بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Digital Mufti
v1.5 · Premium Edition
Your Authentic Islamic AI Companion
Knowledge Update · Islamic AI · Audio Recitations
You are offline — some features may be limited
← Jami at-Tirmidhi
11
39 hadith
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا ‏"‏ ‏.‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ‏.‏ وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ النَّاسِ فِي إِجَازَةِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مَا احْتَجُّوا بِهِ لأَنَّهُ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ ‏"‏ وَهَكَذَا أَفْتَى بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِوَلِيٍّ ‏.‏ وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ‏"‏ ‏.‏ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الْوَلِيَّ لاَ يُزَوِّجُهَا إِلاَّ بِرِضَاهَا وَأَمْرِهَا فَإِنْ زَوَّجَهَا فَالنِّكَاحُ مَفْسُوخٌ عَلَى حَدِيثِ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ حَيْثُ زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَرَدَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نِكَاحَهُ ‏.‏
Ibn Abbas narrated that:The Messenger of Allah said: "The matron has more right to herself than her Wali, and the virgin is to give permission for herself, and her silence is her permission
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ «ثیبہ» ( شوہر دیدہ ) عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ استحقاق رکھتی ہے ۱؎ اور کنواری سے بھی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ اور ثوری نے اسے مالک بن انس سے روایت کیا ہے، ۳- بعض لوگوں نے بغیر ولی کے نکاح کے جواز پر اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی دلیل بنے۔ اس لیے کہ ابن عباس سے کئی اور طرق سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح درست نہیں“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابن عباس نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں، ۴- اور «الأيم أحق بنفسها من وليها» کا مطلب اکثر اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ ولی ثیبہ کا نکاح اس کی رضا مندی اور اس سے مشورہ کے بغیر نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خنساء بنت خدام کی حدیث کی رو سے نکاح فسح ہو جائے گا۔ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی، اور وہ شوہر دیدہ عورت تھیں، انہیں یہ شادی ناپسند ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو فسخ کر دیا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلاَّ قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لاَ تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَرِوَايَةُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الشَّامِيِّينَ أَصْلَحُ وَلَهُ عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ مَنَاكِيرُ ‏.‏
Mu’adh bin Jabal narrated that The Prophet said:“No woman annoys her husband in the world except that his wife among the Al-Huril-Ain said: ‘Do not annoy him, may Allah destroy you, he is only like a guest with, soon he will part from you for us.’”
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت بھی اپنے شوہر کو دنیا میں تکلیف پہنچاتی ہے تو ( جنت کی ) بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: تو اسے تکلیف نہ دے۔ اللہ تجھے ہلاک کرے، یہ تو ویسے بھی تیرے پاس بس مسافر ہے، قریب ہے کہ یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اسماعیل بن عیاش کی روایتیں جنہیں انہوں نے اہل شام سے روایت کی ہیں بہتر ہے، لیکن اہل حجاز اور اہل عراق سے ان کی روایتیں منکر ہیں۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فِي إِمَارَةِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَقُمْتُ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَقِيلَ لِي إِنَّهُ قَائِلٌ ‏.‏ فَسَمِعَ كَلاَمِي فَقَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ ادْخُلْ مَا جَاءَ بِكَ إِلاَّ حَاجَةٌ ‏.‏ قَالَ فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْدَعَةَ رَحْلٍ لَهُ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلاَعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ ‏.‏ قَالَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي فِي سُورَةِ النُّور ‏:‏ ‏(‏وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ ‏)‏ حَتَّى خَتَمَ الآيَاتِ فَدَعَا الرَّجُلَ فَتَلاَ الآيَاتِ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ ‏.‏ فَقَالَ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ‏.‏ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ فَقَالَتْ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا صَدَقَ ‏.‏ قَالَ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ‏.‏ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ‏.‏ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ‏.‏
Sa'eed bin Jubair narrated:"I was asked about those who were involved in the case of Li'an and if they are to be separated, during the leadership of Mus'ab bin Az-Zubair. I did not know what to say. So I went to the house of Abdullah bin Umar and I sought permission to enter. I was told that he was taking a nap, but he heard me talking and he said: 'Is it Ibn Jubair? Enter. You would not have come except for a need.'"He said: "So I entered and found him lying on a saddlecloth from his mount. I said: 'O Abu Abdur-Rahman! Are those involved in Li'an separated?' He said: 'Glorious is Allah! Yes. The first who asked about that was so-and-so the son of so-and-so. He came to the Prophet and said: "O Messenger of Allah! If one of us saw his wife committing adultery what should he do? If he were to say anything, his statement would be a horrible matter, and if he were to remain silent, his silence about the matter would be horrible." "He said: 'So the Prophet remained silent and did not answer him. Afterwards he came to the Prophet and said: "The one who asked you about it has been tried by it." So Allah revealed these Ayat from Surat An-Nur. And those who accuse their wives and have no witnesses except themselves - until the end of those Ayat. So he called for the man and recited the Ayat to him and admonished him, reminded him, and he told him: "Indeed the punishment of the world is less than the punishment of the Hereafter." So he said: "Nay! By the One Who sent you with the truth! I did not lie about her." Then he did the same with the woman, admonished her and reminding her and he told her: "Indeed the punishment of the world is less than the punishment of the Hereafter." She said: "Nay! By the One Who sent you with the truth! He is not telling the truth.'" "He said: 'So he started with the man: He testified four times, by Allah that he is one of the truthful, and the fifth time that the curse of Allah be upon him if he was one of the liars. Then the same with the woman: She testified four times by Allah, that he was one of the liars, and the fifth time that the wrath of Allah be upon her if he was one of the truthful. Then he separated the two of them
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ۱؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چنانچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہو گی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو برائی کرتے دیکھے تو کیا کرے؟ اگر کچھ کہتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے، اور اگر خاموش رہتا ہے تو وہ سنگین معاملہ پر خاموش رہتا ہے۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر جب کچھ دن گزرے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دوبارہ ) آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے آپ سے جو مسئلہ پوچھا تھا میں اس میں خود مبتلا کر دیا گیا ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ”یعنی جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت زنا لگاتے ہیں اور ان کے پاس خود اپنی ذات کے علاوہ کوئی گواہ نہیں ہیں“ ( سورۃ النور: 6 ) ۔ یہاں تک کہ یہ آیتیں ختم کیں، پھر آپ نے اس آدمی کو بلایا اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں، اور اسے نصیحت کی اور اس کی تذکیر کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس پر اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اس پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے۔ پھر آپ نے وہ آیتیں عورت کے سامنے دہرائیں، اس کو نصیحت کی، اور اس کی تذکیر کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس پر اس عورت نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، وہ سچ نہیں بول رہا ہے۔ ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: آپ نے مرد سے ابتداء کی، اس نے اللہ کا نام لے کر چار مرتبہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ گواہی دی کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوبارہ آپ نے عورت سے یہی باتیں کہلوائیں، اس نے اللہ کا نام لے کر چار مرتبہ گواہی دی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ اس نے گواہی دی کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں میں تفریق کر دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سہل بن سعد، ابن عباس، ابن مسعود اور حذیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ نِتَاجُ النِّتَاجِ وَهُوَ بَيْعٌ مَفْسُوخٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ مِنْ بُيُوعِ الْغَرَرِ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏ وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ وَغَيْرُهُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَنَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar: "The Prophet (ﷺ) prohibited the sale of Habalil-Habalah." [He said:] There are narrations on this topic from 'Abdullah bin 'Abbas and Abu Sa'eed Al-Khudri [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Umar is Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. And Hababil-Habalah is the offspring of the offspring (of an animal). It is an invalid sale according to the people of knowledge and it is type of Gharar sale. Shu'bah reported this Hadith from Ayyub, from Sa'eed bin Jubair, from Ibn 'Abbas. 'Abdul Wahhab Ath-Thaqafi and others reported it from Ayyub, from Sa'eed bin Jubair and Nafi', from Ibn 'Umar, from the Prophet (ﷺ), and this is more correct
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے اس حدیث کو بطریق: «عن أيوب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس» روایت کیا ہے۔ اور عبدالوھاب ثقفی وغیرہ نے بطریق: «عن أيوب عن سعيد بن جبير ونافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ «حبل الحبلة» ( حمل کے حمل ) سے مراد اونٹنی کے بچے کا بچہ ہے۔ اہل علم کے نزدیک یہ بیع منسوخ ہے اور یہ دھوکہ کی بیع میں سے ایک بیع ہے، ۴- اس باب میں عبداللہ بن عباس اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لأَهْلِهَا أَوْ مِيرَاثٌ لأَهْلِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَائِشَةَ وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَمُعَاوِيَةَ ‏.‏
Samurah narrated that the Prophet (ﷺ) said:"The lifelong gift is permitted for its inhabitant" or:"is an inheritance for its inhabitant
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ۱؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے“، یا فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں زید بن ثابت، جابر، ابوہریرہ، عائشہ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Amr bin Shu'aib
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ‏"‏ ‏.‏ وَبِهَذَا الإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ دِيَةُ عَقْلِ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ فَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ إِلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ دِيَةُ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ ‏.‏ وَبِهَذَا يَقُولُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ دِيَةُ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ أَرْبَعَةُ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانُمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ وَبِهَذَا يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيُّ وَإِسْحَاقُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ دِيَةُ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ مِثْلُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ‏.‏
Narrated 'Amr bin Shu'aib:from his father, from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Muslim is not killed for disbeliever." And with this chain, it has been narrated that the Prophet (ﷺ) said: "The blood-money paid for disbeliever is half of the blood-money paid for a believer
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کے بدلے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا“، اور اسی سند سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کی دیت مومن کی دیت کا نصف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- یہودی اور نصرانی کی دیت میں اہل علم کا اختلاف ہے، یہودی اور نصرانی کی دیت کی بابت بعض اہل علم کا مسلک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی حدیث کے موافق ہے، ۳- عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے، احمد بن حنبل اسی کے قائل ہیں۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلاَثَةُ دَرَاهِمَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَيْمَنَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ قَطَعَ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ أَنَّهُمَا قَطَعَا فِي رُبْعِ دِينَارٍ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُمَا قَالاَ تُقْطَعُ الْيَدُ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ رَأَوُا الْقَطْعَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ لاَ قَطْعَ إِلاَّ فِي دِينَارٍ أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ ‏.‏ وَهُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ قَالُوا لاَ قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ ‏.‏ وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ لاَ قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ ‏.‏ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:"The Messenger of Allah (ﷺ) cut the hand for a shield worth three Dirham
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم ۱؎ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، ابوہریرہ اور ایمن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان میں ابوبکر رضی الله عنہ بھی شامل ہیں، انہوں نے پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا، ۴- عثمان اور علی رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ ان لوگوں نے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا، ۵- ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، ۶- بعض فقہائے تابعین کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، ۷- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن یہ مرسل ( یعنی منقطع ) حدیث ہے اسے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، حالانکہ قاسم نے ابن مسعود سے نہیں سنا ہے، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، چنانچہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے، ۸- علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے۔
Narrated by Ibn 'Umar
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ وَلاَ كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ ‏"‏ ‏.‏
Narrated Ibn 'Umar:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever keeps a dog" - or: "acquires a dog" - "neither of hunting nor to guard livestock, then two Qirat are deducted from his reward, daily
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایسا کتا پالا یا رکھا جو سدھایا ہوا شکاری اور جانوروں کی نگرانی کرنے والا نہ ہو تو اس کے ثواب میں سے ہر دن دو قیراط کے برابر کم ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا: «أو كلب زرع» ”یا وہ کتا کھیتی کی نگرانی کرنے والا نہ ہو“، ۳- اس باب میں عبداللہ بن مغفل، ابوہریرہ، اور سفیان بن أبی زہیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abu Umamah
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُفَيْرِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ خَيْرُ الأُضْحِيَةِ الْكَبْشُ وَخَيْرُ الْكَفَنِ الْحُلَّةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَعُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ ‏.‏
Narrated Abu Umamah:That the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best of Udhiyah (sacrifice) is a ram, and the best (burial) shroud is the Hullah
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی کے جانوروں میں سب سے بہتر مینڈھا ہے اور سب سے بہتر کفن «حلة» ( تہبند اور چادر ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- عفیر بن معدان حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں۔
Narrated by Imran bin Husain
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَعَمُّ أَبِي قِلاَبَةَ هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو وَأَبُو قِلاَبَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ ‏.‏ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ لِلإِمَامِ أَنْ يَمُنَّ عَلَى مَنْ شَاءَ مِنَ الأُسَارَى وَيَقْتُلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ وَيَفْدِيَ مَنْ شَاءَ ‏.‏ وَاخْتَارَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْقَتْلَ عَلَى الْفِدَاءِ ‏.‏ وَقَالَ الأَوْزَاعِيُّ بَلَغَنِي أَنَّ هَذِهِ الآيَةَ مَنْسُوخَةٌ قَوْلُهُ تَعَالَى‏:‏ ‏(‏فَإِِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً‏)‏ نَسَخَتْهَا‏:‏ ‏(‏وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ‏)‏ حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قُلْتُ لأَحْمَدَ إِذَا أُسِرَ الأَسِيرُ يُقْتَلُ أَوْ يُفَادَى أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ إِنْ قَدَرُوا أَنْ يُفَادُوا فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَإِنْ قُتِلَ فَمَا أَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا ‏.‏ قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الإِثْخَانُ أَحَبُّ إِلَىَّ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا فَأَطْمَعُ بِهِ الْكَثِيرَ ‏.‏
Narrated 'Imran bin Husain: That the Prophet (ﷺ) ransomed two men for the Muslims with a man from the idolaters. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. The paternal uncle of Abu Al-Muhallab's name is 'Abdur Rahman bin 'Amr, and they also say it was Muhawiyah bin 'Amr. And Abu Qilabah's name is 'Abdullah bin Zaid Al-Jarmi (narrator in the chain) This is acted upon according to most of the people of knowledge among the Companions of the Prophet(ﷺ) and others. It is for the Imam to decide to be generous with whom he wills among the captives, or to kill whom he wills among them, or to ransom whom he wills among them. Some of the people of knowledge preferred killing over ransoming. Al-Awzai' said: "It has been conveyed to me. that this Ayah is abrogated: Thereafter (is the time) either for generosity (to free them without ranson) or ransom (47:4). It was abrogated by: Kill them wherever you find them (2:191). This was narrated to us by Hannad (who said): "Ibn Al-Mubarak narrated to us, from Al-Awza'i." Ishaq bin Mansur said: "I said to Ahmad: 'When the captives are captured' is killing or ransoming better to you?' He said: 'If they are able to ransom' then there is no harm in it. And if they kill, then I do not know of any harm in it.'" Ishaq said: "Wiping them out is better to me, unless it is someone well-known, so that it is hoped that a large amount will be obtained for him
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے ایک قیدی مرد کے بدلہ میں دو مسلمان مردوں کو چھڑوایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوقلابہ کا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے، ۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ قیدیوں میں سے جس پر چاہے احسان کرے اور جسے چاہے قتل کرے، اور جن سے چاہے فدیہ لے، ۴- بعض اہل علم نے فدیہ کے بجائے قتل کو اختیار کیا ہے، ۵- امام اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت «فإما منا بعد وإما فداء» منسوخ ہے اور آیت: «واقتلوهم حيث ثقفتموهم» اس کے لیے ناسخ ہے، ۶- اسحاق بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سوال کیا: آپ کے نزدیک کیا بہتر ہے جب قیدی گرفتار ہو تو اسے قتل کیا جائے یا اس سے فدیہ لیا جائے، انہوں نے جواب دیا، اگر وہ فدیہ لے سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر انہیں قتل کر دیا جائے تو بھی میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، ۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک خون بہانا زیادہ بہتر ہے جب یہ مشہور ہو اور اکثر لوگ اس کی خواہش رکھتے ہوں۔
Narrated by Abu Musa
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً فَأَىُّ ذَلِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ ‏ "‏ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Abu Musa: "The Messenger of Allah (ﷺ) was asked about a man who fights out of bravery, one who fights out of protection (for himself or others), and one who fought to be seen. Which of them is in the cause of Allah ? He said: 'Whoever fought so that the Word of Allah is supreme, then he is in Allah's cause.'" [Abu 'Eisa said:] There is something on this topic from 'Umar. This Hadith is Hasan Sahih
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ایک آدمی اظہار شجاعت ( بہادری ) کے لیے لڑتا ہے، دوسرا حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے، تیسرا ریاکاری کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جہاد کرے، وہ اللہ کے راستے میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Abu Hurairah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَرِهَ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَثْعَمِيِّ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ ‏.‏ وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ اسْمُهُ هَرِمٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ قَالَ قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ إِذَا حَدَّثْتَنِي فَحَدِّثْنِي عَنْ أَبِي زُرْعَةَ فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي مَرَّةً بِحَدِيثٍ ثُمَّ سَأَلْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِسِنِينَ فَمَا أَخْرَمَ مِنْهُ حَرْفًا ‏.‏
Narrated Abu Hurairah: That the Prophet (ﷺ) disliked Shikal in horses. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih. Shu'bah reported similarly from 'Abdullah bin Yazid Al-Khath'ami, from Abu Zur'ah (one of the narrators in the chain of this Hadith), from Abu Hurairah, from the Prophet (ﷺ). Abu Zur'ah bin 'Amr bin Jarir's name is Harim. Muhammed bin Hammad Ar-Razi narrated to us (he said): "Jarir narrated to us from 'Umarah bin Al-Qa'qa' who said: 'Ibrahim An-Nakha'i said to me: "When you narrate from me, then narrate from me from Abu Zur'ah, for one time he narrated a Hadith to me, then I asked him about it two years later, and he did not leave a letter out of it
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑوں میں سے «شکال» گھوڑا ناپسند تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے عبداللہ بن یزید خثعمی سے، بسند «أبي زرعة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ابوزرعہ عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ وَرَسُولُ سَطْرٌ وَاللَّهِ سَطْرٌ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ ثَلاَثَةَ أَسْطُرٍ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‏.‏
Narrated Anas bin Malik: "The inscription on the ring of the Prophet (ﷺ) was in three line: 'Muhammad' on a line, 'Messenger' on a line, 'Allah' on a line." And Muhammad bin Yahya (one of the two who narrated to him) did not say: "Three lines" in his narration. There are narrations on this topic from Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] This Hadith of Anas is a Hasan Sahih Gharib
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا «محمد» ایک سطر میں «رسول» ایک سطر میں اور «اللہ» ایک سطر میں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محمد بن یحییٰ نے اپنی روایت میں تین سطروں کا ذکر نہیں کیا ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ ذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَوْمَهُمْ عَنِ الصَّلاَةِ فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مَرْيَمَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ وَأَبِي جُحَيْفَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ وَذِي مِخْبَرٍ وَيُقَالُ ذِي مِخْمَرٍ وَهُوَ ابْنُ أَخِي النَّجَاشِيِّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الرَّجُلِ يَنَامُ عَنِ الصَّلاَةِ أَوْ يَنْسَاهَا فَيَسْتَيْقِظُ أَوْ يَذْكُرُ وَهُوَ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاَةٍ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا ‏.‏ فَقَالَ بَعْضُهُمْ يُصَلِّيهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ أَوْ ذَكَرَ وَإِنْ كَانَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ عِنْدَ غُرُوبِهَا ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ وَالشَّافِعِيِّ وَمَالِكٍ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ يُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَوْ تَغْرُبَ ‏.‏
Abu Qatadah narrated:"They asked the Prophet about when they sIept past the Salat. He said: 'There is no negligence in sleep, negligence is only while one is awake. So when one of you forgets a Salat, or sleeps through it, then let him pray it when he remembers it
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے نماز سے اپنے سو جانے کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”سو جانے میں قصور اور کمی نہیں۔ قصور اور کمی تو جاگنے میں ہے، ( کہ جاگتا رہے اور نہ پڑھے ) لہٰذا تم میں سے کوئی جب نماز بھول جائے، یا نماز سے سو جائے، تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابومریم، عمران بن حصین، جبیر بن مطعم، ابوجحیفہ، ابوسعید، عمرو بن امیہ ضمری اور ذومخمر ( جنہیں ذومخبر بھی کہا جاتا ہے، اور یہ نجاشی کے بھتیجے ہیں ) رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے کہ جو نماز سے سو جائے یا اسے بھول جائے اور ایسے وقت میں جاگے یا اسے یاد آئے جو نماز کا وقت نہیں مثلاً سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے پڑھ لے جب جاگے یا یاد آئے گو سورج نکلنے کا یا ڈوبنے کا وقت ہو، یہی احمد، اسحاق بن راہویہ، شافعی اور مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جب تک سورج نکل نہ جائے یا ڈوب نہ جائے نہ پڑھے۔ پہلا قول ہی راجح ہے، کیونکہ یہ نماز سبب والی ( قضاء ) ہے اور سبب والی میں وقت کی پابندی نہیں ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ بَيْتٌ لاَ تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَى امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ قَالَ وَسَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ ‏.‏
Narrated 'Aishah: That the Prophet (ﷺ) said: "A house without dates, its inhabitants will be hungry." He said: There are narrations on this topic from Salma the wife of Abu Rafi'. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib from this route. We do not know of it to be a narration of Hisham bin 'Urwah except through this route. He said: I asked Al-Bukhari about this Hadith and he said: "I do not know of anyone who reported it other than Yahya bin Hassan
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ہشام بن عروہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن حسان کے علاوہ میں نہیں جانتا ہوں کسی نے اسے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابورافع کی بیوی سلمی رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Narrated by Ibn 'Abbas
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Ibn 'Abbas: "The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited breathing in the vessel, or blowing into it." [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ كَتَبَ بِهِ إِلَىَّ مَنْصُورٌ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ لاَ تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلاَّ مِنْ شَقِيٍّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَأَبُو عُثْمَانَ الَّذِي رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لاَ يُعْرَفُ اسْمُهُ وَيُقَالُ هُوَ وَالِدُ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ الَّذِي رَوَى عَنْهُ أَبُو الزِّنَادِ وَقَدْ رَوَى أَبُو الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرَ حَدِيثٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that Abul- Qasim said:"Mercy is not removed (from anyone) except from a wicked one
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صرف بدبخت ہی ( کے دل ) سے رحم ختم کیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعثمان جنہوں نے ابوہریرہ سے یہ حدیث روایت کی ہے ان کا نام نہیں معلوم ہے، کہا جاتا ہے، وہ اس موسیٰ بن ابوعثمان کے والد ہیں جن سے ابوالزناد نے روایت کی ہے، ابوالزناد نے «عن موسى بن أبي عثمان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ نَاسًا، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَرُّوا بِحَىٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ وَلَمْ يُضَيِّفُوهُمْ فَاشْتَكَى سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا هَلْ عِنْدَكُمْ دَوَاءٌ قُلْنَا نَعَمْ وَلَكِنْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَمْ تُضَيِّفُونَا فَلاَ نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلاً ‏.‏ فَجَعَلُوا عَلَى ذَلِكَ قَطِيعًا مِنَ الْغَنَمِ ‏.‏ قَالَ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَّا يَقْرَأُ عَلَيْهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ قَالَ ‏"‏ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرْ نَهْيًا مِنْهُ وَقَالَ ‏"‏ كُلُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الأَعْمَشِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ‏.‏ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ‏.‏ وَجَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ هُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ ‏.‏
Abu Sa'eed Al Khudri narrated:"Some of the Companions of the Messenger of Allah (S.A.W) came across a tribe of Bedouins that did not entertain them,nor behave hospitality with them. Their leader became ill, and they came to us saying: 'Do you have any medicine?'We said: ' Yes. But you did not entertain us nor have us as guests so we will not do anything until you give us something.' Then they gave sheep for that." He said: 'So a man from us began reciting the Opening of the Book (Surat Al-Fatihah) and he was cured. So when we came to the Messenger of Allah (S.A.W) we mentioned to him, He said: 'How did you know it was Ruqyah?' And he did not mention any prohibition against it,and he said: 'Eat , and assign me a share among you from them (Sheep)
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ ( جن میں شامل میں بھی تھا ) عرب کے ایک قبیلہ کے پاس سے گزرے، انہوں نے ان کی مہمان نوازی نہیں کی، اسی دوران ان کا سردار بیمار ہو گیا، چنانچہ ان لوگوں نے ہمارے پاس آ کر کہا: آپ لوگوں کے پاس کوئی علاج ہے؟ ہم نے کہا: ہاں، لیکن تم نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی ہے اس لیے ہم اس وقت تک علاج نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اجرت نہ متعین کر دو، انہوں نے اس کی اجرت میں بکری کا ایک گلہ مقرر کیا، ہم میں سے ایک آدمی ( یعنی میں خود ) اس کے اوپر سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے لگا تو وہ صحت یاب ہو گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس واقعہ کو بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ جھاڑ پھونک ( کی دعا ) ہے؟ ابو سعید خدری رضی الله عنہ نے آپ سے اس پر کوئی نکیر ذکر نہیں کی، آپ نے فرمایا: ”کھاؤ اور اپنے ساتھ اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اعمش کی اس روایت سے جو جعفر بن ایاس کے واسطہ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية عن أبي المتوكل عن أبي سعيد» کی سند سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَقَالَ ‏"‏ يَا أَبَا ذَرٍّ أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلُعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَرَأَ ‏"‏ وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌ لَهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ وَأَنَسٍ وَأَبِي مُوسَى ‏.‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Abu Dharr said:"I entered the Masjid at sunset, and the Prophet(s.a.w) was sitting. He said: 'O Abu Dharr! Do you know where this(sun) goes?' I said:'Allah and His Messenger know better.' He said: 'Indeed it goes to seek permission to prostrate, so it is permitted. And it is as if it has been said to it: "Rise from whence you came." So it shall rise from its setting place.' Then he recited: 'That is its fixed course."' He said: "That is the recitation of 'Abdulla bim Mas'ud
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد میں مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابوذر! جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”وہ سجدے کی اجازت لینے جاتا ہے، اسے اجازت مل جاتی ہے لیکن ایک وقت اس سے کہا جائے گا: اسی جگہ سے نکلو جہاں سے آئے ہو، لہٰذا وہ پچھم سے نکلے گا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وذلك مستقر لها» ”یہ اس کا ٹھکانا ہے“، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی قرأت یہی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں صفوان بن عسال، حذیفہ، اسید، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَكُونُ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ وَتَكُونُ الْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ وَيَكُونُ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ وَتَكُونُ السَّاعَةُ كَالضَّرْمَةِ بِالنَّارِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ‏.‏ وَسَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that the Allah's Messenger (s.a.w) said:"The hour shall not be established until time is constricted, and the year is like a month, a month is like the week, and the week is like the day, and the day is like the hour, and the hour is like the flare of the fire
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت نہیں قائم ہو گی یہاں تک کہ زمانہ قریب ہو جائے گا ۱؎ سال ایک مہینہ کے برابر ہو جائے گا جب کہ ایک مہینہ ایک ہفتہ کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک ساعت ( گھڑی ) کے برابر ہو جائے گا اور ایک ساعت ( گھڑی ) آگ سے پیدا ہونے والی چنگاری کے برابر ہو جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ نِيزَكَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا وَإِنَّهُمْ يَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى الأَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُرْسَلاً وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ سَمُرَةَ وَهُوَ أَصَحُّ ‏.‏
Samurah narrated the Messenger of Allah (s.a.w)said:"Indeed there is a Hawd for every Prophet, and indeed they compete to see which of them has the most arriving at it. Indeed I hope that mine will be the one with the most arrival
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے روز ہر نبی کے لیے ایک حوض ہو گا، اور وہ آپس میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے کہ کس کے حوض پر پانی پینے والے زیادہ جمع ہوتے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ میرے حوض پر ( اللہ کے فضل سے ) سب سے زیادہ لوگ جمع ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اشعث بن عبدالملک نے اس حدیث کو حسن بصری کے واسطے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں سمرہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لاَ تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى صَلاَةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلاَةٍ قَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأََ‏:‏ ‏(‏سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ ‏)‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Jarir bin 'Abdullah Al-Bajali narrated:"We were seated with the Prophet (s.a.w) when he looked towards the moon on the night of a full moon and said: "Indeed you shall be placed before your Lord and you shall see Him as you see this moon. You will see Him without trouble. So if you are able to keep from becoming overwhelmed from prayer before the rising of the sun and before its setting, then do so." Then he recited: And glorify the praises of your Lord before the setting
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں رات کے چاند کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”تم لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو، اسے دیکھنے میں کوئی مزاحمت اور دھکم پیل نہیں ہو گی۔ اگر تم سے ہو سکے کہ سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے کے بعد کی نماز ( فجر اور مغرب ) میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: «سبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ”سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا وَلاَ مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ‏.‏ وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ وَهُوَ مَدَنِيٌّ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said:"I have not seen the likes of the Fire in which the one who runs from it sleeps, nor the likes of Paradise in which the one who seeks it sleeps
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جہنم جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والے سو رہے ہیں اور جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس کے طلب کرنے والے سو رہے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس کو ہم صرف یحییٰ بن عبیداللہ کی سند سے جانتے ہیں اور یحییٰ بن عبیداللہ اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ان کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے۔ یحییٰ بن عبیداللہ کے دادا کا نام موہب ہے اور وہ مدنی ہیں۔
Narrated by Ibn Mas'ud
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ قِتَالُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ كُفْرٌ وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ ‏.‏
Narrated Ibn Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A Muslim's fighting his brother is disbelief, and verbally abusing him is disobedience
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس باب میں سعد اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated by Abdullah bin Mas'ud
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا وَذَلِكَ لأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ أَسَنَّ الْقَتْلَ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ‏"‏ سَنَّ الْقَتْلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ قَالَ ‏"‏ سَنَّ الْقَتْلَ ‏"‏ ‏.‏
Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No soul is wrongfully taken except that some of the burden of its blood is upon the son of Adam, because he was the first to institute murder
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم سے جو بھی خون ہوتا ہے اس خون کے گناہ کا ایک حصہ آدم کے ( پہلے ) بیٹے پر جاتا ہے، کیونکہ اسی نے سب سے پہلے خون کرنے کی سبیل نکالی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ قَبْلَ مَوْتِهِ إِلَى كِسْرَى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِيِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِيِّ الَّذِي صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:"Before he died, the Messenger of Allah (ﷺ) had written to Kisra, Ceasar, An-Najashi, and to every tyrant calling them to Allah. This An-Najashi is not the one that the Prophet (ﷺ) performed to the funeral Salat for
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے کسریٰ و قیصر، نجاشی اور سارے سرکش و متکبر بادشاہوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے۔ اس نجاشی سے وہ نجاشی ( بادشاہ حبش اصحمہ ) مراد نہیں ہے کہ جن کے انتقال پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَنَتْفِ الإِبْطِ أَنْ لاَ نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ‏.‏ قَالَ هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الأَوَّلِ ‏.‏ وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ ‏.‏
Narrated Anas bin Malik:"[The Messenger of Allah (ﷺ)] fixed the time for us paring the mustache, trimming the fingernails, shaving the pubic hairs and plucking the underarm hairs - that we not leave it for more than forty days
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر ناف کے بال لینے، اور بغل کے بال اکھاڑنے کا ہمارے لیے وقت مقرر فرما دیا گیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہم انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- صدقہ بن موسیٰ ( جو پہلی حدیث کی سند میں ) محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلاَلٍ، قَالَ رَأَيْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ فَقِيلَ لَهُ أَوْ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَتُخَلِّلُ لِحْيَتَكَ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُخَلِّلُ لِحْيَتَهُ ‏.‏
Hassan bin Bilal said:"1 saw Ammar bin Yasir performing Wudu, so he went through his beard (with his hand). It was said to him" - or he said - "1 said: 'You go through your beard?' He said: 'And what is there to prevent me? Indeed I saw Allah's Messenger going through his beard
حسان بن بلال کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنی داڑھی میں خلال کیا ۱؎ ان سے کہا گیا یا راوی حدیث حسان نے کہا کہ میں نے ان سے کہا: کیا آپ اپنی داڑھی کا خلال کر رہے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں داڑھی کا خلال کیوں نہ کروں جب کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو داڑھی کا خلال کرتے دیکھا ہے۔
Narrated by Uqbah bin 'Amir
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عُلَىِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Narrated 'Uqbah bin 'Amir:"The Messenger of Allah (ﷺ) ordered me to recite Al-Mu'awwidhatain at the end of every Salat
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد معوذتین پڑھا کروں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Anas
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ كَانَتِ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ لَمْ يُوَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبُيُوتِ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏:‏ ‏(‏يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى ‏)‏ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُوَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَأَنْ يَكُونُوا مَعَهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَأَنْ يَفْعَلُوا كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلاَ النِّكَاحَ فَقَالَتِ الْيَهُودُ مَا يُرِيدُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلاَّ خَالَفَنَا فِيهِ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَاهُ بِذَلِكَ وَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ غَضِبَ عَلَيْهِمَا فَقَامَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَلِمْنَا أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated Anas:"When the women among the Jews menstruated, they would not eat with them, nor drink with them, nor mingle with them in their homes. The Prophet (ﷺ) was asked about that, so Allah, Blessed and Most High, revealed: "They ask you about menstruation. Say It is a Adha (harmful matter) (2:222).' So the Messenger of Allah (ﷺ) told them to eat with them, drink with them and to remain in the house with them, and to do everything besides intercourse with them. The Jews said: 'He does not want to leave any matter of ours without opposing us in it.'" He said: "Then 'Abbad bin Bishr and Usaid bin Hudair came to the Messenger of Allah (ﷺ) to inform him about that. They said: 'O Messenger of Allah! Should we not (then) have intercourse with them during their menstruation?' The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color, until they thought that he was angry with them. So they left, and afterwards the Prophet (ﷺ) was given some milk as a gift, so he sent some of it to them to drink. Then they knew that he was not angry with them
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کے یہاں جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تھی تو وہ اسے اپنے ساتھ نہ کھلاتے تھے نہ پلاتے تھے۔ اور نہ ہی اسے اپنے ساتھ گھر میں رہنے دیتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ۱؎ نازل فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ انہیں اپنے ساتھ کھلائیں پلائیں اور ان کے ساتھ گھروں میں رہیں۔ اور ان کے ساتھ جماع کے سوا ( بوس و کنار وغیرہ ) سب کچھ کریں، یہودیوں نے کہا: یہ شخص ہمارا کوئی کام نہیں چھوڑتا جس میں ہماری مخالفت نہ کرتا ہو، عباد بن بشیر اور اسید بن حضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو یہودیوں کی یہ بات بتائی اور کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ان سے حالت حیض میں جماع ( بھی ) نہ کریں؟ یہ سن کر آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھ لیا کہ آپ ان دونوں سے سخت ناراض ہو گئے ہیں۔ وہ اٹھ کر ( اپنے گھر چلے ) ان کے نکلتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں بلانے کے لیے ) ان کے پیچھے آدمی بھیجا ( وہ آ گئے ) تو آپ نے ان دونوں کو دودھ پلایا، جس سے انہوں نے جانا کہ آپ ان دونوں سے غصہ نہیں ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رضى الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Hudhaifah bin Al-Yaman (ra) narrated that:When the Prophet (ﷺ) would sleep, he would put his hand under his head then say: “O Allah, safeguard me from Your Punishment the Day You gather [Your slaves] (Allāhumma qinī `adhābaka yawma tajma`u [`ibādak])” or “you resurrect your slaves (tab`athu `ibādak).”
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھتے، پھر پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تجمع أو تبعث عبادك» ”اے اللہ! مجھے تو اس دن کے عذاب سے بچا لے جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا یا اٹھائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Abdullah
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الآيَاتِ عَذَابًا وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرَكَةً لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ ‏.‏ قَالَ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ حَىَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ السَّمَاءِ ‏"‏ ‏.‏ حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Narrated 'Abdullah:"You consider the signs to be punishment, whereas we used to think of them as a blessing during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). We used to eat food with the Prophet (ﷺ) and we would hear the food's Tasbih." He said: "And the Prophet (ﷺ) was brought a container, so he put his hand it in, and the water began to spring from between his fingers. So the Prophet (ﷺ) said: 'Hasten to the blessed Wudu and the blessing from the heavens' until all of had performed Wudu
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ، غَدَتْ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي صَلاَتِي ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ كَبِّرِي اللَّهَ عَشْرًا وَسَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا ثُمَّ سَلِي مَا شِئْتِ يَقُولُ نَعَمْ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي رَافِعٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ حَدِيثٍ فِي صَلاَةِ التَّسْبِيحِ وَلاَ يَصِحُّ مِنْهُ كَبِيرُ شَيْءٍ ‏.‏ وَقَدْ رَأَى ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صَلاَةَ التَّسْبِيحِ وَذَكَرُوا الْفَضْلَ فِيهِ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا أَبُو وَهْبٍ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَنِ الصَّلاَةِ الَّتِي يُسَبَّحُ فِيهَا فَقَالَ يُكَبِّرُ ثُمَّ يَقُولُ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ ثُمَّ يَقُولُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَتَعَوَّذُ وَيَقْرَأُ ‏(‏بِسمِ الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ‏)‏ وَفَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً ثُمَّ يَقُولُ عَشْرَ مَرَّاتٍ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا ‏.‏ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ يَسْجُدُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ يَسْجُدُ الثَّانِيَةَ فَيَقُولُهَا عَشْرًا يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى هَذَا فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ تَسْبِيحَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ يَبْدَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِخَمْسَ عَشْرَةَ تَسْبِيحَةً ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُسَبِّحُ عَشْرًا فَإِنْ صَلَّى لَيْلاً فَأَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ يُسَلِّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ وَإِنْ صَلَّى نَهَارًا فَإِنْ شَاءَ سَلَّمَ وَإِنْ شَاءَ لَمْ يُسَلِّمْ ‏.‏ قَالَ أَبُو وَهْبٍ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ يَبْدَأُ فِي الرُّكُوعِ بِسُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ وَفِي السُّجُودِ بِسُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى ثَلاَثًا ثُمَّ يُسَبِّحُ التَّسْبِيحَاتِ ‏.‏ قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ إِنْ سَهَا فِيهَا يُسَبِّحُ فِي سَجْدَتَىِ السَّهْوِ عَشْرًا عَشْرًا قَالَ لاَ إِنَّمَا هِيَ ثَلاَثُمِائَةِ تَسْبِيحَةٍ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that :Umm Sulaim came upon the Prophet and said: "Teach me some words that I can say in my Salat." So he said: "Mention Allah's Greatness (saying: Allahu Akbar) ten times, mention Allah's Glory (saying: Subhan Allah) ten times, and mention Allah's praise (saying: Al-Hamdulilah) ten times. Then ask as you like, (for which) He says: 'Yes. Yes
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی الله عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جنہیں میں نماز ۱؎ میں کہا کروں، آپ نے فرمایا: ”دس بار «الله أكبر» کہو، دس بار «سبحان الله» کہو، دس بار «الحمد لله» کہو، پھر جو چاہو مانگو، وہ ( اللہ ) ہر چیز پر ہاں، ہاں کہتا ہے“، ( یعنی قبول کرتا ہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، فضل بن عباس اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صلاۃ التسبیح کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی کئی حدیثیں مروی ہیں لیکن کوئی زیادہ صحیح نہیں ہیں، ۴- ابن مبارک اور دیگر کئی اہل علم صلاۃ التسبیح کے قائل ہیں اور انہوں نے اس کی فضیلت کا ذکر کیا ہے، ۵- ابو وہب محمد بن مزاحم العامری نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے صلاۃ التسبیح کے بارے میں پوچھا کہ جس میں تسبیح پڑھی جاتی ہے، تو انہوں نے کہا: پہلے تکبیر تحریمہ کہے، پھر «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! تیری ذات پاک ہے، اے اللہ تو ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام، بلند ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہے، پھر پندرہ مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہے، پھر «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ”اور «بسم الله الرحمن الرحيم» کہے، پھر سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھے، پھر دس مرتبہ «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» کہے، پھر رکوع میں جائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سر اٹھائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سجدہ کرے دس بار یہی کلمات کہے پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور دس بار یہی کلمات کہے، پھر دوسرا سجدہ کرے اور دس بار یہی کلمات کہے، اس طرح سے وہ چاروں رکعتیں پڑھے، تو ہر رکعت میں یہ کل ۷۵ تسبیحات ہوں گی۔ ہر رکعت کے شروع میں پندرہ تسبیحیں کہے گا، پھر دس دس کہے گا، اور اگر وہ رات کو نماز پڑھ رہا ہو تو میرے نزدیک مستحب ہے کہ وہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے اور اگر دن میں پڑھے تو چاہے تو ( دو رکعت کے بعد ) سلام پھیرے اور چاہے تو نہ پھیرے۔ ابو وہب وہب بن زمعہ سے روایت ہے کہ عبدالعزیز بن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: رکوع میں پہلے «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں پہلے «سبحان ربي الأعلى» تین تین بار کہے، پھر تسبیحات پڑھے۔ عبدالعزیز ہی ابن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا: اگر اس نماز میں سہو ہو جائے تو کیا وہ سجدہ سہو میں دس دس تسبیحیں کہے گا؟ انہوں نے کہا: نہیں یہ صرف تین سو تسبیحات ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ إِذَا خَرَجَ الإِمَامُ وَإِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رضى الله عنه زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
As-Sa'ib bin Yazid narrated:"The Adhan during the time of Allah's Messenger, Abu Bakr, and Umar was when the Imam came out, [and when] the Iqamah was called for the Salat. Then Uthman [may Allah be pleased with him] added a third call at Az-Zawra
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے زمانے میں ( پہلی ) اذان اس وقت ہوتی جب امام نکلتا اور ( دوسری ) جب نماز کھڑی ہوتی ۱؎ پھر جب عثمان رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے زوراء ۲؎ میں تیسری اذان کا اضافہ کیا ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Anas bin Malik narrated that :the Messenger of Allah said: "To spit in the Masjid is a sin, and burying it is its atonement
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے۔ اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ‏.‏ وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَصَحُّ ‏.‏
Rafi bin Khadij narrated:"I herd the Messenger of Allah saying: 'The one who works in collecting charity in truth is like the one who fights in the cause of Allah until he returns
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صحیح ڈھنگ سے صدقہ وصول کرنے والا، اللہ کی راہ میں لڑنے والے غازی کی طرح ہے، جب تک کہ وہ اپنے گھر لوٹ نہ آئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع بن خدیج کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یزید بن عیاض محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ۳- محمد بن اسحاق کی یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ وَإِنَّ النَّاسَ يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ ‏.‏ فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَشَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَأَفْطَرَ بَعْضُهُمْ وَصَامَ بَعْضُهُمْ فَبَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا فَقَالَ ‏"‏ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الْفِطْرَ فِي السَّفَرِ أَفْضَلُ حَتَّى رَأَى بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ الإِعَادَةَ إِذَا صَامَ فِي السَّفَرِ ‏.‏ وَاخْتَارَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ الْفِطْرَ فِي السَّفَرِ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ إِنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ فَحَسَنٌ وَهُوَ أَفْضَلُ وَإِنْ أَفْطَرَ فَحَسَنٌ ‏.‏ وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ‏.‏ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَوْلُهُ حِينَ بَلَغَهُ أَنَّ نَاسًا صَامُوا فَقَالَ ‏"‏ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ ‏"‏ ‏.‏ فَوَجْهُ هَذَا إِذَا لَمْ يَحْتَمِلْ قَلْبُهُ قَبُولَ رُخْصَةِ اللَّهِ فَأَمَّا مَنْ رَأَى الْفِطْرَ مُبَاحًا وَصَامَ وَقَوِيَ عَلَى ذَلِكَ فَهُوَ أَعْجَبُ إِلَىَّ ‏.‏
Jabir bin Abdullah narrated:"The Messenger of Allah went to Makkah in the Year of the Conquest, so he fasted until he reached Kura Al-Ghamim and the people were fasting with him. Then it was said to him: 'The fast has become difficult for the people, and they are watching you to see what you will do.' So after Asr, he called for a cup of water and drank it while the people were looking at him. Some of them broke the fast while some of them continued their fasting. It was conveyed to him that people were still fasting, so he said: "Those are the disobedient
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کی طرف نکلے تو آپ نے روزہ رکھا، اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی روزہ رکھا، یہاں تک کہ آپ کراع غمیم ۱؎ پر پہنچے تو آپ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ رکھنا گراں ہو رہا ہے اور لوگ آپ کے عمل کو دیکھ رہے ہیں۔ ( یعنی منتظر ہیں کہ آپ کچھ کریں ) تو آپ نے عصر کے بعد ایک پیالہ پانی منگا کر پیا، لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے، تو ان میں سے بعض نے روزہ توڑ دیا اور بعض رکھے رہے۔ آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ ( اب بھی ) روزے سے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہی لوگ نافرمان ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں کعب بن عاصم، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“، ۴- سفر میں روزہ رکھنے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے، یہاں تک بعض لوگوں کی رائے ہے کہ جب وہ سفر میں روزہ رکھ لے تو وہ سفر سے لوٹنے کے بعد پھر دوبارہ رکھے، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی سفر میں روزہ نہ رکھنے کو ترجیح دی ہے۔ ۵- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وہ طاقت پائے اور روزہ رکھے تو یہی مستحسن اور افضل ہے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس اور عبداللہ بن مبارک اسی کے قائل ہیں، ۶- شافعی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں“ اور جس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ روزے سے ہیں تو آپ کا یہ فرمانا کہ ”یہی لوگ نافرمان ہیں“ ایسے شخص کے لیے ہے جس کا دل اللہ کی دی ہوئی رخصت اور اجازت کو قبول نہ کرے، لیکن جو لوگ سفر میں روزہ نہ رکھنے کو مباح سمجھتے ہوئے روزہ رکھے اور اس کی قوت بھی رکھتا ہو تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ ‏.‏ وَهَذَا أَصَحُّ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَكَذَا رَوَاهُ قَتَادَةُ وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ‏.‏ وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏
Ya'la bin Umayyah narrated:A Hadith similar to no. 835 with a different chain
یعلیٰ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔ یہ زیادہ صحیح ہے اور حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اسی طرح اسے قتادہ، حجاج بن ارطاۃ اور دوسرے کئی لوگوں نے عطا سے اور انہوں نے یعلیٰ بن امیہ سے روایت کی ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جسے عمرو بن دینار اور ابن جریج نے عطاء سے، اور عطاء نے صفوان بن یعلیٰ سے اور صفوان نے اپنے والد یعلیٰ سے اور یعلیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مِنْ غُسْلِهِ الْغُسْلُ وَمِنْ حَمْلِهِ الْوُضُوءُ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي الْمَيِّتَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَعَائِشَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا ‏.‏ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الَّذِي يُغَسِّلُ الْمَيِّتَ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ إِذَا غَسَّلَ مَيِّتًا فَعَلَيْهِ الْغُسْلُ ‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ ‏.‏ وَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ أَسْتَحِبُّ الْغُسْلَ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ وَلاَ أَرَى ذَلِكَ وَاجِبًا ‏.‏ وَهَكَذَا قَالَ الشَّافِعِيُّ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا أَرْجُو أَنْ لاَ يَجِبَ عَلَيْهِ الْغُسْلُ وَأَمَّا الْوُضُوءُ فَأَقَلُّ مَا قِيلَ فِيهِ ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ لاَ بُدَّ مِنَ الْوُضُوءِ ‏.‏ قَالَ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ قَالَ لاَ بَأْسَ أَنْ لاَ يَغْتَسِلَ وَلاَ يَتَوَضَّأَ مَنْ غَسَّلَ الْمَيِّتَ ‏.‏
Abu Hurairah narrated that:The Prophet said: "Ghusl for one who washed him and Wudu for one who carried himm
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو نہلانے سے غسل اور اسے اٹھانے سے وضو ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے یہ موقوفاً بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں علی اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو میت کو غسل دے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا خیال ہے کہ جب کوئی کسی میت کو غسل دے تو اس پر غسل ہے، ۵- بعض کہتے ہیں: اس پر وضو ہے۔ مالک بن انس کہتے ہیں: میت کو غسل دینے سے غسل کرنا میرے نزدیک مستحب ہے، میں اسے واجب نہیں سمجھتا ۱؎ اسی طرح شافعی کا بھی قول ہے، ۶- احمد کہتے ہیں: جس نے میت کو غسل دیا تو مجھے امید ہے کہ اس پر غسل واجب نہیں ہو گا۔ رہی وضو کی بات تو یہ سب سے کم ہے جو اس سلسلے میں کہا گیا ہے، ۷-اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: وضو ضروری ہے ۲؎، عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ جس نے میت کو غسل دیا، وہ نہ غسل کرے گا نہ وضو۔