Narrated by Ubayy bin Ka'b
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : ( وأَرْسَلْنَاهُ إِلَى مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ ) قَالَ " عِشْرُونَ أَلْفًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
Narrated Ubayy bin Ka'b:"I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the saying of Allah, Most High: 'And We sent him to a hundred thousand, or even more (37:147). He said: 'Twenty thousand (more)
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «وأرسلناه إلى مائة ألف أو يزيدون» ”ہم نے انہیں ( یعنی یونس کو ) ایک لاکھ بلکہ اس سے کچھ زیادہ کی طرف بھیجا“ ( الصافات: ۷۷ ) ، کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”ایک لاکھ بیس ہزار تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated by Aishah [may Allah be pleased with her]
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلاَمَ " . قَالَتْ قُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لاَ نَرَى . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O 'Aishah! Here is Jibril and he is giving Salam to you." She said: "I said: 'And upon him be peace and the mercy of Allah, and His blessings. You see that which we do not
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا: اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے“ ( جیسے جبرائیل کو ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ الشَّأْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ أُخْتِي أُمَّ حَبِيبَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْقَاسِمُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ شَأْمِيٌّ وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي أُمَامَةَ .
Umm Habibah the wife of the Prophet (S) narrated that:She heard Allah's Messenger (S) saying: "Whoever maintains four Rak'ah before Az-Zuhr and four after it, Allah makes him prohibited for the Fire
عنبسہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور اس کے بعد کی چار رکعتوں پر محافظت کی تو اللہ اس کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- قاسم دراصل عبدالرحمٰن کے بیٹے ہیں۔ ان کی کنیت ابوعبدالرحمٰن ہے، وہ عبدالرحمٰن بن خالد بن یزید بن معاویہ کے مولیٰ اور ثقہ ہیں، شام کے رہنے والے اور ابوامامہ کے شاگرد ہیں۔