا“ پڑھی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے اور مر گئے۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو انہیں اٹھا کر ان کے گھر لے گئے۔