حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي قَوْلِ اللَّهِ : ( وجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ ) قَالَ " حَامٌ وَسَامٌ وَيَافِثُ " . كَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى يُقَالُ يَافِتُ وَيَافِثُ بِالتَّاءِ وَالثَّاءِ وَيُقَالُ يَفِثُ . قَالَ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ .
Samurah narrated regarding the saying of Allah, Most High:And his progeny, them We made survivors (37:77).' The Prophet (ﷺ) said: "Ham, Sam and Yafith" - with (the letter) Tha
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «وجعلنا ذريته هم الباقين» ”ہم نے نوح ہی کی اولاد کو باقی رکھا“ ( الصافات: ۷۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ” ( نوح کے تین بیٹے ) حام، سام اور یافث تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف سعید بن بشیر کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- یافت «ت» سے اور یافث «ث» سے دونوں طرح سے کہا جاتا ہے «یفث» بھی کہا جاتا ہے۔
Narrated by Aishah
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ " . فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .
Narrated 'Aishah:"The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Indeed Jibril gives his Salam to you.' So I said: 'And upon him be peace and Allah's Mercy [and His blessings]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو میں نے عرض کیا: ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، هُوَ الْعَقَدِيُّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَاخْتَارَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنْ لاَ يُفْصَلَ فِي الأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ . وَقَالَ إِسْحَاقُ وَمَعْنَى أَنَّهُ يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِالتَّسْلِيمِ يَعْنِي التَّشَهُّدَ . وَرَأَى الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ صَلاَةَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى يَخْتَارَانِ الْفَصْلَ فِي الأَرْبَعِ قَبْلَ الْعَصْرِ .
Ali narrated:"Allah's Messenger (S) would pray four Rak'ah before Al-Asr separating between them with At-Taslim upon the angels that are close (to Allah) and those who follow them among the Muslims and the believers
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان: مقرب فرشتوں اور ان مسلمانوں اور مومنوں پر کہ جنہوں نے ان کی تابعداری کی ان پر سلام کے ذریعہ فصل کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے۔ ۲- اس باب میں ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اسحاق بن ابراہیم ( ابن راہویہ ) نے عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں فصل نہ کرنے کو ترجیح دی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے۔ اسحاق کہتے ہیں: ان کے ( علی کے ) قول ”سلام کے ذریعے ان کے درمیان فصل کرنے“ کے معنی یہ ہیں کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد پڑھتے تھے، اور شافعی اور احمد کی رائے ہے کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے اور وہ دونوں عصر سے پہلے کی چار رکعتوں میں سلام کے ذریعہ فصل کرنے کو پسند کرتے ہیں۔