Narrated by Abdullah bin Az-Zubair
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ : (ثمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ) قَالَ الزُّبَيْرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكَرَّرُ عَلَيْنَا الْخُصُومَةُ بَعْدَ الَّذِي كَانَ بَيْنَنَا فِي الدُّنْيَا قَالَ " نَعَمْ " . فَقَالَ إِنَّ الأَمْرَ إِذًا لَشَدِيدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:from his father who said: "When (the following) was revealed: 'Then, on the Day of Resurrection, you will be disputing before your Lord (39:31).' Az-Zubair said "O Messenger of Allah! We will repeat our disputes after what happened between us in the world?" He said: "Yes." So he said: "Indeed this is a very serious matter
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما اپنے باپ (زبیر) سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت «ثم إنكم يوم القيامة عند ربكم تختصمون» ”پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس ( توحید و شرک کے سلسلے میں ) جھگڑ رہے ہو گے“ ( الروم: ۳۱ ) ، نازل ہوئی تو زبیر بن عوام رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اس دنیا میں ہمارا آپس میں جو لڑائی جھگڑا ہے اس کے بعد بھی دوبارہ ہمارے درمیان ( آخرت میں ) لڑائی جھگڑے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: پھر تو معاملہ بڑا سخت ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated by Amr bin Ghalib
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، أَنَّ رَجُلاً، نَالَ مِنْ عَائِشَةَ عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فَقَالَ اغْرُبْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا أَتُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Amr bin Ghalib:that a man spoke negatively of 'Aishah before 'Ammar bin Yasir so he said: "Be gone as one despicable and rejected! Do you insult the beloved of the Messenger of Allah (ﷺ)?
عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے پاس عائشہ رضی الله عنہا کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا: ہٹ مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے؟ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِيَّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ الْحُبَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي خَثْعَمٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . وَضَعَّفَهُ جِدًّا .
Abu Hurairah narrated that:Allah's Messenger (S) said: "Whoever prays six Rak'ah after Al-Maghrib, and he does not speak about anything between them, then they will be counted for him as twelve years of worship
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی، تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مغرب کے بعد بیس رکعتیں پڑھیں اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف «زيد بن حباب عن عمر بن أبي خثعم» کی سند سے جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمر بن عبداللہ بن ابی خثعم منکرالحدیث ہیں۔ اور انہوں نے انہیں سخت ضعیف کہا ہے۔